۲-کُرِنتِھیوں 9
متن
پولس رسول یروشلم کے غریب ایمان داروں کے لئے جمع کیے جانے والے چندے کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اخیہ کی کلیسیا کی سرگرمی کے بارے میں اُنہوں نے مکدُنیہ کے ایمان داروں کے سامنے فخر کیا ہے، اِس لئے وہ چند بھائیوں کو پہلے بھیج رہے ہیں تاکہ ہدیہ وقت پر تیار ہو اور ایسا نہ لگے کہ اِسے زبردستی نکالا گیا۔ پھر بات چندے سے آگے بڑھ جاتی ہے: بونے اور کاٹنے کا اصول، خوشی سے دینے والے پر خدا کی محبت، اور یہ یقین دہانی کہ بیج دینے والا خود خدا ہے۔ آخر میں پولس اِس پورے عمل کو شکرگزاری اور خدا کے جلال کی طرف موڑ دیتے ہیں، اور ایک ایسی حمد پر ختم کرتے ہیں جو الفاظ سے باہر نکل جاتی ہے: ”اللہ کا اُس کی ناقابلِ بیان بخشش کے لئے شکر ہو!“
مرکزی بات
یہ باب پیسے کے بارے میں ہے، مگر اِس کی جڑ خدا کے کردار میں ہے۔ پولس دینے کی تحریک کسی فرض یا شرمندگی سے نہیں نکالتے، بلکہ اِس حقیقت سے کہ ”خدا ہی بیج بونے والے کو بیج مہیا کرتا اور اُسے کھانے کے لئے روٹی دیتا ہے۔“ یعنی جو کچھ آپ دیتے ہیں وہ پہلے سے آپ کو دیا گیا ہے؛ سخاوت ایجاد نہیں، جواب ہے۔ یونانی لفظ خاریس (فضل) اِس پورے حصے میں گھومتا رہتا ہے: خدا کا فضل، آپ کا ہدیہ، اور آخر میں وہ ”ناقابلِ بیان بخشش“ یعنی مسیح خود۔ اِسی لئے آیت 13 اِتنی تیز ہے: سخاوت اِس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خوش خبری کو صرف تسلیم نہیں کرتے بلکہ اُس کے تابع بھی ہیں۔ بٹوہ عقیدے کا سب سے ایماندار گواہ ہے۔
سلسلۂ کلام
بیج، فصل اور روٹی کی زبان اتفاقاً نہیں چنی گئی۔ پولس رسول یہاں اُس پرانے وعدے کی گونج سنا رہے ہیں جو یسعیاہ نبی کے ذریعے آیا تھا: بارش زمین پر برستی ہے، بونے والے کو بیج ملتا ہے، کھانے والے کو روٹی، اور خدا کا کلام خالی واپس نہیں آتا۔ اسرائیل کی معیشت ہمیشہ سے ایک الٰہی تحفہ تھی، اپنی محنت کا نتیجہ نہیں؛ من بیابان میں آسمان سے گرتا تھا، اور فصل کا پہلا پھل ہیکل میں واپس جاتا تھا۔ پولس اُسی دھارے کو مسیح تک لے آتے ہیں۔ باب کی آخری آیت میں لفظ ”ناقابلِ بیان بخشش“ کسی چندے کا نام نہیں، بلکہ اُس بیٹے کا نام ہے جسے خدا نے دے دیا۔ کُرِنتھس کے ایمان داروں کی جیب سے نکلنے والا سکہ اُسی بڑی سخاوت کی چھوٹی سی بازگشت ہے: جو خود امیر تھا، ہمارے لئے غریب ہو گیا، تاکہ ہم اُس کی غریبی سے دولت مند بن جائیں۔
آئینہ
آیت 7 آپ کے دل کے اُس کمرے میں جھانکتی ہے جہاں آپ اپنے فیصلے چپکے سے کرتے ہیں: ”وہ اِس میں تکلیف یا مجبوری محسوس نہ کرے۔“ ہم میں سے اکثر دیتے ہیں، مگر کس طرح؟ کبھی چرچ کے تھیلے کو دیکھ کر جلدی سے، کبھی اِس ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے، کبھی حساب لگا کر کہ مہینے کے آخر تک کچھ بچے گا یا نہیں۔ پولس اِس بےچینی کو نہ ڈانٹتے ہیں نہ نظرانداز کرتے ہیں؛ وہ اُس کی جڑ پر ہاتھ رکھتے ہیں: کیا آپ واقعی مانتے ہیں کہ بیج آپ کا نہیں تھا؟ اور آیت 5 کا وہ جملہ کہ ہدیہ ”مشکل سے آپ سے نکالنا“ نہ پڑے، ہماری اُس عادت کو بےنقاب کرتا ہے جس میں ہم وعدہ تو کر لیتے ہیں مگر ادائیگی کو ٹالتے رہتے ہیں۔ آج ہی دس منٹ نکالیں، بیٹھ کر ایک رقم اپنے دل میں ٹھہرائیں، اُسے کاغذ پر لکھیں اور آج ہی بھیج دیں۔
بین المتون
آیت 9 میں پولس زبور 112 سے نقل کرتے ہیں: ”اُس نے فیاضی سے ضرورت مندوں میں خیرات بکھیر دی، اُس کی راست بازی ہمیشہ تک قائم رہے گی۔“ اُس زبور میں یہ سخی شخص وہ ہے جو خداوند کا خوف رکھتا ہے، اور اُس کی راست بازی اُس کی دولت سے زیادہ پائیدار ہے۔ پولس یہ آیت اپنے قارئین پر لگا دیتے ہیں: آپ وہ آدمی ہیں۔ ساتھ ہی امثال کی وہ حیران کن بات یاد آتی ہے کہ ایک بکھیرتا ہے پھر بھی بڑھتا ہے، اور دوسرا روکتا ہے پھر بھی محتاج ہو جاتا ہے۔ گلتیوں 6 میں پولس اِسی بونے کاٹنے کے اصول کو اخلاقی زندگی پر لاگو کرتے ہیں، جو دکھاتا ہے کہ یہاں بات محض پیسے کی نہیں بلکہ پوری زندگی کے رخ کی ہے۔ اور آیت 12 کی ”خدمت“ کے لئے استعمال ہونے والا لفظ ہیکل کی عبادت کی زبان ہے: چندہ جمع کرنا قربانی چڑھانے کے برابر رکھا گیا ہے۔
پس منظر
یہ تقریباً 55 عیسوی کی بات ہے۔ پولس مکدُنیہ میں ہیں، اور یروشلم کی کلیسیا کے لئے چندہ جمع کر رہے ہیں، جو قحط اور سماجی بائیکاٹ کے سبب سخت تنگی میں تھی۔ یہ محض خیرات نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی و روحانی بیان: غیریہودی کلیسیائیں یہودی ماں کلیسیا کو مال بھیج رہی تھیں، اور یوں ثابت کر رہی تھیں کہ مسیح میں ایک ہی بدن ہے۔ اُس دور کے یونانی رومی معاشرے میں مالی سرپرستی طاقت کا کھیل تھی: دینے والا احسان جتاتا اور لینے والا تابع ہو جاتا۔ پولس اِس نظام کو اُلٹ دیتے ہیں؛ اِسی لئے وہ بھائیوں کو پہلے بھیجتے ہیں تاکہ حسابِ رقم شفاف ہو اور کسی پر دباؤ نہ پڑے۔ عزت اور شرم کے اُس ماحول میں آیت 4 کی ”شرمندگی“ کوئی معمولی دھمکی نہیں تھی۔
سوال
آیت 11 کھٹکتی ہے: ”وہ آپ کو ہر لحاظ سے دولت مند بنا دے گا۔“ کیا یہ خدا کے ساتھ ایک سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے؟ متن خود اِس تشریح کا دروازہ بند کرتا ہے: آیت 8 میں افراط کا مقصد آرام نہیں بلکہ ”ہر قسم کا نیک کام“ ہے، اور آیت 10 کی فصل ”راست بازی“ کی ہے، بینک بیلنس کی نہیں۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے، کیونکہ خود پولس بھوک اور قید سے گزرے، اور مکدُنیہ کے وہ لوگ جن کی وہ تعریف کرتے ہیں غربت میں سے دے رہے تھے۔ ایمانداری یہ ہے کہ ہم اِس وعدے کو ضمانت میں نہ بدلیں۔ خدا بیج دیتا رہتا ہے، مگر فصل کی شکل اور وقت اُس کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ سخاوت کو منافع کا فارمولا بناتے ہیں، وہ عموماً اُس بخشش کو بھول جاتے ہیں جو ناقابلِ بیان ہے کیونکہ اُس کی قیمت صلیب تھی۔
غور و فکر
آپ کے دینے کے پیچھے اِس وقت کون سی طاقت کام کر رہی ہے: خوشی، عادت، یا لوگوں کی نظر؟
اگر آپ کی سخاوت واقعی اِس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خوش خبری کے تابع ہیں، تو پچھلے سال کا ریکارڈ کیا گواہی دیتا ہے؟
2 Corinthians 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 9 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 9 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
آپ کی دی ہوئی چیز دو کام کرتی ہے۔ ایک بھوکے کا پیٹ بھرتی ہے، اور دوسرا کسی کے دل میں خدا کے لیے شکر جگاتی ہے۔ پولس لکھتا ہے کہ یہ خدمت ”نہ صرف مُقدّسین کی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اِس سے خدا کی تمجید میں شکرگزاری کے بےشمار الفاظ بھی نکلتے ہیں۔“ سوچیں، آپ کی خاموش مدد کسی کی دعا بن جاتی ہے۔ کیا آپ کے ہاتھ کا دیا ہوا آج کسی کو خدا کا شکر کرنے پر مجبور کر رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں