گلتیوں 6
متن
پولس اپنے خط کے آخر میں چھوٹی چھوٹی ہدایات دیتا ہے جو دراصل چھوٹی نہیں ہیں: گرے ہوئے بھائی کو نرمی سے بحال کرو، ایک دوسرے کا بوجھ اُٹھاؤ، مگر اپنا ذاتی بوجھ خود سنبھالو، اپنے اُستاد کی خبر رکھو، اور یاد رکھو کہ جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔ پھر وہ قلم اپنے ہاتھ میں لے کر بڑے حروف میں لکھتا ہے: ختنہ کرانے والے تمہارے جسم پر فخر کرنا چاہتے ہیں، مگر میرا فخر صرف مسیح کی صلیب ہے۔ ختنہ یا بےختنگی کچھ نہیں؛ اصل بات نئی خِلقت ہے۔ آخر میں وہ اپنے زخموں کے نشان دکھاتا ہے اور فضل کی دعا کے ساتھ خط بند کرتا ہے۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل آیت 14 ہے: "خدا کرے کہ مَیں صرف ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کی صلیب ہی پر فخر کروں۔" پولس دو دنیاؤں کا مقابلہ کرا رہا ہے۔ ایک دنیا میں انسان اپنے جسم، اپنی کارکردگی، اپنی مذہبی کامیابی کو گِن کر عزت کماتا ہے۔ دوسری دنیا میں ایک آدمی صلیب پر لٹکا ہوا ہے اور وہاں سے سب کچھ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ آیت 15 اِسے بےرحم صفائی سے کہتی ہے: مذہبی نشان، خواہ ہو یا نہ ہو، کوئی فرق نہیں ڈالتا؛ فرق تب پڑتا ہے "جب اللہ کسی کو نئے سرے سے خلق کرتا ہے۔" یعنی نجات مرمت نہیں، تخلیق ہے۔ اور تخلیق ہمیشہ خدا کا کام ہے، انسان کا نہیں۔ اِسی لیے فخر کی جگہ صرف ایک ہی رہ جاتی ہے۔
سلسلہ
"نئے سرے سے خلق کرنا" کوئی نیا خیال نہیں۔ ابتدا میں خدا نے بےترتیبی سے دنیا بنائی؛ انبیا نے وعدہ کیا کہ وہی خدا ایک دن نئے آسمان اور نئی زمین بنائے گا اور اپنی قوم کو نیا دل دے گا۔ پولس کہتا ہے: وہ نئی تخلیق شروع ہو چکی ہے، اور اُس کا آغاز صلیب پر ہوا۔ اِسی لیے وہ آیت 2 میں شریعت کا نام بدل کر "مسیح کی شریعت" کہتا ہے۔ سینا پہاڑ پر پتھر کی تختیوں پر لکھی ہوئی شریعت اب اُس شخص کی صورت میں سامنے آ گئی ہے جس نے ہمارا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھایا۔ اِس لیے جب آپ کسی گرے ہوئے بھائی کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، آپ کوئی نیا قانون پورا نہیں کر رہے؛ آپ مسیح کی شکل دہرا رہے ہیں۔
آئینہ
آیت 4 آپ کی زندگی کے اُس حصے پر ہاتھ رکھتی ہے جس کا ذکر آپ کسی سے نہیں کرتے: موازنہ۔ اُس ساتھی اُستاد سے جس کی کلاس بہتر چلتی ہے، اُس رشتہ دار سے جس کے بچے سنبھلے ہوئے لگتے ہیں، اُس ہم عمر سے جس کی کمائی زیادہ ہے، اور کلیسیا میں اُس شخص سے جسے سب پسند کرتے ہیں۔ موازنہ ہمیں دو طرح مارتا ہے: یا تو ہم اپنے آپ کو حقیر سمجھ کر بےدل ہو جاتے ہیں، یا خود کو دوسرے سے اوپر رکھ کر "سمجھتے ہیں کہ مَیں کچھ ہوں۔" پولس دونوں راستے بند کر دیتا ہے۔ اپنا کام پرکھیں، اپنا بوجھ اُٹھائیں، اور دوسرے کے گناہ پر بیٹھ کر فیصلہ سنانے کے بجائے آیت 1 کی نرم دلی سیکھیں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ خود بھی پھسل سکتے ہیں۔
ایک تفصیل
آیت 17 میں پولس اپنے "زخموں کے نشان" کا حوالہ دیتا ہے۔ یونانی لفظ stigmata اُس داغ کے لیے استعمال ہوتا تھا جو غلام کے جسم پر لگایا جاتا تھا تاکہ معلوم ہو کہ وہ کس کا ہے۔ مخالف چاہتے تھے کہ گلتیہ کے ایمان دار اپنے جسم پر ختنہ کا نشان لگوائیں تاکہ اُن کی مذہبی شناخت ثابت ہو۔ پولس کہتا ہے: میرے جسم پر بھی نشان ہیں، مگر وہ کوڑوں، پتھروں اور قید کے نشان ہیں۔ ختنہ کا نشان انسان چُن کر لگواتا ہے اور اُس پر فخر کرتا ہے؛ پولس کے نشان اُس پر مسیح کی خدمت میں پڑے۔ فرق صاف ہے: ایک نشان کہتا ہے "دیکھو مَیں کیا ہوں"، دوسرا کہتا ہے "دیکھو مَیں کس کا ہوں۔"
مرکزی کردار
اِس باب میں پولس بولتا ہے، مگر جس کے سائے میں سب کچھ کھڑا ہے وہ مسیح ہے۔ پھر بھی پولس کا اندرونی نقشہ دیکھنے لائق ہے۔ وہ تھکا ہوا ہے؛ "آئندہ کوئی مجھے تکلیف نہ دے" ایک زخمی آدمی کا جملہ ہے، بحث جیتنے والے کا نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ گلتیہ کے لوگ اُس سے پھر سکتے ہیں، اور اِس کے باوجود وہ اُنہیں "بھائیو" کہہ کر خط ختم کرتا ہے۔ اُس کی سختی نفرت سے نہیں، خوف سے آتی ہے: کہیں یہ لوگ صلیب کو چھوڑ کر پھر اپنی کارکردگی کے پنجرے میں واپس نہ چلے جائیں۔ اور جو آدمی ہر فخر چھوڑ چکا ہے، اُس کے پاس دینے کے لیے صرف ایک چیز بچی ہے: فضل۔ اِسی سے وہ خط بند کرتا ہے۔
سوال
آیت 7 کھٹکتی ہے: "جو کچھ بھی انسان بوتا ہے اُسی کی فصل وہ کاٹے گا۔" یہ وہی خط ہے جو کہتا ہے کہ نجات اعمال سے نہیں، فضل سے ہے۔ تو یہ کھیتی باڑی کا حساب کیا ہے؟ سستا جواب یہ ہوگا کہ اِسے نرم کر دیں۔ مگر پولس نرم نہیں کرتا۔ وہ دو کھیتوں کی بات کرتا ہے، پرانی فطرت اور روح القدس، اور کہتا ہے کہ آپ جس کھیت میں وقت، پیسہ اور توجہ ڈالتے ہیں وہی آپ کی زندگی کی شکل بنتی ہے۔ فضل ہمیں اِس اصول سے مستثنیٰ نہیں کرتا؛ فضل ہمیں نیا کھیت دیتا ہے۔ اور یہاں ایک راز باقی رہ جاتا ہے جسے پولس حل نہیں کرتا: کیوں فصل "مقررہ وقت" پر آتی ہے، ہمارے وقت پر نہیں۔ اِسی لیے وہ صرف اتنا کہتا ہے: ہتھیار نہ ڈالیں۔
غور و فکر
آپ کے جسم اور زندگی پر کون سے نشان یہ بتاتے ہیں کہ آپ کس کے ہیں، اور کون سے نشان آپ نے دوسروں کو دکھانے کے لیے چُنے ہیں؟
پچھلے مہینے میں آپ کا وقت، پیسہ اور توجہ زیادہ تر کس کھیت میں بوئی گئی، اور آپ کس فصل کا انتظار کر رہے ہیں؟
Galatians 6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
گلتیوں 6 کا کیا مطلب ہے؟
گلتیوں 6 کس بارے میں ہے؟
گلتیوں 6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
گلتیوں 6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
گلتیوں 6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Galatians 6 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جسے کلامِ مُقدّس کی تعلیم دی جاتی ہے وہ اُستاد کو اپنی تمام اچھی چیزوں میں شریک کرے۔“ پولس یہ بات بوجھ اُٹھانے اور بیج بونے کی باتوں کے درمیان کہتا ہے۔ یعنی کلام سننا لینے دینے کا سودا نہیں، ایک سانجھی زندگی ہے۔ سوچ، جس نے تجھے خدا کا کلام سکھایا، کیا تُو نے کبھی اُس کی خاموش ضرورت کو دیکھا ہے؟
پولس نے پورے خط میں سختی سے ڈانٹا، اُنہیں "ناسمجھ گلتی" تک کہا۔ لیکن آخری لفظ ڈانٹ نہیں بلکہ یہ ہے: "بھائیو، ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کا فضل آپ کی روح کے ساتھ رہے۔" وہ اب بھی اُنہیں بھائی کہتا ہے۔ اور فضل صرف کاموں پر نہیں، آپ کی روح پر اُترتا ہے، وہاں جہاں آپ سب سے زیادہ تھکے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کسی کو ڈانٹنے کے بعد دوبارہ اپنا کہہ سکتے ہیں؟
اے خدا، میرا دل اکثر اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا چاہتا ہے۔ مجھے سکھا کہ میرا اصل فخر یسوع کی صلیب ہے۔ جو کچھ دنیا مجھ سے مانگتی ہے، اُس کی گرفت ڈھیلی کر دے، اور تیری محبت میں مجھے آزاد کر۔
خدایا، شکر ہے کہ آپ نے مجھے اپنا روح دیا اور مجھے روح کے کھیت میں بیج بونے کا موقع بخشا۔ شکریہ کہ آپ کے کلام کے مطابق یہ بیج ضائع نہیں ہوتا بلکہ ابدی زندگی کی فصل لاتا ہے۔ ہر چھوٹی فرمانبرداری، ہر دعا اور ہر معافی کو آپ یاد رکھتے ہیں، اِس وفاداری کے لئے آپ کا شکر ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
