۲-سموئیل 22
متن
ساؤل کی تلوار سے بچ نکلنے کے برسوں بعد، جب سب دشمن خاموش ہو چکے، داؤد گاتا ہے۔ وہ پہلے خدا کو چٹان، قلعہ اور ڈھال کہہ کر پکارتا ہے، پھر یاد کرتا ہے کہ موت کی موجیں اُسے گھیر چکی تھیں اور اُس کی چیخ آسمان تک پہنچی؛ تب خدا زمین ہلاتا ہوا، اندھیرے میں چھپا ہوا، بجلی چلاتا ہوا اُتر آیا۔ گیت کا دوسرا حصہ فتح کا ہے: خدا نے اُس کے ہاتھوں کو جنگ سکھائی، قوموں کو تابع کیا، اور آخر میں داؤد اپنے نام سے آگے دیکھتا ہے، اُس مسح کئے ہوئے بادشاہ کی نسل کی طرف جس پر خدا ”ہمیشہ تک مہربان“ رہے گا۔
مرکزی بات
غور کیجئے کہ نجات کا یہ گیت کتنا بےچین ہے۔ خدا بچانے آتا ہے، مگر جس شان سے آتا ہے وہ تسلی دینے والی نہیں، دہلا دینے والی ہے: ”اُس نے اندھیرے کو اپنی چھپنے کی جگہ بنایا“۔ وہی خدا جو مدد کو اُترتا ہے، اُترتے ہوئے خود کو چھپا لیتا ہے۔ یہاں کلام ہمیں ایک ایسی سچائی کے سامنے کھڑا کرتا ہے جسے ہم عموماً نرم کر دیتے ہیں: خدا کی قربت اور خدا کا پردہ ایک ساتھ آتے ہیں۔ وہ چٹان ہے، یعنی قابلِ بھروسا؛ مگر چٹان کو ہم اپنی مٹھی میں نہیں لے سکتے۔ نجات اُس کی طرف سے آتی ہے، مگر اپنی شرائط پر، اپنے وقت پر، اور اکثر ایسے طوفان کی صورت میں جو پہلے ہماری اپنی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
سلسلۂ کلام
گیت کا آخری مصرع اچانک وقت کو پھیلا دیتا ہے: ”وہ اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ داؤد اور اُس کی اولاد پر ہمیشہ تک مہربان رہے گا۔“ داؤد جانتا ہے کہ یہ گیت صرف اُس کی اپنی کہانی نہیں۔ ایک وعدہ اُس کے گھرانے پر رکھا گیا ہے جو اُس کی قبر سے آگے جاتا ہے۔ اور جب ہم اِس گیت کو پورے کلام کے بیچ میں رکھتے ہیں تو ایک عجیب بات کھلتی ہے: وہ مسیح جو داؤد کی اولاد سے آیا، موت کی موجوں میں اُترا مگر اُس کی چیخ کا جواب فوراً نہ آیا۔ آسمان خاموش رہا، اندھیرا تین گھنٹے چھایا رہا، اور نجات قبر کے دوسری طرف سے پھوٹی۔ داؤد کا گیت اُس میں پورا بھی ہوتا ہے اور گہرا بھی۔
آئینہ
ہم سب چٹان ڈھونڈتے ہیں، مگر عموماً ایسی چٹان جسے ہم خود چُن سکیں: بچت کھاتہ، نوکری کی سیکورٹی، صحت کی رپورٹ، بچوں کا نمبر، کسی کی منظوری۔ یہ گیت اُن سب کو ہلکا کر دیتا ہے، اِس لئے نہیں کہ وہ بُری ہیں بلکہ اِس لئے کہ وہ ہلتی ہیں۔ اور آیت 28 ہمیں مزید بےپردہ کرتی ہے: ”تُو پست حالوں کو نجات دیتا ہے، اور تیری آنکھیں مغروروں پر لگی رہتی ہیں۔“ کیا ہم واقعی پست حالوں میں شمار ہونا چاہتے ہیں؟ زیادہ تر وقت ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہمیں بچائے مگر ہماری عزت بھی سلامت رکھے۔ آج ایک کام کیجئے: کاغذ پر وہ ایک چیز لکھئے جس پر آپ کا دل چپکے سے ٹِکا ہوا ہے، اور اُس کے نیچے بلند آواز سے آیت 32 پڑھئے: ”ہمارے خدا کے سوا کون چٹان ہے؟“
بین المتون
یہی گیت زبور 18 میں تقریباً لفظ بہ لفظ دوبارہ آتا ہے، اور یہ دہرایا جانا بےمقصد نہیں: جو داؤد کا ذاتی تجربہ تھا، وہ اسرائیل کی عبادت کا مشترکہ گیت بن گیا۔ ایک آدمی کی چیخ پوری جماعت کی زبان بن جاتی ہے، تاکہ جو آج ڈوب رہا ہے وہ کسی اَور کے الفاظ اُدھار لے کر پکار سکے۔ اور جب داؤد کہتا ہے کہ خدا ”آسمان کو جھکا کر“ نازل ہوا، تو وہ سینا کی گرج، دھوئیں اور بادل کی یاد دلاتا ہے۔ خدا جو کوہِ سینا پر اندھیرے اور آگ میں اُترا، وہی ایک بھاگے ہوئے چرواہے بادشاہ کے لئے بھی اُترتا ہے۔ عظیم اور ذاتی ایک ہی خدا ہیں۔
مرکزی کردار
گیت میں اصل کردار خدا ہے، مگر داؤد کی آواز بھی ہمیں بےچین کرتی ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میرے ہاتھ صاف ہیں“ اور ”مَیں بےالزام رہا“۔ یہ وہی داؤد ہے جس کے ہاتھ اُوریاہ کے خون سے داغدار ہوئے۔ تو کیا یہ خود فریبی ہے؟ شاید اِس سے زیادہ پیچیدہ بات ہے۔ داؤد یہاں اپنی مجموعی زندگی کے بارے میں نہیں، اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی وفاداری کے بارے میں بول رہا ہے: اُس نے ساؤل پر ہاتھ نہ اُٹھایا، اُس نے انتقام خدا پر چھوڑا۔ پھر بھی یہ الفاظ ہماری زبان میں آتے ہی کھٹکتے ہیں۔ اور شاید یہی ٹھیک ہے: ہم اِنہیں صرف اُسی کے منہ سے بےجھجک سن سکتے ہیں جو واقعی بےالزام تھا۔
سوال
آیت 42 کو نظرانداز کرنا آسان ہے، مگر وہ کھٹکتی ہے: ”وہ رب کو پکارتے رہے، لیکن اُس نے جواب نہ دیا۔“ داؤد کی پکار سنی گئی، اُن کی نہیں۔ کیا خدا منتخب طور پر سنتا ہے؟ متن اِس کا آسان جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ خدا کا سلوک انسان کے رویے کے مطابق ہوتا ہے: ”جو کج رَو ہے اُس کے ساتھ تیرا سلوک بھی کج رَوی کا ہے۔“ یہ ہمیں تسلی نہیں دیتا، اور شاید دینا بھی نہیں چاہتا۔ ہم نہیں جانتے کہ اُس دن کس کی پکار کس وجہ سے بےجواب رہی۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ایک دن ایک اَور پکار بےجواب رہی، ایک صلیب پر، تاکہ ہماری پکار کبھی بےجواب نہ رہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”تنگ جگہ“ ہے جس سے نکلنے کا آپ انتظار کر رہے ہیں، اور کیا آپ خدا کو اُس میں اندھیرے کے پردے کے پیچھے سے آنے کی اجازت دیں گے؟
اگر آج آپ کو اپنی زندگی پر نجات کا گیت لکھنا پڑے، تو آپ کس واقعے سے شروع کریں گے، اور آپ نے اُسے اب تک گایا کیوں نہیں؟
2 Samuel 22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-سموئیل 22 کا کیا مطلب ہے؟
۲-سموئیل 22 کس بارے میں ہے؟
۲-سموئیل 22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-سموئیل 22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-سموئیل 22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Samuel 22 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
داؤد نے برسوں پہاڑوں کی چٹانوں اور غاروں میں چھپ کر گزارے تھے۔ اب جب سب دشمن پیچھے رہ گئے تو وہ گاتا ہے، ”رب میری چٹان، میرا قلعہ اور میرا نجات دہندہ ہے۔“ اُسے سمجھ آ گئی کہ اصل پناہ پتھر نہیں بلکہ وہ تھا جس نے اُسے وہاں تک پہنچایا۔ تُو آج جس جگہ چھپا بیٹھا ہے، کیا تُو اُس ہاتھ کو پہچانتا ہے جو تجھے تھامے ہوئے ہے؟
اے خدا، تُو اتنا بڑا ہے اور پھر بھی میری طرف جھکتا ہے۔ جب میرے چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے، تُو اُس تاریکی سے ڈرتا نہیں بلکہ اُسے اپنے قدموں تلے رکھ کر میرے پاس اُتر آتا ہے۔ مجھے یقین دے کہ آج بھی تُو قریب ہے۔
داؤد کے چاروں طرف موت کے پھندے تھے، اور اُس کے پاس کوئی خوبصورت دعا باقی نہ رہی تھی۔ صرف ایک چیخ۔ اور وہی چیخ آسمان تک پہنچ گئی: "میری چیخیں اُس کے کان تک پہنچ گئیں۔"
خدا کو آپ کے الفاظ کی خوبصورتی درکار نہیں۔ آج جو آہ آپ کے دل میں دبی ہوئی ہے، وہ اُس کے کان تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔ کیا آپ اُسے نکلنے دیں گے؟
داؤد بادشاہ بن چکا تھا، دشمن ہار چکے تھے، اور اِس گیت میں وہ اپنی کامیابی کی وجہ بتاتا ہے: "تیری نرمی نے مجھے بڑا بنا دیا ہے۔" نہ تلوار، نہ تختِ شاہی، بلکہ خدا کی نرمی۔ سوچ، تیری زندگی میں جو کچھ بھی بڑا اور خوبصورت ہے، وہ کہیں اُس کی نرمی کا پھل نہ ہو؟ وہ تجھے توڑ کر نہیں، تھام کر اُٹھاتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
