عاموس 8:6
متن
عاموس ۸ باب کی چھٹی آیت ایک ہی جملے میں پورے سماج کا بھید کھول دیتی ہے: ”اپنے ناجائز طریقوں سے تم تھوڑے پیسوں میں بلکہ ایک جوڑی جوتوں کے عوض غریبوں کو خریدتے ہو۔“ پچھلی آیت میں سوداگر بےچینی سے عید اور سبت کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ گودام کھول کر پیمانے چھوٹے اور باٹ ہلکے کر سکیں؛ اب اُسی کاروبار کا آخری قدم سامنے آتا ہے۔ قرض میں ڈوبے ہوئے ہمسائے کو، جو شاید ایک جوڑی جوتوں کے برابر رقم کا مقروض ہے، غلام بنا کر خرید لیا جاتا ہے۔ اور جو غلہ اُسے بیچا جاتا ہے، اُس میں بھوسا ملا ہوا ہے۔ یعنی آدمی سستا ہے اور گندم ملاوٹی۔ یہی اِس آیت کا پورا مضمون ہے۔
بنیادی نکتہ
یہاں خدا کوئی مذہبی خلاف ورزی نہیں گنوا رہے، بلکہ ایک قیمت پر انگلی رکھ رہے ہیں۔ ”ایک جوڑی جوتے“ کوئی محاورہ نہیں، یہ بازار کا اصل نرخ ہے: ایک انسان کی زندگی کی مالیت جوتوں کے ایک جوڑے کے برابر مقرر کر دی گئی۔ اسرائیل کی شریعت میں زمین اور آزادی خدا کی امانت تھی، اسی لیے قرض کے ضمن میں انسان کو مستقل جنس بنا دینا عہد کی جڑ کاٹنا تھا۔ اور غور کیجیے: یہ لوگ سبت مناتے ہیں، عید کے دن گنتے ہیں، عبادت میں حاضر ہیں۔ خدا کی شکایت بےدینوں سے نہیں، دین داروں سے ہے، جن کی عبادت اور جن کے حساب کتاب کے دو الگ الگ خدا ہیں۔ اسی لیے آگے قسم آتی ہے: ”جو کچھ اُن سے سرزد ہوا ہے اُسے مَیں کبھی نہیں بھولوں گا۔“ خدا کی یادداشت ہی مظلوم کی واحد دستاویز ہے۔
نجات کا سلسلہ
اِس آیت کے بعد جو کچھ آتا ہے وہ محض تباہی نہیں، ایک عجیب قسم کا کال ہے: خدا فرماتے ہیں کہ لوگ ”نہ روٹی اور نہ پانی سے بلکہ اللہ کا کلام سننے سے محروم رہیں گے۔“ جس قوم نے انسان کی قیمت گرا دی، اُس سے خدا اپنی آواز کھینچ لیتے ہیں۔ یہی خاموشی بائبل کی بڑی کہانی میں سب سے گہرا اندھیرا ہے، اور اِسی اندھیرے میں مسیح آتے ہیں: وہ کلام جو مجسم ہوا، اور جس کی قیمت پھر ایک بار بازار میں لگائی گئی، چاندی کے تیس سکے۔ عاموس کے سوداگر آدمی کو جوتوں کے عوض خریدتے ہیں؛ گتسمنی میں خدا کا بیٹا خود اُسی ترازو پر تولا جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہاں خریدا جانے والا رضامندی سے بِکا، تاکہ بِکے ہوؤں کو مفت آزاد کر دے۔
آئینہ
یہ آیت آپ کے دل کے اُس گوشے کو تاکتی ہے جہاں آپ حساب لگاتے ہیں۔ نہ صرف پیسوں کا: وقت کا، توجہ کا، کس کی بات سننے کے قابل ہے اور کس کی نہیں۔ ہم میں سے کوئی صبح اُٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ آج کسی انسان کو جوتوں کے برابر خریدوں گا۔ یہ ایسے ہوتا ہے: مزدور سے دو گھنٹے زیادہ کام لے لینا کیونکہ وہ منع نہیں کر سکتا؛ ماسی کی چھٹی کے دن کی اجرت کاٹ لینا؛ اُس کاریگر کا بل ایک ہفتہ اور لٹکا دینا کیونکہ آپ کو کوئی جلدی نہیں اور اُسے سخت جلدی ہے۔ اور ساتھ ہی اتوار کی حاضری، وقت پر عشر، دعا میں شریک۔ عاموس کہتے ہیں: خدا وہ دونوں فائلیں ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ آج شام سے پہلے ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیے جس کی محنت آپ سب سے سستی خریدتے ہیں، اور نام کے ساتھ وہ رقم لکھیے جو آپ اُسے دیتے ہیں۔ پھر کاغذ ہاتھ میں لے کر بلند آواز میں کہیے: ”یہ شخص جوتوں کے ایک جوڑے سے زیادہ قیمتی ہے۔“
مشکل سوال
سوال یہ ہے کہ سزا اِتنی وسیع کیوں ہے۔ جرم چند سوداگروں کا ہے، مگر آیت ۸ کہتی ہے کہ ”زمین لرز اُٹھے گی اور اُس کے تمام باشندے ماتم کریں گے۔“ وہ کسان بھی جسے ملاوٹی گندم بیچی گئی، اُسی زلزلے میں ہے۔ یہ ہمیں اچھا نہیں لگتا، اور اچھا لگنا بھی نہیں چاہیے۔ عاموس اِسے حل نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ دکھاتے ہیں کہ ناانصافی کوئی نجی گناہ نہیں رہتی؛ وہ پورے سماج کی ہوا میں گھل جاتی ہے، اور جب عمارت گرتی ہے تو وہ اُن پر بھی گرتی ہے جنہوں نے اُس کی دیوار نہیں اُٹھائی تھی۔ اِس میں کوئی تسلی نہیں۔ صرف ایک انتباہ ہے: خاموش تماشائی بھی اُسی چھت کے نیچے کھڑا ہے۔
کلام کی گونج
عاموس اِس سے پہلے دوسرے باب میں بالکل یہی الزام لگا چکے ہیں، کہ وہ ضرورت مند کو جوتوں کی ایک جوڑی کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی جذباتی مبالغہ نہیں، ایک بار بار دہرایا جانے والا فردِ جرم ہے۔ اور صدیوں بعد یعقوب رسول اپنے خط کے پانچویں باب میں امیروں سے کہتے ہیں کہ مزدوروں کی روکی ہوئی اجرت خود چیخ رہی ہے اور وہ چیخ رب الافواج کے کانوں تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں جگہ ایک ہی منطق ہے: جو آواز آپ نے دبا دی، وہ خدا کے کان تک اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ مظلوم کو وکیل کی ضرورت نہیں پڑتی، اُس کی اجرت خود گواہی دیتی ہے۔
پہلے سننے والے
عاموس کے سامعین خوشحال تھے۔ یربعام دوم کے زمانے میں سامریہ کی معیشت پھل پھول رہی تھی، مندروں میں رونق تھی، فصلیں اچھی تھیں۔ اُنہیں یقین تھا کہ برکت ہی خدا کی منظوری کا ثبوت ہے۔ اِسی لیے ٹوکری بھرے پکے پھل کی رویا اُن کے لیے فصل کی خوشی کی تصویر تھی، جب تک خدا نے اُس کا مطلب نہ بتایا: ”میری قوم کا انجام پک گیا ہے۔“ پھل پک جائے تو اگلا مرحلہ گلنا ہے۔ اُنہوں نے سنا کہ جس ترقی پر وہ فخر کرتے ہیں، وہی گنتی پوری ہونے کی علامت ہے۔ اور جو مندر اُن کی سلامتی کی ضمانت تھا، اُس کے گیت ماتم میں بدل جائیں گے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا حساب کتاب ہے جسے آپ نے خاموشی سے اپنی عبادت سے الگ کر رکھا ہے؟
اگر خدا کی یادداشت مظلوم کی واحد دستاویز ہے، تو آپ کے بارے میں اُس دستاویز میں اِس ہفتے کیا درج ہوا؟
Amos 8:6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
عاموس 8:6 کا کیا مطلب ہے؟
عاموس 8:6 کس بارے میں ہے؟
عاموس 8:6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
عاموس 8:6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
عاموس 8:6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Amos 8 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
عجیب بات ہے۔ لوگ قَسم کھاتے ہیں، "تیرے دیوتا کی حیات کی قَسم!" اور اُسی سانس میں عاموس کہتا ہے کہ "وہ گر کر کبھی نہیں اُٹھیں گے۔" جس کی زندگی کی قَسم کھائی جا رہی تھی وہ خود مُردہ تھا۔
آج بھی ہم اپنی اُمید کسی نہ کسی کے نام پر باندھتے ہیں، نوکری، رشتہ، پیسہ۔ پر سوال یہ ہے کہ جب تُو گرے گا تو کیا وہ تجھے اُٹھا سکے گا؟ صرف زندہ خدا ہی گِرے ہوئے کو اُٹھاتا ہے۔
رب قادرِ مطلق نے مجھے رویا دکھائی۔ مَیں نے گرمیوں کے پھلوں سے بھری ٹوکری دیکھی۔“ پکے پھل دیکھنے میں سب سے خوبصورت لگتے ہیں، مگر اُن کا وقت پورا ہو چکا ہوتا ہے۔ اگلا قدم گلنا ہے۔ اسرائیل بھی باہر سے ایسا ہی تھا، خوشحال، بھرا ہوا، اور اندر سے پکنے کی آخری حد پر۔ سوچ کر دیکھ: کیا تیری زندگی میں کوئی چیز ہے جسے تُو کامیابی سمجھ رہا ہے، جبکہ خدا اُسے ٹوکری میں رکھا ہوا پھل دیکھ رہا ہے؟
وہ سوداگر عبادت کے دن گزرنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ پھر کاروبار شروع کریں: "ہم ضرورت مندوں کو چاندی کے عوض اور غریبوں کو جوتوں کے ایک جوڑے کے بدلے خرید لیں گے۔" سوچیں، ایک انسان کی قیمت ایک جوڑی جوتی۔ اور گندم میں بھوسا ملانا اُن کے لیے معمولی بات تھی۔ کیا تیرے حساب کتاب میں بھی کوئی ایسا ہے جس کی قیمت تُو نے گھٹا دی ہے؟
خداوند، تیرا شکر کہ تُو غریبوں کو نظرانداز نہیں کرتا۔ جو ضرورت مندوں کو پاؤں تلے کچلتے ہیں، اُن سے تُو کہتا ہے، ”سنو!“ تُو کچلے ہوئے لوگوں کی آہ سنتا اور اُن کے حق میں بولتا ہے۔ تیرا شکر کہ ناانصافی پر تُو خاموش نہیں رہتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں