واعظ 5
متن
واعظ پہلے ہمیں عبادت گاہ کی دہلیز پر کھڑا کرتا ہے: قدموں کا خیال رکھ، کم بول، منت مان کر ٹال مٹول نہ کر۔ پھر وہ ہمیں باہر صوبے کی گلیوں میں لے جاتا ہے جہاں غریب کا حق مارا جاتا ہے اور افسروں کے اوپر افسر بیٹھے ہیں۔ اور آخر میں وہ ہمیں امیر آدمی کے بستر کے پاس لے جاتا ہے، جہاں دولت مالک کو سونے نہیں دیتی۔ نتیجہ حیرت انگیز ہے: کھا، پی، اپنی محنت کے پھل کا مزہ لے، "کیونکہ یہی اُس کے نصیب میں ہے۔"
مرکزی بات
"اللہ آسمان پر ہے جبکہ تُو زمین پر ہی ہے۔" یہ فاصلہ سردمہری نہیں، تناسب ہے۔ واعظ ایسے مذہب کے خلاف بولتا ہے جو خدا کو باتوں اور قربانیوں سے قابو میں کرنا چاہتا ہے۔ منت ماننا اکثر سودا ہوتا ہے: تُو یہ کر، مَیں وہ کروں گا۔ واعظ کہتا ہے کہ ایسا سودا خدا کے ساتھ نہیں چلتا، اور جو زبان سستی ہے وہ گناہ کا پھندا بن جاتی ہے۔ دوسری طرف وہی خدا، جس کے سامنے ہماری باتیں بےمعنی ہیں، روٹی، مے اور محنت کی خوشی دیتا ہے۔ خدا کو خریدا نہیں جا سکتا، مگر وہ بخشتا ہے۔ یہی اِس باب کا دل ہے: عبادت میں خاموشی، اور روزمرہ زندگی میں شکرگزاری۔
سنہری تار
واعظ کی شکایت کہ خدا آسمان پر اور انسان زمین پر ہے، عہدنامۂ جدید میں جواب پاتی ہے: کلام جسم بنا اور ہمارے درمیان بسا۔ جو فاصلہ واعظ نے دیانت داری سے مانا، اُسے مسیح نے پار کیا۔ اور جہاں واعظ کہتا ہے "مَنت نہ ماننا مَنت مان کر اُسے پورا نہ کرنے سے بہتر ہے"، وہاں مسیح واحد شخص ہے جس نے باپ سے کیا ہوا عہد آخر تک، صلیب تک پورا کیا۔ یسوع نے بھی دعا کے بارے میں یہی سکھایا: بہت بولنے سے سنی نہیں جاتی (متی ۶)۔ اور روٹی اور پیالے کی خوشی، جو واعظ "اللہ کی بخشش" کہتا ہے، عشائے ربانی کی میز پر اپنی گہری صورت پاتی ہے: سادہ خوراک جو خدا کی سخاوت کی گواہی دیتی ہے۔
آئینہ
یہ باب ہمارے دو چہرے بےنقاب کرتا ہے۔ پہلا: عبادت میں ہماری باتونی مذہبیت۔ ہم دعا میں بولتے رہتے ہیں کیونکہ خاموشی میں ہمیں لگتا ہے کچھ ہو نہیں رہا۔ مصیبت میں ہم وعدے کرتے ہیں، پھر مصیبت گزر جانے پر وعدہ بھول جاتے ہیں۔ دوسرا: پیسے سے ہماری بےچین محبت۔ رات کو موبائل پر بینک کا حساب دیکھنا، تنخواہ بڑھنے کے باوجود وہی خالی پن، بچوں کی فیس، بڑھاپے کا خوف۔ واعظ آپ کو غریب بننے کا حکم نہیں دیتا؛ وہ صرف امیر آدمی کی جاگتی آنکھیں دکھاتا ہے اور مزدور کی میٹھی نیند۔ آج اپنے اگلے کھانے سے پہلے موبائل دوسرے کمرے میں رکھیں، بلند آواز میں کہیں "یہ اللہ کی بخشش ہے"، اور بغیر جلدی کے کھائیں۔
پس منظر
یہ الفاظ غالباً فارسی سلطنت کے دور کے یروشلم میں لکھے گئے، جلاوطنی کے بعد کی اُس دنیا میں جہاں یہودیہ ایک چھوٹا، مقروض صوبہ تھا۔ دوسری ہیکل کھڑی تھی: صحن میں دھوئیں اور خون کی بو، بھیڑ، قربانی کے جانوروں کی آوازیں، اور لوگ جو کاہن کے سامنے بلند آواز میں منتیں مانتے تھے۔ باہر ٹیکس وصول کرنے والوں کی زنجیر تھی، "ایک سرکاری ملازم دوسرے کی نگہبانی کرتا ہے"، اور ہر سطح پر کچھ نہ کچھ کٹتا تھا۔ سکّہ نیا تھا، چاندی جمع کرنا ممکن ہو گیا تھا، اور ساتھ ہی ایک نئی بےچینی: دولت جو ایک قحط، ایک جہاز، ایک بادشاہی فرمان سے تباہ ہو سکتی تھی۔ واعظ اِسی ماحول کا مشاہدہ کرتا ہے۔
مرکزی کردار
واعظ کوئی مایوس فلسفی نہیں، وہ آنکھیں کھلی رکھنے والا شخص ہے۔ "مجھے سورج تلے ایک نہایت بُری بات نظر آئی": اُس نے کسی کو جانا تھا جس کی بچائی ہوئی دولت خود اُس کے لئے نقصان بنی، اور جس کے بیٹے کے ہاتھ خالی رہے۔ اُس نے نااِنصافی دیکھی اور کہا "تعجب نہ کر"، نہ اِس لئے کہ اُسے فرق نہیں پڑتا، بلکہ اِس لئے کہ حیرت اکثر ہمیں سوچنے سے روک دیتی ہے۔ اُس کا لنگر ایک ہی ہے: "اللہ کا خوف مان!" اور اِسی خوف کے اندر وہ خوشی کی جگہ بناتا ہے، کوئی ہلکی پھلکی خوشی نہیں بلکہ وہ جو اپنی محدودیت جان کر بھی روٹی توڑ سکتی ہے۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ پہلی بار سنتے تھے، وہ ٹیکس تلے دبے کسان، دستکار اور چھوٹے تاجر تھے۔ اُن کے کان میں "ایک سرکاری ملازم دوسرے کی نگہبانی کرتا ہے" ایک تلخ تسلی تھی: تمہاری بدنصیبی ذاتی نہیں، یہ نظام ہے۔ اور جب اُنہوں نے سنا کہ منت مان کر بھول جانا خطرناک ہے، تو اُنہیں یاد آیا کہ اُنہوں نے بیماری یا فصل کے وقت خدا سے کیا کیا وعدے کیے تھے۔ سب سے حیرت انگیز اُن کے لئے آخری جملے تھے۔ جو لوگ روز مزدوری پر جیتے تھے، اُنہیں بتایا گیا کہ اُن کی سادہ روٹی، اُن کی محنت کا مزہ، محرومی کا انعام نہیں بلکہ آسمان سے آئی بخشش ہے۔
غور و فکر کے سوالات
کیا میری دعا زیادہ تر بولنا ہے یا سننا، اور آخری بار مَیں نے خدا کے حضور خاموشی میں کب وقت گزارا؟
کوئی ایک وعدہ یا منت جو مَیں نے خدا سے کی اور پوری نہیں کی: آج مَیں اُس کے بارے میں کیا ایمانداری برت سکتا ہوں؟
Ecclesiastes 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
واعظ 5 کا کیا مطلب ہے؟
واعظ 5 کس بارے میں ہے؟
واعظ 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
واعظ 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
واعظ 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ecclesiastes 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شکر ہے کہ تُو ہماری بےشمار باتوں کا محتاج نہیں۔ تیرے حضور تھوڑے سے لفظ بھی کافی ہیں، کیونکہ تُو دل کو پڑھ لیتا ہے۔ شکریہ کہ تُو ہمیں کم بولنا اور زیادہ سننا سکھاتا ہے، اور دن بھر کی فکروں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تاکہ ہم چین سے سو سکیں۔
جس طرح انسان آیا اُسی طرح چلا جاتا ہے۔" پیدا ہوتے وقت تمہاری مٹھی خالی تھی، اور آخر میں بھی خالی ہو گی۔ سلیمان یہ ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں کہتا بلکہ آزاد کرنے کے لیے۔ جس چیز کو تم اِتنی سختی سے پکڑے ہوئے ہو، وہ تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ تو کیوں نہ آج ہی اُسے کھول کر خدا کے ہاتھ میں رکھ دو، اور جو اُس نے دیا ہے اُس کا شکر کرتے ہوئے جیو؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں