اِفسِیوں 2
متن
پولس رسول پہلے ہمیں قبرستان میں لے جاتے ہیں: "آپ بھی اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے روحانی طور پر مُردہ تھے۔" نہ بیمار، نہ کمزور، بلکہ مُردہ، اور اِس دنیا کے طور طریقوں اور "ہَوا کی قوتوں کے سردار" کے تابع۔ پھر ایک ہی لفظ سے سب کچھ پلٹ جاتا ہے: "لیکن اللہ کا رحم اِتنا وسیع ہے۔" خدا نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا، آسمان پر بٹھایا، اور یہ سب فضل سے، کسی کام کے بدلے میں نہیں۔ باب کا دوسرا حصہ اِسی نجات کا سماجی نتیجہ دکھاتا ہے: غیریہودی جو کبھی "اللہ کے بغیر" تھے، اب مسیح کے خون سے قریب لائے گئے، دیوار گر گئی، اور دونوں گروہ مل کر خدا کا مقدّس گھر بن رہے ہیں۔
مرکزی بات
یہاں نجات کا بیان طبّی نہیں بلکہ تخلیقی ہے۔ مُردے کو نصیحت سے فائدہ نہیں ہوتا؛ اُسے زندگی چاہیے۔ اِسی لیے پولس آیت 10 میں "خلق" کا لفظ استعمال کرتے ہیں: "ہم اُسی کی مخلوق ہیں۔" یعنی نجات مرمت نہیں، نئی پیدائش ہے، اُسی قدرت کا کام جس نے ابتدا میں نیستی سے ہستی بنائی۔ اور اگر ایسا ہے تو فخر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیونکہ کوئی مخلوق اپنی تخلیق میں شریک نہیں ہوتی۔ مگر دھیان رکھیے: فضل نیک کاموں کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اُنہیں اُن کی صحیح جگہ پر رکھتا ہے۔ نیک کام نجات کی قیمت نہیں، اُس کا پھل ہیں؛ خدا نے وہ کام "پہلے سے ہمارے لئے تیار کر رکھے ہیں۔" غضب حقیقی تھا، رحم اُس سے بڑا نکلا۔
سنہری دھاگا
آیت 12 ایک مکمل عہدنامۂ قدیم کو چند لفظوں میں سمیٹ دیتی ہے: "جو وعدے اللہ نے عہدوں کے ذریعے اپنی قوم سے کئے تھے وہ آپ کے لئے نہیں تھے۔" ابراہیم، موسیٰ، داؤد، ہیکل، شریعت، یہ سب ایک قوم کی میراث تھے اور باقی دنیا باہر کھڑی تھی۔ لیکن ابراہیم سے کیا گیا وعدہ ہی تو کہتا تھا کہ زمین کی تمام قومیں برکت پائیں گی۔ مسیح کی صلیب اُس وعدے کو پورا کرتی ہے، مگر اُس طریقے سے نہیں جس کی یہودی توقع رکھتے تھے: غیریہودی یہودی بن کر داخل نہیں ہوتے، بلکہ دونوں مل کر "ایک نیا انسان" بنتے ہیں۔ یوں نجات کی کہانی قوم سے نکل کر نئی مخلوق تک پہنچتی ہے، اور خدا کا گھر پتھروں کا نہیں، لوگوں کا بنتا ہے۔
آئینہ
ہم سب خاموشی سے ایک حساب کتاب رکھتے ہیں: میں نے کلیسیا میں کتنی خدمت کی، کتنا دیا، کتنے سال وفادار رہا۔ یہ حساب خطرناک نہیں لگتا، مگر آیت 9 اُسی پر تلوار چلاتی ہے: "کوئی اپنے آپ پر فخر نہیں کر سکتا۔" اور اِس فخر کا سب سے عام روپ مذہبی نہیں، سماجی ہوتا ہے: ہم اُن ایمان داروں کو نیچا جانتے ہیں جن کی زبان، تعلیم، برادری یا عبادت کا انداز ہم سے مختلف ہے۔ پولس اِسے دیوار کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنا جسم قربان کر کے وہ دیوار گرا دی۔ جسے خدا نے صلیب پر گرا دیا، اُسے ہم اپنی جماعتوں میں دوبارہ کھڑا نہ کریں۔ آج ہی اُس ایمان دار بہن یا بھائی کو ایک پیغام بھیجیں جس کا پس منظر یا طبقہ آپ سے مختلف ہے، اور صرف اتنا لکھیں: "مسیح میں آپ میرے ہم وطن ہیں۔"
ایک باریک تفصیل
آیت 20 میں "کونے کا بنیادی پتھر" کوئی سجاوٹی لفظ نہیں۔ قدیم عمارت میں یہ وہ پتھر تھا جسے سب سے پہلے رکھا جاتا اور جس کے زاویے سے پوری دیوار کی سیدھ ناپی جاتی تھی۔ اگر وہ پتھر ٹیڑھا ہو تو ساری عمارت ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ پولس کہتے ہیں کہ کلیسیا کی سیدھ رسولوں یا روایت سے نہیں، مسیح سے ناپی جاتی ہے۔ اور غور کیجیے کہ یہ عمارت مکمل نہیں ہے: "اُس میں پوری عمارت جُڑ جاتی اور بڑھتی بڑھتی" مقدّس گھر بنتی ہے۔ عمارتیں عموماً بڑھتی نہیں، مگر یہ بڑھتی ہے، کیونکہ یہ درحقیقت ایک زندہ بدن ہے۔ آپ کی کلیسیا کا نامکمل ہونا ناکامی نہیں، زیرِ تعمیر ہونے کی علامت ہے۔
پس منظر
افسس رومی صوبہ ایشیا کا بڑا شہر تھا، ارتمِس کے عظیم مندر کا گھر، جادو اور تعویذ کا مرکز۔ "ہَوا کی قوتوں کے سردار" کا ذکر وہاں کے لوگوں کے لیے مبہم نہیں تھا؛ وہ روحانی طاقتوں کے خوف میں جیتے تھے۔ ساتھ ہی یہودی برادری بھی موجود تھی، اور یروشلم کی ہیکل میں واقعی ایک پتھر کی دیوار تھی جس پر لکھا تھا کہ کوئی غیریہودی آگے بڑھا تو اپنی موت کا خود ذمہ دار ہوگا۔ پولس جب "دیوار" کہتے ہیں تو سننے والوں کے ذہن میں وہی منظر آتا ہوگا۔ یہ خط غالباً قید سے لکھا گیا، ایک ایسے آدمی کی طرف سے جسے ہیکل میں غیریہودی لانے کے الزام ہی نے زنجیروں تک پہنچایا تھا۔
دیگر کلام سے رشتہ
حزقی ایل نبی نے ہڈیوں کی اُس وادی کا منظر دیکھا تھا جہاں خدا کے دم سے مُردے کھڑے ہو گئے؛ پولس یہاں وہی منظر ہر ایمان دار کی زندگی پر لاگو کرتے ہیں، کیونکہ "روحانی طور پر مُردہ" ہونے کا واحد علاج قیامت ہے، اصلاح نہیں۔ اور جب وہ لکھتے ہیں کہ آپ "اللہ کی سکونت گاہ" بن رہے ہیں، تو وہ اُس بادل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو خیمۂ اجتماع اور سلیمان کی ہیکل پر اُترا تھا۔ فرق یہ ہے کہ اب جلال کسی عمارت میں نہیں، بلکہ اُن لوگوں میں بستا ہے جو کبھی "پردیسی اور اجنبی" تھے۔ ہیکل منتقل ہو گئی ہے، اور اُس کے پتھر سانس لیتے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی "نیکی" ہے جس پر آپ خاموشی سے فخر کرتے ہیں، اور اگر نجات واقعی تحفہ ہے تو اُس فخر کا کیا بنے گا؟
آپ کی کلیسیا میں وہ کون سی دیوار اب بھی کھڑی ہے جسے مسیح نے صلیب پر گرا دیا تھا، اور اُس کی ایک اینٹ ہٹانے کے لیے آپ اِس ہفتے کیا کر سکتے ہیں؟
Ephesians 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 2 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 2 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا کیا چھپا ہے، وہ خواہشیں جو مجھے تجھ سے دور لے جاتی ہیں۔ میں خود کو بہتر ثابت نہیں کر سکتا۔ مجھے اپنی حالت سے نظریں چرانے نہ دے، بلکہ اپنی رحمت کی طرف لوٹا لے، کیونکہ میری اُمید صرف تیرے فضل میں ہے۔
چنانچہ اب سے آپ اجنبی اور غیرشہری نہیں رہے بلکہ مُقدّسین کے ہم وطن اور اللہ کے گھرانے کے ہیں۔“ غور کریں کہ پولس یہ نہیں کہتا کہ آپ مہمان ہیں۔ مہمان دروازے پر دستک دیتا ہے، گھر والا چابی رکھتا ہے۔ مسیح نے آپ کو صرف قریب نہیں کیا، اندر بٹھایا ہے۔ تو پھر آپ آج بھی خدا کے حضور کیوں ایسے کھڑے ہیں جیسے اجازت مانگ رہے ہوں؟
تاکہ آنے والے زمانوں میں وہ ہمیں مسیح عیسیٰ میں اپنی مہربانی سے اپنے فضل کی لامحدود دولت دکھائے۔“ سوچیں، خدا نے آپ کو صرف بچایا ہی نہیں بلکہ آپ کو اپنے فضل کا نمونہ بنا دیا ہے۔ ابدیت میں آپ کی زندگی وہ ثبوت ہو گی کہ خدا کتنا مہربان ہے۔ جس ماضی پر آپ شرمندہ ہیں، وہی اُس کی محبت کی گواہی بنے گا۔
صلیب پر جو کچھ مرا، وہ آپ کا دشمن نہیں بلکہ دشمنی خود تھی۔ لکھا ہے: ”صلیب پر اُس نے دونوں کی دشمنی کو مار ڈالا۔“ ہم اکثر اُلٹ کرتے ہیں، دشمنی کو زندہ رکھتے ہیں اور انسان کو دفن کر دیتے ہیں۔ کیا کوئی ایسا نام ہے جسے آپ نے دل میں دیوار بنا رکھا ہے؟ مسیح نے وہ دیوار پہلے ہی گرا دی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
