خروج 17
متن
اسرائیل خداوند کے حکم پر منزل بہ منزل چلتا ہوا رفیدیم پہنچتا ہے، اور وہاں پینے کا پانی نہیں ملتا۔ قوم موسیٰ سے جھگڑتی ہے، بڑبڑاتی ہے، اور یہ سوال اُٹھاتی ہے کہ مصر سے نکالنے کا مقصد کیا بچوں اور مال مویشی سمیت پیاس سے مرنا تھا؛ موسیٰ خداوند کے حضور فریاد کرتا ہے کہ لوگ اُسے سنگسار کرنے کو تیار ہیں۔ خداوند حورب کی چٹان پر خود کھڑا ہو کر پانی دیتا ہے، اور اُس جگہ کا نام ’مسّہ اور مریبہ‘ پڑ جاتا ہے۔ اِسی مقام پر عمالیقی حملہ کرتے ہیں؛ یشوع لڑتا ہے، موسیٰ پہاڑ پر لاٹھی اُٹھائے کھڑا رہتا ہے، ہارون اور حور اُس کے بازو تھامے رکھتے ہیں، اور شام تک فتح ہو جاتی ہے۔
مرکزی بات
اِس باب کا اصل سوال پانی نہیں، بلکہ وہ جملہ ہے جو ساتویں آیت میں چھپا ہے: ”کیا رب ہمارے درمیان ہے کہ نہیں؟“ یہ کفر کا اعلان نہیں، ایک پیاسے آدمی کا شک ہے، اور بائبل اِسے چھپاتی نہیں۔ غور کریں کہ اسرائیل بھٹکا ہوا نہیں تھا؛ آیت ایک صاف کہتی ہے کہ وہ خداوند ہی کے حکم پر چل رہے تھے۔ یعنی فرمانبرداری کا راستہ اُنہیں بےپانی جگہ پر لے گیا۔ یہی وہ بات ہے جسے ہمارا دل قبول نہیں کرتا: ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کی رہنمائی کا ثبوت آسانی ہے۔ خداوند کا جواب تادیب نہیں بلکہ پانی ہے، اور وہ پانی اُس چٹان سے آتا ہے جس پر وہ خود ”تیرے سامنے کھڑا“ ہوتا ہے۔ فیض شکایت کے باوجود نہیں، شکایت کے عین درمیان دیا جاتا ہے۔
سلسلۂ نجات
ریگستان میں پانی ایک ایسی تصویر بن جاتا ہے جو پوری بائبل میں چلتی ہے۔ چٹان ماری جاتی ہے تاکہ قوم جیے: ضرب کہیں پڑتی ہے، زندگی کہیں اور پھوٹتی ہے۔ پولس رسول اِسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ چٹان مسیح تھی (١-کرنتھیوں ١٠:٤)، اور یوحنا کی انجیل میں یسوع عید کے دن کھڑے ہو کر پیاسوں کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ دوسری تصویر پہاڑ کی چوٹی ہے: ایک آدمی اُٹھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ، وادی میں لڑنے والوں کے لیے کھڑا، اور تھک کر بھی تھامے رکھا گیا۔ یہ شفاعت کی ابتدائی شکل ہے، اُس کی جھلک جو ہمیشہ زندہ ہے تاکہ ہماری سفارش کرے۔ موسیٰ کے بازو گرتے ہیں؛ مسیح کے نہیں گرتے۔
آئینہ
آپ کو معلوم ہے کہ یہ باب آپ کے بارے میں کہاں بات کرتا ہے۔ وہ مہینہ جب تنخواہ پوری نہ پڑی اور دعا کا کوئی جواب نہ آیا۔ وہ رپورٹ جو ڈاکٹر نے پڑھ کر سنائی۔ وہ بچہ جو اب بات نہیں کرتا۔ اور اُن دنوں میں آپ نے وہی کیا جو اسرائیل نے کیا: خدا سے شکایت نہیں کی، لوگوں سے کی۔ پادری کے بارے میں، شریکِ حیات کے بارے میں، کلیسیا کے بارے میں، اُس شخص کے بارے میں جسے خدا نے آپ کی راہنمائی کے لیے رکھا تھا۔ بڑبڑانا شک کا سب سے آرام دہ لباس ہے، کیونکہ اِس میں ہمیں خدا کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ موسیٰ کا فرق دیکھیں: وہ قوم سے بحث کرنے کے بجائے ”رب کے حضور فریاد“ کرتا ہے۔ شک کو دبانا نہیں، اُس کا رخ بدلنا ہے۔
آج یہ کریں: جس بات کی شکایت آپ پچھلے ہفتے لوگوں سے کرتے رہے ہیں، اُسے ایک جملے میں بلند آواز سے خدا کے سامنے کہہ دیں، اپنے ہی کمرے میں، اور آج کے باقی دن وہ شکایت کسی انسان کے سامنے نہ دہرائیں۔
کلام کی گواہی
زبور ٩٥ اِسی مقام کو اسرائیل کی یادداشت کا زخم بنا دیتا ہے: ”مریبہ“ وہ نام بن جاتا ہے جو نسلوں تک خبردار کرتا ہے کہ دل کو سخت نہ کرو۔ دلچسپ یہ ہے کہ خداوند نے وہاں سزا نہیں دی تھی، پانی دیا تھا؛ خطرہ یہ تھا کہ قوم اِسے معمول سمجھ لے اور ہر مشکل پر دوبارہ پوچھے، کیا رب ہمارے درمیان ہے کہ نہیں۔ دوسری طرف گنتی ٢٠ میں، چالیس سال بعد، تقریباً وہی منظر دہرایا جاتا ہے اور اِس بار موسیٰ خود غصے میں چٹان کو مارتا ہے۔ یعنی جو شخص یہاں قوم کے لیے فریاد کر رہا ہے، وہ بھی اُسی ریگستان میں ٹوٹ سکتا ہے۔ کوئی رہنما اِس آئینے سے باہر نہیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خداوند ہے، اور اُس کی دو حرکتیں ایک دوسرے کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ پہلے وہ چٹان پر کھڑا ہوتا ہے تاکہ ضرب کھائے اور پانی دے؛ پھر وہ اعلان کرتا ہے کہ عمالیقیوں سے اُس کی جنگ ہمیشہ رہے گی۔ وہی خدا جو بڑبڑانے والوں کو پانی پلاتا ہے، کمزوروں پر حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑتا۔ موسیٰ قربان گاہ بنا کر اُس کا نام رکھتا ہے ’رب میرا جھنڈا ہے‘، یعنی فتح کی علامت کوئی تلوار یا لشکر نہیں بلکہ خدا کی موجودگی ہے۔ اور یہ خدا اپنی قوم کی شکایت سے پیچھے نہیں ہٹتا؛ وہ اُن کے سوال کا جواب دلیل سے نہیں، پانی سے دیتا ہے۔ یہی اُس کا مزاج ہے۔
پس منظر
مصر سے نکلنے کے چند ہفتے ہی گزرے ہیں۔ قوم سینا پہاڑ کے قریب پہنچ رہی ہے، مَن مل چکا ہے، سمندر پار ہو چکا ہے، مگر پانی ایسی چیز ہے جس کے بغیر ریگستان میں تین دن بھی کافی ہوتے ہیں، اور بچوں اور ریوڑوں کے ساتھ سفر کرنے والوں کے لیے یہ محض تکلیف نہیں، موت کا سوال ہے۔ عمالیقی اُس علاقے کے لٹیرے قبائل تھے جو تھکے ہوئے قافلوں کے پیچھے سے حملہ کرتے تھے؛ اِسی لیے خداوند اِسے اپنے تخت کے خلاف اُٹھا ہوا ہاتھ کہتا ہے۔ موسیٰ کی حیثیت ابھی غیر مستحکم ہے، وہ خود کہتا ہے کہ لوگ اُسے سنگسار کر دیں گے۔ اور یشوع پہلی بار سامنے آتا ہے، اُس تربیت کے آغاز پر جو چالیس سال چلے گی۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا کون سا مقام ’مسّہ اور مریبہ‘ کہلانے کا حق رکھتا ہے، اور اُس جگہ خدا نے کیا دیا تھا جو آپ نے بعد میں بھلا دیا؟
آج آپ کے قریب کون ہے جس کے بازو تھکے ہوئے ہیں، اور آپ ہارون یا حور بننے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟
Exodus 17 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 17 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 17 کس بارے میں ہے؟
خروج 17 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 17 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 17 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Exodus 17 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، زندگی کے سفر میں اچانک ایسی لڑائیاں سامنے آ جاتی ہیں جن کے لیے میں تیار نہیں ہوتا۔ میرے ہاتھ جلد تھک جاتے ہیں، اِس لیے تُو ہی مجھے تھام لے۔ مجھے ایسے ساتھی دے جو میرے ساتھ کھڑے رہیں، اور مجھے یاد رہے کہ جیت تیری طرف سے آتی ہے۔
موسیٰ کوئی سپرمین نہیں تھا۔ اُس کے بازو تھک گئے، اور جنگ نیچے وادی میں چل رہی تھی۔ تب ہارون اور حور نے ایک پتھر رکھا اور "اُس کے دائیں بائیں کھڑے ہو کر اُس کے ہاتھوں کو تھامے رکھا۔"
کیا تُو اِس بات کو مان سکتا ہے کہ تیرے ہاتھ بھی تھکتے ہیں؟ اور کیا تُو نے کسی کو اجازت دی ہے کہ وہ تیرے پہلو میں کھڑا ہو کر اُنہیں تھامے؟
یشوع نے موسیٰ کی ہدایت کے مطابق عمالیقیوں سے جنگ کی جبکہ موسیٰ، ہارون اور حور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔" ایک ہی جنگ، مگر دو جگہیں۔ نیچے تلوار، اوپر اُٹھے ہوئے ہاتھ۔ یشوع کو نظر بھی نہ آتا ہو گا کہ پہاڑ پر کیا ہو رہا ہے، پھر بھی وہی اُس کی طاقت تھی۔ آج تُو شاید میدان میں تھکا ہوا ہے۔ کوئی تیرے لیے چپکے سے ہاتھ اُٹھائے کھڑا ہے۔ اور شاید کسی اَور کے لیے وہ خاموش جگہ تیری ہے۔
موسیٰ نے قربان گاہ بنا کر کہا، ”ربّ کے تخت پر ہاتھ رکھ کر قَسم کھائی گئی ہے کہ ربّ نسل در نسل عمالیقیوں سے جنگ کرتا رہے گا۔“ عمالیقیوں نے قافلے کے پیچھے چلنے والے تھکے ہارے لوگوں پر حملہ کیا تھا۔ خدا یہ نہیں بھولا۔ جہاں کوئی کمزور کو کچلتا ہے، وہاں خدا خود فریق بن جاتا ہے۔ اور تیری وہ لڑائی جو ایک دن میں ختم نہیں ہوتی؟ وہ بھی اکیلے تیری نہیں ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
