خروج 23:25
متن
"رب اپنے خدا کی خدمت کرنا۔ پھر مَیں تیری خوراک اور پانی کو برکت دے کر تمام بیماریاں تجھ سے دُور کروں گا۔" ایک ہی سانس میں دو باتیں جڑی ہوئی ہیں: ایک حکم اور ایک وعدہ۔ حکم یہ کہ اسرائیل کسی اور معبود کے پیچھے نہ جائے بلکہ صرف اپنے رب کی عبادت اور خدمت کرے؛ وعدہ یہ کہ خدا خود اُس قوم کی روٹی اور پانی پر، یعنی زندگی کی سب سے سادہ اور سب سے ناگزیر چیزوں پر، اپنی برکت رکھے گا اور بیماری کو اُن کے درمیان سے ہٹا دے گا۔ پچھلی آیت میں کنعانی بُتوں کو توڑنے کا حکم تھا؛ یہ آیت بتاتی ہے کہ اُن ستونوں کے ٹوٹنے کے بعد جو خالی جگہ بچتی ہے، اُس میں کیا آنا چاہئے۔
اصل مضمون
یہاں خدا اپنی قوم کے ساتھ ایک ایسا رشتہ باندھتا ہے جو مذہبی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیدھا باورچی خانے اور کنوئیں تک پہنچتا ہے۔ کنعان کے بعل دیوتاؤں کا سارا کاروبار اِسی وعدے پر چلتا تھا: بارش، فصل، اولاد، صحت۔ رب اُن سے مقابلہ نہیں کرتا، وہ اُن کا دعویٰ جڑ سے کاٹ دیتا ہے، کیونکہ خوراک اور پانی کسی زرخیزی کے دیوتا کی مہربانی نہیں بلکہ اُسی خدا کی دین ہیں جس نے اسرائیل کو مصر سے نکالا۔ اور غور کیجئے کہ "خدمت" وہی لفظ ہے جو مصر کی غلامی کے لئے استعمال ہوتا تھا؛ اسرائیل خدمت سے آزاد نہیں ہوا، اُس کا آقا بدل گیا ہے۔ فرعون کی خدمت میں روٹی چھن جاتی تھی، رب کی خدمت میں روٹی برکت پاتی ہے۔ ایمان یہاں ایک رائے نہیں، ایک وفاداری ہے جو جسم کو بھی شامل کرتی ہے۔
مرکزی دھاگا
یہ آیت تنہا کھڑی نہیں۔ اِس کے پیچھے وہ باغ ہے جہاں خدا نے انسان کو کھانے کے لئے درخت اور پینے کے لئے ندیاں دیں، اور اِس کے آگے وہ نیا شہر ہے جہاں زندگی کا پانی مفت ملے گا اور شفا کے پتے قوموں کے لئے ہوں گے۔ درمیان میں بیابان ہے: من، بٹیریں، چٹان سے نکلتا پانی۔ ہر بار خدا اپنی قوم کو اُسی سطح پر ملتا ہے جہاں انسان سب سے زیادہ کمزور ہے، یعنی پیٹ اور جسم کی سطح پر۔ خداوند یسوع مسیح اِسی دھاگے کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں: وہ روٹی بانٹتے ہیں، بیماروں کو چھوتے ہیں، اور اپنے آپ کو زندگی کی روٹی کہتے ہیں۔ فرق صرف اِتنا ہے کہ اب برکت کسی زمین کے ٹکڑے سے نہیں بلکہ ایک شخص سے وابستہ ہے، اور شفا کا حتمی وعدہ قبر کے اُس پار پورا ہوتا ہے۔
آئینہ
ہم بُتوں کے ستون نہیں توڑتے، ہم اُن کی قسطیں ادا کرتے ہیں۔ زرخیزی کے دیوتا آج تنخواہ، انشورنس، میڈیکل رپورٹ اور بچت کے کھاتے کی شکل میں آتے ہیں، اور اُن سے وہی سوال پوچھا جاتا ہے جو کنعانی بعل سے پوچھا جاتا تھا: کیا میرا کل محفوظ ہے؟ یہ آیت آپ کو بےفکری کا لالچ نہیں دیتی، وہ آپ کے اعتماد کا رُخ بدلتی ہے۔ جب رات کو نیند نہیں آتی کیونکہ ٹیسٹ کا نتیجہ آنا ہے، یا مہینے کے آخر میں حساب پورا نہیں ہو رہا، تب یہ آیت آپ سے کہتی ہے کہ آپ کی روٹی اور آپ کا پانی کسی سسٹم کے نہیں، ایک شخص کے ہاتھ میں ہیں، اور وہ شخص آپ سے وفاداری مانگتا ہے، ٹوٹکے نہیں۔
آج شام کھانے سے پہلے پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہئے: "یہ تیرے ہاتھ سے ہے"، اور پھر اپنے جسم کا وہ ایک خوف نام لے کر خدا کے سامنے رکھ دیجئے۔
سیاق و سباق
ہم سینا کے دامن میں ہیں۔ باب 20 سے 23 تک وہ حصہ چلتا ہے جسے عہد کی کتاب کہا جاتا ہے: عدالت میں انصاف، غریب کے حقوق، پردیسی کے ساتھ سلوک، سبت، ساتواں سال، تین عیدیں۔ قدیم مشرق کے معاہدوں کی طرح یہ مجموعہ آخر میں برکتوں اور تنبیہوں پر ختم ہوتا ہے، اور آیت 25 اُسی اختتامی حصے کا حصہ ہے۔ سننے والے کسان بننے والے ہیں، ایسی زمین میں جہاں دریا نہیں بلکہ بارش پر گزارہ ہے، جہاں ایک خشک موسم پورے خاندان کو بھوکا مار سکتا ہے اور ایک وبا گاؤں خالی کر سکتی ہے۔ کوئی ہسپتال نہیں، کوئی گودام نہیں۔ اِس پس منظر میں "خوراک اور پانی" کا وعدہ رومانوی نہیں، بقا کی زبان ہے۔
ایک تفصیل
"خوراک اور پانی" کو جلدی سے مت گزرئیے۔ پرانی دنیا میں یہ جوڑا عیش کی نہیں، کم سے کم گزارے کی اصطلاح تھا؛ قیدی کو روٹی اور پانی دیا جاتا تھا، محاصرے میں شہر روٹی اور پانی گنتا تھا۔ خدا یہاں دولت، فصل کے انبار یا آسودگی کا وعدہ نہیں کرتا بلکہ یہ کہ بنیاد نہیں ٹوٹے گی۔ اور وہ کہتا ہے "برکت دے کر"، یعنی وہ زیادہ دینے کا نہیں بلکہ جو ہے اُس میں طاقت ڈالنے کا وعدہ کرتا ہے۔ اِس کا اُلٹ عہد کی لعنتوں میں ملتا ہے: کھاؤ گے مگر سیر نہ ہو گے۔ برکت اور مقدار دو الگ چیزیں ہیں۔ بہت کچھ ہو اور بےبرکت ہو، یہ ممکن ہے؛ تھوڑا ہو اور بس ہو جائے، یہ بھی ممکن ہے۔
مرکزی کردار
آیت 20 سے 23 تک خدا فرشتے کی بات کرتا رہا: وہ آگے چلے گا، وہ حفاظت کرے گا، اُس کی سننا۔ مگر جب برکت کی بات آتی ہے تو خدا کسی کو بیچ میں نہیں رکھتا: "مَیں تیری خوراک اور پانی کو برکت دے کر تمام بیماریاں تجھ سے دُور کروں گا۔" راستے کی رہنمائی کے لئے قاصد بھیجا جا سکتا ہے، مگر دسترخوان پر وہ خود جھکتا ہے۔ یہی خدا ایک آیت پہلے سخت غیرت کے ساتھ بُتوں کے ستون توڑنے کا حکم دیتا ہے۔ غیرت اور شفقت اُس میں دو الگ موڈ نہیں؛ وہ اِس لئے کسی اور معبود کو برداشت نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنی قوم کے جسم، پیٹ اور صحت کی ذمہ داری خود اُٹھانا چاہتا ہے۔ ایسا آقا رقیب کو کیوں گوارا کرے؟
کلامِ مُقدّس کی گونج
یہ وعدہ پہلی بار یہاں نہیں سنائی دیتا۔ مارہ کے کڑوے پانی پر خدا نے خود کو اسرائیل کا شفا دینے والا کہا اور مصر کی بیماریاں اُن پر نہ لانے کا وعدہ کیا؛ استثنا 7 میں یہی بات دہرائی جاتی ہے، اور آیت 26 کی طرح بانجھ پن کے خاتمے سے جوڑی جاتی ہے۔ لاویوں اور استثنا 28 میں اِس کا سایہ بھی موجود ہے: نافرمانی کی صورت میں وہی بیماریاں واپس آ جائیں گی۔ پھر بیابان میں شیطان خداوند یسوع کے سامنے پتھر رکھتا ہے اور روٹی مانگتا ہے، اور یسوع اُسی عہدی حکم سے جواب دیتے ہیں کہ صرف خداوند اپنے خدا کی عبادت اور خدمت کرنی ہے۔ یعنی مسیح وہ سچا اسرائیل بنتے ہیں جو روٹی کی خاطر آقا نہیں بدلتا۔ مگر گونج کے ساتھ تناؤ بھی ہے: ایوب صحیح ہو کر بیمار ہوتا ہے، زبور 73 کا لکھنے والا شریروں کو موٹا تازہ دیکھتا ہے، پولس اپنے کانٹے سے نجات نہیں پاتا اور تیمُتھیُس کو معدے کی تکلیف رہتی ہے۔ کلامِ مقدّس خود اِس آیت کو فارمولا بننے نہیں دیتا۔
پہلے سننے والے
جو لوگ سینا کے سامنے کھڑے تھے اُن کے جسم غلامی سے بنے ہوئے تھے: گارے میں جھکی کمریں، بچپن میں مرے ہوئے بچے، ایک ایسی قوم جس نے ابھی حال میں دیکھا تھا کہ خدا کیسے مصر پر پھوڑے اور وبا بھیجتا ہے۔ اُن کے کانوں میں "تمام بیماریاں تجھ سے دُور کروں گا" کا مطلب تھا: جو مَیں نے فرعون پر ڈالا، وہ تم پر نہیں ڈالوں گا۔ اور "خوراک اور پانی" اُن لوگوں کے لئے تجریدی لفظ نہیں تھے جو مارہ کے کڑوے پانی پر بلبلا اُٹھے تھے اور جو ہر صبح من چُننے نکلتے تھے۔ بعد میں جلاوطنی میں یہی آیت اُن کے لئے آئینہ بن گئی: خالی گودام اور بیمار جسم اُنہیں یاد دلاتے تھے کہ وہ کس کی خدمت چھوڑ آئے تھے۔
ایک مشکل سوال
تو پھر وفادار مسیحی کینسر سے کیوں مرتے ہیں؟ اِس آیت کو انفرادی ضمانت بنانا اُسے توڑنا ہے: یہ وعدہ ایک قوم سے، ایک زمین کے بارے میں، ایک مخصوص عہدی رشتے میں کیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اِس کے ساتھ ہی دشمنوں، سرحدوں اور فصلوں کی باتیں چلتی ہیں۔ مگر اِسے محض روحانی استعارہ بنا دینا بھی بےایمانی ہو گی، کیونکہ متن روٹی اور پانی کی بات کر رہا ہے، روح کی نہیں۔ سچائی یہ ہے کہ خدا نے اپنے آپ کو جسم کی فکر کرنے والا خدا ظاہر کیا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ اُس کا سب سے وفادار خادم مصلوب ہوا۔ ہم اِس تناؤ میں جیتے ہیں، اُس صبح کے انتظار میں جب یہ آیت مذاق نہیں لگے گی۔ اُس وقت تک ہم بیماری میں بھی اُسی کی خدمت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارا آقا ہے، ہمارا ٹھیکیدار نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ اپنی روٹی اور پانی کی حفاظت کے لئے عملاً کس پر بھروسا کرتے ہیں: اپنی محنت، اپنے انتظام، یا خدا کے ہاتھ پر؟ پچھلے ہفتے کا کون سا فیصلہ اِس کا ثبوت ہے؟
"خدمت" کا وہی لفظ جو مصر کی غلامی کے لئے تھا، اب رب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ آپ کی زندگی میں کون سا آقا خدمت لیتا ہے مگر برکت نہیں دیتا؟
جب آپ یا آپ کا کوئی عزیز بیمار ہو تو آپ اِس وعدے کو کیسے پڑھیں گے، بغیر اِسے جھٹلائے اور بغیر اِسے سستی تسلی میں بدلے؟
Exodus 23:25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 23:25 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 23:25 کس بارے میں ہے؟
خروج 23:25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 23:25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 23:25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Exodus 23 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں