خروج 23:5
متن
راستے کے کنارے ایک گدھا بوجھ تلے بیٹھ گیا ہے۔ بوریاں اُس کی پیٹھ پر ٹیڑھی ہو کر لٹک رہی ہیں، جانور کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، اور اُس کے ساتھ کھڑا آدمی اکیلا اُسے اُٹھا نہیں سکتا۔ مصیبت یہ ہے کہ وہ آدمی آپ کا دوست نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو آپ سے نفرت کرتا ہے۔ شریعت یہاں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی: ”اگر تجھ سے نفرت کرنے والے کا گدھا بوجھ تلے گر گیا ہو اور تجھے پتا لگے تو اُسے نہ چھوڑنا بلکہ ضرور اُس کی مدد کرنا۔“ نظر پھیر لینا، رفتار تیز کر لینا، یہ سوچنا کہ ”یہ میرا مسئلہ نہیں“، سب کچھ یہاں بند کر دیا گیا ہے۔ آپ کو رُکنا ہے، جھکنا ہے، اور اُس کے ساتھ مل کر بوجھ سیدھا کرنا ہے۔
مرکزی بات
یہ حکم اِس لئے چونکاتا ہے کہ یہ دل کی حالت بدلنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ہاتھوں کا۔ خدا یہ نہیں فرماتے کہ ”پہلے اپنی نفرت ختم کرو، پھر مدد کرنا“؛ وہ فرماتے ہیں کہ دشمنی کے باوجود کمر جھکاؤ اور بوجھ اُٹھاؤ۔ اسرائیل کی پاکیزگی خیمۂ اجتماع کی قربان گاہ پر نہیں، بلکہ گرد آلود راستے پر، پسینے میں، دشمن کے جانور کے پہلو میں جانچی جاتی ہے۔ اور غور کیجئے کہ اِس پورے باب میں عدالت، رشوت، غریب اور پردیسی کے احکام کے بیچ یہ آیت رکھی گئی ہے: انصاف صرف عدالتی کارروائی نہیں، وہ روزمرہ کی چھوٹی، غیر دلچسپ، بے گواہ مہربانیوں میں جیتا ہے۔ خدا کی قوم کی پہچان یہ ہے کہ اُس کے ہاں دشمنی بھی مدد کے فرض کو منسوخ نہیں کر سکتی۔
بڑی کہانی کا دھاگا
اِس ایک آیت میں وہ بیج پڑا ہے جو صدیوں بعد ایک پہاڑی پر پھول بن کر کھلا۔ جب خداوند یسوع مسیح نے دشمن سے محبت اور اُس کے لئے دعا کی تعلیم دی تو وہ شریعت کے خلاف کوئی نئی بات نہیں لائے بلکہ اُس کو اُس کی آخری منطق تک لے گئے: اگر گرا ہوا گدھا تجھے رُکنے پر مجبور کرتا ہے تو گرا ہوا دشمن کیوں نہیں؟ اور یہی طرزِ عمل خدا کا اپنا ہے۔ اسرائیل سینا کے دامن میں اِس لئے کھڑا تھا کہ خدا نے ایک ایسی قوم کو غلامی سے نکالا جو اُس کی دوست نہیں تھی، جو راستے میں بار بار بڑبڑائی۔ صلیب پر یہی اصول اپنی انتہا کو پہنچا: مدد کرنے والا بوجھ کے نیچے خود آ گیا۔ گدھے کا حکم چھوٹا لگتا ہے، مگر وہ اُسی خدا کی شکل دکھاتا ہے جو ہمارے دشمن ہوتے ہوئے ہمارے پاس رُک گیا۔
آئینہ
یہ آیت آپ کے دل کا نہیں، آپ کے قدموں کا امتحان لیتی ہے۔ وہ ساتھی جس نے دفتر میں آپ کے خلاف بات کی، وہ رشتہ دار جس نے زمین کے جھگڑے میں آپ کو رُسوا کیا، وہ پڑوسی جس سے سلام بند ہے: جب اُن کی گاڑی خراب ہو، جب اُن کے گھر میں بیماری آئے، جب اُن کا کام اٹک جائے، تو دل میں ایک چپکے سے اطمینان جاگتا ہے۔ ہم اُسے انصاف کا نام دیتے ہیں، مگر شریعت اُسے بے رحمی کہتی ہے۔ سب سے خطرناک لفظ یہاں ”پتا لگے“ ہے، کیونکہ ہماری سب سے عام گناہ آمیز ترکیب یہ ہے کہ ہم جان کر بھی نہ جاننے کا بہانہ کر لیتے ہیں۔ آج ہی اُس ایک شخص کو، جس سے آپ کی اَن بن ہے، ایک مختصر پیغام بھیجیے جس میں نہ صفائی ہو نہ شکایت، صرف ایک ٹھوس پیشکش: ”آپ کے فلاں کام میں مدد کر سکتا ہوں، بتا دیجئے گا۔“
مرکزی کردار
اِس آیت میں بولنے والا خدا ہے، اور غور کیجئے کہ وہ کس لہجے میں بولتے ہیں۔ پورا حکم واحد میں ہے: ”تجھے پتا لگے“، ”تُو نہ چھوڑنا“۔ یہ قوم سے خطاب نہیں، ایک آدمی سے خطاب ہے جو سنسان راستے پر تنہا کھڑا ہے جہاں کوئی گواہ نہیں، کوئی عدالت نہیں، کوئی عزت داؤ پر نہیں۔ وہی خدا جو اوپر کی آیتوں میں عدالت کے فیصلوں اور رشوت پر نظر رکھتے ہیں، وہی ایک تھکے ہوئے جانور کی کانپتی ٹانگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ یہ خدا کی شخصیت کا سب سے غیر متوقع پہلو ہے: اُن کی دلچسپی بڑے اصولوں تک محدود نہیں۔ وہ چھوٹی، بے گواہ، غیر دلچسپ لمحوں کے خدا ہیں، اور وہیں سے قوم کا کردار تراشتے ہیں۔
دوسرے صحیفوں کی گونج
اِسی باب میں چند آیتیں آگے چل کر وجہ سامنے آ جاتی ہے: ”جو پردیسی تیرے ملک میں مہمان ہے اُس پر دباؤ نہ ڈالنا۔ تم ایسے لوگوں کی حالت سے خوب واقف ہو، کیونکہ تم خود مصر میں پردیسی رہے ہو۔“ یہی یادداشت گدھے والے حکم کے نیچے بھی کام کر رہی ہے۔ جو خود بوجھ تلے دبا رہا ہو اور جسے کسی نے اُٹھایا ہو، وہ کسی دوسرے کو دبا ہوا چھوڑ نہیں سکتا، چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اور جب خداوند یسوع مسیح نے نیک سامری کی تمثیل سنائی تو اُنہوں نے یہی منظر دہرایا، صرف جانور کی جگہ آدمی رکھ دیا اور مدد کرنے والے کو مذہبی دشمن بنا دیا۔ کاہن اور لاوی نے کترا کر گزرنے کا فن سیکھ رکھا تھا؛ شریعت ٹھیک اِسی فن کو منع کرتی ہے۔
پس منظر
سینا کے دامن میں، عہد کے اُن احکام کے درمیان جو خیمے بنانے سے پہلے دیے گئے، یہ آیت ایک ایسی قوم کو دی جا رہی ہے جو ابھی کھیت اور گاؤں دیکھنے والی ہے۔ اُس دنیا میں گدھا سواری کا شوق نہیں، زندگی کا سرمایہ تھا: ہل، آٹا، پانی، منڈی، سب اُسی کی پیٹھ پر۔ ایک گدھے کا گر جانا پورے گھرانے کے لئے فاقے کا دروازہ کھول سکتا تھا۔ گاؤں چھوٹے تھے، سب ایک دوسرے کو جانتے تھے، اور دشمنی موروثی ہوتی تھی؛ زمین کی حد، کنویں کا پانی یا عدالت کا ایک پرانا فیصلہ نسلوں تک زہر بوتا رہتا۔ نہ پولیس تھی، نہ بیمہ، نہ ہنگامی مدد۔ ایسے معاشرے میں یہ حکم بم کی طرح گرتا ہے، کیونکہ وہ خاندانی وفاداری کے مقدس ترین اصول کو، ”اپنوں کا ساتھ، غیروں سے بے رُخی“، عہد کے خدا کے نام پر توڑ دیتا ہے۔
غور و فکر
کس شخص کے بارے میں آپ نے یہ طے کر رکھا ہے کہ ”مجھے پتا ہی نہیں چلا“ کہنا آسان ہے؟
اگر آپ کی پاکیزگی عبادت کے وقت نہیں بلکہ راستے پر رُکنے سے ناپی جائے، تو اِس ہفتے آپ کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
Exodus 23:5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 23:5 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 23:5 کس بارے میں ہے؟
خروج 23:5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 23:5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 23:5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Exodus 23 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں