حزقی ایل 1:1
متن
حزقی ایل خود بولتے ہیں، اور پہلی ہی سانس میں تاریخ، جگہ اور نسب سب کچھ میز پر رکھ دیتے ہیں: ”جب مَیں یعنی امام حزقی ایل بن بوزی تیس سال کا تھا تو مَیں یہوداہ کے جلاوطنوں کے ساتھ ملکِ بابل کے دریا کبار کے کنارے ٹھہرا ہوا تھا۔“ وہ ایک امام ہیں، مگر ہیکل سے سیکڑوں میل دور، بابل کی ایک نہر کے کنارے، اُس جماعت کے درمیان جسے زبردستی گھر سے اُکھاڑا گیا تھا۔ یہویاکین بادشاہ کی جلاوطنی کا پانچواں سال، چوتھے مہینے کا پانچواں دن۔ اور پھر، کسی تمہید کے بغیر: ”آسمان کھل گیا اور اللہ نے مجھ پر مختلف رویائیں ظاہر کیں۔ اُس وقت رب مجھ سے ہم کلام ہوا، اور اُس کا ہاتھ مجھ پر آ ٹھہرا۔“ ایک ناپاک سمجھی جانے والی سرزمین پر آسمان پھٹ جاتا ہے۔
اصل بات
اِس ایک آیت میں وہ دیوار گرتی ہے جس پر اسرائیل کا سارا مذہبی تصور ٹکا ہوا تھا: کہ خدا کا جلال یروشلم میں، ہیکل کے اندر، سنگِ مرمر اور قربانی کے دھوئیں کے بیچ رہتا ہے۔ حزقی ایل تیس سال کے ہیں، یعنی بالکل وہی عمر جس پر کاہنوں اور لاویوں کی خدمت شروع ہوتی تھی (گنتی ۴:۳ کے مطابق تیس سے پچاس سال)۔ مگر جس دن اُن کی وردی پہننے کی گھڑی آئی، وہ مذبح کے سامنے نہیں بلکہ ایک اجنبی نہر کے کنارے کھڑے ہیں۔ اور وہیں خدا اُنہیں ملتے ہیں۔ یہ صرف تسلی نہیں، یہ ایک دعویٰ ہے: رب اپنی عمارت کا قیدی نہیں۔ جلاوطنی خدا کی غیرحاضری کا ثبوت نہیں؛ وہ اپنے لوگوں کے پیچھے پیچھے بابل تک گیا ہے، اور وہاں اُس کا ہاتھ ایک بےروزگار امام پر آ ٹھہرتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
”آسمان کھل گیا“: یہ فقرہ عبرانی صحیفوں میں کہیں اور اِس طرح نہیں آتا، مگر عہدِ جدید میں یہ دوبارہ گونجتا ہے۔ یردن کے کنارے، پانی کے پاس، ایک آدمی جو تقریباً تیس سال کا ہے، اور آسمان کھلتا ہے، روح اُترتا ہے، آواز آتی ہے۔ لوقا اپنے قاری کو یہ عمر خاص طور پر بتاتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں: جہاں حزقی ایل کو جلاوطنی میں بلایا جاتا ہے، وہاں خداوند یسوع مسیح خود اُس جلاوطنی کے اندر اُترتے ہیں جس میں انسان رہتا ہے۔ حزقی ایل کے ساتھ خدا اپنے لوگوں کے پیچھے بابل گیا؛ مسیح میں وہ اُس سے بھی آگے، ہماری موت تک گیا۔ دریا کبار کا کنارہ اُس راستے کا پہلا پتھر ہے جو اصطبل اور صلیب تک جاتا ہے: خدا اپنی مقدّس جگہوں سے نکل کر ناپاک زمین پر بولتا ہے۔
آئینہ
آپ کی زندگی کا جو حصہ آپ نے خدا کے لئے مخصوص سمجھا تھا، وہ شاید بند پڑا ہے۔ وہ نوکری جو ملی نہیں، وہ خدمت جس سے آپ کو ہٹا دیا گیا، وہ گھر جو ٹوٹ گیا، وہ صحت جو تیس یا چالیس کی عمر میں ہاتھ سے نکل گئی۔ حزقی ایل کے پاس امامت کی سند تھی مگر ہیکل نہیں۔ ہم ایسے حالات کو ”ضائع شدہ سال“ کہتے ہیں اور دل ہی دل میں سمجھتے ہیں کہ خدا ہمارا انتظار کہیں اور کر رہا ہے، جہاں ہم ہونا چاہتے تھے۔ یہ آیت اِس سوچ کو توڑتی ہے: رب اُسی نہر کے کنارے بولتا ہے جہاں آپ اِس وقت کھڑے ہیں۔ آج ایک کاغذ پر آج کی تاریخ اور اپنی موجودہ جگہ لکھیں، جیسے حزقی ایل نے لکھی، اور نیچے ایک جملہ: ”خدا یہاں بھی بولتا ہے۔“ پھر وہ کاغذ وہیں رکھ دیں جہاں آپ کی نظر روز پڑتی ہے۔
مرکزی کردار
حزقی ایل اپنا تعارف ”امام بن بوزی“ سے کراتے ہیں، یعنی اپنی شناخت اُس ادارے سے جوڑتے ہیں جو اب اُن کی پہنچ سے باہر ہے۔ اِس میں ایک خاموش زخم ہے۔ وہ تاریخوں کے آدمی ہیں: پانچواں سال، چوتھا مہینہ، پانچواں دن۔ یہ اُس شخص کا انداز ہے جو بےترتیبی کے بیچ حساب رکھتا ہے، جو وقت گن گن کر جیتا ہے کیونکہ باقی سب ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اور یہی آدمی، جو نظم و ترتیب کا عادی ہے، اُس رویا کے سامنے آتا ہے جہاں پہیے کے اندر پہیہ ہے اور چہرے چاروں طرف دیکھتے ہیں۔ اُس کا ردِعمل کوئی مذہبی مسرت نہیں: ”یہ دیکھتے ہی مَیں اوندھے منہ گر گیا۔“ جو خدا کو واقعی دیکھتا ہے، وہ کھڑا نہیں رہ سکتا۔
ایک باریکی
”اُس کا ہاتھ مجھ پر آ ٹھہرا۔“ عبرانی میں یہ رب کا یاد (ہاتھ) ہے، اور بائبل میں یہ محبت بھرا تھپکی والا ہاتھ نہیں بلکہ دباؤ ہے، قبضہ ہے، ایک بوجھ جو آدمی کو اپنی مرضی سے ہٹا دیتا ہے۔ الیاس پر جب رب کا ہاتھ آیا تو وہ رتھ کے آگے دوڑ پڑا۔ حزقی ایل کے ساتھ یہ ہاتھ اُنہیں بےزبان کر دے گا، اُنہیں اینٹوں پر لیٹنے اور اپنی بیوی کی موت پر ماتم نہ کرنے کے لئے مجبور کرے گا۔ لہٰذا پہلی آیت میں ہی ہمیں خبردار کیا جا رہا ہے: خدا کی قربت آرام دہ نہیں۔ جب آسمان کھلتا ہے تو نبی آزاد نہیں ہوتا، وہ پکڑا جاتا ہے۔
سوال
زبور ۱۳۷ میں جلاوطن پوچھتے ہیں کہ وہ اجنبی ملک میں رب کا گیت کیسے گائیں؛ اُن کے لئے بابل وہ جگہ ہے جہاں خدا خاموش ہے۔ حزقی ایل کہتے ہیں: وہاں آسمان کھل گیا۔ تو کیا جلاوطنی سزا تھی یا مہربانی؟ ایمانداری سے: دونوں، اور یہ تناؤ حل نہیں ہوتا۔ خدا بابل میں آتا ہے، مگر بابل کو ختم نہیں کرتا؛ وہ بولتا ہے، مگر اُس کا پہلا پیغام یروشلم کی تباہی کا اعلان ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حضوری کا مطلب رہائی ہو۔ یہاں حضوری کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہمارے ملبے کے بیچ آ کر بیٹھ جاتا ہے اور سچ بولنا شروع کرتا ہے۔ یہ کم تسلی ہے، مگر یہ اصلی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا ”بابل“ ہے جس کے بارے میں آپ نے فرض کر لیا ہے کہ خدا وہاں نہیں بولتا؟
اگر رب کا ہاتھ آپ پر آ ٹھہرے، تو آپ کو کس چیز سے ہاتھ دھونا پڑے گا؟
Ezekiel 1:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 1:1 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 1:1 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 1:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 1:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 1:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Ezekiel 1 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں