پَیدایش 23
متن
سارہ ایک سو ستائیس سال کی عمر میں حبرون میں مر جاتی ہے، اور ابراہیم پہلی بار اُس ملک میں کچھ خریدتا ہے جو خدا نے پورا اُس کے نام کر دیا تھا: ایک قبر۔ وہ حِتّیوں کے سامنے جھکتا ہے، اُن کی مفت پیشکش رد کرتا ہے، اور عِفرون کو چاندی کے چار سو سِکے تول کر دیتا ہے۔ اِس طرح مکفیلہ کا غار اور کھیت شہر کے دروازے پر جمع پوری جماعت کی گواہی کے ساتھ ابراہیم کی ملکیت بن جاتا ہے، اور وہ سارہ کو وہاں دفن کرتا ہے۔
مرکزی نکتہ
جس آدمی سے خدا نے کہا تھا کہ یہ سارا ملک تیرا ہے، وہ اپنی بیوی کو دفن کرنے کے لئے زمین کا ایک ٹکڑا مانگ رہا ہے، اور قیمت بھی پوری ادا کر رہا ہے۔ یہی اِس باب کی چبھن ہے۔ خدا کے وعدے اُس کے بندوں کی زندگی کے دورانیے سے بڑے ہوتے ہیں۔ ابراہیم مرتے وقت اُس ملک کا مالک نہیں، صرف ایک قبر کا مالک ہے۔ لیکن وہ قبر اتفاق نہیں: وہ ایک دعویٰ ہے۔ ایمان یہاں یہ نہیں کہتا کہ ”مجھے سب مل گیا“، بلکہ یہ کہ ”جو خدا نے کہا ہے وہ ضرور ہو گا، چاہے میں اُسے دیکھوں یا نہ دیکھوں“۔ ایسا ایمان جذباتی نہیں، لوہے جیسا ہے۔
سلسلۂ کلام
مکفیلہ کا غار کتابِ پیدائش کا خاموش لنگر بن جاتا ہے۔ ابراہیم، سارہ، اسحاق، رِبقہ، لیاہ اور یعقوب سب وہیں رکھے جائیں گے۔ یعقوب مصر میں مرتے ہوئے قسم لے گا کہ اُسے وہاں لے جایا جائے، اور یوسف اپنی ہڈیوں کے بارے میں وصیت کرے گا۔ یعنی یہ قبریں اسرائیل کو یاد دلاتی رہیں گی کہ اُن کا گھر کہاں ہے۔ عبرانیوں کا مصنف اِسی ابراہیم کو ”پردیسی“ کہتا ہے جو ایک بہتر وطن کا منتظر تھا۔ اور آخرکار ایک اَور قبر ملکِ کنعان میں کھودی جائے گی، اُدھار کی قبر، جس کا مالک کوئی اَور تھا اور جسے خداوند یسوع مسیح نے تیسرے دن خالی چھوڑ دیا۔ ابراہیم نے وعدے کو تھامنے کے لئے قبر خریدی؛ مسیح نے قبر کو توڑ کر وعدہ پورا کیا۔
آئینہ
آپ کے پاس بھی کچھ ہے جس پر آپ کا نام لکھا ہے۔ مکان کے کاغذات، پلاٹ، بینک کا اکاؤنٹ، وہ چیز جو آپ کو رات کو سُکون دیتی ہے کہ ”چلو، کچھ تو محفوظ ہے“۔ اور آپ کے پاس بھی وہ خوف ہے جو ابراہیم کے پاس تھا: مرنے کے بعد کچھ بھی باقی نہ رہنا، بے نام ہو جانا۔ اِس باب کا آئینہ بے رحم ہے: جس آدمی کو خدا نے سب سے بڑا وعدہ دیا تھا، اُس کی آخری جائیداد ایک قبر تھی۔ آپ کی بھی ہو گی۔ مگر دیکھیں کہ ابراہیم نے کیا کیا۔ اُس نے عِفرون کی مفت پیشکش قبول نہیں کی، کیونکہ مفت چیز پر ہمیشہ دینے والے کا ہاتھ رہتا ہے۔ اُس نے پوری قیمت دی، ماتم کے دن بھی سلیقے سے، عزت سے، صاف حساب سے۔ غم آپ کو بدنظم ہونے کا پروانہ نہیں دیتا۔
آج یہ کریں: اپنے گھر کی چابی یا کاغذات ہاتھ میں لے کر خدا کے حضور بلند آواز سے کہیں، ”مَیں آپ کے درمیان پردیسی اور غیرشہری کی حیثیت سے رہتا ہوں“، اور پھر ایک جملے میں اُس چیز کو خدا کے سپرد کر دیں۔
بین المتون
احکامِ شرع میں خدا اسرائیل سے کہیں گے کہ زمین میری ہے اور تم میرے ہاں پردیسی اور مہمان ہو (احبار ۲۵)۔ یہ وہی دو الفاظ ہیں جو ابراہیم نے حِتّیوں کے سامنے اپنے لئے استعمال کئے۔ فرق یہ ہے کہ ابراہیم نے یہ لوگوں کے سامنے مان لیا؛ شریعت یہ خدا کے سامنے منوائے گی۔ جو آدمی خدا کے سامنے اپنی بے زمینی قبول کر لیتا ہے، وہ لوگوں کے سامنے جھکنے سے شرماتا نہیں۔ اور عبرانیوں ۱۱ اِسی کو ایمان کی تعریف بناتی ہے: وہ مسافر تھے، خیموں میں رہے، اور اُس شہر کے منتظر رہے جس کا معمار خدا ہے۔ مکفیلہ کا غار اُس انتظار کی رسید ہے۔
مرکزی کردار
ابراہیم یہاں بوڑھا ہے، اور غم اُسے جھکا چکا ہے۔ جس عورت کے ساتھ اُس نے اُر سے سفر شروع کیا، جو مصر میں اُس کے جھوٹ کا نشانہ بنی، جس نے بڑھاپے میں ہنس کر بیٹا جنا، وہ اب اُس کے گھر میں بےجان پڑی ہے۔ ابراہیم ماتم کرتا ہے، پھر ”جنازے کے پاس سے اُٹھا“۔ وہ اُٹھنا اِس باب کا سب سے مضبوط فعل ہے۔ اور پھر دیکھیں: وہ حِتّیوں کو یہ یاد نہیں دلاتا کہ خدا نے یہ ملک اُسے دیا ہے۔ وہ رعب نہیں جماتا، وعدے کو ہتھیار نہیں بناتا۔ وہ دو بار جھکتا ہے، سفارش کرواتا ہے، مول تول کرتا ہے، اور مہنگی قیمت بلا شکایت ادا کر دیتا ہے۔ یہ اُس آدمی کا وقار ہے جو جانتا ہے کہ اُس کی سلامتی کاغذوں میں نہیں، وعدہ کرنے والے میں ہے۔
ایک باریک بات
اِس باب میں ابراہیم کو دو نام دیئے جاتے ہیں۔ وہ خود کہتا ہے: ”مَیں آپ کے درمیان پردیسی اور غیرشہری کی حیثیت سے رہتا ہوں۔“ حِتّی جواب دیتے ہیں: ”آپ ہمارے درمیان اللہ کے رئیس ہیں۔“ ایک ہی آدمی، دو عنوان۔ دنیا اُس کی دولت اور رُعب دیکھ کر اُسے شہزادہ کہتی ہے؛ وہ خود کو بےزمین مسافر کہتا ہے۔ اور وہ لوگوں کی تعریف کو اپنی شناخت نہیں بننے دیتا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اکثر ہم پھسلتے ہیں: ہم دوسروں کے دیئے ہوئے خطاب پہن لیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہم خدا کی زمین پر کرائے دار ہیں۔ ابراہیم نے دونوں سنے اور سچا نام خود اپنے لئے چنا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی کون سی ملکیت یا حیثیت ہے جس کے بارے میں آپ خدا سے یہ کہنے سے جھجکتے ہیں کہ ”مَیں اِس پر بھی پردیسی ہوں“؟
ابراہیم نے مفت پیشکش رد کر کے پوری قیمت دی؛ آپ کی زندگی میں کہاں سستی یا مفت راہ آپ کی آزادی کی قیمت مانگ رہی ہے؟
Genesis 23 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 23 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 23 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 23 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 23 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 23 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Genesis 23 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ابراہیم سے وعدہ پورے ملک کا ہوا تھا، لیکن اُس کی زندگی میں اِس ملک کا صرف اتنا حصہ اُس کا بنا: ایک کھیت، ایک غار، کچھ درخت۔ اور وہ بھی قبر کے لئے۔ لکھا ہے، "اِس میں غار اور تمام درخت شامل تھے۔" وہ اِسی چھوٹی سی زمین پر ایمان کے ساتھ کھڑا رہا۔ کیا تُو بھی ادھورے وعدے کے ساتھ جینا سیکھ رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
