پَیدایش 4:7
متن
خدا قابیل سے اُس لمحے بات کرتے ہیں جب اُس کا چہرہ غصے سے بگڑ چکا ہے اور نذرانے کی ناپسندیدگی اُس کے اندر کھولنے لگی ہے۔ رب اُسے کوئی لمبی وضاحت نہیں دیتے، نہ یہ بتاتے ہیں کہ ہابیل کا نذرانہ کیوں پسند آیا، بلکہ ایک سوال اور ایک تنبیہ سامنے رکھتے ہیں: ”کیا اگر تُو اچھی نیت رکھتا ہے تو اپنی نظر اُٹھا کر میری طرف نہیں دیکھ سکے گا؟“ اور پھر وہ خوفناک تصویر، گناہ کسی درندے کی طرح دروازے پر دبکا بیٹھا ہے، گھات میں، قابیل کو چاہتا ہوا۔ آخری جملہ کوئی تسلی نہیں، ایک ذمہ داری ہے: ”تیرا فرض ہے کہ اُس پر غالب آئے۔“ یعنی ابھی سب کچھ طے نہیں ہوا؛ دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔
اصل مرکز
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خدا قاتل سے قتل سے پہلے بات کرتے ہیں۔ یہی اِس کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ جس طرح باغ میں رب نے آدم کو پکارا تھا، ”تُو کہاں ہے؟“، اُسی طرح یہاں وہ قابیل کے بگڑے ہوئے چہرے کے پاس آ کر سوال کرتے ہیں۔ خدا خاموش تماشائی نہیں، وہ مداخلت کرنے والے ہیں۔ اور الفاظ غور سے سنیے: ”تجھے چاہتا ہے“ اور ”غالب آئے“ وہی دو فعل ہیں جو تین آیتیں پہلے حوا اور اُس کے شوہر کے رشتے کے بارے میں استعمال ہوئے تھے۔ گناہ اب ایک رشتہ بن چکا ہے، ایک قابو پانے کی کشمکش۔ مگر خدا قابیل کو اِس کشمکش میں بےبس نہیں کہتے۔ وہ اُسے مجبور قرار دے کر بری نہیں کرتے، بلکہ ذمہ دار ٹھہرا کر اُس کی انسانیت کی تصدیق کرتے ہیں۔
مشترکہ دھاگا
یہ آیت پورے پاکِ کلام میں گونجتی رہتی ہے، مگر اُلٹی سمت میں۔ قابیل غالب نہ آیا، اور نتیجہ وہ آواز ہے جو رب خود سناتے ہیں: ”تیرے بھائی کا خون زمین میں سے پکار کر مجھ سے فریاد کر رہا ہے۔“ عبرانیوں کے خط میں مصنف اِسی پکار کو اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ یسوع کا بہایا ہوا خون ہابیل کے خون سے بہتر بات کرتا ہے۔ فرق صاف ہے: ہابیل کا خون انصاف مانگتا ہے، مسیح کا خون معافی دیتا ہے۔ یوحنا اپنے پہلے خط میں قابیل کا نام لے کر کلیسیا کو خبردار کرتا ہے کہ بھائی سے نفرت قتل کی پہلی سیڑھی ہے۔ یوں آیت ۷ آخری انجیل تک پھیل جاتی ہے: جس دروازے پر گناہ دبکا بیٹھا تھا، اُسی دروازے سے ہو کر ایک بےقصور بھائی باہر کھلے میدان میں لے جایا گیا، اور اُس کا خون بدلہ نہیں، صلح مانگتا ہے۔
آئینہ
غصہ شاذ و نادر ہی اجنبیوں پر اُترتا ہے۔ یہ بھائی پر، ساتھی استاد پر، اُس کزن پر اُترتا ہے جس کا کاروبار چل نکلا جبکہ آپ کا نہیں۔ قابیل خدا سے ناراض ہے مگر ہاتھ ہابیل پر اُٹھاتا ہے، اور یہی ہمارا بھی طریقہ ہے: دفتر میں ترقی کسی اَور کو ملی، اور شام کو آپ کے بچوں نے آپ کی سخت زبان سہی۔ رب کا سوال سادہ ہے: کیا تُو نظر اُٹھا کر میری طرف نہیں دیکھ سکے گا؟ جھکا ہوا، بگڑا ہوا چہرہ ہی وہ جگہ ہے جہاں درندہ انتظار کر رہا ہے۔ آج ہی وہ ایک نام زبان پر لائیے جس کی کامیابی آپ کو چبھتی ہے، اُسے بلند آواز سے خدا کے حضور لیجیے اور اُس شخص کو ملی ہوئی ایک مخصوص برکت کے لئے خدا کا شکر ادا کیجیے۔ دو منٹ لگیں گے، اور دروازہ بند ہونے لگے گا۔
تفصیل
”دبکا بیٹھا ہے“ کے پیچھے عبرانی لفظ روبِض ہے، وہی لفظ جو جانور کے گھات لگا کر لیٹنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ کوئی اخلاقی تصور نہیں، ایک جسم ہے، سانس لیتا، دم سادھے، چھلانگ کے لئے تیار۔ اور غور کیجیے کہ وہ کہاں بیٹھا ہے: دروازے پر۔ اندر نہیں، باہر۔ یعنی گناہ ابھی قابیل کے اندر داخل نہیں ہوا، مگر دہلیز پر قبضہ جما چکا ہے۔ پولس رومیوں میں گناہ کو ایک بادشاہ کی طرح بیان کرتا ہے جو حکومت کرنا چاہتا ہے؛ یہاں اُس بادشاہت کا پہلا نقشہ ہے، ابھی تاج کے بغیر، صرف پنجے کے ساتھ۔ دہلیز پر فیصلہ ہوتا ہے، قتل کے میدان میں نہیں۔
سوال
اگر خدا کہتے ہیں ”تیرا فرض ہے کہ اُس پر غالب آئے“، تو کیا قابیل واقعی غالب آ سکتا تھا؟ کہانی کا اگلا فقرہ ہی ”ایک دن قابیل نے اپنے بھائی سے کہا“ ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ یہ تنبیہ بےاثر رہی۔ کلام یہاں دو باتیں ساتھ رکھتا ہے اور کسی کو نرم نہیں کرتا: انسان ذمہ دار ہے، اور انسان ہار جاتا ہے۔ پولس بعد میں یہی تضاد اپنے اوپر لے کر لکھے گا کہ جو نیکی مَیں چاہتا ہوں وہ نہیں کرتا۔ جواب یہ نہیں کہ حکم جھوٹا تھا، نہ یہ کہ قابیل مجبور تھا۔ جواب یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسے نجات دہندہ کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے دہلیز پر کھڑا ہو۔ مگر یہ سہولت آیت ۷ کے بوجھ کو ہلکا نہیں کرتی۔
سیاق و سباق
یہ باغ سے نکلنے کے فوراً بعد کی دنیا ہے، جہاں خاندان ہی پوری انسانیت ہے اور کوئی عدالت، گواہ یا پڑوسی موجود نہیں۔ دو پیشے پہلے ہی بٹ چکے ہیں: چرواہا اور کسان۔ قابیل پہلوٹھا ہے، جس کی پیدائش پر ماں نے رب کا نام لیا تھا، یعنی عزت، حق اور توقع سب اُسی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اِس ثقافت میں نذرانے کی منظوری یا ناپسندیدگی ذاتی معاملہ نہیں، خاندان کے سامنے عزت یا شرمندگی کا اعلان ہے۔ ہابیل ”پہلوٹھے اُن کی چربی سمیت“ لاتا ہے، یعنی بہترین حصہ؛ قابیل صرف ”اپنی فصلوں میں سے کچھ“۔ اور رب اِس چھوٹے سے خاندان میں آمنے سامنے بات کرتے ہیں، گویا عدن کا دروازہ ابھی پوری طرح بند نہیں ہوا۔
غور و فکر
آپ کا بگڑا ہوا چہرہ اِن دنوں کس کی طرف ہے، اور اصل ناراضی کس سے ہے؟
آپ کی زندگی کے کس دروازے پر وہ درندہ اِس وقت دبکا بیٹھا ہے، اور آج اُس دہلیز پر آپ کون سا قدم اُٹھائیں گے؟
Genesis 4:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 4:7 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 4:7 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 4:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 4:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 4:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Genesis 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، لمک کے گیت میں بدلے کا جو زہر سنائی دیتا ہے، تُو نے ہمیں اُس سے بچا لیا ہے۔ شکر ہے کہ تُو نے ہمارے دلوں کو معاف کرنا سکھایا اور یسوع کے ذریعے انتقام کی زنجیر توڑ دی۔ اب ہمارے زخم بدلہ نہیں، تیری صلیب کی طرف لے جاتے ہیں۔
خداوند، لمک نے دو عورتوں عدہ اور ضِلّہ سے شادی کی، مگر تیرا منصوبہ آج بھی وہی ہے جو تُو نے شروع میں باندھا تھا۔ شکر ہے کہ انسان کی بےراہ روی تیری سچائی کو نہیں بدل سکتی، اور تُو ہر نظرانداز کی گئی عورت کا نام تک جانتا ہے۔ شکریہ کہ تُو ہمارے گھروں کو اپنی وفاداری سکھاتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں