یسعیاہ 51
متن
باب کی شروعات ایک عجیب حکم سے ہوتی ہے: اُس چٹان پر دھیان دو جس میں سے تمہیں تراش کر نکالا گیا ہے۔ خداوند اپنی قوم کو ابراہیم اور سارہ کی طرف اشارہ کر کے یاد دلاتے ہیں کہ وہ ایک بےاولاد جوڑے سے شروع ہوئی، اور پھر صیون کو تسلی دیتے ہیں کہ اُس کے ویرانے باغِ عدن میں بدل جائیں گے۔ آگے چل کر خداوند اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ فانی انسان سے مت ڈرو، اور یروشلم سے کہتے ہیں کہ اُٹھ، کیونکہ غضب کا پیالہ اب ظالموں کے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
مرکزی نکتہ
یہ باب ایک بنیادی سوال کا جواب ہے: جب سب کچھ کھو گیا ہو تو خدا پر بھروسا کیسے کیا جائے؟ جواب یہ نہیں کہ ”حالات بدلیں گے“ بلکہ یہ کہ ”خدا وہی ہے جو تھا۔“ خداوند اپنی قوم کو ماضی کی طرف بھیجتے ہیں، ابراہیم کے بےاولاد جسم کی طرف، بحرِ قلزم کی خشک تہہ کی طرف، تاکہ وہ سمجھیں کہ نجات ہمیشہ سے ناممکن حالات میں سے پیدا ہوئی ہے۔ راستی اور نجات آسمان و زمین سے زیادہ پائیدار ہیں (آیت 6)۔ یہ محض تسلی نہیں، یہ کائناتی دعویٰ ہے۔
بڑی کہانی
”اُس چٹان پر دھیان دو“، یہ الفاظ پولس رسول کے ذہن میں گونجتے ہیں جب وہ رومیوں کو لکھتا ہے کہ ابراہیم کی اولاد جسمانی نہیں بلکہ ایمان کی ہے۔ یسعیاہ یہاں پہلے ہی وہ اصول رکھ رہے ہیں: قوم کی جڑ ایک ایسے جوڑے میں ہے جس کے پاس فطری طور پر کچھ نہ تھا۔ اور پھر آیت 16، ”مَیں نے اپنے الفاظ تیرے منہ میں ڈال کر“، یہ ایک ایسے خادم کی طرف اشارہ ہے جو خداوند کے کلام کا برتن بنے گا۔ نئے عہدنامے میں یہی خادم مسیح میں مکمل ہوتا ہے، جس نے غضب کا پیالہ خود پیا تاکہ اُس کی قوم اُسے دوبارہ نہ پیئے (آیت 22)۔
آئینہ
آیت 12 چبھتی ہے: ”تُو فانی انسان سے کیوں ڈرتی ہے، جو گھاس کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جاتا ہے؟“ ذرا سوچیں کہ ہم کن ”فانی انسانوں“ سے ڈرتے ہیں۔ باس جو ترقی روک سکتا ہے، رشتہ دار جو طعنے دیتے ہیں، پڑوسی جو ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، وہ لوگ جن کی رائے ہمارے سر پر ہر وقت منڈلاتی رہتی ہے۔ یسعیاہ کہتے ہیں: یہ سب گھاس ہیں۔ آیت 7 اور بھی سیدھی ہے: ”جب لوگ تمہاری بےعزتی کرتے ہیں تو اُن سے مت ڈرنا۔“ ایمان کی زندگی میں سب سے بڑا خوف اکثر جسمانی نہیں، سماجی ہوتا ہے، شرمندگی کا خوف۔ خداوند اِسی جگہ ہاتھ رکھتے ہیں۔
بین المتنیت
آیت 9 میں ”رہب“ اور ”سمندری اژدہے“ کا ذکر پرانی تخلیقی کہانی کی گونج ہے، جہاں خدا افراتفری کے سمندر پر غالب آئے۔ یہی زبان زبور 89 میں بھی ملتی ہے۔ لیکن یسعیاہ اِسے خروج کے واقعے سے جوڑ دیتے ہیں (آیت 10): تخلیق اور نجات ایک ہی بازو کا کام ہیں۔ آیت 3 کا ”باغِ عدن“ پیدائش 2 کی طرف واپس لے جاتا ہے، اور مکاشفہ 21 کی طرف آگے، جہاں نیا یروشلم اترتا ہے۔ سب سے تیز گونج آیت 17 اور 22 میں ہے، غضب کا پیالہ۔ یہی پیالہ گتسمنی میں یسوع کے سامنے رکھا گیا: ”اے باپ، اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔“ یسعیاہ 51 میں یہ پیالہ قوم سے لیا جاتا ہے؛ انجیل میں یہ مسیح پیتا ہے۔
مرکزی شخصیت
اِس باب میں خداوند ایک عجیب کردار میں سامنے آتے ہیں، تسلی دینے والا اور جنگجو، دونوں ایک ساتھ۔ آیت 12 میں وہ ماں کی طرح تسلی دیتے ہیں، ”مَیں، صرف مَیں ہی تجھے تسلی دیتا ہوں۔“ آیت 9 میں قوم اُن کے بازو کو پکار کر جگاتی ہے جیسے سویا ہوا جنگجو ہو۔ یہ تناؤ اہم ہے: خدا اپنی خاموشی میں غیر حاضر نہیں، بلکہ اپنے وقت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ آیت 22 میں وہ ”تیرا آقا جو تیرا خدا ہے اور اپنی قوم کے لئے لڑتا ہے“ کہلاتے ہیں۔ یہ خدا صرف تسلی نہیں دیتے، وہ پیالہ اپنی قوم کے ہاتھ سے چھین کر ظالموں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ محبت کا مطلب بےبسی نہیں۔
سوال
لیکن آیت 23 ہمیں بےچین کرتی ہے: خدا وہی پیالہ اب اُن کو دیتے ہیں جنہوں نے قوم کو اذیت پہنچائی۔ کیا یہ محض بدلہ ہے؟ کیا ظالموں کے لئے کوئی امید نہیں؟ یہ سوال کھلا رہتا ہے۔ ہمیں اُسے چھپانا نہیں چاہئے۔ یسعیاہ کی کتاب میں غیر قوموں کے لئے بھی روشنی کا وعدہ ہے (آیت 4-5 خود کہتی ہے کہ ”جزیرے مجھ سے اُمید رکھ
Isaiah 51 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 51 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 51 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 51 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 51 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 51 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 51 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جس ہاتھ نے آسمان کو جگہ دی اور زمین کی بنیادیں رکھیں، وہی ہاتھ اب تیرے اوپر سایہ بنا ہوا ہے: ”مَیں نے اپنے الفاظ تیرے منہ میں ڈال کر تجھے اپنے ہاتھ کے سائے میں چھپائے رکھا۔“ سوچ، کائنات بنانے والا تجھ پر جھکا ہوا ہے۔ اور وہ فاصلے سے بات نہیں کرتا، وہ کہتا ہے، ”تُو میری قوم ہے۔“ کیا تُو آج اِسی سائے میں بیٹھنے کو تیار ہے؟
اے خُداوند کے بازو، جاگ! جاگ، اپنے آپ کو قُوّت سے مُلبّس کر!" یہ پکار اُس قوم کی ہے جو تھک چکی ہے، جو اپنے خدا کو سوتا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یسعیاہ خدا سے شکایت کرنے سے نہیں ڈرتا۔ کبھی کبھی سب سے گہری دعا وہ ہوتی ہے جو کہتی ہے، "خداوند، اُٹھ! میں اب اور نہیں ٹھہر سکتا۔" کیا تُو نے کبھی ایسی دعا کی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
