رومیوں 15:9
متن
پولس رسول کہتے ہیں کہ مسیح صرف یہودیوں کے لئے خادم نہیں بنے۔ وہ اِس لئے بھی خادم بنے کہ غیریہودی قومیں اُس رحم کے سبب سے اللہ کو جلال دیں جو اُس نے اُن پر کیا۔ اور اِس بات کی تصدیق میں پولس زبور کی ایک سطر پیش کرتے ہیں: ”اِس لئے مَیں اقوام میں تیری حمد و ثنا کروں گا، تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔“ یعنی مسیح خود قوموں کے درمیان کھڑے ہو کر باپ کی تعریف کا گیت گاتے ہیں۔
مرکزی بات
آیت ۸ اور ۹ میں پولس دو مختلف لفظ استعمال کرتے ہیں، اور یہی اِس اقتباس کی جان ہے۔ یہودیوں کے لئے مسیح ”وعدوں کی تصدیق“ کرنے آئے؛ غیریہودیوں کے لئے وہ ”رحم“ لے کر آئے۔ اسرائیل کے پاس ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کیا گیا عہد تھا، ایک تحریری وعدہ جس پر خدا کی وفاداری داؤ پر لگی تھی۔ قوموں کے پاس کچھ نہ تھا۔ کوئی معاہدہ نہیں، کوئی نسبی حق نہیں، صرف خدا کا خالص، بلاوجہ رحم۔ اور پولس کا نکتہ یہ ہے کہ دونوں راستے ایک ہی دروازے پر ختم ہوتے ہیں: خدا کا جلال۔ نجات کسی کی میراث نہیں، سب کے لئے عطیہ ہے، مگر عطیے کی صورتیں مختلف ہیں اور اِسی فرق کو مٹا دینا کلیسیا کی سب سے پرانی غلطی ہے۔
بڑی کہانی کا دھاگا
جو سطر پولس نقل کرتے ہیں وہ داؤد بادشاہ کی فتح کا گیت ہے۔ ایک زخمی، فاتح بادشاہ اپنے دشمنوں کے بیچ کھڑا ہو کر رب کی حمد گاتا ہے۔ پولس اُسے مسیح کے منہ میں ڈال دیتے ہیں، اور اِس عمل میں گیت کا رخ بدل جاتا ہے۔ داؤد قوموں پر غالب آ کر گاتا تھا؛ مسیح قوموں کے درمیان، اُن کے ساتھ، اُن کی آواز بن کر گاتے ہیں۔ ابراہیم سے کیا گیا وہ قدیم وعدہ کہ ”زمین کی تمام قومیں تیرے وسیلے سے برکت پائیں گی“ یہاں اپنی منزل کو پہنچتا ہے۔ اسرائیل کبھی خدا کا آخری مقصد نہ تھا بلکہ راستہ تھا۔ صلیب پر خادم بننے والا مسیح ہی وہ نقطہ ہے جہاں یہ راستہ کھل کر پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔
آئینہ
سوچئے کہ آپ کس بنیاد پر خدا کے قریب کھڑے ہیں۔ ہم میں سے اکثر خاموشی سے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارا ایمانی خاندان، ہماری تربیت، ہماری برسوں کی خدمت ہمیں کچھ حق دیتی ہے۔ اور جس لمحے کوئی نیا شخص، کسی اور پس منظر سے، کسی اور طرزِ عبادت کے ساتھ کلیسیا میں داخل ہوتا ہے، ہمارے اندر ایک مہذب سی ناراضگی جاگ اٹھتی ہے: یہ ہمارے طریقے سے نہیں کرتے۔ پولس کہتے ہیں: تم رحم پر کھڑے ہو۔ اُس شخص کی طرح، بالکل اُسی سطح پر۔ اگر یہ بات سچ ہے تو آپ کے دفتر میں، آپ کے رشتہ داروں کے درمیان، آپ کی جماعت کی اُس نشست پر جہاں کوئی اجنبی بیٹھ جاتا ہے، آپ کے پاس اپنی برتری کے لئے کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔
کلام کی گونج
پولس نے یہ سطر زبور ۱۸ سے لی ہے، داؤد کے اُس گیت سے جو ۲-سموئیل ۲۲ میں دوبارہ ملتا ہے۔ وہاں یہ ایک فاتح کی گواہی ہے۔ یہاں یہ ایک خادم کی گواہی بن جاتی ہے، اور پولس فوراً تین اور اقتباسات جوڑ دیتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ ایک اکیلی سطر کی من مانی تعبیر ہے: ”اے دیگر قومو، اُس کی اُمّت کے ساتھ خوشی مناؤ!“ توریت سے، پھر زبور سے، پھر یسعیاہ سے۔ توریت، زبور اور نبی، عبرانی کلام کے تینوں حصے، ایک ہی بات گواہی دیتے ہیں۔ پولس یہ ثابت نہیں کر رہے کہ خدا نے اپنا ارادہ بدلا؛ وہ دکھا رہے ہیں کہ یہ ارادہ ہمیشہ سے لکھا ہوا تھا اور اسرائیل اُسے پڑھتا رہا مگر سنتا نہ تھا۔
ایک باریک بات
”مَیں اقوام میں… گیت گاؤں گا۔“ اِس ”مَیں“ پر ٹھہریئے۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ قومیں گائیں گی؛ وہ کہتے ہیں کہ مسیح قوموں کے بیچ گائیں گے۔ یعنی ہماری حمد کی ابتدا ہماری زبان سے نہیں ہوتی۔ کلیسیا کی عبادت میں سب سے پہلی آواز خداوند کی اپنی آواز ہے، اور ہم اُس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ رومی ایمانداروں کے لئے یہ تصویر حیران کن رہی ہو گی: جو یہودی مسیح اُن کے لئے خادم بنے، وہ اب اُن کے کمرے میں کھڑے ہیں، اُن کی زبان میں، اُن کے لہجے میں باپ کی تعریف کر رہے ہیں۔ اجنبی مہمان نہیں، بلکہ گلوکار جو مجلس کے وسط میں کھڑا ہے۔
پہلے سننے والے
روم کی تنگ گلیوں میں، کرائے کی اُوپری منزلوں پر، جہاں لکڑی کے دھوئیں اور مچھلی کے اچار کی بو گھلی رہتی تھی، یہ خط بلند آواز میں پڑھا گیا۔ سننے والوں میں وہ یہودی ایماندار تھے جو کلودیوس کے حکم پر شہر بدر ہوئے اور اب واپس آ کر دیکھ رہے تھے کہ اُن کی جماعتیں غیریہودیوں سے بھری ہوئی ہیں، جو نہ سبت مانتے تھے نہ کھانے کے احکام۔ اور وہ غیریہودی تھے جو خود کو نئی، آزاد اکثریت سمجھنے لگے تھے۔ ایک قوم فاتح سلطنت کی رعایا، دوسری اُس سلطنت کی مفتوح، اور دونوں ایک ہی چھت کے نیچے۔ اُنہوں نے یہ آیت سیاسی طور پر سنی: وہ مسیح جس نے ایک قوم کی خدمت کی، اُسی نے دوسری پر رحم کیا، اور اب دونوں سے مطالبہ ہے کہ ایک ہی آواز میں گائیں۔
غور و فکر کے سوالات
کیا میری روحانی خودپسندی کہیں یہ فرض کرتی ہے کہ خدا مجھ پر کچھ ادھار رکھتا ہے، یا میں واقعی خالص رحم پر کھڑا ہوں؟
میری جماعت میں وہ کون ہے جس کے ساتھ ”ایک ہی آواز“ میں گانا مجھے مشکل لگتا ہے، اور مسیح اُس کے درمیان کھڑے ہو کر کیا گا رہے ہیں؟
Romans 15:9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 15:9 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 15:9 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 15:9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 15:9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 15:9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس اپنی خدمت کو امام کی خدمت کہتا ہے، مگر اُس کی قربانی جانور نہیں بلکہ لوگ ہیں: "تاکہ غیریہودی ایک ایسی قربانی بن جائیں جو اللہ کو پسند آئے۔" سوچیں، آپ خود وہ نذر ہیں جو قربان گاہ پر رکھی گئی۔ اور آپ کو پاک کرنے والا کوئی رسم نہیں، روح القدس ہے۔ کیا آپ اپنے آپ کو اِتنا قیمتی سمجھتے ہیں؟
پولس نے پرانے عہدنامے سے یہ فقرہ چُنا: ”اے غیریہودیو، اُس کی قوم کے ساتھ خوشی مناؤ۔“ غور کریں، خوشی الگ الگ نہیں بلکہ ”ساتھ“ منانی ہے۔ خدا نے آپ کو صرف نجات نہیں دی، ایک خاندان بھی دیا ہے۔ اور شاید یہی سب سے مشکل حصہ ہے۔ کیا آپ اُس بہن یا بھائی کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہو سکتے ہیں جو آپ جیسا نہیں؟ مسیح کی میز پر دونوں کی جگہ ایک ہی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں