یرمیاہ 26
متن
یرمیاہ کو حکم ملتا ہے کہ ہیکل کے صحن میں کھڑے ہو کر زیارت کے لیے آئے ہوئے یہوداہ کے لوگوں کو پورا پیغام سنائے، "ایک بات بھی نہ چھوڑ"، اِس اُمید کے ساتھ کہ شاید وہ توبہ کریں اور خدا اپنی ٹھہرائی ہوئی سزا سے باز آئے۔ جب وہ کہتا ہے کہ یہ گھر سَیلا کی طرح تباہ ہو جائے گا تو امام، نبی اور عوام اُسے پکڑ لیتے ہیں: "تجھے مرنا ہی ہے!" سرکاری افسر محل سے آ کر نئے دروازے میں عدالت لگاتے ہیں۔ یرمیاہ اپنا دفاع نہیں، صرف اپنا بھیجا جانا پیش کرتا ہے۔ ملک کے بزرگ ایک پرانی نبوّت یاد دلاتے ہیں اور یرمیاہ بچ جاتا ہے، جبکہ اُسی زمانے کا نبی اُوریاہ قتل ہو جاتا ہے۔
دل کی بات
اِس باب میں تین بار ایک ہی لفظ آتا ہے جو پورے پیغام کی کنجی ہے: خدا کا "پچھتانا"۔ عبرانی میں یہ لفظ (نَحَم) پشیمانی سے زیادہ دل کے بدل جانے کو بیان کرتا ہے۔ خدا کا فیصلۂ عدالت کوئی مشین نہیں جو چل پڑے تو رُک نہ سکے؛ وہ ایک رشتے کے اندر بولا گیا کلام ہے، اور رشتے میں جواب کی گنجائش ہوتی ہے۔ "شاید وہ سنیں" اُس خدا کی آواز ہے جو سزا سنانے میں بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ مگر اِس کا دوسرا رُخ بھی اُتنا ہی سخت ہے: جو گھر خدا کے نام سے موسوم ہے وہ بھی گر سکتا ہے۔ انتخاب کوئی بیمہ پالیسی نہیں۔
کلام کا تسلسل
اِس باب کی خوبی یہ ہے کہ یہ خود دوسرے صحیفوں کے حوالے دیتا ہے۔ سَیلا کا ذکر سننے والوں کو وہ دن یاد دلاتا ہے جب عہد کا صندوق فلستیوں کے ہاتھ چلا گیا اور خدا نے اپنا پہلا مقدِس چھوڑ دیا؛ یعنی یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ پھر بزرگ ایک صدی پرانی نبوّت کھود نکالتے ہیں: "صیون پر کھیت کی طرح ہل چلایا جائے گا"، میکاہ کی وہی بات جو آج بھی میکاہ کی کتاب میں لکھی ہے۔ اور آگے کی طرف دیکھیں تو ایک اَور شخص اِنہی صحنوں میں کھڑا ہو کر ہیکل کے گرنے کا اعلان کرے گا، اماموں کی وہی جماعت جمع ہو گی، وہی الزام لگے گا، مگر اُس وقت کوئی اخی قام کھڑا نہ ہو گا اور "بےقصور کے قاتل" والی بات حقیقت بن جائے گی۔
آئینہ
ہم سب کے پاس کوئی نہ کوئی ہیکل ہے: ایک کلیسیا جو کبھی بند نہیں ہو سکتی، ایک نوکری جو ہمیشہ رہے گی، ایک خاندان جس کی بنیاد مضبوط لگتی ہے۔ سَیلا کا نام اِسی تسلی پر ہتھوڑا مارتا ہے۔ اور دوسرا سوال اَور بھی چبھتا ہے: "ایک بات بھی نہ چھوڑ"۔ ہم کتنی باتیں چھوڑتے ہیں؟ گروپ میں وہ جملہ نرم کر دیتے ہیں تاکہ کوئی ناراض نہ ہو، دفتر میں خاموش رہ جاتے ہیں، گھر کے کھانے پر بحث سے بچ جاتے ہیں۔ یرمیاہ کو عدالت میں کھڑا کر دیا گیا مگر اُس نے ایک لفظ واپس نہ لیا۔ پھر بھی وہ اخی قام کی وجہ سے بچا، کسی آسمانی آگ سے نہیں بلکہ ایک آدمی کی ہمت سے۔ آج ہی کسی ایک ایسے شخص کو پیغام بھیجیں جو سچ بولنے کی قیمت اکیلے اُٹھا رہا ہے، اور صاف لکھیں کہ آپ اُس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سامعین کا خاکہ
صحن میں کھڑے لوگ زیارتی تھے، "یہوداہ کے دیگر شہروں سے" سجدہ کرنے آئے ہوئے۔ اُن کے دل میں وہ گیت تھے جو صیون کو ناقابلِ تسخیر کہتے ہیں: یہاں خدا بستا ہے، یہ شہر ہل نہیں سکتا۔ اُن کے دادا نے سنہاکرب کی شکست کی کہانی سنائی ہو گی۔ اِس پسِ منظر میں "سَیلا" کا لفظ گالی جیسا لگا، گویا کوئی آپ کی ماں کی قبر کی طرف اشارہ کرے۔ اور یاد رکھیں کہ عدالت دروازے میں لگی، یعنی کھلے عام، جہاں ہر گواہ، ہر تماشائی شریک تھا۔ یہ بند کمرے کا مقدمہ نہیں تھا بلکہ شہر کا اجتماعی فیصلہ کہ وہ اِس آواز کا کیا کرے گا۔
پس منظر
یہ یہویقیم کی حکومت کا آغاز ہے، تقریباً 609 قبلِ مسیح۔ یوسیاہ مجِدّو میں مارا جا چکا، اُس کا بیٹا یہوآخز مصر لے جایا گیا، اور فرعون نکوہ نے یہویقیم کو تخت پر بٹھایا۔ یہ بادشاہ مصر کو خراج دینے کے لیے قوم سے ٹیکس وصول کرتا اور اپنے لیے محل بنواتا تھا۔ بابل مشرق سے اُٹھ رہا تھا۔ اِس بےیقینی میں ہیکل کا ادارہ ہی قوم کی واحد ضمانت لگتا تھا، اور امام و نبی اُس ادارے کے ملازم تھے: اُن کی روٹی، رتبہ اور پہچان اُسی عمارت سے بندھی تھی۔ دوسری طرف سافن کا خاندان، یوسیاہ کی اصلاحات کے منشی، دربار میں اب بھی اثر رکھتا تھا۔ اخی قام اُسی گھرانے سے تھا۔
مرکزی کردار
یرمیاہ کا دفاع حیران کن حد تک سادہ ہے۔ وہ اپنی بےگناہی ثابت نہیں کرتا، اپنی خدمت کا حوالہ نہیں دیتا، ہجوم کو قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ صرف دو باتیں کہتا ہے: مجھے رب نے بھیجا، اور "مَیں تو آپ کے ہاتھ میں ہوں۔ میرے ساتھ وہ سلوک کریں جو آپ کو اچھا اور مناسب لگے۔" یہ ہتھیار ڈالنا نہیں، آزادی ہے؛ اُس آدمی کی آزادی جس کے پاس بچانے کو کچھ نہیں بچا۔ اور اِسی سانس میں وہ پھر توبہ کی دعوت دہراتا ہے، کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنے منصفوں سے: "اپنی راہوں اور اعمال کو درست کریں!" وہ جانتا ہے کہ اصل مدعی وہ نہیں بلکہ وہ خدا ہے جو اب بھی پچھتانے کو تیار ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کے پیغام میں وہ کون سی "ایک بات" ہے جو آپ عادتاً چھوڑ دیتے ہیں، اور کس کے سامنے؟
بزرگوں نے میکاہ کی پرانی بات یاد کر کے ایک جان بچائی۔ آپ کے پاس کلام کا کون سا حصہ ایسا محفوظ ہے کہ وقت پڑنے پر آپ اُسے پیش کر سکیں؟
Jeremiah 26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 26 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 26 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jeremiah 26 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے یرمیاہ کی معرفت یہ پیغام بھیجا کہ ”اپنی راہوں اور اپنے اعمال کو درست کریں“، کیونکہ تیری تنبیہ میں بھی رحم چھپا ہے۔ شکر کہ تُو اعلان کی ہوئی سزا سے باز آنے کو تیار ہے، اور مجھے آج بھی لوٹنے کا موقع دیتا ہے۔ تیری سننے والی محبت کا شکریہ۔
اے خدا، جب سچ بولنا خطرناک لگتا ہے اور طاقتور لوگ اپنی مرضی چلاتے ہیں، تو میرا دل ڈر جاتا ہے۔ میں بھاگنا چاہتا ہوں، مگر تُو ہر جگہ میرے ساتھ ہے۔ مجھے ہمت دے کہ تیری بات کہوں، اور اُن کو یاد رکھوں جو تیرے نام کی خاطر قیمت چکاتے ہیں۔ تُو ہی میری پناہ ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
