ایوب 19
متن
ایوب اپنے تین ساتھیوں کی طرف مڑتا ہے اور شکایت کرتا ہے کہ وہ دس بار اُسے ملامت کر چکے ہیں: ”تم کب تک مجھ پر تشدد کرنا چاہتے ہو، کب تک مجھے الفاظ سے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہو؟“ پھر وہ بیان کرتا ہے کہ خدا نے خود اُس کا محاصرہ کیا ہے، جیسے کوئی فوج کسی شہر کی فصیل کے ساتھ مٹی کا ڈھیر لگا کر اُس میں رخنہ ڈالتی ہے، اور یہ کہ بھائی، رشتے دار، نوکر، بیوی، حتیٰ کہ چھوٹے بچے بھی اُس سے گھن کھاتے ہیں۔ اِسی گہرے اندھیرے کے بیچ سے وہ اچانک پکار اُٹھتا ہے: ”مَیں جانتا ہوں کہ میرا چھڑانے والا زندہ ہے۔“ آخر میں وہ دوستوں کو خبردار کرتا ہے کہ عدالت آنے والی ہے۔
اصل بات
یہ باب اِس لئے حیران کن ہے کہ ایوب ایک ہی سانس میں خدا پر الزام لگاتا ہے اور خدا ہی سے فریاد کرتا ہے۔ جس ہاتھ نے مارا ہے، وہی واحد ہاتھ ہے جو بچا سکتا ہے، اور ایوب اِس تضاد سے بھاگتا نہیں۔ جسے اردو میں ”چھڑانے والا“ کہا گیا ہے، عبرانی میں وہ لفظ ہے گوئیل، یعنی وہ قریبی رشتہ دار جس پر یہ فرض تھا کہ بکے ہوئے کھیت کو واپس خریدے، بیوہ کی حفاظت کرے اور مقتول کے خون کا بدلہ لے۔ ایوب کے سب رشتہ دار اُسے چھوڑ چکے ہیں؛ اب وہ خدا ہی کو اپنا رشتہ دار پکارتا ہے۔ یہی ایمان کی اصل جڑ ہے: خدا کے خلاف نہیں، بلکہ خدا کے سامنے خدا سے اپیل کرنا۔ اور یہ توقع کہ وہ ”آخرکار میرے حق میں زمین پر کھڑا ہو جائے گا“، یعنی گواہ کی جگہ پر، عدالت میں، دکھاتی ہے کہ ایوب خدا کو منصف مانتا ہے حالانکہ فی الحال اُسے انصاف نہیں ملتا۔
مشترکہ سلسلہ
”گوئیل“ کا تصور بائبل کی پوری کہانی میں ایک باریک دھاگے کی طرح چلتا ہے۔ روت کی کتاب میں بوعز ایک بےسہارا پردیسی عورت کا چھڑانے والا بنتا ہے، اور وہ اِس لئے بن سکتا ہے کہ وہ اُس کا رشتہ دار ہے: چھڑانے کے لئے قریبی ہونا شرط ہے۔ ایوب اِس شرط کو خدا پر لاگو کرتا ہے، بغیر یہ جانے کہ اُس کی خواہش کتنی دُور تک پوری ہونے والی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ”جسم میں ہوتے ہوئے اللہ کو دیکھوں“، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اُس کی فریاد مسیح کی طرف اشارہ کرنے لگتی ہے: خدا نے قریبی رشتہ دار بننے کے لئے واقعی جسم اختیار کیا، زمین پر کھڑا ہوا، اور اپنے مقدمے میں ہمارا وکیل بنا۔ ایوب نے یہ نہیں دیکھا؛ اُس نے صرف اندھیرے میں ہاتھ بڑھایا اور کسی کو پکڑا۔
آئینہ
ایوب کا سب سے تلخ زخم بیماری نہیں، بلکہ خالی کمرہ ہے۔ رشتے دار فون نہیں اُٹھاتے، پرانے دوست دوسری گلی سے نکل جاتے ہیں، اور جو لوگ کبھی آپ کی میز پر بیٹھتے تھے اب آپ کے بارے میں بات کرتے ہیں، آپ سے نہیں۔ ہم میں سے اکثر نے کسی نہ کسی شکل میں یہ چکھا ہے: طلاق کے بعد، ملازمت جانے کے بعد، تشخیص کے بعد، یا اُس بیٹے کی وجہ سے جس کے بارے میں لوگ سوال پوچھتے ہیں۔ اور ایوب ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم اِس کو خوبصورت بنائے بغیر بیان کریں۔ ایمان کا مطلب درد کو کم کر کے بتانا نہیں۔ آج ایک کاغذ لیں اور ایوب کی طرح اپنی سب سے سچی شکایت ایک جملے میں لکھیں، جیسے وہ پتھر میں کندہ کرانا چاہتا تھا، اور اُس کے نیچے اپنے ہاتھ سے لکھیں: ”مَیں جانتا ہوں کہ میرا چھڑانے والا زندہ ہے۔“ دونوں جملے رہنے دیں۔
پس منظر
ایوب کی دنیا شہر کی نہیں، خیموں اور ریوڑوں کی دنیا ہے، جہاں آدمی کی حیثیت اُس کے مال، اُس کی اولاد اور شہر کے دروازے پر اُس کی نشست سے ناپی جاتی تھی۔ وہاں عزت کوئی احساس نہیں بلکہ سرمایہ تھی، اِسی لئے وہ کہتا ہے کہ خدا نے ”میرے سر سے تاج اُتار دیا ہے۔“ بیمار اور بدبودار جسم کے ساتھ وہ بستی کے کنارے راکھ پر بیٹھا ہے، کیونکہ جلد کی ایسی بیماری انسان کو ناپاک اور سماجی طور پر مردہ بنا دیتی تھی۔ اُس کی زبان جنگ سے اُدھار لی گئی ہے: محاصرہ، مٹی کا ڈھیر، فصیل میں رخنہ۔ ہر سننے والا جانتا تھا کہ اِس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ محاصرہ شدہ شہر کے پاس ہتھیار ڈالنے یا بھوکوں مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
سامعین کی پہچان
یہ کتاب اُن لوگوں میں پڑھی اور سنی گئی جو خود اِس سوال سے زخمی تھے: اگر خدا انصاف کرتا ہے تو ہمارے ساتھ یہ کیوں ہوا؟ اسرائیل نے شہر کا گرنا، جلاوطنی اور اجنبی ملک میں ذلت دیکھی تھی۔ ایوب کے دوستوں کی تھیالوجی، یعنی دُکھ ہمیشہ گناہ کا نتیجہ ہے، اُن کے کانوں میں بالکل واقف تھی؛ وہی بات پڑوسی اُن سے بھی کہتے تھے۔ اور جب اُنہوں نے ”چھڑانے والا“ سنا تو اُن کے ذہن میں مندر کا خیال نہیں آیا بلکہ زمین کے وہ قانونی کاغذات آئے جن کے ذریعے قریبی رشتہ دار بکی ہوئی میراث واپس خرید سکتا تھا۔ ایوب کہہ رہا تھا: میری میراث، میری زندگی، چھینی گئی ہے، لیکن اُسے واپس خریدنے والا زندہ ہے۔
مرکزی کردار
ایوب کوئی صابر بت نہیں۔ وہ غصے میں ہے، اپنے دوستوں پر اور خدا پر، اور اُس کا غصہ صاف زبان میں نکلتا ہے: ”کیوں میرا گوشت کھا کھا کر سیر نہیں ہوتے؟“ وہ ایک ہی وقت میں خدا کو اپنا حملہ آور اور اپنا واحد ملجا کہتا ہے، اور یہ تضاد اُس کے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ اُس کی گہرائی ہے۔ صرف وہی آدمی خدا سے اِس طرح لڑ سکتا ہے جو خدا کی حقیقت پر پورا یقین رکھتا ہو۔ اُس کا سب سے دردناک جملہ شکایت نہیں بلکہ آرزو ہے: ”اِس آرزو کی شدت سے میرا دل تباہ ہو رہا ہے۔“ وہ جواب سے زیادہ چہرہ چاہتا ہے۔ آخر میں اُسے یہی ملا: خدا نے دلیل نہیں دی، خود کو دکھایا۔
غور و فکر
کیا آپ کی دعا میں اتنی جگہ ہے کہ آپ خدا سے خدا کے بارے میں شکایت کر سکیں، یا آپ اپنی سب سے سچی بات اُس سے چھپاتے ہیں؟
آپ کے جاننے والوں میں وہ کون ہے جسے لوگوں نے راکھ پر اکیلا چھوڑ دیا ہے، اور آپ اِس ہفتے کس عملی قدم سے اُس کے لئے ”قریبی رشتہ دار“ بن سکتے ہیں؟
Job 19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 19 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 19 کس بارے میں ہے؟
ایوب 19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Job 19 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
