یوحنا 13:22
متن
عیسیٰ نے ابھی ابھی وہ بات کہی تھی جس نے کمرے کی ہوا بھاری کر دی: ”تم میں سے ایک مجھے دشمن کے حوالے کر دے گا۔“ اِس کے بعد جو منظر ہے وہ آیت 22 میں ہے۔ شاگرد ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں، اُلجھے ہوئے، خاموش، ہر ایک دوسرے کے چہرے پر کوئی سراغ ڈھونڈتا ہوا۔ کوئی اُنگلی نہیں اُٹھتی، کوئی نام زبان پر نہیں آتا۔ بارہ آدمی تین سال سے ایک ساتھ سفر کر رہے ہیں، ایک ہی روٹی توڑتے رہے ہیں، اور اِس لمحے اُن میں سے کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ غدار کون ہے۔ اُن کی نظریں کمرے میں گھومتی ہیں مگر کہیں ٹھہرتی نہیں۔ صرف ایک شخص جانتا ہے، اور وہ وہی ہے جس کے ساتھ یہ ہونے والا ہے۔
اصل بات
یہ آیت پہلی نظر میں محض ایک بیانیہ وقفہ لگتی ہے، لیکن دراصل یہ انسان کے بارے میں ایک تلخ سچائی کھول دیتی ہے: گناہ چہرے پر نہیں لکھا ہوتا۔ یہوداہ کوئی اجنبی نہیں تھا، وہ خزانچی تھا، اُس نے بھی معجزے دیکھے تھے، اُس کے پاؤں بھی اُسی رات دھوئے گئے تھے۔ اور پھر بھی گیارہ آدمی اُسے پہچان نہ سکے۔ اِس سے بھی زیادہ چبھنے والی بات یہ ہے کہ اُن میں سے کسی نے یہ نہیں کہا ”یقیناً وہ میں تو نہیں“۔ اُن کی اُلجھن اپنے آپ سے متعلق بھی تھی۔ یہاں انجیل ہمیں انسانی بصیرت کے کنارے پر لا کھڑا کرتی ہے: نہ ہم دوسرے کے دل کو جانتے ہیں، نہ پورے طور پر اپنے دل کو۔ نجات کی بنیاد ہماری پہچان نہیں، بلکہ خداوند مسیح کا جاننا ہے، جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اُسی میز پر بیٹھا رہا اور ”آخری حد تک“ محبت کا اظہار کرتا رہا۔
سلسلۂ نجات
میز پر بیٹھے اِن اُلجھے ہوئے چہروں کے پیچھے ایک پرانی آواز گونج رہی ہے۔ عیسیٰ خود آیت 18 میں اُسے کھول چکے ہیں: ”جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی ہے۔“ یہ زبور کے اُس دُکھ کی بازگشت ہے جو داؤد نے اپنے قریبی ساتھی کی بےوفائی پر اُٹھایا تھا۔ گویا جو کچھ اِس کمرے میں ہو رہا ہے وہ اچانک حادثہ نہیں، بلکہ نجات کی اُس لمبی کہانی کا حصہ ہے جس میں خدا کا مسیح ہمیشہ اپنوں کے ہاتھوں ٹھکرایا جاتا ہے اور اِسی ٹھکرائے جانے کے راستے سے دنیا کو بچاتا ہے۔ شاگردوں کی بےخبری اِس منصوبے کو روکتی نہیں، بلکہ اُسے نمایاں کرتی ہے: یہاں کوئی انسان صورتحال کا مالک نہیں۔ صرف وہی جانتا ہے، اور جان کر بھی نہیں بھاگتا۔ فسح کی عید سر پر ہے، اور برّہ خود میز پر بیٹھا ہے۔
آئینہ
ہم اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ خطرہ باہر سے آتا ہے: وہ ساتھی جو دفتر میں آپ کے خلاف بات کرتا ہے، وہ رشتہ دار جس پر آپ کو شک ہے، وہ گروہ جسے آپ اپنی جماعت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اِس آیت میں گیارہ آدمی بھی یہی کر رہے ہیں، ایک دوسرے کا چہرہ پڑھنے کی کوشش۔ لیکن اُن میں سے ایک بھی نہیں جانتا کہ چند گھنٹوں میں پطرس تین بار انکار کرے گا اور باقی سب بھاگ جائیں گے۔ ہماری اصل مشکل یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو غلط پہچانتے ہیں، بلکہ یہ کہ ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ آج ہی دس منٹ نکالیں اور وہ سوال بلند آواز میں کہیں جو اُس رات کوئی شاگرد نہ کہہ سکا: ”خداوند، کہیں وہ میں تو نہیں؟“ اور پھر خاموش بیٹھ کر خدا کو جواب دینے دیں۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا مرکز شاگرد لگتے ہیں، مگر اصل کردار وہ خاموش شخص ہے جس کے گرد یہ نظریں گھوم رہی ہیں۔ آیت 21 بتاتی ہے کہ عیسیٰ ”نہایت مضطرب“ ہوئے۔ یہ کوئی ٹھنڈا، بےحس علم نہیں تھا۔ خداوند جانتے تھے کہ کون اُنہیں پکڑوائے گا، اور یہ جاننا اُن کے دل کو چیر رہا تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے نہ یہوداہ کا نام لے کر اُسے رسوا کیا، نہ باقی گیارہ کو اُس کے خلاف بھڑکایا۔ اُنہوں نے ایک اشارہ دیا اور دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ یہاں ہم خدا کے دل کی صورت دیکھتے ہیں: وہ گناہ کو پہلے سے جانتا ہے، اُس پر دُکھ اُٹھاتا ہے، اور پھر بھی محبت کی میز سے کسی کو دھکا دے کر نہیں نکالتا۔ توبہ کا راستہ آخری لمحے تک کھلا رہتا ہے۔
سوال
اگر عیسیٰ سب جانتے تھے تو اُنہوں نے یہوداہ کو روکا کیوں نہیں؟ ایک نام، ایک جملہ، اور سازش وہیں ختم ہو جاتی۔ یہ سوال آسان جواب سے حل نہیں ہوتا۔ کہنا کہ ”یہ خدا کا منصوبہ تھا“ سچ تو ہے، مگر یہ یہوداہ کے قصور کو مٹاتا نہیں؛ متن خود اُسے ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ یہوداہ آزاد تھا، اُس پیش گوئی کو نظرانداز کرتا ہے جو عیسیٰ نے ابھی دہرائی۔ انجیل دونوں سچائیوں کو ساتھ ساتھ رکھ دیتی ہے اور اُنہیں جوڑنے کی کوشش نہیں کرتی۔ شاید یہی ایمانداری ہے۔ ہم اپنی زندگی میں بھی یہی دیکھتے ہیں: نقصان جو ہو کر رہا، اور ذمہ داری جو کسی کے سر رہی۔ خدا کی حاکمیت انسان کے فیصلے کو معصوم نہیں بناتی، اور انسان کا فیصلہ خدا کے مقصد کو ناکام نہیں کرتا۔
باریکی
اُردو ترجمہ کہتا ہے ”اُلجھن میں ایک دوسرے کو دیکھ کر“۔ یونانی لفظ اپوریو (اپنے راستے سے محروم ہونا) اِس سے بھی زیادہ بےبسی ظاہر کرتا ہے: ایسی کیفیت جس میں کوئی راستہ سُجھائی نہ دے۔ یہ محض حیرت نہیں، یہ زمین کے کھسکنے کا احساس ہے۔ اور یہی احساس اِس پورے باب کی بنیاد ہے۔ عیسیٰ اُنہیں اِس کیفیت میں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد فرماتے ہیں: ”مَیں تم کو ایک نیا حکم دیتا ہوں، یہ کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“ جن لوگوں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے وہ ابھی ابھی ایک دوسرے پر شک کر رہے تھے۔ کلیسیا کی محبت کبھی بھی معصوم لوگوں کے درمیان شروع نہیں ہوئی؛ وہ ہمیشہ ایسے لوگوں میں شروع ہوتی ہے جو ایک دوسرے کے دل نہیں جانتے۔
غور و فکر
جب آپ کسی جماعت یا خاندان میں بےاعتمادی محسوس کرتے ہیں، تو آپ کی پہلی حرکت کیا ہوتی ہے: دوسروں کے چہرے پڑھنا، یا اپنے دل کو خداوند کے سامنے کھولنا؟
عیسیٰ نے یہوداہ کو رسوا کیے بغیر اُسے آخری لقمہ دیا۔ آپ کی زندگی میں وہ کون ہے جس کے ساتھ آپ اِس قسم کی محبت آزما سکتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ وہ اُسے قبول کرے گا یا نہیں؟
John 13:22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 13:22 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 13:22 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 13:22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 13:22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 13:22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
John 13 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں