یوحنا 4
متن
دوپہر کے بارہ بجے، جب دھوپ سر پر ہوتی ہے اور کوئی سمجھ دار عورت کنوئیں پر نہیں آتی، ایک تھکا ہوا یہودی مسافر یعقوب کے کنوئیں پر بیٹھا ہے اور ایک سامری عورت سے کہتا ہے: ”مجھے ذرا پانی پلا۔“ اِسی ایک درخواست سے وہ گفتگو شروع ہوتی ہے جو پانی سے زندگی کے پانی تک، پانچ شوہروں سے عبادت کے مقام تک، اور آخر میں اِس اعلان تک پہنچتی ہے: ”مَیں ہی مسیح ہوں جو تیرے ساتھ بات کر رہا ہوں۔“ عورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر بھاگتی ہے، پورا شہر نکل آتا ہے، اور دو دن بعد لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے خود جان لیا ہے۔ باب کے آخر میں ایک شاہی افسر صرف ایک فقرے پر بھروسا کر کے گھر لوٹتا ہے، اور بیٹا زندہ ملتا ہے۔
اصل مرکز
غور کیجیے کہ گفتگو کا آغاز کون کرتا ہے اور کس حالت میں۔ خدا کا بیٹا پیاسا ہے اور ایک اجنبی عورت سے مانگ رہا ہے۔ نجات دینے والا پہلے ضرورت مند بن کر سامنے آتا ہے؛ یہی اِس باب کا چپکے سے کہا ہوا سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ ”باپ ایسے ہی پرستار چاہتا ہے“، اور یہ جملہ عجیب طور پر ہمیں خاموش کر دیتا ہے: خدا تلاش میں ہے، ہم صرف تلاش کرنے والے نہیں۔ عبادت کا مرکز اب پہاڑ یا یروشلم نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو کنوئیں پر بیٹھا ہے۔ مگر ”نجات یہودیوں میں سے ہے“ کہہ کر وہ سچائی کو مبہم نہیں ہونے دیتا۔ کشادگی اور صداقت یہاں ایک دوسرے کو کاٹتی نہیں، ایک ہی چہرے میں ملتی ہیں، اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہماری اپنی عبادت کس چیز سے جُڑی ہوئی ہے۔
مشترکہ دھاگہ
کنواں قصے سے زیادہ ہے؛ یہ پرانے عہد کی ایک جانی پہچانی جگہ ہے۔ ابراہام کا نوکر وہاں ربقہ سے ملا، یعقوب نے وہیں راخل کو دیکھا۔ کنواں وہ مقام ہے جہاں اجنبی رشتہ بنتا ہے، جہاں خاندان شروع ہوتا ہے۔ اب یوحنا ہمیں پھر ایک کنوئیں پر لے جاتا ہے، مگر یہاں دُلھن ایک سامری عورت ہے، یعنی وہ قوم جسے یہودی ناپاک سمجھتے تھے۔ عورت پوچھتی ہے، ”کیا آپ ہمارے باپ یعقوب سے بڑے ہیں؟“ اور سارا باب اُس سوال کا جواب ہے جو وہ خود سمجھ نہیں پائی۔ یعقوب نے پانی دیا تھا جو ختم ہو جاتا ہے؛ یہ مسافر وہ چشمہ دے رہا ہے جو انسان کے اندر پھوٹتا ہے۔ اور آخر میں شہر والے جو لفظ بولتے ہیں، ”دنیا کا نجات دہندہ“، وہ ابراہام سے کیے گئے اُس وعدے کی گونج ہے کہ سب قومیں برکت پائیں گی۔
آئینہ
دوپہر کے بارہ بجے کنوئیں پر آنا ایک انتخاب ہے: ایسے وقت آؤ جب کوئی نہ ہو۔ ہم سب میں کوئی نہ کوئی ایسا راستہ ہے جس پر ہم اکیلے چلتے ہیں تاکہ سوال نہ پوچھے جائیں۔ وہ فائل جو آپ کسی کو نہیں دکھاتے، وہ قرض جو گھر والوں سے چھپا ہے، وہ رشتہ جس کا ذکر آپ کلیسیا میں نہیں کرتے۔ غور کیجیے کہ مسیح اُس کی زندگی کی سب سے تکلیف دہ تفصیل کو کیسے چھوتا ہے: نہ ڈانٹ، نہ معافی کا اعلان، صرف ”تیری بات بالکل درست ہے۔“ سچائی اُس کے منہ میں ہتھیار نہیں بنتی، دروازہ بنتی ہے۔ اور عورت بھاگ کر یہی بات شہر کو سناتی ہے جو اُس کی رسوائی تھی۔
آج تنہائی میں، بلند آواز سے، خدا کے سامنے ایک جملے میں وہ بات کہیے جو آپ کسی کو نہیں بتاتے؛ بغیر صفائی دیے، بغیر نرم کیے۔ بس ایک جملہ، اور پھر خاموشی۔
مرکزی کردار
یوحنا نے لکھا کہ ”عیسیٰ سفر سے تھک گیا تھا“۔ اِس جملے پر ذرا ٹھہریے۔ وہی جو پانی کو مَے میں بدلتا ہے، دھوپ میں تھکا ہوا پتھر پر بیٹھا ہے اور پیاسا ہے۔ شاگرد کھانا لے کر آتے ہیں تو وہ انکار کرتا ہے: ”میرا کھانا یہ ہے کہ اُس کی مرضی پوری کروں جس نے مجھے بھیجا ہے۔“ یہ کوئی زاہدانہ سخت کلامی نہیں؛ یہ ایک آدمی ہے جو ابھی ابھی ایک ٹوٹی ہوئی عورت کو زندگی دے کر سیر ہو چکا ہے۔ اُس کا جسم تھکا ہے، اُس کی روح بھری ہوئی ہے۔ اور جب شاگرد حیران ہوتے ہیں، کوئی پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا۔ شاید یہی سب سے سچی تصویر ہے: ہم مسیح کے گرد کھڑے ہیں، حیران، خاموش، اور یہ سمجھنے سے قاصر کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتا ہے۔
پس منظر
سامریہ یہودیہ اور گلیل کے درمیان پڑتا تھا، مگر بہت سے یہودی لمبا چکر کاٹ کر یردن کے پار سے جاتے تاکہ وہاں قدم نہ رکھنا پڑے۔ دشمنی صدیوں پرانی تھی: سامری صرف توریت کی پہلی پانچ کتابوں کو مانتے اور عبادت کا مرکز گرزیم پہاڑ کو سمجھتے تھے، جس پر اُن کا ہیکل یہودی حکمران نے تباہ کر دیا تھا۔ عورت کا سوال، ”ہمارے باپ دادا تو اِسی پہاڑ پر عبادت کرتے تھے“، سیاسی زخم ہے، محض مذہبی تجسس نہیں۔ دوسری طرف ایک مرد کا سرِعام اکیلی عورت سے بات کرنا سماجی حدود کی خلاف ورزی تھی؛ اور تیسری بات، عورتیں عموماً صبح یا شام پانی بھرتیں، گروہ میں۔ دوپہر کی تنہائی خاموشی سے ہمیں اُس کی سماجی حیثیت بتا دیتی ہے۔
دیگر صحیفوں کی گونج
یرمیاہ نبی کے ذریعے خدا نے شکایت کی تھی کہ اُس کے لوگوں نے زندہ پانی کا چشمہ چھوڑ کر اپنے لیے ٹوٹے ہوئے حوض کھودے جو پانی روک نہیں سکتے۔ یوحنا 4 اُسی شکایت کا جواب ہے: چشمہ خود چل کر آ گیا ہے اور مانگ رہا ہے۔ اور باب کے آخر تک جائیں تو یوحنا ہی کی انجیل میں وہی ہونٹ صلیب پر کہیں گے کہ مجھے پیاس لگی ہے۔ جو عورت کو کبھی نہ ختم ہونے والا پانی دیتا ہے، وہ خود پیاسا مرے گا۔ اِن دونوں مناظر کو ساتھ رکھیے اور فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجیے؛ یہاں کوئی صاف نتیجہ نہیں، بس ایک گہرائی ہے جس میں بیٹھنا پڑتا ہے۔
غور و فکر
وہ کون سا وقت ہے جب میں ”دوپہر کے بارہ بجے“ کنوئیں پر جاتا ہوں، یعنی لوگوں کی نظروں سے بچ کر؟ اور اگر مسیح وہاں بیٹھا ہو تو میں کیا کہوں گا؟
عورت نے اپنا گھڑا چھوڑ دیا۔ اِس وقت میرے ہاتھ میں وہ کون سی چیز ہے جسے میں مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں، حالانکہ مسیح مجھے کچھ اور دینا چاہتا ہے؟
John 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 4 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 4 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
تُو نے سچ کہا ہے۔“ یسوع نے عورت کے سب سے چھپے زخم پر ہاتھ رکھا، مگر اُٹھ کر چلے نہیں گئے۔ وہ کنوئیں پر بیٹھے رہے اور بات جاری رکھی۔ سوچ، جو تیرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے وہی تیرے ساتھ بیٹھا ہے۔ تُو جس بات کو چھپاتی ہے، وہ اُسے پہلے سے جانتا ہے اور پھر بھی تجھ سے پانی مانگتا ہے۔
وہ ابھی گھر پہنچا بھی نہیں تھا: "وہ ابھی راستے میں تھا کہ اُس کے نوکر اُس سے ملے اور کہا، 'آپ کا بیٹا زندہ ہے۔'" یسوع کا کلام اُس افسر کے قدموں سے تیز نکلا۔ اُس نے شفا ہوتے دیکھی نہیں، صرف یقین کر کے چل پڑا۔ تُو بھی شاید ابھی راستے میں ہے، جواب نظر نہیں آ رہا۔ مگر جو کچھ خداوند نے کہا، وہ تیرے پہنچنے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔
اے خدا، اُس باپ کی طرح میں بھی تیرے پاس آیا ہوں، اپنے پیاروں کا بوجھ دل میں لیے۔ جو مجھ سے نہیں ہو سکتا، وہ تیرے لیے مشکل نہیں۔ میری التجا سُن، اور جہاں میں بےبس ہوں وہاں تُو اپنا ہاتھ بڑھا۔ مجھے بھروسہ رکھنا سکھا، چاہے جواب دیر سے آئے۔
کیا؟ آپ یہودی ہیں اور مجھ سے پانی مانگ رہے ہیں؟ مَیں تو سامری عورت ہوں۔“ اُس کی حیرانی سمجھ آتی ہے۔ صدیوں کی نفرت کے درمیان یسوع نے دیوار گرانے کے لئے کوئی لمبی تقریر نہیں کی، بس پانی مانگا۔ اُس نے خود کو محتاج بنایا تاکہ وہ عورت خود کو قابلِ قبول محسوس کرے۔ کیا آپ بھی کسی سے کچھ مانگ سکتے ہیں جسے آپ نے دل میں دُور رکھا ہوا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
