بائبل کی تشریح

یوحنا 5

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یروشلم کے "بھیڑوں کے دروازے" کے پاس ایک حوض تھا، بیت حسدا، جہاں اندھے، لنگڑے اور مفلوج پانی کے ہلنے کے انتظار میں برآمدوں کے نیچے پڑے رہتے تھے۔ اڑتیس سال سے معذور ایک آدمی سے عیسیٰ پوچھتے ہیں، ”کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے؟“ اور بغیر پانی کے، بغیر قطار کے، ایک حکم سے اُسے کھڑا کر دیتے ہیں۔ چونکہ یہ سبت کا دن تھا، شفا کا یہ واقعہ ایک قانونی تنازع میں بدل جاتا ہے، اور تنازع سے عیسیٰ کی سب سے صاف گوئی پر مبنی تقریر نکلتی ہے: فرزند وہی کرتا ہے جو باپ کرتا ہے، اور اُس کی آواز مُردوں کو قبروں سے نکالے گی۔

اصل بات

غور کیجیے کہ عیسیٰ نے اُس آدمی کو پانی تک پہنچایا نہیں۔ اُنہوں نے نظام کو ٹھیک نہیں کیا، اُنہوں نے نظام کو غیرضروری بنا دیا۔ بیت حسدا کی پوری معیشت یہ تھی: جو تیز ہے، جس کے ساتھی ہیں، جس کا جسم تھوڑا بہتر ہے، وہ جیتتا ہے۔ یہ مذہب کی سب سے پرانی شکل ہے، شفا بطور انعام۔ عیسیٰ اِس آدمی کے پاس آتے ہیں جو سب سے پیچھے ہے، اور فضل اُلٹی ترتیب سے کام کرتا ہے۔ اور پھر وہ اِس شفا کو ایک بہت بڑے دعوے سے جوڑ دیتے ہیں: ”جس طرح باپ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اُسی طرح فرزند بھی جنہیں چاہتا ہے زندہ کر دیتا ہے۔“ یعنی یہ حوض کے کنارے کا واقعہ قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جو آواز اُس دن ایک لاچار آدمی کو کھڑا کرتی ہے، وہی آواز ایک دن قبرستانوں کو خالی کرے گی۔

سنہری دھاگا

یہودی سبت کو سمجھنے کی کلید یہ تھی: خدا نے چھ دن کام کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا۔ عیسیٰ اِس پر ایک حیرت انگیز جملہ کہتے ہیں: ”میرا باپ آج تک کام کرتا آیا ہے، اور مَیں بھی ایسا کرتا ہوں۔“ یہ محض قانونی بحث نہیں، یہ تخلیق کی کہانی میں داخل ہونا ہے۔ خدا آرام میں ہے، مگر بےکار نہیں؛ وہ مسلسل زندگی دے رہا ہے، سنبھال رہا ہے، بحال کر رہا ہے۔ اور فرزند اُسی کام میں شریک ہے۔ پرانے عہدنامے میں بار بار یہ وعدہ تھا کہ خدا خود اپنی بھیڑوں کا چرواہا ہو گا جب رہنما ناکام ہو جائیں۔ بیت حسدا میں وہ وعدہ جسم پہن کر، "بھیڑوں کے دروازے" کے پاس، بالکل اُن لوگوں میں آ کھڑا ہوتا ہے جنہیں کسی نے نہیں اٹھایا۔

آئینہ

اُس آدمی کا جواب سن کر دل دکھتا ہے: ”میرا کوئی ساتھی نہیں۔“ اڑتیس سال میں یہ اُس کی شناخت بن چکا تھا۔ شکایت بھی ایک طرح کا گھر بن جاتی ہے، اور وہاں سے نکلنا ڈراؤنا ہوتا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں وہ جملہ جو آپ خود کو سناتے ہیں: میری شادی ایسی ہی رہے گی، میرا مزاج بدل نہیں سکتا، میرے خاندان میں یہی ہوتا آیا ہے۔ عیسیٰ کا سوال بےرحم حد تک سیدھا ہے، ”کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے؟“ کیونکہ کبھی کبھی ہم شفا سے زیادہ اپنی کہانی سے محبت کرتے ہیں۔ آج ہی ایک کام کیجیے: کاغذ پر وہ ایک جملہ لکھیے جو آپ برسوں سے اپنے بارے میں دہرا رہے ہیں، اور اُس کے نیچے یہ لکھ کر بلند آواز سے پڑھیے: ”اُٹھ، اپنا بستر اُٹھا کر چل پھر!“

مرکزی کردار

شفا پانے والا آدمی کوئی مثالی ایماندار نہیں۔ وہ عیسیٰ کا نام تک نہیں جانتا، اور جب جان لیتا ہے تو سیدھا حکام کو اطلاع دے دیتا ہے، ”عیسیٰ نے مجھے شفا دی۔“ یوحنا اُسے چمکانے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ اہم ہے: یہاں فضل اِس لیے نہیں آیا کہ آدمی لائق تھا۔ اصل مرکزی کردار عیسیٰ ہیں، اور جو چیز سب سے زیادہ چونکاتی ہے وہ اُن کی مکمل تابع داری ہے: ”فرزند اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔“ جس لمحے وہ اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں، اُسی لمحے وہ خود کو مکمل طور پر باپ کے تابع بتاتے ہیں۔ یہی اُن کا اختیار ہے، طاقت کا بھوکا نہیں، محبت میں باندھا ہوا۔

پس منظر

تصور کیجیے: عید کے دنوں میں یروشلم کھچاکھچ بھرا ہے، قربانی کے لیے بھیڑیں اُسی دروازے سے گزرتی ہیں، گوبر اور دھول کی بو، اور پتھر کے پانچ برآمدوں کے نیچے لیٹے ہوئے لوگوں کا ہجوم۔ یہ لوگ معاشرے کے کنارے پر تھے؛ بہت سوں کے خیال میں اُن کی بیماری گناہ کی سزا تھی، اور بھیک مانگنا ہی اُن کی آمدنی۔ ہیکل کے بالکل قریب، مگر ہیکل کی زندگی سے کٹے ہوئے۔ دوسری طرف وہ دینی حکام ہیں جن کے لیے سبت قومی شناخت کی آخری دیوار تھی، رومی قبضے کے زمانے میں وہ ایک چیز جو ثابت کرتی تھی کہ ہم اب بھی خدا کے لوگ ہیں۔ اِس لیے ایک آدمی کا بستر اٹھا کر چلنا اُن کے لیے معمولی بات نہ تھی، وہ پوری عمارت کو ہلتے دیکھ رہے تھے۔

باہمی حوالے

عیسیٰ خود دو گواہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور دونوں پڑھنے کے لیے دروازے کھولتے ہیں۔ پہلا یحییٰ: ”یحییٰ ایک جلتا ہوا چراغ تھا جو روشنی دیتا تھا“، مگر چراغ سورج نہیں ہوتا؛ یوحنا کی انجیل کے آغاز میں ہی یحییٰ کو روشنی کا گواہ کہا گیا ہے، خود روشنی نہیں۔ دوسرا موسیٰ: ”اگر تم واقعی موسیٰ پر ایمان رکھتے تو ضرور مجھ پر بھی ایمان رکھتے۔“ یہ وہی بات ہے جو عمواس کی راہ پر دہرائی جائے گی، جہاں جی اُٹھا ہوا خداوند موسیٰ سے شروع کر کے صحیفوں میں اپنا بیان کھولتا ہے۔ کتاب مقدّس پڑھنا اور مسیح سے نہ ملنا ممکن ہے، اور یہی اِس باب کی سب سے خوفناک بات ہے۔

غور و فکر

وہ کون سی "بیت حسدا" ہے جہاں آپ برسوں سے پانی ہلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اور کیا آپ واقعی وہاں سے اُٹھنا چاہتے ہیں؟

آپ کس کی عزت کے لیے جیتے ہیں، لوگوں کی یا اُس کی ”جو واحد خدا سے ملتی ہے“؟ اِس ہفتے کا کون سا فیصلہ اِس کا جواب دیتا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 5 کا کیا مطلب ہے؟
یروشلم کے "بھیڑوں کے دروازے" کے پاس ایک حوض تھا، بیت حسدا، جہاں اندھے، لنگڑے اور مفلوج پانی کے ہلنے کے انتظار میں برآمدوں کے نیچے پڑے رہتے تھے۔ اڑتیس سال سے معذور ایک آدمی سے عیسیٰ پوچھتے ہیں، ”کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے؟“ اور بغیر پانی کے، بغیر قطار کے، ایک حکم سے اُسے کھڑا کر دیتے ہیں۔ چونکہ یہ سبت کا دن تھا، شفا کا یہ واقعہ ایک قانونی تنازع میں بدل جاتا ہے، اور تنازع سے عیسیٰ کی سب سے صاف گوئی پر مبنی تقریر نکلتی ہے: فرزند وہی کرتا ہے جو باپ کرتا ہے، اور اُس کی آواز مُردوں کو قبروں سے نکالے گی۔
یوحنا 5 کس بارے میں ہے؟
یہودی سبت کو سمجھنے کی کلید یہ تھی: خدا نے چھ دن کام کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا۔ عیسیٰ اِس پر ایک حیرت انگیز جملہ کہتے ہیں: ”میرا باپ آج تک کام کرتا آیا ہے، اور مَیں بھی ایسا کرتا ہوں۔“ یہ محض قانونی بحث نہیں، یہ تخلیق کی کہانی میں داخل ہونا ہے۔ خدا آرام میں ہے، مگر بےکار نہیں؛ وہ مسلسل زندگی دے رہا ہے، سنبھال رہا ہے، بحال کر رہا ہے۔ اور فرزند اُسی کام میں شریک ہے۔ پرانے عہدنامے میں بار بار یہ وعدہ تھا کہ خدا خود اپنی بھیڑوں کا چرواہا ہو گا جب رہنما ناکام ہو جائیں۔ بیت حسدا میں وہ وعدہ جسم پہن کر، "بھیڑوں کے دروازے" کے پاس، بالکل اُن لوگوں میں آ کھڑا ہوتا ہے جنہیں کسی نے نہیں اٹھایا۔
یوحنا 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
شفا پانے والا آدمی کوئی مثالی ایماندار نہیں۔ وہ عیسیٰ کا نام تک نہیں جانتا، اور جب جان لیتا ہے تو سیدھا حکام کو اطلاع دے دیتا ہے، ”عیسیٰ نے مجھے شفا دی۔“ یوحنا اُسے چمکانے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ اہم ہے: یہاں فضل اِس لیے نہیں آیا کہ آدمی لائق تھا۔ اصل مرکزی کردار عیسیٰ ہیں، اور جو چیز سب سے زیادہ چونکاتی ہے وہ اُن کی مکمل تابع داری ہے: ”فرزند اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔“ جس لمحے وہ اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں، اُسی لمحے وہ خود کو مکمل طور پر باپ کے تابع بتاتے ہیں۔ یہی اُن کا اختیار ہے، طاقت کا بھوکا نہیں، محبت میں باندھا ہوا۔
یوحنا 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
عیسیٰ خود دو گواہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور دونوں پڑھنے کے لیے دروازے کھولتے ہیں۔ پہلا یحییٰ: ”یحییٰ ایک جلتا ہوا چراغ تھا جو روشنی دیتا تھا“، مگر چراغ سورج نہیں ہوتا؛ یوحنا کی انجیل کے آغاز میں ہی یحییٰ کو روشنی کا گواہ کہا گیا ہے، خود روشنی نہیں۔ دوسرا موسیٰ: ”اگر تم واقعی موسیٰ پر ایمان رکھتے تو ضرور مجھ پر بھی ایمان رکھتے۔“ یہ وہی بات ہے جو عمواس کی راہ پر دہرائی جائے گی، جہاں جی اُٹھا ہوا خداوند موسیٰ سے شروع کر کے صحیفوں میں اپنا بیان کھولتا ہے۔ کتاب مقدّس پڑھنا اور مسیح سے نہ ملنا ممکن ہے، اور یہی اِس باب کی سب سے خوفناک بات ہے۔
یوحنا 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کس کی عزت کے لیے جیتے ہیں، لوگوں کی یا اُس کی ”جو واحد خدا سے ملتی ہے“؟ اِس ہفتے کا کون سا فیصلہ اِس کا جواب دیتا ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 5 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 25

یسوع کہتے ہیں، ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، وہ وقت آنے والا ہے بلکہ آ چکا ہے جب مُردے اللہ کے فرزند کی آواز سنیں گے۔ اور جو سنیں گے وہ زندہ ہو جائیں گے۔“ ذرا سوچ، مُردہ تو سن ہی نہیں سکتا۔ لیکن اُس کی آواز میں ایسی طاقت ہے کہ وہ سننے کی صلاحیت بھی خود پیدا کر دیتی ہے۔ تیرے دل کا جو حصہ سُن ہو چکا ہے، جہاں تُو خود کو بےحس سمجھتا ہے، وہیں اُس کی آواز پہنچ سکتی ہے۔ اور وہ کہتا ہے، یہ وقت کوئی دُور کا نہیں، ”آ چکا ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟