بائبل کی تشریح

یوحنا 7

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یسوع گلیل میں رہتے ہیں کیونکہ یہودیہ میں اُن کے قتل کی سازش تیار ہے۔ اُن کے بھائی طعنہ دیتے ہیں کہ عید پر جا کر اپنی شہرت بناؤ، مگر وہ اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور بعد میں خفیہ طور پر یروشلم پہنچ کر بیت المُقدّس میں تعلیم دینے لگتے ہیں۔ ہجوم بٹ جاتا ہے، پہرے دار خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں، اور عید کے سب سے اہم دن یسوع بھری بھیڑ میں پکار اُٹھتے ہیں: ”جو پیاسا ہو وہ میرے پاس آئے۔“

اصل بات

اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل ایک لفظ ہے: وقت۔ ”ابھی وہ وقت نہیں آیا جو میرے لئے موزوں ہے۔“ یسوع اپنے خاندان کے دباؤ سے، ہجوم کی توقعات سے اور دشمنوں کی سازش سے، تینوں سے آزاد ہیں۔ دو بار لکھا ہے کہ کوئی اُن کو ہاتھ نہ لگا سکا، اور وجہ سیاسی نہیں بلکہ الٰہی ہے: ”ابھی اُس کا وقت نہیں آیا تھا۔“ یہاں نجات کا ایک بنیادی اصول کھلتا ہے۔ مسیح کی موت کوئی حادثہ نہیں جو اُن پر آ پڑی؛ وہ ایک ایسی گھڑی ہے جو باپ نے مقرر کی اور بیٹے نے قبول کی۔ جو خدا آپ کی زندگی میں دیر کرتا ہوا لگتا ہے، وہی خدا ہے جس نے اپنے بیٹے کی گھڑی بھی مقرر وقت پر ہی آنے دی۔

سنہری تار

جھونپڑیوں کی عید صرف فصل کی خوشی نہیں تھی۔ یہ اُن چالیس برسوں کی یاد تھی جب اسرائیل خیموں میں رہا اور خدا نے چٹان سے پانی دیا۔ اِسی لیے عید کے ہر دن امام شلوخ کے حوض سے سونے کے جگ میں پانی لا کر قربان گاہ پر اُنڈیلتے تھے، اور زکریا نبی کی وہ پیش گوئی پڑھی جاتی تھی کہ یروشلم سے زندہ پانی نکلے گا۔ اور پھر ”عید کے آخری دن جو سب سے اہم ہے“، عین اُس رسم کے بیچ، یسوع کھڑے ہو کر چیخ کر کہتے ہیں کہ پیاسا میرے پاس آئے۔ یعنی: بیابان کی وہ چٹان مَیں ہوں۔ مگر یسوع ایک قدم آگے جاتے ہیں۔ پانی صرف اُن تک نہیں آتا، ایمان لانے والے کے اندر سے ”زندگی کے پانی کی نہریں بہہ نکلیں گی“۔ اور یوحنا وضاحت کر دیتے ہیں: یہ روح القدس ہے، جو صلیب اور جلال کے بعد ملے گا۔ عید کی رسم ایک سایہ تھی؛ حقیقت وہاں کھڑی پکار رہی تھی۔

آئینہ

بھائیوں کا مشورہ آج بھی ہمارے کانوں میں بہت معقول لگتا ہے: ”جو شخص چاہتا ہے کہ عوام اُسے جانے وہ پوشیدگی میں کام نہیں کرتا۔“ یہ برانڈنگ کی زبان ہے، اور ہم اِسے خدمت میں بھی بولنا سیکھ گئے ہیں۔ دوسری طرف ہجوم ہے: ”کسی نے بھی اُس کے بارے میں کھل کر بات نہ کی، کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔“ دفتر کی چائے کے وقفے میں، خاندان کے واٹس ایپ گروپ میں، سسرال کی محفل میں، ہم جانتے ہیں یہ خاموشی کیسی ہوتی ہے۔ اور تیسری طرف فریسی ہیں، جن کے پاس علم ہے مگر ہمدردی نہیں: ”یہ ہجوم لعنتی ہے۔“ اِن تینوں کے بیچ سے یسوع کی آواز گزرتی ہے اور آپ کی پیاس سے بات کرتی ہے، نہ کہ آپ کی کارکردگی سے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیے جس کے لیے آپ اِن دنوں سب سے زیادہ پیاسے ہیں، پھر اونچی آواز میں یہ آیت پڑھیے: ”جو پیاسا ہو وہ میرے پاس آئے“، اور وہ کاغذ اپنے بستر کے قریب رکھ دیجیے۔

مرکزی کردار

اِس باب میں یسوع کا اندرونی منظر تنہائی کا ہے۔ اُن کے سگے بھائی اُن پر ایمان نہیں رکھتے؛ وہ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ شہر میں اُن کے قتل کی بات ہو رہی ہے۔ ہجوم اُن کے بارے میں بڑبڑا رہا ہے، اور جو حق میں ہیں وہ بھی چپکے چپکے۔ پھر بھی وہ نہ چھپتے ہیں نہ بھڑکتے ہیں۔ وہ اپنی عزت کی بات ہی نہیں کرتے: ”جو اپنے بھیجنے والے کی عزت و جلال بڑھانے کی کوشش کرتا ہے وہ سچا ہے۔“ یہی اُن کی آزادی کا راز ہے۔ جس کے پاس ثابت کرنے کو کچھ نہیں، اُسے ہجوم خرید نہیں سکتا۔ اور اِسی خالی ہاتھ آدمی کے بارے میں پہرے دار وہ گواہی دیتے ہیں جو علما نہ دے سکے: ”کسی نے کبھی اِس آدمی کی طرح بات نہیں کی۔“

پس منظر

یہ موسمِ خزاں ہے، صلیب سے تقریباً چھ ماہ پہلے۔ یروشلم زیارت کرنے والوں سے بھرا ہوا ہے، گلیوں میں شاخوں کی جھونپڑیاں بنی ہیں، بیت المُقدّس رات کو مشعلوں سے روشن ہے۔ یہ سال کی سب سے خوش گوار عید ہے، اور اِسی رونق کے نیچے ایک سیاسی تناؤ چل رہا ہے: راہنما امام اور فریسی، جن کے ہاتھ میں مذہبی عدالت اور بیت المُقدّس کے پہرے دار ہیں، ایک گلیلی مزدور کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گلیل کا نام ہی طعنہ ہے، جیسے نیکدیمس سے کہا گیا: ”کیا تم بھی گلیل کے رہنے والے ہو؟“ طاقت، تعلیم اور خاندانی وقار سب ایک طرف ہیں؛ دوسری طرف ایک آدمی ہے جسے اُس کے بھائی بھی سنجیدہ نہیں لیتے۔

سوال

آیت 17 کانٹے کی طرح چبھتی ہے: ”جو اُس کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار ہے وہ جان لے گا کہ میری تعلیم اللہ کی طرف سے ہے۔“ یعنی پہلے تابعداری کی نیت، پھر یقین۔ ہم تو اُلٹا چاہتے ہیں: پہلے ثبوت دو، پھر مانیں گے۔ کیا یہ دلیل گول دائرے میں نہیں گھومتی؟ ایمان دار دیانت داری سے یہاں رُکنا سیکھے۔ اِس باب کے لوگ پاک کلام سے بحث کر رہے تھے اور بالکل درست حوالے دے رہے تھے، ”مسیح داؤد کے خاندان اور بیت لحم سے آئے گا“، مگر اُنہوں نے یہ پوچھنے کی زحمت نہ کی کہ یسوع پیدا کہاں ہوئے تھے۔ معلومات کی کمی نہیں تھی؛ آمادگی کی کمی تھی۔ یسوع یہ نہیں کہتے کہ سوال مت کرو؛ وہ یہ کہتے ہیں کہ کچھ سچائیاں صرف چلنے والے کو دکھائی دیتی ہیں، بیٹھے تماشائی کو نہیں۔ یہ بات ہمارے مزاج کے خلاف ہے، اور شاید اِسی لیے سچ ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی پیاس ہے جسے آپ مسیح کے پاس لانے کے بجائے کسی اَور حوض سے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

کس جگہ آپ ہجوم کی طرح یسوع کے بارے میں ”کھل کر بات“ نہیں کرتے، اور اصل میں آپ کس چیز سے ڈرتے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 7 کا کیا مطلب ہے؟
یسوع گلیل میں رہتے ہیں کیونکہ یہودیہ میں اُن کے قتل کی سازش تیار ہے۔ اُن کے بھائی طعنہ دیتے ہیں کہ عید پر جا کر اپنی شہرت بناؤ، مگر وہ اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور بعد میں خفیہ طور پر یروشلم پہنچ کر بیت المُقدّس میں تعلیم دینے لگتے ہیں۔ ہجوم بٹ جاتا ہے، پہرے دار خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں، اور عید کے سب سے اہم دن یسوع بھری بھیڑ میں پکار اُٹھتے ہیں: ”جو پیاسا ہو وہ میرے پاس آئے۔“
یوحنا 7 کس بارے میں ہے؟
جھونپڑیوں کی عید صرف فصل کی خوشی نہیں تھی۔ یہ اُن چالیس برسوں کی یاد تھی جب اسرائیل خیموں میں رہا اور خدا نے چٹان سے پانی دیا۔ اِسی لیے عید کے ہر دن امام شلوخ کے حوض سے سونے کے جگ میں پانی لا کر قربان گاہ پر اُنڈیلتے تھے، اور زکریا نبی کی وہ پیش گوئی پڑھی جاتی تھی کہ یروشلم سے زندہ پانی نکلے گا۔ اور پھر ”عید کے آخری دن جو سب سے اہم ہے“، عین اُس رسم کے بیچ، یسوع کھڑے ہو کر چیخ کر کہتے ہیں کہ پیاسا میرے پاس آئے۔ یعنی: بیابان کی وہ چٹان مَیں ہوں۔ مگر یسوع ایک قدم آگے جاتے ہیں۔ پانی صرف اُن تک نہیں آتا، ایمان لانے والے کے اندر سے ”زندگی کے پانی کی نہریں بہہ نکلیں گی“۔ اور یوحنا وضاحت کر دیتے ہیں: یہ روح القدس ہے، جو صلیب اور جلال کے بعد ملے گا۔ عید کی رسم ایک سایہ تھی؛ حقیقت وہاں کھڑی پکار رہی تھی۔
یوحنا 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِس باب میں یسوع کا اندرونی منظر تنہائی کا ہے۔ اُن کے سگے بھائی اُن پر ایمان نہیں رکھتے؛ وہ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ شہر میں اُن کے قتل کی بات ہو رہی ہے۔ ہجوم اُن کے بارے میں بڑبڑا رہا ہے، اور جو حق میں ہیں وہ بھی چپکے چپکے۔ پھر بھی وہ نہ چھپتے ہیں نہ بھڑکتے ہیں۔ وہ اپنی عزت کی بات ہی نہیں کرتے: ”جو اپنے بھیجنے والے کی عزت و جلال بڑھانے کی کوشش کرتا ہے وہ سچا ہے۔“ یہی اُن کی آزادی کا راز ہے۔ جس کے پاس ثابت کرنے کو کچھ نہیں، اُسے ہجوم خرید نہیں سکتا۔ اور اِسی خالی ہاتھ آدمی کے بارے میں پہرے دار وہ گواہی دیتے ہیں جو علما نہ دے سکے: ”کسی نے کبھی اِس آدمی کی طرح بات نہیں کی۔“
یوحنا 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت 17 کانٹے کی طرح چبھتی ہے: ”جو اُس کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار ہے وہ جان لے گا کہ میری تعلیم اللہ کی طرف سے ہے۔“ یعنی پہلے تابعداری کی نیت، پھر یقین۔ ہم تو اُلٹا چاہتے ہیں: پہلے ثبوت دو، پھر مانیں گے۔ کیا یہ دلیل گول دائرے میں نہیں گھومتی؟ ایمان دار دیانت داری سے یہاں رُکنا سیکھے۔ اِس باب کے لوگ پاک کلام سے بحث کر رہے تھے اور بالکل درست حوالے دے رہے تھے، ”مسیح داؤد کے خاندان اور بیت لحم سے آئے گا“، مگر اُنہوں نے یہ پوچھنے کی زحمت نہ کی کہ یسوع پیدا کہاں ہوئے تھے۔ معلومات کی کمی نہیں تھی؛ آمادگی کی کمی تھی۔ یسوع یہ نہیں کہتے کہ سوال مت کرو؛ وہ یہ کہتے ہیں کہ کچھ سچائیاں صرف چلنے والے کو دکھائی دیتی ہیں، بیٹھے تماشائی کو نہیں۔ یہ بات ہمارے مزاج کے خلاف ہے، اور شاید اِسی لیے سچ ہے۔
یوحنا 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کس جگہ آپ ہجوم کی طرح یسوع کے بارے میں ”کھل کر بات“ نہیں کرتے، اور اصل میں آپ کس چیز سے ڈرتے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 7 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 36

خداوند، شکر ہے کہ لوگوں کا یہ سوال ”تم مجھے ڈھونڈو گے، مگر مجھے پاؤ گے نہیں“ آج ہمارے لیے بند دروازہ نہیں رہا۔ تُو نے صلیب پر راستہ کھول دیا، اِس لیے ہم تجھے ڈھونڈتے ہیں تو پا لیتے ہیں، اور جہاں تُو ہے وہاں آنے کی اُمید ہمیں دی گئی ہے۔ اِس مہربانی پر تیرا شکر۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟