لوقا 6
متن
آیت ۱۰ میں ایک لمحہ ہے جو آسانی سے نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے: ”وہ خاموش ہو کر اپنے ارد گرد کے تمام لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔“ سوکھے ہاتھ والا آدمی درمیان میں کھڑا ہے، شریعت کے عالِم تاک میں ہیں، اور خداوند بولنے سے پہلے دیکھتے ہیں۔ باب کا آغاز سبت کے دو جھگڑوں سے ہوتا ہے، پھر عیسیٰ ساری رات پہاڑ پر دعا کرتے ہیں اور صبح بارہ کو چن لیتے ہیں۔ اِس کے بعد وہ میدان میں اُترتے ہیں جہاں ہجوم اُنہیں چھونا چاہتا ہے، اور وہاں وہ برکتیں اور افسوس سناتے ہیں، دشمن سے محبت کا حکم دیتے ہیں، آنکھ کے شہتیر کی بات کرتے ہیں، اور آخر میں دو مکانوں کی مثال دیتے ہیں: ایک چٹان پر، ایک بغیر بنیاد۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل وہ ایک فقرہ ہے جس پر باقی سب ٹکا ہوا ہے: ”لازم ہے کہ تم رحم دل ہو کیونکہ تمہارا باپ بھی رحم دل ہے۔“ دشمن سے محبت کوئی اخلاقی کارنامہ نہیں جس سے ہم خدا کو خوش کریں؛ یہ خدا کے کردار کی نقل ہے، کیونکہ ”وہ بھی ناشکروں اور بُرے لوگوں پر نیکی کا اظہار کرتا ہے۔“ یعنی جو کچھ آیت ۲۷ سے ۳۸ تک کہا گیا ہے، وہ سب سے پہلے خدا کے بارے میں ایک بیان ہے اور اُس کے بعد ہمارے لیے ایک حکم۔ سبت کا سوال بھی یہی ہے: کیا دن کا مالک شفا دینے سے رکے گا؟ رحم شریعت کی خلاف ورزی نہیں، شریعت کا مقصد ہے۔ اور یہاں ایک سوال کھلا رہ جاتا ہے، جسے متن بند نہیں کرتا: ہم رحم کو اِتنی آسانی سے کمزوری کیوں سمجھ لیتے ہیں؟
مشترکہ دھاگا
داؤد کا حوالہ اتفاقی نہیں۔ عیسیٰ اُس بادشاہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ابھی تخت پر نہیں تھا، جو بھوکا اور بھاگتا پھرتا تھا، اور جس کے ساتھیوں نے مخصوص روٹیاں کھائیں۔ پھر وہ خود کو ”ابنِ آدم“ کہتے ہیں، وہی لقب جو دانیال ۷ میں اُس ہستی کا ہے جسے بادشاہی دی جاتی ہے۔ گویا داؤد کی بھوک اور دانیال کا تخت ایک ہی شخص میں مل جاتے ہیں۔ اور یہی شخص میدان میں اُتر کر بھوکوں کو مبارک کہتا ہے۔ نجات کی پوری کہانی اِسی رُخ پر چلتی ہے: خدا نیچے آتا ہے، بھوک میں شریک ہوتا ہے، اور پھر بادشاہی اُنہیں دیتا ہے جن کے ہاتھ خالی ہیں۔ بارہ رسولوں کا انتخاب بھی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی بازآبادکاری کا اشارہ ہے: خدا نئے سرے سے ایک قوم بنا رہا ہے۔
آئینہ
آیت ۳۴ ناخوشگوار حد تک عملی ہے: ”اُنہیں اُدھار دو جن کے بارے میں تمہیں واپس ملنے کی اُمید نہیں ہے۔“ ہم رشتوں کا حساب رکھتے ہیں، خواہ کبھی کاغذ پر نہ لکھیں۔ کس نے فون نہیں کیا، کس نے شادی میں نہیں بلایا، کس بھائی نے پیسے لوٹائے نہیں۔ اور جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں تو دل کے کسی کونے میں ایک رسید بن جاتی ہے۔ عیسیٰ اِس رسید بہی کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ آنکھ کے شہتیر کی بات کرتے ہیں، اور یہ اُن لوگوں کے لیے سب سے زیادہ چبھتی ہے جو دوسروں کی روحانی حالت پر رائے دینے کے عادی ہیں، بائبل کلاس میں، والدین کی حیثیت سے، کلیسیا کے مشورے میں۔
آج ہی ایک نام لکھیں: وہ شخص جس نے آپ کا کچھ ادھار رکھا ہے، پیسہ، معافی یا احترام۔ نام کے آگے لکھیں ”معاف“ اور اُس کے لیے آواز سے دعا کریں۔
پروفائل
لوقا کے پہلے پڑھنے والے زیادہ تر شہری، غیریہودی مسیحی تھے جو معاشرے کے حاشیے پر رہتے تھے۔ آیت ۲۲ اُن کے لیے تشبیہ نہیں تھی: ”لوگ اِس لئے تم سے نفرت کرتے اور تمہارا حقہ پانی بند کرتے ہیں۔“ رشتہ داروں سے کٹ جانا، کاروبار کا نقصان، خاندانی مجلسوں سے اخراج، یہ روزمرہ کا تجربہ تھا۔ اور صور اور صیدا کے ساحلی علاقے کا ذکر اُن کے لیے دروازہ تھا: غیریہودی علاقے سے آنے والے بھی اُس قوت کو چھو رہے تھے۔ دولت مندوں پر افسوس اُن سرپرستوں کے لیے چبھتا ہوگا جن کی سرپرستی پر پورا سماجی نظام کھڑا تھا۔ ”دو تو تم کو بھی دیا جائے گا“ اُس دنیا میں انقلابی تھا جہاں دینے کا مقصد ہمیشہ برابر یا بڑھ کر واپسی حاصل کرنا ہوتا تھا۔
بین المتن
یعقوب ۲:۱۳ اِسی بات کو دوسری سمت سے کہتا ہے: رحم عدالت پر غالب آتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ آیت ۳۷ کوئی کاروباری سودا نہیں کہ ہم معاف کریں تاکہ ہمیں معافی ملے، بلکہ رحم ہی وہ ہوا ہے جس میں معافی سانس لیتی ہے۔ دوسری طرف زبور ۱ کے دو راستے، اچھا درخت اور اُڑتا بھوسا، آیت ۴۳ سے ۴۹ کے پیچھے سنائی دیتے ہیں: پھل اور بنیاد، دونوں ایک ہی سچائی کے دو نقشے ہیں کہ باطن ظاہر ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک فرق قابلِ غور ہے: زبور میں سیلاب فیصلے کی علامت ہے، یہاں سیلاب دونوں مکانوں پر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ طوفان آئے گا یا نہیں۔
سوال
”تم کیوں مجھے ’خداوند، خداوند‘ کہہ کر پکارتے ہو؟ میری بات پر تو تم عمل نہیں کرتے۔“ یہ سوال ہمیں کہاں چھوڑتا ہے، ہم جن کی زندگی میں سچ مچ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا پیش کرنے کی مثال شاذ ہی ملتی ہے؟ آسان جواب یہ ہے کہ ہم فضل سے بچائے گئے ہیں، عمل سے نہیں، اور یہ سچ ہے۔ مگر عیسیٰ نے یہاں یہ نہیں کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ بنیاد گہری کھودی جاتی ہے، اور کھدائی وقت لیتی ہے، اور اُس کا کام نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے یہی جواب ہو: نہ خود کو بری کرنا، نہ خود کو مجرم ٹھہرا کر ہاتھ جھاڑ لینا، بلکہ ایک اور دن چٹان کی طرف کھودتے رہنا، یہ جانتے ہوئے کہ سیلاب کا وقت ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
غور و فکر
آیت ۱۰ میں عیسیٰ بولنے سے پہلے خاموش ہو کر لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر وہ نگاہ آج آپ پر ٹھہرے، تو آپ کے دل کا کون سا حصہ چاہے گا کہ وہ آگے بڑھ جائے؟
آپ کے رشتوں میں کون سی ”رسید“ ابھی تک محفوظ ہے، اور اُسے پھاڑنے سے آپ کو کس چیز کا ڈر ہے؟
Luke 6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 6 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 6 کس بارے میں ہے؟
لوقا 6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 6 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو جانتا ہے کہ اچھا درخت بُرا پھل نہیں لاتا۔ تُو مجھ سے دکھاوے کا پھل نہیں مانگتا بلکہ میرے دل کی جڑ کو اپنی محبت سے سینچتا ہے۔ شکر کہ تُو ہی مجھے اندر سے بدل کر ایسا بناتا ہے کہ میری زندگی سے میٹھا پھل نکلے۔
یسوع نے بھیڑ کو نہیں بلکہ اپنے شاگردوں کو دیکھ کر کہا، ”مبارک ہو تم جو غریب ہو، کیونکہ اللہ کی بادشاہی تم کو حاصل ہے۔“ اُس نے ”وہ لوگ“ نہیں کہا، ”تم“ کہا۔ اور یہ نہیں کہا کہ ایک دن ملے گی، بلکہ ابھی حاصل ہے۔ تیرے خالی ہاتھ ہی وہ جگہ ہیں جہاں بادشاہی اُترتی ہے۔ کیا تُو اُنہیں کھولنے کو تیار ہے؟
یسوع کہتے ہیں، "افسوس تم پر جو اب سیر ہو، کیونکہ بھوکے ہو گے۔ افسوس تم پر جو اب ہنستے ہو، کیونکہ ماتم کرو گے اور روؤ گے۔"
یہ لفظ سخت لگتے ہیں، لیکن غور کرو، یسوع اُن لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو دنیا کی چیزوں سے اِس قدر بھر چکے ہیں کہ خدا کی بھوک ہی ختم ہو گئی۔ جب پیٹ بھرا ہو، دل اکثر خالی ہوتا ہے۔
آج اپنے آپ سے پوچھو، کیا میری ہنسی سچی خوشی ہے یا صرف ایک پردہ ہے جو اندر کے خالی پن کو چھپا رہا ہے؟ یسوع تمہیں تڑپانے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے یہ کہہ رہے ہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
