بائبل کی شخصیت

روح القدس کون ہے اور اس کا کام کیا ہے؟

تعارف

ایک چھوٹی سی جماعت میں دو لوگ ایک ہی صف میں بیٹھے ہیں۔ ایک بہن گیت کے دوران ہاتھ اٹھاتی ہے، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، اور دل میں کہتی ہے: "یہی روح القدس ہے۔" اُس کے ساتھ بیٹھا ایک نوجوان خاموش ہے، اُس کے اندر کچھ محسوس نہیں ہو رہا، اور وہ سوچتا ہے: "شاید روح القدس مجھے چھوڑ کر آگے نکل گیا۔" اِسی ایک صف میں روح القدس کے بارے میں ہماری سب سے بڑی غلط فہمی چھپی ہوئی ہے، یعنی یہ خیال کہ روح القدس کی موجودگی کا پیمانہ میرے جذبات کی شدت ہے۔

اِس صفحے پر ہم بائبل کے ساتھ ساتھ چلیں گے، پیدایش کے پہلے صفحے سے لے کر مکاشفہ کی آخری دعوت تک، تاکہ آپ جان لیں کہ روح القدس کون ہے، وہ کیا کرتا ہے، اور آپ کیسے پہچان سکتے ہیں کہ وہ آپ کی زندگی میں کام کر رہا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

یہ صفحہ روح القدس کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جو کبھی اپنی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ خداوند یسوع مسیح نے خود فرمایا کہ روح "اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا"۔ روح القدس اُس روشنی کی مانند ہے جو خود اندھیرے میں کھڑی رہ کر سٹیج پر مسیح کے چہرے کو روشن کرتی ہے۔ اِس لیے ہم روح القدس کی پہچان تماشے، شور یا جوش سے نہیں کریں گے، بلکہ اِس سے کہ کہاں مسیح بڑا دکھائی دیتا ہے اور کہاں انسان بدل جاتا ہے۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ یہی ہمیں دو گڑھوں سے بچاتا ہے: روح القدس سے خوف اور روح القدس کا تماشا۔

بائبل روح القدس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

سب سے پہلی بات جو بائبل واضح کرتی ہے یہ ہے کہ روح القدس کوئی طاقت، لہر یا اثر نہیں بلکہ ایک شخص ہے۔ خداوند یسوع مسیح اُس کے لیے کبھی "یہ" نہیں کہتے بلکہ "وہ"۔ روح سنتا ہے، سکھاتا ہے، یاد دلاتا ہے، ہدایت دیتا ہے، شفاعت کرتا ہے، مخصوص کرتا ہے، اور رنجیدہ بھی ہو سکتا ہے۔ افسیوں 4:30 میں پولس رسول لکھتے ہیں: "اور خدا کے پاک روح کو رنجیدہ نہ کرو جس سے تم پر مخلصی کے دن کے لئے مہر ہوئی۔" بجلی رنجیدہ نہیں ہوتی؛ صرف ایک شخص رنجیدہ ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ روح القدس خود خدا ہے۔ اعمال 5 میں حننیاہ کے بارے میں پطرس رسول کہتے ہیں کہ اُس نے روح القدس سے جھوٹ بولا، اور اگلے ہی جملے میں یہ کہ "تو خدا سے جھوٹ بولا"۔ ایک ہی سانس میں دونوں باتیں کہنا صرف اُس صورت میں ممکن ہے جب روح القدس خدا ہو۔ پیدایش 1:2 میں ہم اُسے تخلیق کے پہلے لمحے میں دیکھتے ہیں: "اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔" جو ہستی تخلیق سے پہلے موجود تھی وہ مخلوق نہیں ہو سکتی۔

تیسری بات، اور یہی ہمارے زاویے کا دل ہے، یہ ہے کہ روح القدس کا کام مسیح کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ یوحنا 16:13 میں خداوند فرماتے ہیں: "لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا کیونکہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔" غور کریں: روح القدس اپنی مرضی سے نیا مذہب نہیں گھڑتا، وہ باپ اور بیٹے کے ساتھ کامل ہم آہنگی میں بولتا ہے۔ اِسی لیے یوحنا 14:26 میں اُس کے کام کی تعریف اِس طرح ہوتی ہے: "لیکن مددگار یعنی روح القدس جس کو باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔" روح القدس ایک معلم ہے جو ہمیشہ ایک ہی نصاب پڑھاتا ہے، یعنی خداوند یسوع مسیح کا کلام۔

چوتھی بات یہ کہ روح القدس نئی زندگی دینے والا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے نیکدیمس سے فرمایا کہ جو پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ایمان بھی روح القدس کا تحفہ ہے، کیونکہ 1 کرنتھیوں 12:3 کے مطابق کوئی روح القدس کے بغیر یسوع کو خداوند نہیں کہہ سکتا۔ یعنی جس دن آپ نے پہلی بار دل سے کہا "یسوع میرا خداوند ہے"، اُس دن آپ روح القدس کا کام دیکھ چکے تھے، چاہے آپ کے جسم میں کوئی جھرجھری نہ آئی ہو۔

پانچویں بات، وہ قوت بخشنے والا ہے۔ اعمال 1:8 میں خداوند اپنے شاگردوں سے آخری وعدہ کرتے ہیں: "لیکن جب روح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم قوت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہوگے۔" یہاں قوت کا مقصد بیان کر دیا گیا ہے: نہ ذاتی شان، نہ روحانی مرتبہ، بلکہ گواہی۔ روح القدس اِس لیے آتا ہے کہ ڈرے ہوئے لوگ مسیح کا نام لینے لگیں۔

اور چھٹی بات، روح القدس نعمتیں تقسیم کرتا ہے مگر پھل خود پیدا کرتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 12:4 کہتا ہے: "نعمتیں طرح طرح کی ہیں مگر روح ایک ہی ہے۔" یہ جملہ گرجہ گھر کے آدھے جھگڑے ختم کر دیتا ہے۔ تنوع روح القدس کے خلاف نہیں، اُسی کا انتظام ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

روح القدس نئے عہد نامے کی ایجاد نہیں۔ وہ پہلے صفحے سے موجود ہے۔ پیدایش میں وہ بےترتیب گہراؤ پر جنبش کرتا ہے اور خدا کے کلام کے ذریعے کائنات میں ترتیب اور زندگی آتی ہے۔ یہی نمونہ آگے چلتا ہے: جہاں ویرانی ہے وہاں روح آتا ہے اور زندگی پیدا ہوتی ہے۔

پرانے عہد نامے میں روح القدس چند لوگوں پر، چند کاموں کے لیے، اور اکثر عارضی طور پر نازل ہوتا ہے۔ بضلی ایل پر تاکہ وہ خیمۂ اجتماع کے لیے ہنر مندی سے کام کرے۔ موسیٰ کے ستّر بزرگوں پر تاکہ وہ قوم کا بوجھ اٹھا سکیں۔ جدعون، سمسون اور دیگر قاضیوں پر تاکہ وہ اسرائیل کو چھڑائیں۔ سموئیل نبی داؤد کو مسح کرتے ہیں اور خداوند کی روح اُس دن سے داؤد پر قوت سے نازل ہوتی ہے، مگر اُسی باب میں یہ بھی لکھا ہے کہ خداوند کی روح ساؤل سے جدا ہو گئی۔ اِسی خوف نے داؤد کو زبور 51 میں یہ دعا کرنے پر مجبور کیا کہ اپنی پاک روح مجھ سے جدا نہ کر۔ یہ پرانے عہد کی محدودیت ہے، اور یہی ہماری موجودہ نعمت کو اِتنا شاندار بناتی ہے۔

پھر انبیا ایک نئے دور کا وعدہ سناتے ہیں۔ حزقی ایل 36 میں خدا فرماتے ہیں کہ وہ سنگین دل نکال کر گوشت کا دل عنایت کریں گے اور اپنی روح ہمارے باطن میں ڈالیں گے۔ یوایل نبی اعلان کرتے ہیں کہ خدا ہر فرد بشر پر اپنی روح ڈالیں گے، بیٹوں پر اور بیٹیوں پر، بوڑھوں پر اور جوانوں پر، غلاموں پر بھی۔ یرمیاہ نئے عہد کی بات کرتا ہے جس میں شرع کاغذ پر نہیں بلکہ دل پر لکھی جائے گی۔ سب انبیا ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہیں: ایک دن روح صرف "اُوپر" نہیں بلکہ "اندر" ہوگا، اور صرف چند لوگوں پر نہیں بلکہ خدا کی ساری قوم پر۔

پھر انجیل شریف میں یہ سلسلہ ایک شخص میں سمٹ آتا ہے۔ روح القدس کی قدرت سے کنواری مریم کے بطن میں خداوند یسوع مسیح کی پیدائش ہوتی ہے۔ بپتسمے کے وقت روح کبوتر کی مانند اُن پر اترتا ہے۔ روح ہی اُنہیں بیابان میں لے جاتا ہے، اور وہ "روح کی قوت سے" گلیل کو واپس آتے ہیں۔ ناصرت کے عبادت خانے میں وہ یسعیاہ کا وہی مقام پڑھتے ہیں جو روح سے مسح ہونے کے بارے میں ہے۔ یعنی سب سے پہلے روح القدس نے مسیح کی خدمت کو بھرا، اور اُس کے بعد ہی وہ کلیسیا کو بھرنے آیا۔

روح القدس ہمیشہ مسیح کے چہرے پر روشنی ڈالتا ہے۔

اور یہی نکتہ ہمارے زاویے کی تصدیق کرتا ہے: روح القدس نے کبھی اپنی خدمت شروع نہیں کی، وہ ہمیشہ مسیح کی خدمت کو آگے بڑھاتا رہا۔ یوحنا 16 میں خداوند نے کھل کر فرمایا کہ روح "مجھے جلال دے گا"۔ اِسی لیے پنتیکست کے دن جب روح آیا تو پطرس رسول نے روح کے بارے میں تقریر نہیں کی، بلکہ مصلوب اور جی اٹھے ہوئے یسوع کے بارے میں۔ اور یہ سلسلہ مکاشفہ تک جاتا ہے، جہاں روح اور دلہن مل کر ایک ہی دعوت دیتے ہیں: "آ"۔

اُن کی زندگی کا مرکز: تین فیصلہ کن لمحے

روح القدس ازلی ہے، اِس لیے اُس کی کوئی پیدائش یا سوانحِ عمری نہیں۔ مگر بائبل میں اُس کے کام کے تین ایسے لمحے ہیں جن کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔

پہلا لمحہ یردن کے کنارے ہے۔ خداوند یسوع مسیح بپتسمہ لیتے ہیں، آسمان کھلتا ہے، روح کبوتر کی صورت میں اُن پر اترتا ہے اور باپ کی آواز آتی ہے۔ یہاں پہلی بار پوری وضاحت کے ساتھ باپ، بیٹا اور روح ایک ہی منظر میں دکھائی دیتے ہیں۔ مگر دھیان دیجیے کہ روح خود پر توجہ نہیں کھینچتا؛ وہ آ کر بیٹے کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر ہمارے مسیح نے بھی اپنی خدمت روح کی قوت میں شروع کی، تو ہمارا یہ خیال کہ ہم اپنی قابلیت، تعلیم یا تجربے سے خدا کا کام کر سکتے ہیں، ایک عجیب سی بےوقوفی ہے۔

دوسرا لمحہ ایک بند کمرے کی شام ہے۔ صلیب اور جی اٹھنے کے بعد خداوند شاگردوں کے درمیان آ کر اُن پر پھونکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ روح القدس لو۔ یہ وہی سانس ہے جو پیدایش میں مٹی کے پتلے میں پھونکی گئی تھی۔ نئی مخلوق اُسی طریقے سے شروع ہوتی ہے جس طرح پہلی مخلوق شروع ہوئی تھی، یعنی خدا کی روح کے ذریعے۔ صلیب کے بغیر روح کا اندر آنا ممکن نہ تھا؛ یوحنا صاف لکھتا ہے کہ روح ابھی نہیں دیا گیا تھا کیونکہ یسوع نے جلال نہ پایا تھا۔ روح القدس مسیح کے کفارے کا پھل ہے، ہمارے روحانی جوش کا انعام نہیں۔

تیسرا اور سب سے مشہور لمحہ پنتیکست ہے۔ اعمال 2:4 بتاتا ہے: "اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے ان کو بولنے کی طاقت بخشی۔" یہاں یوایل کی نبوت پوری ہوتی ہے۔ اور غور کریں کہ نشان کیا تھا: زبانیں، یعنی وہ زبانیں جن میں مختلف قوموں کے لوگ خدا کے بڑے کاموں کا بیان سن سکے۔ بابل میں زبانیں بکھراؤ کا ذریعہ بنی تھیں؛ پنتیکست میں وہ جمع کرنے کا ذریعہ بنیں۔ روح القدس کی پہلی حرکت ہی کلیسیا کو باہر کی طرف، دنیا کی طرف دھکیلنا تھی، عین اعمال 1:8 کے مطابق۔

اِن تینوں لمحوں میں ایک ہی سمت ہے: روح آتا ہے تاکہ مسیح جانا جائے۔ اور اِسی کسوٹی پر ہمیں اپنے تجربات جانچنے چاہییں۔ جہاں روح ہو وہاں یسوع کا نام بلند ہوتا ہے، گنہگار توبہ کرتے ہیں، اور خدا کے لوگ ایک بدن بنتے ہیں۔ جہاں تماشا ہو مگر مسیح پیچھے رہ جائے، وہاں کچھ اور ہو رہا ہے۔

روح القدس سے ہم کیا سیکھتے ہیں

پہلا سبق: خدا کا سب سے بڑا کام سب سے خاموش ہوتا ہے۔ رومیوں 8:26 ہمیں ایک نہایت ذاتی منظر دکھاتا ہے: "اسی طرح روح بھی ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے کیونکہ جس طور سے ہمیں دعا کرنا چاہئے ہم نہیں جانتے مگر روح خود ایسی آہیں بھر کر جو بیان سے باہر ہیں ہماری شفاعت کرتا ہے۔" یہاں روح القدس ہماری کمزوری کو ڈانٹتا نہیں، اُس میں ہاتھ ڈالتا ہے۔ اُس آدھی رات کی الجھی ہوئی دعا کو، جس میں الفاظ ٹوٹ جاتے ہیں، روح خود ترجمہ کر کے باپ کے تخت تک پہنچاتا ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی دعا "کمزور" ہے، اُسے یہ آیت زبانی یاد کر لینی چاہیے۔

دوسرا سبق: روح القدس کردار بناتا ہے، صرف صلاحیت نہیں۔ گلتیوں 5:22 لکھتا ہے: "مگر روح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔" پولس رسول "پھل" واحد میں لکھتے ہیں، جیسے یہ ایک ہی گچھا ہو۔ آپ محبت کا انتخاب کر کے تحمل کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اور پھل کی خاص بات یہ ہے کہ وہ آواز کے ساتھ نہیں آتا؛ وہ آہستہ آہستہ پکتا ہے۔ اِس لیے روح سے بھرے ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت وہ ہے جو آپ کا گھر والا دیکھتا ہے: کیا آپ کا غصہ کم ہوا؟ کیا آپ کی زبان نرم ہوئی؟

روح کا پھل باغ میں پکتا ہے، سٹیج پر نہیں۔

تیسرا سبق: روح القدس ہمیں الگ نہیں کرتا، جوڑتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 12:4 کا سیاق و سباق ایک تقسیم شدہ کلیسیا ہے جہاں لوگ نعمتوں کے درجے بنا رہے تھے۔ پولس رسول کا جواب یہ ہے کہ نعمتیں مختلف ہیں مگر روح ایک ہی ہے، اور ہر نعمت "دوسروں کے فائدے" کے لیے دی گئی ہے۔ اگر آپ کی روحانی زندگی آپ کو دوسرے ایمانداروں سے حقارت کی طرف لے جا رہی ہے تو مسئلہ نعمت میں نہیں، رُخ میں ہے۔ یہاں ایمانداروں کی ایک حقیقی کمزوری کو بھی ماننا چاہیے: کرنتھس کی کلیسیا میں روح القدس کی نعمتوں کی کمی نہ تھی، مگر محبت کی کمی تھی۔ نعمتیں روحانی پختگی کا سرٹیفکیٹ نہیں۔

اور ایک اور نکتہ جو ہمیں عاجز کرتا ہے: خداوند یسوع مسیح نے روح القدس کو "مددگار" کہا۔ مددگار وہاں آتا ہے جہاں کوئی خود سے بےبس ہو۔ روح القدس کی موجودگی کو قبول کرنے کا مطلب یہ ماننا ہے کہ میں اپنے آپ کو پاک نہیں بنا سکتا۔

آئینہ

آئیے سیدھی بات کریں۔ آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ روح القدس آپ کے دفتر کی اُس میٹنگ میں بھی موجود تھا جہاں آپ نے چپ رہ کر جھوٹ کو گزر جانے دیا؟ ہم روح القدس کو اتوار کی ایک چیز بنا لیتے ہیں، حالانکہ وہ آپ کے اندر رہتا ہے، آپ کے ساتھ گھر جاتا ہے، آپ کے موبائل کی سکرین کے سامنے بیٹھا ہے، آپ کے بجٹ کی فائل کے ساتھ ہے۔ افسیوں 4:30 کہتا ہے کہ اُسے رنجیدہ نہ کرو۔ یہ لفظ کسی قانون کی خلاف ورزی کا نہیں، ایک رشتے کے زخم کا لفظ ہے۔ اُس ایک تلخ جملے سے، اُس چھوٹی سی بےایمانی سے، اُس نفرت سے جسے آپ "اصول کی بات" کہ کر جائز ثابت کرتے ہیں، ایک شخص رنجیدہ ہوتا ہے جو آپ سے محبت کرتا ہے۔

اور دوسری طرف: کیا آپ اِس لیے ہار مانے بیٹھے ہیں کہ آپ کو "کچھ محسوس نہیں ہوتا"؟ آپ نے مہینوں سے دعا میں دل نہیں لگایا، کیونکہ آپ کے خیال میں روح القدس نے آپ کو چھوڑ دیا۔ مگر رومیوں 8:26 آپ کے احساس پر نہیں، ایک وعدے پر بنیاد رکھتا ہے۔ آپ کی خالی دعا بھی، جس میں صرف ایک آہ ہے، روح کے ہاتھ میں شفاعت بن جاتی ہے۔ آپ کے بیمار جسم کی خاموش تکلیف بھی روح کی موجودگی سے خارج نہیں۔

تنہائی میں بھی یہ بات معنی رکھتی ہے۔ اگر آپ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے ہیں، رشتہ داروں سے دور، شاید اپنے ایمان کی وجہ سے اپنے خاندان میں اجنبی، تو یاد رکھیں کہ خداوند نے اپنے شاگردوں کو یتیم نہیں چھوڑا۔ جس گھر میں آپ کا کوئی ساتھی نہیں، وہاں مددگار موجود ہے۔ اور اگر آپ اپنے وقت، پیسے اور جسم پر مکمل قابو رکھنا چاہتے ہیں، تو یہی وہ مقام ہے جہاں روح القدس آپ کو کھٹکتا ہے، کیونکہ وہ مالک بننا چاہتا ہے، مہمان نہیں۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو روح القدس سمجھانا مشکل لگتا ہے، کیونکہ ہم خود اکثر مبہم الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ سب سے مفید بات یہ ہے کہ بچوں کو شروع ہی سے یہ بتایا جائے کہ روح القدس "کوئی چیز" نہیں بلکہ "کوئی" ہے، یعنی خدا خود، جو ہمارے ساتھ اور ہمارے اندر ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ خداوند یسوع آسمان پر واپس گئے، مگر انہوں نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا: انہوں نے اپنا روح بھیجا، جو ہمیں یسوع کی باتیں یاد دلاتا ہے، ہمیں اچھے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، اور ہمیں تسلی دیتا ہے جب ہم ڈرتے ہیں۔ یوحنا 14:26 میں "مددگار" کا لفظ بچوں کے لیے سب سے بہترین دروازہ ہے، کیونکہ ہر بچہ جانتا ہے کہ مدد کرنے والا کیا ہوتا ہے۔

بڑے بچوں کے ساتھ آپ گلتیوں 5:22 کا پھل والا مضمون استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک باغ کی مثال، جہاں پھل راتوں رات نہیں آتا، اُنہیں یہ سکھاتی ہے کہ روح القدس ہمارے دل میں آہستہ آہستہ محبت، صبر اور مہربانی پیدا کرتا ہے۔ آگ اور ہوا جیسی تصویریں (پنتیکست کے دن) بھی بچوں کو بہت اپیل کرتی ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بتانا ضروری ہے کہ روح ڈرانے کے لیے نہیں آیا۔

فیتھ نیٹ ورک پر روح القدس کے بارے میں عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ کہانی اور تصویری زبان میں، سکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور مثالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن سوالوں کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، مثلاً "میں کیسے جانوں کہ روح القدس مجھ میں ہے؟"

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

روح القدس کون ہے؟

روح القدس تین اقنوم والے ایک خدا کا تیسرا اقنوم ہے، یعنی وہ خود خدا ہے، نہ کوئی مخلوق اور نہ کوئی بےشخصیت طاقت۔ بائبل اُس کے بارے میں شخصی افعال بیان کرتی ہے: وہ سکھاتا ہے، گواہی دیتا ہے، شفاعت کرتا ہے، مخصوص کرتا ہے اور رنجیدہ ہوتا ہے۔ اعمال 5 میں روح القدس سے جھوٹ بولنے کو خدا سے جھوٹ بولنا کہا گیا ہے۔ وہ باپ اور بیٹے کے ساتھ ازلی طور پر موجود ہے، اور اُس کا خاص کام ایمانداروں میں رہ کر اُنہیں مسیح کے قریب لانا اور مسیح کی مانند بنانا ہے۔

روح القدس کا اصل کام کیا ہے؟

اُس کا مرکزی کام مسیح کو جلال دینا ہے۔ اِس ایک مقصد کے تحت وہ کئی کام کرتا ہے: وہ دنیا کو گناہ کا قائل کرتا ہے، انسان کو نئی پیدائش دیتا ہے، ایمان پیدا کرتا ہے، کلامِ مقدس کو سمجھاتا ہے، ایماندار کو پاکیزگی میں بڑھاتا ہے، اُس میں پھل پیدا کرتا ہے، خدمت کے لیے نعمتیں بخشتا ہے، اور گواہی دینے کی قوت دیتا ہے۔ یوحنا 14:26 کے مطابق وہ سکھاتا اور یاد دلاتا ہے، اور اعمال 1:8 کے مطابق وہ گواہی کے لیے قوت بخشتا ہے۔

میں کیسے جانوں کہ روح القدس میرے اندر ہے؟

سب سے پہلا ثبوت یہ ہے کہ آپ دل سے یسوع کو خداوند مانتے ہیں، کیونکہ 1 کرنتھیوں 12:3 کے مطابق یہ اقرار روح القدس کے بغیر ممکن نہیں۔ دوسرا ثبوت وہ پھل ہے جو گلتیوں 5:22 میں بیان ہوا ہے، یعنی محبت، صبر اور مہربانی میں آہستہ آہستہ بڑھنا۔ تیسرا ثبوت گناہ کے بارے میں نئی حساسیت اور دعا کی خواہش ہے۔ جذبات کا ابھار یا خاص تجربہ ضروری ثبوت نہیں؛ روح القدس اکثر خاموشی سے کام کرتا ہے۔

کیا روح القدس ایک طاقت ہے یا ایک شخص؟

وہ ایک شخص ہے۔ یونانی زبان میں "روح" کے لیے لفظ بےجان صیغے کا ہے، مگر خداوند یسوع مسیح نے جان بوجھ کر اُس کے لیے شخصی ضمیر استعمال کیا۔ ایک طاقت آپ کو محبت نہیں کر سکتی، آپ کے لیے دعا نہیں کر سکتی اور آپ کے گناہ سے رنجیدہ نہیں ہو سکتی؛ روح القدس یہ سب کرتا ہے۔ اِسی لیے یہ کہنا غلط ہے کہ ہم روح القدس کو "استعمال" کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔

پنتیکست کے دن کیا ہوا اور اُس کا کیا مطلب ہے؟

اعمال 2:4 کے مطابق شاگرد روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانوں میں بولنے لگے۔ اُس دن یوایل نبی کا وعدہ پورا ہوا اور روح القدس ایک نئے انداز میں، یعنی خدا کے تمام لوگوں کے اندر رہنے کے لیے، آیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کلیسیا کی پیدائش انسانی منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ خدا کے کام سے ہوئی۔ مختلف زبانوں کا نشان بتاتا ہے کہ خوشخبری ہر قوم کے لیے ہے، اور اِسی لیے پطرس رسول نے فوراً مسیح کی منادی شروع کر دی۔

کیا روح القدس کا بپتسمہ اور نئی پیدائش الگ چیزیں ہیں؟

نئے عہد نامے میں ہر ایماندار کو روح القدس دیا جاتا ہے؛ رومیوں 8 صاف کہتا ہے کہ جس میں مسیح کا روح نہیں وہ مسیح کا نہیں۔ لہٰذا کوئی ایماندار "روح کے بغیر" مسیحی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی اعمال کی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا اپنے لوگوں کو بار بار نئی قوت اور جرأت سے بھرتا ہے۔ اِس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم روح القدس کے مسکن ہونے کو ایک بار کی حقیقت اور روح سے بھرنے کو ایک بار بار کی ضرورت سمجھیں۔

کیا آج بھی غیر زبانوں میں بولنا ممکن ہے؟

مسیحی ایمانداروں میں اِس پر اختلاف رہا ہے، مگر بائبل ہمیں دو اصول ضرور دیتی ہے۔ پہلا، 1 کرنتھیوں 12:4 کے مطابق نعمتیں مختلف ہیں مگر روح ایک ہی ہے، یعنی کوئی ایک نعمت روحانیت کا لازمی سرٹیفکیٹ نہیں۔ دوسرا، پولس رسول نے کرنتھس میں زور دیا کہ ہر چیز ترتیب سے اور کلیسیا کی تعمیر کے لیے ہو۔ جو کچھ مسیح کو بلند کرتا ہے، محبت پیدا کرتا ہے اور جماعت کو جوڑتا ہے، وہ روح کے مطابق ہے۔

روح القدس کے خلاف گناہ کیا ہے اور کیا میں وہ کر سکتا ہوں؟

خداوند یسوع مسیح نے فریسیوں کو یہ تنبیہ اُس وقت دی جب وہ اُن کے واضح، الٰہی کاموں کو جان بوجھ کر شیطان کی کارروائی کہہ رہے تھے۔ یہ ایک سخت، مسلسل اور جانتے بوجھتے کیا گیا انکار ہے، نہ کہ کوئی لمحاتی شک یا جذباتی کمزوری۔ اگر آپ اِس سوال سے پریشان ہیں اور معافی چاہتے ہیں، تو یہی خواہش خود اِس بات کا ثبوت ہے کہ روح آپ کے دل پر کام کر رہا ہے۔ توبہ کرنے والے کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

روح القدس مجھے راہ کیسے دکھاتا ہے؟

یوحنا 16:13 کہتا ہے کہ وہ تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اور وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس کی ہدایت کبھی کلامِ مقدس کے خلاف نہیں ہوگی۔ عام طور پر وہ چار طریقوں سے کام کرتا ہے: کلام کے ذریعے، دعا میں دل کو مائل کرنے کے ذریعے، ایماندار مشیروں اور کلیسیا کے ذریعے، اور حالات کے ذریعے۔ ذاتی احساس کو آخری اختیار نہ بنائیں؛ اُسے ہمیشہ کھلی بائبل کے سامنے جانچیں۔

کیا پرانے عہد نامے میں بھی روح القدس موجود تھا؟

جی ہاں۔ پیدایش 1:2 میں وہ تخلیق کے وقت موجود ہے، وہ بضلی ایل کو ہنر دیتا ہے، قاضیوں کو قوت دیتا ہے، انبیا کے ذریعے بولتا ہے اور داؤد پر نازل ہوتا ہے۔ فرق طریقے کا ہے: پرانے عہد میں وہ اکثر چند خاص لوگوں پر، خاص کام کے لیے اور عارضی طور پر آتا تھا، جیسا کہ ساؤل کے واقعے سے ظاہر ہے۔ حزقی ایل 36 اور یوایل 2 میں وعدہ ہوا کہ ایک دن وہ خدا کے سب لوگوں کے اندر بسے گا، اور پنتیکست میں یہ وعدہ پورا ہوا۔

دعا میں الفاظ نہ ملیں تو کیا کروں؟

رومیوں 8:26 آپ کے لیے لکھا گیا ہے۔ وہاں صاف لکھا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ جس طرح دعا کرنا چاہیے، اور روح خود ایسی آہیں بھر کر ہماری شفاعت کرتا ہے جو بیان سے باہر ہیں۔ اِس لیے خاموش بیٹھنا، آنسو بہانا یا صرف "خداوند، مدد کر" کہنا ناکام دعا نہیں۔ ایسے وقت میں زبور پڑھنا، "اے باپ ہمارے" کے الفاظ دہرانا، یا اپنی حالت سادہ لفظوں میں بیان کرنا مفید ہوتا ہے۔ آپ کی دعا کی طاقت آپ کے الفاظ میں نہیں، شفاعت کرنے والے روح میں ہے۔

کیا روح القدس مجھ سے جدا ہو سکتا ہے؟

نئے عہد میں ایمانداروں کو یہ اطمینان دیا گیا ہے کہ روح القدس ہمارے اندر رہنے کے لیے آیا ہے اور وہ مخلصی کے دن کے لیے ہم پر مہر ہے، جیسا افسیوں 4:30 میں لکھا ہے۔ داؤد کی وہ دعا کہ اپنی پاک روح مجھ سے جدا نہ کر پرانے عہد کے دور کی ہے۔ البتہ ہم روح کو رنجیدہ اور اُس کے کام کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں، اور اُس کا نتیجہ کھوئی ہوئی نجات نہیں بلکہ کھویا ہوا سکون، رہنمائی اور قوت ہے۔ توبہ اُس رفاقت کو پھر بحال کرتی ہے۔

اختتام میں

روح القدس کے بارے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ خود پر بات نہیں کرتا۔ جو خدا خود ہے، جو تخلیق کے وقت گہراؤ پر جنبش کر رہا تھا، جس نے انبیا کے منہ میں کلام رکھا، جس نے مریم کے بطن میں معجزہ کیا اور پنتیکست کے دن یروشلیم کو ہلا دیا، وہ اپنی ساری قدرت اِس ایک مقصد پر لگاتا ہے کہ آپ خداوند یسوع مسیح کو دیکھیں، اُس پر بھروسا کریں، اور اُس کی مانند بنیں۔ اِس لیے اگر آپ اپنی روحانی زندگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، تو یہ نہ پوچھیں کہ آپ نے کتنا جوش محسوس کیا، بلکہ یہ پوچھیں کہ مسیح آپ کی زندگی میں کتنا بڑا دکھائی دیتا ہے۔

جہاں مسیح بڑا ہو، وہاں روح کام کر رہا ہے۔

اگلے قدم کے لیے یوحنا 14 سے 16 کے باب آرام سے، ایک ہی بیٹھک میں پڑھیں، اور نشان لگائیں کہ خداوند روح القدس کے بارے میں کیا کیا وعدے کرتے ہیں۔ پھر اعمال 2 پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ وعدے کیسے پورے ہوئے۔ اور آخر میں رومیوں 8 اور گلتیوں 5 کو اپنی روزمرہ زندگی کے آئینے کے طور پر رکھیں۔ ایک سادہ دعا سے شروع کریں: مددگار، آ، مجھے مسیح دکھا۔ وہ ایسی دعا کبھی نظرانداز نہیں کرتا۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.036 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.673
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 226 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو یوحنا 12:39

اِس لئے وہ ایمان نہ لا سکے“ ۔ پہلے لکھا تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے، اب لکھا ہے کہ…

دعا ادارتی کو میکاہ 5:14

اے خدا، میرے دل میں جو کچھ تیری جگہ لینے لگا ہے، اُسے جڑ سے اکھاڑ دے۔ مجھے ڈر لگتا…

شکرگزاری ادارتی کو ایوب 14:4

خداوند، تُو نے ایوب کے ذریعے سچ کہلوایا کہ کوئی ناپاک میں سے پاک چیز نہیں نکال سکتا۔ شکر ہے…

بصیرت ادارتی کو میکاہ 6:13

اِس لئے مَیں نے تجھے مارنا شروع کر دیا ہے، مَیں تیرے گناہوں کے باعث تجھے تباہ کر رہا ہوں۔“…

بصیرت ادارتی کو ۱-کُرِنتِھیوں 1:19

مَیں داناؤں کی دانائی کو تباہ کروں گا، مَیں سمجھ داروں کی سمجھ کو رد کروں گا۔" یہ خدا کی…

دعا ادارتی کو طِطُس 1:10

اے خدا، چاروں طرف اتنی باتیں ہیں کہ سچ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ مجھے وہ دل دے جو خالی…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟