متی 13
متن
وہ گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے بیٹھ جاتے ہیں، اور بھیڑ اِتنی بڑھ جاتی ہے کہ اُنہیں پانی پر کشتی میں بیٹھنا پڑتا ہے، گویا کلام سنانے کے لیے اُنہیں ذرا فاصلے پر ہٹنا ضروری تھا۔ وہیں سے وہ تمثیلیں سناتے ہیں: بیج بونے والا کسان، گندم کے بیچ بویا ہوا خود رَو بیج، رائی کا ننھا دانہ، آٹے میں چھپا خمیر، کھیت میں دفن خزانہ، نہایت قیمتی موتی اور جھیل میں ڈالا گیا جال۔ شاگردوں کو تنہائی میں مطلب سمجھایا جاتا ہے، اور باب کے اختتام پر ناصرت کے لوگ اُسی آواز کو سن کر صرف ”بڑھئی کا بیٹا“ پہچانتے ہیں اور ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔
مرکزی بات
اِس باب کا سب سے چبھنے والا جملہ آیت 15 میں ہے: ”ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں… میری طرف رجوع کریں اور مَیں اُنہیں شفا دوں۔“ یہاں بادشاہی کسی فوجی فتح کی طرح نہیں آتی، بلکہ بیج کی طرح، خمیر کی طرح، زمین میں دبے خزانے کی طرح: چھپی ہوئی، خاموش، آسانی سے نظرانداز کی جانے والی۔ خدا خود کو ایسے ظاہر کرتے ہیں کہ اُنہیں نظرانداز کرنا ممکن رہے۔ یہی رحم ہے اور یہی عدالت بھی۔ جو سننا چاہتا ہے، اُسے اَور دیا جاتا ہے؛ جو سننا نہیں چاہتا، اُس کے کان کے پردے پر تمثیل ایک کہانی بن کر رہ جاتی ہے۔ کلام سب تک پہنچتا ہے، مگر سب میں جڑ نہیں پکڑتا۔
سلسلۂ کلام
بونے والا خود یسوع ہیں: ”اچھا بیج بونے والا ابنِ آدم ہے۔“ یہ وہی ابنِ آدم ہے جو دانیایل کی رویا میں بادشاہی پاتا ہے، مگر یہاں وہ تخت پر نہیں، کشتی میں بیٹھا ہے اور بیج بکھیر رہا ہے۔ پرانے عہدنامے میں خدا اپنی قوم کو بار بار کھیت اور انگور کا باغ کہتے ہیں؛ اب وہی مالک خود کھیت میں اُترا ہے۔ اور بیج کا راستہ وہی ہے جو بعد میں خود مسیح کا راستہ ہوگا: زمین میں گرنا، چھپ جانا، مرنا، پھر تیس، ساٹھ، سَو گُنا پھل۔ رائی کا دانہ اور صلیب ایک ہی منطق پر چلتے ہیں: چھوٹا، حقیر، اور پھر اِتنا بڑا کہ پرندے اُس کی شاخوں میں گھونسلے بنا لیں۔
آئینہ
چاروں زمینیں کسی اور کی نہیں، آپ کی اپنی زندگی کے چار موسم ہو سکتے ہیں۔ وہ سختی جو خبریں پڑھتے پڑھتے دل پر جم گئی؛ وہ جوش جو کسی کیمپ میں بھڑکا اور دفتر کے پہلے طعنے پر بجھ گیا؛ اور سب سے خاموش قاتل: ”روزمرہ کی پریشانیاں اور دولت کا فریب“، یعنی قسطیں، بچوں کے داخلے، ترقی کی دوڑ، وہ سب جو بُرا نہیں مگر کلام کو سانس نہیں لینے دیتا۔ کانٹے بیج کو اکھاڑتے نہیں، بس گھیر لیتے ہیں۔ آج ہی دس منٹ نکال کر اُن تین فکروں کے نام کاغذ پر لکھیں جو اِس ہفتے آپ کے ذہن پر سب سے زیادہ سوار رہیں، اور ہر نام کے سامنے بلند آواز سے کہیں: ”یہ میرا خزانہ نہیں ہے۔“
سوال
نوکر پوچھتے ہیں، ”کیا ہم جا کر اُنہیں اُکھاڑیں؟“ اور مالک منع کر دیتا ہے۔ یہ جواب تسلی دیتا ہے اور تکلیف بھی۔ تسلی اِس لیے کہ کلیسیا کو پاک کرنے کا ٹھیکہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ تکلیف اِس لیے کہ خدا بدی کو اُکھاڑنے میں دیر کرتے ہیں، اور اُس دیر میں اصل لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ کیا صبر اور بے پروائی میں فرق ہمیں ہمیشہ دکھائی دے گا؟ نہیں۔ متن اِس خلا کو بھرتا نہیں؛ وہ صرف ایک وقت مقرر کرتا ہے، ”فصل کی کٹائی“، اور بھڑکتی بھٹی کا وہ ذکر جسے ہم جلدی سے پڑھ جانا چاہتے ہیں۔ یسوع نرمی سے بات کرتے ہیں، مگر انجام کو ہلکا نہیں کرتے۔ یہ خاموشی ہمیں سونپی گئی ہے، سمجھائی نہیں گئی۔
کلام کی گواہی
یسعیاہ 6 کا وہی حوالہ جو یہاں دہرایا گیا ہے، اصل میں نبی کے بلاوے کا حصہ تھا: خدا اُسے ایسی قوم کے پاس بھیجتے ہیں جو سنے گی مگر سمجھے گی نہیں۔ یسوع اپنی خدمت کو اُسی سلسلے میں رکھتے ہیں، یعنی انکار کوئی حادثہ نہیں بلکہ نبوّت کا جانا پہچانا راستہ ہے۔ دوسری طرف یسعیاہ 55 میں وہی خدا فرماتے ہیں کہ اُن کا کلام بارش کی طرح خالی نہیں لوٹتا۔ دونوں آیتیں ساتھ رکھیں تو تصویر پوری ہوتی ہے: بہت سا بیج ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے، پھر بھی فصل سَو گُنا ہے۔ اِسی لیے بونے والا بے دریغ بوتا ہے، راستے پر، پتھروں پر، کانٹوں میں بھی۔
پس منظر
گلیل کی جھیل کے کنارے پتھریلی ڈھلانیں، کھیتوں کے بیچ سے گزرتے پگڈنڈی نما راستے اور ہر سال واپس اُگنے والے کانٹےدار پودے، یہ سب سننے والوں کی روزمرہ کی دنیا تھی۔ کسان پہلے بیج بکھیرتا، پھر ہل چلاتا، اِس لیے راستے پر دانوں کا گرنا کوئی لاپروائی نہیں تھی۔ دشمن کا کھیت میں خود رَو بیج بونا اُس زمانے کا جانا پہچانا انتقام تھا۔ اور 27 کلو آٹا کسی ایک گھر کا نہیں، پورے گاؤں کی دعوت کا آٹا ہے۔ یہ باب متی کی اُس کہانی کے بیچ میں آتا ہے جہاں مذہبی رہنما مخالفت پر تل چکے ہیں؛ اِسی لیے یہ تمثیلیں جیت کا نعرہ نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے لیے حوصلہ ہیں جو پوچھ رہے تھے کہ اگر یہ واقعی بادشاہی ہے تو اِتنی چھوٹی کیوں لگتی ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”اچھی“ مصروفیت ہے جو کانٹے کی طرح کلام کے گرد بڑھ رہی ہے، اور آپ اُسے کانٹا ماننے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟
ناصرت کے لوگ یسوع کو بہت اچھی طرح ”جانتے“ تھے، اِسی لیے پہچان نہ سکے۔ آپ کی کون سی واقفیت آپ کو سننے سے روک رہی ہے؟
Matthew 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 13 کا کیا مطلب ہے؟
متی 13 کس بارے میں ہے؟
متی 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 13 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر کہ تیرا بیٹا ایسے عام گھر میں پلا بڑھا جہاں لوگ پوچھتے تھے، ”کیا اُس کی تمام بہنیں ہمارے ساتھ نہیں رہتیں؟“ تیرا شکر کہ تیری حکمت اور قدرت بڑے ناموں سے نہیں بلکہ تجھ سے آتی ہے، اور تُو ہمارے سادہ گھروں میں بھی کام کرتا ہے۔
خداوند، تیرا شکر کہ عیسیٰ کو اُس کے اپنے وطن اور خاندان میں ٹھکرایا گیا، اِس لیے وہ خوب جانتا ہے جب اپنے ہی ہماری قدر نہ کریں۔ شکر کہ لوگوں کے انکار نے اُس کا کام نہ روکا، اور تُو آج بھی اپنوں کے طعنوں کے بیچ ہمیں تھامے رکھتا ہے۔
آسمان کی بادشاہی خمیر کی مانند ہے جو کسی عورت نے لے کر تین پیمانے آٹے میں ملا دیا۔“ ذرا سا خمیر، اور کوئی شور نہیں۔ عورت اُسے آٹے میں چھپا دیتی ہے اور انتظار کرتی ہے۔ شاید تیری زندگی میں بھی خدا اِسی خاموشی سے کام کر رہا ہے، وہاں جہاں کسی کو نظر نہیں آتا۔ تُو بےصبر ہے کہ کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا، لیکن آٹا اندر ہی اندر بدل رہا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
