نحمیاہ 5
متن
دیوار تو بن رہی تھی، مگر دیوار کے اندر کے لوگ ٹوٹ رہے تھے۔ قحط، شاہی ٹیکس اور اپنے ہی ہم وطن امیروں کے سود نے یروشلم کے غریب یہودیوں کو اِس حال تک پہنچا دیا کہ وہ اپنے کھیت گروی رکھ چکے اور اپنی بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر بیچ چکے تھے۔ نحمیاہ یہ سن کر آگ بگولا ہو جاتا ہے، شرفا اور افسروں کو کھلے عام جماعت کے سامنے کھڑا کرتا ہے، اُن سے قَسم لیتا ہے کہ زمین، گھر اور سود سب واپس ہوگا، اور پھر اپنی ذات کی گواہی پیش کرتا ہے: بارہ سال گورنر رہا، مگر گورنر کا مقررہ وظیفہ کبھی نہ لیا۔
مرکزی بات
یہ باب ایک سادہ سی بات کو بےرحمی سے کھول دیتا ہے: خدا کی قوم بیرونی دشمنوں سے تو بچ سکتی ہے، مگر اپنے اندر کے ظلم سے نہیں۔ سنبلّط اور طوبیاہ دیوار نہ گرا سکے، لیکن بھائی کا بھائی سے سود لینا پوری بحالی کو اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا۔ نحمیاہ کی دلیل مالیاتی نہیں، عہدی ہے: ”ہم بھی دوسروں کی طرح یہودی قوم کے ہیں۔“ ایک ہی عہد کے شریک ایک دوسرے کا مال نہیں بن سکتے۔ اور اُس کی بنیادی اپیل کسی قانون کی دفعہ نہیں بلکہ خدا کا خوف ہے: ”آپ کو ہمارے خدا کا خوف مان کر زندگی گزارنا چاہئے۔“ جہاں خدا کا خوف مر جاتا ہے، وہاں معاہدے، شرحِ سود اور ضمانتیں سب جائز لگنے لگتی ہیں۔
سلسلۂ نجات
غور کیجئے کہ نحمیاہ کس بنیاد پر شرفا کو شرمندہ کرتا ہے: ”جہاں تک ممکن تھا ہم نے اُنہیں واپس خرید کر آزاد کرنے کی کوشش کی۔“ یہ فدیے کا اصول ہے، وہی اصول جو شریعت میں قریبی رشتے دار پر فرض تھا کہ وہ اپنے مفلس بھائی کو غلامی سے چھڑائے۔ پوری بائبل اِسی دھاگے پر بُنی ہوئی ہے: خدا اپنی قوم کو خریدتا ہے، آزاد کرتا ہے، قرض معاف کرتا ہے۔ اور نحمیاہ کی دوسری حرکت اِس سے بھی زیادہ مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اُس کا حق تھا کہ وہ گورنر کا وظیفہ لے، روزانہ ایک بَیل اور چھ بھیڑبکریاں قوم کے خزانے سے لے، مگر اُس نے اپنا حق چھوڑ دیا ”کیونکہ قوم پر بوجھ ویسے بھی بہت زیادہ تھا۔“ پولس رسول یہی بات مسیح کے بارے میں لکھتا ہے: وہ دولت مند ہو کر ہمارے واسطے غریب بن گیا تاکہ ہم اُس کی غریبی سے دولت مند ہو جائیں (۲-کرنتھیوں ۸:۹)۔ نحمیاہ ایک پرچھائیں ہے، دھندلی اور نامکمل، مگر اصل تصویر وہی ہے: حاکم جو اپنی رعایا سے وصول نہیں کرتا بلکہ اپنی میز سے کھلاتا ہے۔
آئینہ
یہ باب اُس جگہ چبھتا ہے جہاں ہم سب سے زیادہ قانونی طور پر درست ہوتے ہیں۔ معاہدہ لکھا ہوا تھا، گواہ موجود تھے، سود طے شدہ تھا۔ اور پھر بھی خدا کے نبی نے اُسے ظلم کہا۔ سوچئے: وہ ملازم جسے آپ قانون کے مطابق سب سے کم تنخواہ پر رکھ سکتے ہیں، وہ رشتے دار جس سے آپ نے ادھار واپس مانگتے وقت اُس کی حالت نہیں پوچھی، وہ کرائےدار، وہ ماتحت، وہ چھوٹا بھائی جس کی مجبوری آپ کا فائدہ ہے۔ نحمیاہ کا سوال سیدھا ہے: کیا آپ کا حق استعمال کرنا ہمیشہ صحیح ہوتا ہے؟ اور اُس کا حل بھی فوری تھا، ”آج ہی اپنے قرض داروں کو … واپس کر دیں۔“ تو آج ہی، ابھی، اُس ایک شخص کا نام لکھئے جس سے آپ کو کچھ لینا ہے، اور اُسے پیغام بھیج کر کہئے کہ یہ معاف ہے۔
مرکزی کردار
نحمیاہ کا جذباتی نقشہ اِس باب میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ پہلے غصہ: ”مجھے بڑا غصہ آیا۔“ پھر ٹھہراؤ: ”بہت سوچ بچار کے بعد۔“ یہ وہ غصہ ہے جو پھٹتا نہیں بلکہ سوچتا ہے، اور پھر منظم طور پر کارروائی کرتا ہے۔ وہ شرفا سے اکیلے میں بات نہیں کرتا، ”ایک بڑی جماعت اکٹھی“ کرتا ہے، کیونکہ عوامی ظلم کا سامنا عوامی ہونا چاہئے۔ مگر سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو استثنا نہیں بناتا: ”مَیں، میرے بھائیوں اور ملازموں نے بھی دوسروں کو اُدھار کے طور پر پیسے اور اناج دیا ہے۔ لیکن آئیں، ہم اُن سے سود نہ لیں!“ قیادت یہاں تقریر نہیں، قربانی ہے۔ اور آخر میں ایک کمزور، انسانی سی دعا: ”اے میرے خدا … مجھ پر مہربانی کر۔“ وہ انعام نہیں مانگتا، رحم مانگتا ہے۔
مشکل سوال
لیکن کیا یہ سب کافی تھا؟ بیٹیاں جو لونڈیاں بن چکی تھیں، کیا وہ سب واپس آئیں؟ متن خاموش ہے۔ زمینیں واپس ہوئیں، سود لوٹایا گیا، قَسم کھائی گئی، مگر جو سال ضائع ہوئے اور جو عزت لٹی، اُس کی تلافی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہی اصلاح کی حد ہے: وہ ناانصافی روک سکتی ہے، ماضی مٹا نہیں سکتی۔ اور شاید اِسی لئے کتاب نحمیاہ خوشی کے باوجود ادھوری ختم ہوتی ہے۔ ایک گورنر بارہ سال تک خدا کا خوف مان سکتا ہے، لیکن اُس کے بعد؟ قوم کو ایسے حاکم کی ضرورت تھی جو مرتا نہیں اور جس کا دل کبھی نہیں بدلتا۔ وہ انتظار یہاں پورا نہیں ہوتا؛ وہ کھلا رہتا ہے، ایک زخم کی طرح جو صرف صلیب پر بند ہوگا۔
ایک باریک تفصیل
”مَیں نے اپنے لباس کی تہیں جھاڑ جھاڑ کر“ کہا۔ عبرانی لفظ یہاں حوصن ہے، یعنی چادر کی وہ جھولی جس میں لوگ اناج ڈال کر گھر لاتے تھے۔ نحمیاہ نے بالکل وہی جیب الٹ کر جھاڑ دی جس میں غریبوں کا گندم جمع ہوتا تھا۔ یہ محض ڈرامائی اشارہ نہیں، ایک تصویر ہے: جو آدمی دوسروں کی جھولی خالی کرتا ہے، خدا اُس کی جھولی خالی کر دے گا۔ اور جماعت نے صرف ”آمین“ نہیں کہا، وہ ”رب کی تعریف کرنے لگے“۔ انصاف کی بحالی ہمیشہ عبادت میں بدلتی ہے، کیونکہ غریب کو لوٹایا گیا ہر کھیت خدا کے کردار کی گواہی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کے پاس کون سا ایسا جائز حق ہے جسے چھوڑنا دوسروں کے لئے راحت کا باعث بنے گا، اور آپ اُسے کیوں نہیں چھوڑ رہے؟
نحمیاہ نے خدا کے خوف کو اپنے سلوک کی بنیاد بنایا۔ آپ کی زندگی کے کس شعبے میں آپ کا رویہ صرف قانون سے چلتا ہے، خدا کے حضور سے نہیں؟
Nehemiah 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نحمیاہ 5 کا کیا مطلب ہے؟
نحمیاہ 5 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نحمیاہ 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نحمیاہ 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Nehemiah 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
نحمیاہ کہتا ہے، ”آج ہی اُن کی زمینیں، انگور اور زیتون کے باغ اور مکان اُنہیں واپس کر دو۔“ کل نہیں، فصل کٹنے کے بعد نہیں، آج ہی۔ دیوار کی تعمیر رُک سکتی تھی، مگر بھائی کا استحصال ایک دن بھی جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ سوچ، کیا کوئی ایسی چیز ہے جو تیرے پاس ہے مگر حق میں کسی اَور کی ہے؟ توبہ وہ ہے جو آج واپس کرتی ہے۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے نحمیاہ کو سنجیدگی سے سوچ بچار کے بعد بولنے کی ہمت دی اور اُس نے شریف آدمیوں اور افسروں کو غریب بھائیوں پر سود لینے سے روکا۔ شکر کہ تُو مظلوموں کی آہ سنتا ہے اور آج بھی ایسے دل پیدا کرتا ہے جو ناانصافی پر خاموش نہیں رہتے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
