یرمیاہ 5:22
متن
خداوند اپنی قوم کے سامنے ایک سوال رکھتے ہیں جو الزام سے زیادہ حیرت کی صورت رکھتا ہے: ”کیا تمہیں میرا خوف نہیں ماننا چاہئے، میرے حضور نہیں کانپنا چاہئے؟“ پھر وہ دلیل کے طور پر عدالت یا شریعت کی طرف نہیں، بلکہ ساحل کی ریت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ”مَیں ہی نے ریت سے سمندر کی سرحد مقرر کی، ایک ایسی باڑ بنائی جس پر سے وہ کبھی نہیں گزر سکتا۔“ سمندر گرجتا ہے، لہریں پورے زور سے ٹکراتی ہیں، مگر ریت کی وہ نرم سی لکیر قائم رہتی ہے، کیونکہ خدا نے اُسے مقرر کیا ہے۔ اور اِس کے فوراً بعد وہ تلخ موازنہ آتا ہے: بےجان پانی اپنی حد پہچانتا ہے، مگر ”اِس قوم کا دل ضدی اور سرکش ہے۔“
اصل بات
یہاں تخلیق اور عہد ایک ہی سانس میں بولتے ہیں۔ قدیم مشرق میں سمندر بےقابو افراتفری کی علامت تھا، وہ طاقت جسے کوئی بادشاہ باندھ نہیں سکتا۔ یرمیاہ کہتا ہے: وہ بندھی ہوئی ہے، اور باندھنے والا وہی خدا ہے جس کے ساتھ تمہارا عہد ہے۔ خوفِ خدا یہاں خوف زدگی نہیں بلکہ حقیقت کے مطابق جینا ہے، یعنی یہ تسلیم کرنا کہ کائنات کسی اَور کی مرضی سے چل رہی ہے، ہماری نہیں۔ اور غور کیجیے کہ حد باندھنا یہاں سزا نہیں، فضل ہے: اگر سمندر اپنی حد سے آگے بڑھ جائے تو زمین پر زندگی ممکن نہ رہے۔ خدا کی حکمرانی وہ دیوار ہے جس کے پیچھے فصلیں، بارش اور بستیاں سلامت رہتی ہیں۔ گناہ کا جوہر یہی ہے: ریت جتنی فرمانبرداری بھی نہ دکھانا، اور اُس حد کو قید سمجھنا جو دراصل ہمیں زندہ رکھتی ہے۔
سلسلۂ کلام
جو خدا سمندر سے کہتا ہے کہ یہاں تک اور آگے نہیں، وہی خدا آخرکار خود اُس سمندر پر قدم رکھے گا۔ انجیل میں جب گلیل کی جھیل پر طوفان اُٹھتا ہے اور شاگرد ڈوبنے کے خوف سے چیختے ہیں، تو یسوع مسیح اُٹھ کر ہوا اور پانی کو ڈانٹتے ہیں، اور وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ شاگردوں کا سوال کہ یہ کون ہے، دراصل یرمیاہ ۵ کا سوال ہے: جس کے حکم پر لہریں رُکتی ہیں، اُس کے حضور تو کانپنا چاہئے۔ لیکن مسیح میں یہ سلسلہ ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ جو حد اسرائیل نے توڑی، اُس کا نتیجہ صلیب پر خود خدا کے بیٹے نے اُٹھایا۔ سرکش دل کا علاج نئی سختی نہیں بلکہ نیا دل ہے، اور یہی وہ عہد ہے جس کا وعدہ خود یرمیاہ آگے چل کر سنائے گا۔
آئینہ
یہ آیت ہماری اُس خواہش پر انگلی رکھتی ہے جو ہم شاذ ہی زبان پر لاتے ہیں: حد سے آزادی۔ ہم مانتے ہیں کہ نیند کی حد ہے، جسم کی حد ہے، بٹوے کی حد ہے، رشتوں کی حد ہے، مگر جیتے ایسے ہیں جیسے یہ سب مشورے ہوں، احکام نہیں۔ کام میں وہ ایک اضافی جھوٹ جس سے سودا بچ جاتا ہے۔ گھر میں وہ لہجہ جسے ہم تھکن کا نام دے کر جائز کر لیتے ہیں۔ اور یرمیاہ اپنے سیاق میں بالکل بےرحمی سے کہتا ہے کہ لوگ پڑوسی کی بیوی کو آنکھ مارتے ہیں اور یتیموں کا حق نہیں دیتے، یعنی حد توڑنا ہمیشہ کسی اَور کے وجود پر بوجھ بنتا ہے۔ ریت ہم سے زیادہ فرمانبردار ہے، یہ سوچ عاجز کرنے کے لئے کافی ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک حد لکھیے جسے آپ اِس ہفتے جان بوجھ کر پار کرتے رہے ہیں، اور اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے پڑھ کر کہیے کہ یہ حد آپ نے مقرر کی ہے۔
پس منظر
یہ کلام یروشلم کے آخری برسوں کا ہے، جب یہوداہ اسّور کے زوال اور بابل کے عروج کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔ ہیکل کھڑی تھی، قربانیاں جاری تھیں، معیشت مضبوط تھی، اور یہی سب سے بڑا دھوکا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ”ہم پر مصیبت نہیں آئے گی۔ ہمیں نہ تلوار، نہ کال سے نقصان پہنچے گا۔“ نبیوں کو بکواس کرنے والا سمجھا جاتا تھا اور امام اپنی مرضی سے حکومت کرتے تھے۔ یہ ایسا سماج تھا جس میں مذہب باقی تھا مگر خوفِ خدا ختم ہو چکا تھا۔ یرمیاہ کی سمندر والی مثال اِسی خوش فہمی پر وار ہے: تم سمجھتے ہو کہ تاریخ کی لہریں تمہیں چھوئیں گی نہیں، مگر لہروں کا مالک وہی ہے جس کے عہد کو تم نے توڑا ہے، اور اُس نے ایک دُور کی قوم کا نام لے رکھا ہے۔
مرکزی کردار
اِس آیت میں خدا خود بولتے ہیں، اور اُن کا لہجہ حیران کن ہے۔ وہ اپنی طاقت کا اعلان کر سکتے تھے، مگر وہ سوال پوچھتے ہیں: کیا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا؟ یہ اُس شخص کا لہجہ ہے جو زخمی بھی ہے اور حاکم بھی۔ باب کے شروع میں وہ ایک ہی دیانت دار انسان کی تلاش میں گلیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ شہر کو معاف کر سکیں، اور آگے چل کر عدالت کے بیچ میں دو بار کہتے ہیں کہ ”مَیں تمہیں مکمل طور پر برباد نہیں کروں گا۔“ یہی خدا کی مقدّس شخصیت ہے: وہ گناہ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی قوم کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ سمندر کی باڑ اُن کی وفاداری کا روزانہ ثبوت ہے، ایک ایسا وعدہ جو ہر جوار بھاٹے کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، جبکہ اُن کی قوم اپنا وعدہ ایک نسل بھی نہ نبھا سکی۔
کلام کی گونج
ایوب کی کتاب کے آخر میں خدا بگولے میں سے ایوب سے پوچھتے ہیں کہ سمندر کے دروازے کس نے بند کئے اور کس نے اُس سے کہا کہ یہاں تک آنا، اِس سے آگے نہیں۔ وہاں یہ سوال ایک دُکھی انسان کو خاموش کر کے سنبھالتا ہے؛ یہاں یرمیاہ میں وہی سوال ایک مطمئن قوم کو جگانے کے لئے آتا ہے۔ ایک ہی سچائی، دو مختلف بیمار دلوں کے لئے دوا۔ دوسری گونج نوح کے بعد کے وعدے کی ہے، جہاں خدا نے قسم کھائی کہ پانی پھر زمین کو غرق نہیں کرے گا۔ یرمیاہ کے سننے والے اُسی وعدے کے سائے میں رہتے تھے اور اُسے معمول سمجھ بیٹھے تھے۔ فطرت کی باقاعدگی، بارش اور فصلوں کی طرح، خدا کا خاموش وفا نامہ ہے، اور ناشکری اُسے دیکھ کر بھی نہیں دیکھتی۔
غور و فکر
کائنات کی کون سی روزمرہ باقاعدگی آپ اِس قدر معمول سمجھ چکے ہیں کہ اُس میں خدا کی وفاداری آپ کو دکھائی نہیں دیتی؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سی حد ہے جسے آپ قید سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ دراصل آپ کو اور آپ کے قریبی لوگوں کو زندہ رکھنے کے لئے مقرر کی گئی ہے؟
Jeremiah 5:22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 5:22 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 5:22 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 5:22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 5:22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 5:22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Jeremiah 5 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں