امثال 30:19
متن
اجور چار چیزیں گنتا ہے جو اُس کی عقل سے باہر ہیں: ”آسمان کی بلندیوں پر عقاب کی راہ، چٹان پر سانپ کی راہ، سمندر کے بیچ میں جہاز کی راہ اور وہ راہ جو مرد کنواری کے ساتھ چلتا ہے۔“ چاروں میں ایک ہی بات مشترک ہے: حرکت ہوتی ہے، مگر نشان باقی نہیں رہتا۔ ہَوا میں پَروں کا راستہ نظر نہیں آتا، پتھر پر سانپ کی رینگن کوئی لکیر نہیں چھوڑتی، جہاز کے پیچھے پانی فوراً بند ہو جاتا ہے، اور دو انسانوں کے دلوں کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے اُسے کوئی باہر سے ناپ نہیں سکتا۔ یہ کوئی پہیلی نہیں جس کا جواب اگلی آیت میں چھپا ہو؛ یہ ایک دانش مند آدمی کا کھلا اعتراف ہے کہ کچھ چیزیں دیکھی تو جا سکتی ہیں، سمجھی نہیں جا سکتیں۔
تصور کیجیے: صور کی بندرگاہ، دیودار اور رال کی بو، رسّوں پر نمک کی تہہ۔ ایک مال بردار جہاز افق میں گم ہو جاتا ہے اور کنارے پر کھڑا آدمی جانتا ہے کہ سمندر اپنے اوپر چلنے والوں کا کوئی حساب نہیں رکھتا۔ یہی وہ دنیا ہے جس میں اجور یہ الفاظ کہتا ہے۔
مرکزی بات
قدیم مشرقِ وسطیٰ میں حکمت کا مطلب تھا دنیا کو درجہ بندی میں رکھنا: ہر چیز کی فہرست، ہر رویّے کا نتیجہ، ہر سبب کا مسبّب۔ امثال کی پوری کتاب اسی اعتماد پر کھڑی ہے کہ زندگی میں ایک قابلِ فہم ترتیب ہے۔ اور پھر آخری ابواب میں ایک اجنبی آدمی آ کر وہی فہرست سازی کا انداز اپناتا ہے، مگر الٹی سمت میں: وہ اُن چیزوں کی فہرست بناتا ہے جو اُس کی گرفت میں نہیں آتیں۔ یہ حکمت کی شکست نہیں بلکہ اُس کی پختگی ہے۔ جو شخص آیت 4 میں پوچھ چکا ہے، ”کون آسمان پر چڑھ کر واپس اُتر آیا؟“ وہ جانتا ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک فاصلہ ہے جسے علم پاٹ نہیں سکتا۔
یہیں اس آیت کا اصل وزن ہے۔ خدا نے ایک ایسی دنیا بنائی ہے جو انسان کے لیے قابلِ استعمال تو ہے مگر مکمل طور پر قابلِ تسخیر نہیں۔ عقاب اُڑتا رہے گا چاہے کوئی اُس کی راہ نقشے پر نہ کھینچ سکے۔ اور انسانی کشش، وہ عجیب طاقت جو ایک مرد اور ایک عورت کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے، فہرست کے آخر میں رکھی گئی ہے، عقاب اور سمندر کے برابر، گویا وہ بھی تخلیق کا ایک اتنا ہی بڑا عجوبہ ہے۔ حیرت ایمان کی کمزوری نہیں؛ وہ اُس انسان کی صحیح کیفیت ہے جو جانتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہے۔
مشترکہ دھاگا
اجور کا سوال آیت 4 میں ہوا میں معلّق رہ جاتا ہے: ”کون آسمان پر چڑھ کر واپس اُتر آیا؟ … اُس کا نام کیا ہے، اُس کے بیٹے کا کیا نام ہے؟“ وہ طنز نہیں کر رہا، وہ واقعی پوچھ رہا ہے، اور کوئی جواب نہیں آتا۔ صدیوں بعد ایک آدمی یروشلیم میں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ وہی آسمان سے اُترا ہے۔ جس سرحد کو اجور عبور نہیں کر سکا، اُس کے پار سے کوئی ہماری طرف آ گیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس رسول مرد اور عورت کے رشتے کو ”بڑا بھید“ کہتا ہے اور اُسے مسیح اور کلیسیا سے جوڑتا ہے۔ اجور کی چوتھی ناقابلِ فہم راہ محض حیاتیات نہیں؛ وہ اُس محبت کا سایہ ہے جو بغیر مجبور کیے کھینچتی ہے، اور جس کا راستہ ہم آج تک نقشے پر نہیں کھینچ سکے۔
آئینہ
ہم ناپنے والی نسل ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے فون پر مقامِ وقوع دیکھتے ہیں، شریکِ حیات کے لہجے کا تجزیہ کرتے ہیں، دفتر میں ہر کارکردگی کو اعداد میں بدلتے ہیں، اور اپنے دل کے بارے میں بھی یہ فرض کرتے ہیں کہ اگر کافی سوچ لیں تو سمجھ آ جائے گی۔ اجور ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ راہیں نشان نہیں چھوڑتیں، اور یہ خدا کی غلطی نہیں۔ جس رشتے کو آپ مکمل طور پر سمجھ لیتے ہیں، وہ رشتہ نہیں رہتا، انتظام بن جاتا ہے۔ آج ایک کاغذ لیں اور اجور کی فہرست میں پانچواں نکتہ لکھیں: اپنی زندگی کی وہ ایک چیز جسے آپ مہینوں سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نہیں سمجھ پا رہے۔ اُسے بلند آواز میں پڑھیں اور خدا کے حوالے کر دیں۔
سیاق و سباق
اجور بن یاقہ اسرائیلی نہیں تھا۔ مسّا غالباً شمالی عرب کا ایک قبیلہ تھا، اونٹوں کے قافلوں، ریتیلی وادیوں اور کھلے آسمان کی دنیا۔ وہاں عقاب روز سر پر منڈلاتے تھے، سانپ گرم پتھروں پر پھسلتے تھے، اور تجارتی جہازوں کی خبریں قافلوں کے ساتھ آتی تھیں۔ ”تین بلکہ چار“ والی گنتی اُس زمانے کی ایک جانی پہچانی ادبی صنف تھی، جیسے آج کوئی فہرست بنا کر بات کو یادگار بناتا ہے۔ اور ”کنواری“ کے ذکر کو اُس معاشرے کے عزت کے ضابطوں میں رکھیے: پورا خاندان جوان عورت کی عصمت کی نگرانی کرتا تھا، شادیاں طے کی جاتی تھیں، گواہ رکھے جاتے تھے۔ عین وہ چیز جس پر سب سے زیادہ پہرہ تھا، وہی کسی کی نظر میں نہیں آتی تھی۔
مرکزی کردار
اجور ایک تھکا ہوا آدمی ہے۔ باب کے شروع میں وہ دو بار کہتا ہے، ”مَیں تھک گیا ہوں،“ اور خود کو ”انسانوں میں سب سے زیادہ نادان“ کہتا ہے۔ یہ جھوٹی عاجزی نہیں؛ یہ اُس شخص کی آواز ہے جس نے بہت دیر تک دنیا کو غور سے دیکھا ہے اور جان لیا ہے کہ وہ سب کچھ نہیں جان سکتا۔ وہی آدمی خدا سے صرف اتنی روٹی مانگتا ہے جتنی اُس کا حق ہے، نہ غربت نہ دولت۔ محدود علم اور محدود خواہش ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اِسی تھکے ہوئے آدمی میں حیرت زندہ ہے: وہ عقاب کو دیکھ کر اب بھی ٹھہر جاتا ہے۔ پختہ ایمان کی نشانی بے حسی نہیں، بلکہ یہی باقی رہ جانے والی حیرت ہے۔
سوال
اگلی ہی آیت اس خوبصورتی کو زخمی کر دیتی ہے: ”زناکار عورت کی یہ راہ ہے، وہ کھا لیتی اور پھر اپنا منہ پونچھ کر کہتی ہے، ’مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔‘“ اجور جان بوجھ کر وہی لفظ ”راہ“ دہراتا ہے۔ جو بات محبت کو عجوبہ بناتی ہے، یعنی اُس کا کوئی نشان نہ چھوڑنا، وہی بات خیانت کو چھپانے کے قابل بنا دیتی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے اور متن اسے ہموار نہیں کرتا۔ خدا نے زندگی میں ایک ایسا خطہ رکھا ہے جہاں کوئی عدالت، کوئی کیمرہ، کوئی خاندان داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں قربت ممکن ہے، اور وہاں جھوٹ بھی ممکن ہے۔ اجور ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ اس خطرے سے کیسے بچیں؛ وہ صرف یاد دلاتا ہے کہ ایک ہستی ہے جس کے لیے یہ راہ پوشیدہ نہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ یا حالات ہیں جہاں آپ کی ”سمجھنے“ کی کوشش دراصل قابو پانے کی خواہش ہے؟
جس خطے میں کوئی انسان آپ کو دیکھ نہیں سکتا، وہاں آپ کی چال کیسی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ خدا وہاں بھی دیکھتا ہے؟
Proverbs 30:19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
امثال 30:19 کا کیا مطلب ہے؟
امثال 30:19 کس بارے میں ہے؟
امثال 30:19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
امثال 30:19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال 30:19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Proverbs 30 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میں اکثر اپنی کمزوری دیکھ کر ہمت ہار دیتا ہوں۔ چھوٹی سی چیونٹی سے مجھے سکھا کہ طاقت نہ ہو تب بھی دانائی سے وقت پر کام کیا جا سکتا ہے۔ آج جو چھوٹا سا قدم میرے سامنے ہے، اُسے وفاداری سے اٹھانے میں میری مدد کر۔
امثال کی کتاب میں اچانک ایک اجنبی آواز سنائی دیتی ہے، "اجور بن یاقہ کی باتیں"۔ نہ بادشاہ، نہ مشہور نبی، بس ایک ایسا آدمی جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ اور وہ اپنی بات اپنی حکمت کے دعوے سے نہیں بلکہ اپنی کمزوری کے اقرار سے شروع کرتا ہے۔ خدا نے اُس کے الفاظ اپنے کلام میں محفوظ رکھے۔ کیا تجھے لگتا ہے کہ تیری آواز بہت چھوٹی ہے؟ وہ گمنام لوگوں کی باتیں بھی سنبھال کر رکھتا ہے۔
اگر تُو احمق ہو کر اپنے آپ کو سرفراز کرے یا بُری سازشیں کرے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ!" کتنی سادہ سی نصیحت ہے، مگر کتنی مشکل۔ جب ہم پکڑے جاتے ہیں تو ہمارا پہلا ردِعمل صفائی پیش کرنا ہوتا ہے، ایک اور لفظ، ایک اور بہانہ۔ لیکن یہاں حکمت کہتی ہے: خاموش ہو جا۔ ہاتھ منہ پر رکھنا ہار نہیں، توبہ کی پہلی سانس ہے۔ کیا تُو آج کسی بحث میں اپنی زبان کو روک سکے گا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں