بائبل کی تشریح

زبور 148

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یہ زبور ایک پکار ہے جو اوپر سے شروع ہو کر نیچے تک آتی ہے: پہلے آسمان، فرشتے، لشکر، سورج، چاند اور ستارے؛ پھر زمین، سمندر کی گہرائیاں، اولے اور آندھیاں، پہاڑ، درخت، جانور اور پرندے؛ اور آخر میں انسان، بادشاہوں سے لے کر بچوں تک۔ سب کو ایک ہی حکم دیا جاتا ہے: "رب کے نام کی ستائش کریں۔" وجہ دو بار بتائی گئی ہے: اُس نے فرمایا تو سب وجود میں آیا، اور اُس کا نام اکیلا ہی عظیم ہے۔ اختتام ایک غیرمتوقع موڑ پر ہوتا ہے، کائنات سے اُتر کر ایک چھوٹی سی قوم پر: اسرائیل، "اُس قوم کی جو اُس کے قریب رہتی ہے۔"

اصل بات

غور کیجیے کہ شاعر کسی کو حمد کرنے پر راضی نہیں کر رہا۔ وہ ستاروں کو دلیل نہیں دیتا، آندھی سے بحث نہیں کرتا۔ وہ صرف بلاتا ہے، گویا یہ آواز پہلے سے موجود ہے اور اُسے صرف ترتیب دینا ہے۔ یہی اِس زبور کا دل ہے: حمد کائنات کی قدرتی حالت ہے، خاموشی نہیں۔ اور حمد کی بنیاد احساسات نہیں بلکہ خالقیت ہے: "اُس نے فرمایا تو وہ وجود میں آئے۔" ہر چیز اپنے ہونے سے ہی گواہی دیتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب ہم خدا کی تعریف کرتے ہیں تو ہم کچھ نیا شروع نہیں کرتے؛ ہم ایک ایسے گیت میں شامل ہوتے ہیں جو ہماری پیدائش سے پہلے گایا جا رہا تھا۔

سلسلۂ کلام

"اُس نے فرمایا تو وہ وجود میں آئے" ہمیں پیدایش کے پہلے باب میں لے جاتا ہے، جہاں خدا کا کلام ہی تخلیق کا واحد اوزار ہے۔ یوحنا اُسی کلام کو ایک شخص کے طور پر پہچانتا ہے: وہ کلام جو ابتدا میں تھا اور جسم بن کر ہمارے درمیان رہا۔ اگر سب کچھ اُس کلام کے ذریعے بنا، تو اِس زبور کی فہرست محض شاعرانہ آرائش نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا کا نقشہ ہے جو مسیح کے گرد گھومتی ہے۔ اور آیت 14 کا موڑ بھی اتفاقی نہیں: کائنات کا خدا اپنی چھوٹی، کمزور قوم کے قریب آتا ہے۔ یہی تجسم کی منطق ہے۔ وسعت اور قربت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی محبت کے دو رُخ ہیں۔

آئینہ

یہ زبور آپ کو فہرست میں کہیں بیچ میں رکھتا ہے، ستاروں کے بعد اور بچوں سے پہلے، بادشاہوں کے ساتھ ایک ہی سانس میں۔ یہ ہمارے اُس خیال کو توڑتا ہے کہ کائنات ہمارے گرد گھومتی ہے۔ جب آپ اپنے کام میں ناگزیر محسوس کرتے ہیں، یا جب آپ خود کو اتنا معمولی سمجھتے ہیں کہ آپ کی موجودگی یا غیرموجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تو یہ زبور دونوں کو ایک ہی جملے سے جواب دیتا ہے: "صرف اُسی کا نام عظیم ہے۔" نہ آپ مرکز ہیں، نہ آپ فالتو ہیں؛ آپ گائیک ہیں۔

آج ہی کچھ منٹ باہر نکلیے، آسمان کی طرف دیکھیے اور بلند آواز سے یہ ایک جملہ کہیے: "اے سورج اور چاند، اُس کی حمد کرو!" پھر خاموش رہ کر سنیے۔

سوال

اگر بےجان چیزیں واقعی حمد کرتی ہیں، تو یہ حمد کیسی ہے؟ کیا یہ صرف ہمارا شاعرانہ انداز ہے، یا سچ مچ کچھ ہو رہا ہے جسے ہم سن نہیں پاتے؟ زبور جواب نہیں دیتا، اور شاید یہی اُس کی دیانت ہے۔ اور دوسرا، زیادہ کھٹکنے والا سوال: اگر سمندر کے اژدہے بھی حمد کرتے ہیں، تو پھر وہ سب کچھ کیا ہے جو اِس دنیا میں ٹوٹا ہوا، ظالم اور بےرحم ہے؟ آندھی گھر گراتی ہے؛ وہی آندھی یہاں گانے کو بلائی جا رہی ہے۔ زبور اِس تناؤ کو حل نہیں کرتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ وہ بھی "اُس کے حکم پر چلنے والی" ہے۔ یہ تسلی نہیں دیتا، مگر یہ ہمیں اُس کے ہاتھ سے باہر بھی نہیں جانے دیتا۔

پس منظر

یہ زبور اُن آخری پانچ زبوروں میں سے ایک ہے جو "رب کی حمد ہو" سے شروع اور ختم ہوتے ہیں، گویا پوری کتاب کا اختتامی نغمہ۔ غالباً یہ جلاوطنی کے بعد کی عبادت سے جُڑا ہے، جب بحال شدہ ہیکل میں ایک کمزور، چھوٹی قوم گا رہی تھی۔ اُن کے ارد گرد کی دنیا میں سورج، چاند اور ستارے دیوتا سمجھے جاتے تھے، اور بادشاہ خود کو دیوتاؤں کا بیٹا کہلواتے تھے۔ اِس پس منظر میں آیت 3 اور آیت 11 ایک خاموش بغاوت ہیں: جن کی پرستش قومیں کرتی ہیں، وہ خود پرستار ہیں۔ سورج ایک گائیک ہے، بادشاہ ایک گائیک ہے، اور دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔

ایک باریک بات

آخری آیت کا لفظ "سرفراز" عبرانی میں دراصل "سینگ" (قَرَن) ہے: خدا نے اپنی قوم کا سینگ اونچا کیا۔ یہ جانور کی طاقت کا استعارہ ہے، وہ طاقت جو جھکے ہوئے سر کو اٹھا دیتی ہے۔ غور کیجیے کہ اِس پورے زبور میں انسان کچھ نہیں کرتا، صرف خدا کرتا ہے: اُس نے فرمایا، اُس نے قائم کیا، اُس نے سرفراز کیا۔ اور پھر وہ عجیب جملہ: "اُس قوم کی جو اُس کے قریب رہتی ہے۔" ستاروں سے آگے، گہرائیوں سے نیچے، اژدہاؤں سے پرے، سب سے قریب جگہ کہاں ہے؟ ایک قوم کے درمیان جس کا سینگ خود اُسی نے اٹھایا۔ یہ زبور کائنات سے شروع ہو کر گود میں ختم ہوتا ہے۔

غور و فکر کے سوالات

اِس زبور کی فہرست میں آپ اپنے آپ کو کہاں رکھتے ہیں، اور کیا آپ واقعی بادشاہوں اور بچوں کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں؟

"اُس کے حکم پر چلنے والی آندھیو" — آپ کی زندگی کی کون سی آندھی ہے جس کے لیے آپ ابھی تک یہ جملہ کہہ نہیں پا رہے، اور کیا آپ اُسے خاموشی میں خدا کے سامنے رکھ سکتے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Psalms 148 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

زبور 148 کا کیا مطلب ہے؟
یہ زبور ایک پکار ہے جو اوپر سے شروع ہو کر نیچے تک آتی ہے: پہلے آسمان، فرشتے، لشکر، سورج، چاند اور ستارے؛ پھر زمین، سمندر کی گہرائیاں، اولے اور آندھیاں، پہاڑ، درخت، جانور اور پرندے؛ اور آخر میں انسان، بادشاہوں سے لے کر بچوں تک۔ سب کو ایک ہی حکم دیا جاتا ہے: "رب کے نام کی ستائش کریں۔" وجہ دو بار بتائی گئی ہے: اُس نے فرمایا تو سب وجود میں آیا، اور اُس کا نام اکیلا ہی عظیم ہے۔ اختتام ایک غیرمتوقع موڑ پر ہوتا ہے، کائنات سے اُتر کر ایک چھوٹی سی قوم پر: اسرائیل، "اُس قوم کی جو اُس کے قریب رہتی ہے۔"
زبور 148 کس بارے میں ہے؟
"اُس نے فرمایا تو وہ وجود میں آئے" ہمیں پیدایش کے پہلے باب میں لے جاتا ہے، جہاں خدا کا کلام ہی تخلیق کا واحد اوزار ہے۔ یوحنا اُسی کلام کو ایک شخص کے طور پر پہچانتا ہے: وہ کلام جو ابتدا میں تھا اور جسم بن کر ہمارے درمیان رہا۔ اگر سب کچھ اُس کلام کے ذریعے بنا، تو اِس زبور کی فہرست محض شاعرانہ آرائش نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا کا نقشہ ہے جو مسیح کے گرد گھومتی ہے۔ اور آیت 14 کا موڑ بھی اتفاقی نہیں: کائنات کا خدا اپنی چھوٹی، کمزور قوم کے قریب آتا ہے۔ یہی تجسم کی منطق ہے۔ وسعت اور قربت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی محبت کے دو رُخ ہیں۔
زبور 148 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی کچھ منٹ باہر نکلیے، آسمان کی طرف دیکھیے اور بلند آواز سے یہ ایک جملہ کہیے: "اے سورج اور چاند، اُس کی حمد کرو!" پھر خاموش رہ کر سنیے۔
زبور 148 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ زبور اُن آخری پانچ زبوروں میں سے ایک ہے جو "رب کی حمد ہو" سے شروع اور ختم ہوتے ہیں، گویا پوری کتاب کا اختتامی نغمہ۔ غالباً یہ جلاوطنی کے بعد کی عبادت سے جُڑا ہے، جب بحال شدہ ہیکل میں ایک کمزور، چھوٹی قوم گا رہی تھی۔ اُن کے ارد گرد کی دنیا میں سورج، چاند اور ستارے دیوتا سمجھے جاتے تھے، اور بادشاہ خود کو دیوتاؤں کا بیٹا کہلواتے تھے۔ اِس پس منظر میں آیت 3 اور آیت 11 ایک خاموش بغاوت ہیں: جن کی پرستش قومیں کرتی ہیں، وہ خود پرستار ہیں۔ سورج ایک گائیک ہے، بادشاہ ایک گائیک ہے، اور دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔
زبور 148 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اِس زبور کی فہرست میں آپ اپنے آپ کو کہاں رکھتے ہیں، اور کیا آپ واقعی بادشاہوں اور بچوں کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Psalms 148 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 1

رب کی حمد ہو! آسمان سے رب کی ستائش کرو، بلندیوں پر اُس کی تمجید کرو۔"

غور کر، حمد کی شروعات تجھ سے نہیں ہوتی۔ جب تُو صبح آنکھ کھولتا ہے، آسمان پر یہ گیت پہلے سے گونج رہا ہوتا ہے۔ تیری کمزور، ہکلاتی آواز کسی خاموشی کو نہیں توڑتی، بلکہ ایک بہتے دریا میں شامل ہو جاتی ہے۔ آج تُو اکیلا نہیں گاتا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 8

اے آگ اور اولے، برف اور دھند، اے اُس کا فرمان پورا کرنے والی آندھی، اُس کی تمجید کرو!“ جس طوفان سے تُو ڈرتا ہے، وہ اپنے مالک کا حکم مان رہا ہے۔ برف بھی وقت پر گرتی ہے، آندھی بھی حد میں چلتی ہے۔ تو پھر جو ہوا تیری زندگی میں چل رہی ہے، کیا وہ بےلگام ہے؟ یا اُسی کے ہاتھ میں ہے جو تجھ سے محبت کرتا ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں