زبور 97
متن
ایک اعلان فضا کو چیرتا ہے: "رب بادشاہ ہے!" اور اُس کے پیچھے پیچھے زمین کے دُور دراز ساحل، جہاں تک کسی اسرائیلی کا قدم کبھی نہ پہنچا تھا، جشن میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پھر منظر بدلتا ہے: بادل، گہرا اندھیرا، آگے آگے بھڑکتی آگ، کڑکتی بجلیاں، اور پہاڑ جو موم کی طرح پگھل جاتے ہیں۔ آسمان اُس کی راستی کا اعلان کرتے ہیں، قومیں اُس کا جلال دیکھتی ہیں، بُتوں پر فخر کرنے والے شرمندہ ہوتے ہیں۔ اور دُور صیون میں، ایک شہر کان لگائے سنتا ہے اور خوشی سے بھر جاتا ہے۔ آخر میں آواز نرم ہو جاتی ہے اور براہِ راست سننے والے سے مخاطب ہوتی ہے: برائی سے نفرت کرو، کیونکہ راست باز کے لیے نور بویا گیا ہے۔
مرکزی بات
یہ زبور خدا کی بادشاہی کو کسی نظریے کی طرح پیش نہیں کرتا بلکہ ایک آمد کی طرح۔ وہ آ رہا ہے، اور اُس کے آنے سے پہاڑ تک قائم نہیں رہتے۔ مگر آیت 2 میں وہ بات ہے جو سب کچھ سنبھال لیتی ہے: "راستی اور انصاف اُس کے تخت کی بنیاد ہیں۔" یعنی یہ طاقت اندھی نہیں۔ وہ بادل اور اندھیرا جو اُسے گھیرے ہوئے ہے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اُس کے فیصلوں کی پوری منطق کبھی نہیں دیکھ پائیں گے؛ ہم صرف اُس تخت کی بنیاد جانتے ہیں۔ یہی ایمان کا اصل امتحان ہے: جب حالات کی وجہ سمجھ نہ آئے، تب بھی یقین رکھنا کہ تخت کے نیچے انصاف ہے، من مانی نہیں۔
بڑی کہانی کا دھاگا
اسرائیل کا ہر "رب بادشاہ ہے" ایک ادھوری خوشی تھی، کیونکہ بادشاہ نظر نہیں آتا تھا؛ بادل اور اندھیرا ہی رہتا تھا۔ پھر وہ دن آیا جب جلال بادلوں سے نکل کر گوشت پوست میں ہمارے درمیان رہنے لگا، اور جو تخت کی بنیاد ہے، یعنی راستی اور انصاف، وہ ایک انسان کی صورت میں چلتا پھرتا دکھائی دیا۔ آیت 7 کا "اے تمام معبودو، اُسے سجدہ کرو" عہدنامۂ جدید میں مسیح پر لاگو کیا گیا ہے (عبرانیوں 1:6)، کیونکہ وہی وہ بادشاہ ہے جس کے آگے ہر گھٹنا جھکے گا۔ اور آیت 3 کی آگ؟ وہ ابھی ادھار ہے: جو فیصلہ صیون نے سن کر خوشی منائی تھی، اُس کا پورا ظہور اُس کی دوسری آمد پر ہو گا۔
آئینہ
جہاں آپ کے پاس اختیار نہیں، وہاں کوئی اور بادشاہی کر رہا ہے۔ دفتر کا وہ باس جس کی ناانصافی پر کوئی بازپرس نہیں؛ وہ رشتہ دار جو جائیداد ہڑپ کر گیا اور آرام سے سو رہا ہے؛ وہ بیماری جو آپ کے جسم میں فیصلے کر رہی ہے۔ یہ زبور آپ کے غصے کو جھٹلاتا نہیں، بلکہ اُسے ایک تخت کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ مگر وہ آپ سے بھی کچھ مانگتا ہے: "تم جو رب سے محبت رکھتے ہو، بُرائی سے نفرت کرو!" محبت کا پہلا ثبوت جذبہ نہیں، ایک نفرت ہے، اُس چیز سے جو آپ کے اپنے اندر ٹیڑھی ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک عادت لکھیے جسے آپ برائی جانتے ہیں مگر چپکے سے پسند بھی کرتے ہیں، اور وہ جملہ خدا کے سامنے بلند آواز میں پڑھ کر کاغذ پھاڑ دیجیے۔
سیاق و سباق
زبور 93 سے 99 تک کا مجموعہ "رب بادشاہ ہے" کے گرد گھومتا ہے، اور غالباً یہ ہیکل کی عبادت میں اُس وقت گایا جاتا تھا جب قوم اپنی کمزوری سے بخوبی واقف تھی۔ گرد و پیش کی سلطنتیں، اسور، بابل، ہر سال اپنے دیوتاؤں کے جلوس نکالتی تھیں اور اپنے بادشاہ کو آسمان کا نمائندہ کہتی تھیں۔ یہوداہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ریاست تھی جس کے پاس نہ بحری بیڑا تھا نہ "ساحلی علاقوں" پر کوئی اثر۔ اِس پس منظر میں یہ گیت ایک سیاسی دعویٰ بھی تھا: اصل تخت یروشلم کی پہاڑی سے اوپر ہے، اور دُور دراز کے جزیرے بھی اُسی کی رعایا ہیں۔ یہ طاقتوروں کے منہ پر ایمان کا جواب تھا۔
کلام کی گواہی
آگ، بادل، اندھیرا، پگھلتے پہاڑ: یہ سب کوہِ سینا کا منظر ہے (خروج 19)۔ زبور نویس جان بوجھ کر وہی الفاظ اٹھاتا ہے، مگر فرق دیکھیے: سینا پر لوگ کانپ گئے تھے اور دُور ہٹ گئے تھے، جبکہ یہاں "کوہِ صیون سن کر خوش ہوا۔" وہی آگ جو دشمنوں کو بھسم کرتی ہے، عہد کے لوگوں کے لیے خوشی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی فرق ایمان پیدا کرتا ہے: ایک ہی خدا، ایک ہی جلال، مگر دو بالکل مختلف ردِعمل۔ اور آیت 11 کا "نور کا بیج" یسعیاہ کی اُس روشنی سے جا ملتا ہے جو اندھیرے میں چلنے والوں پر طلوع ہوتی ہے؛ دونوں جگہ نور کسی لمحاتی چمک کا نہیں، ایک وعدے کا نام ہے۔
ایک باریک تفصیل
"راست باز کے لئے نور کا… بیج بویا گیا ہے۔" نور بویا جاتا ہے؟ روشنی تو جلتی ہے، چمکتی ہے، پھیلتی ہے؛ بوئی نہیں جاتی۔ مگر یہی عجیب تصویر پورے زبور کی چابی ہے۔ بیج زمین میں غائب ہو جاتا ہے۔ ہفتوں تک کچھ نظر نہیں آتا، صرف مٹی۔ جس زبور میں پہاڑ پگھلتے ہیں اور بجلیاں دنیا کو روشن کر دیتی ہیں، وہ اپنے اختتام پر کسی دھماکے کی نہیں بلکہ ایک دبے ہوئے بیج کی بات کرتا ہے۔ یعنی: ابھی آپ کو روشنی محسوس نہیں ہو رہی؟ وہ بوئی جا چکی ہے۔ راست بازی کی قیمت آج ادا ہوتی ہے، فصل بعد میں کٹتی ہے، اور بوئی ہوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔
غور و فکر کے سوالات
جب خدا کے فیصلے آپ کو "بادلوں اور گہرے اندھیرے" میں لپٹے دکھائی دیتے ہیں، تو آپ کس بنیاد پر یقین رکھتے ہیں کہ اُس تخت کے نیچے انصاف ہی ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سی راست بازی ہے جس کا کوئی پھل ابھی دکھائی نہیں دے رہا، اور آیت 11 کا "بویا گیا بیج" اُس انتظار کو کیسے بدلتا ہے؟
Psalms 97 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 97 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 97 کس بارے میں ہے؟
زبور 97 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 97 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 97 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Psalms 97 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میرے دل میں وہ محبت جگا جو بُرائی سے نفرت کرنا سیکھ لے۔ کئی بار میں گناہ سے سمجھوتا کر بیٹھتا ہوں، مجھے معاف کر اور سنبھال۔ تُو اپنے لوگوں کی جان کی حفاظت کرتا ہے، اِسی بھروسے پر آج اپنا ہاتھ تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
