بائبل کی تشریح

غزلُ الغزلات 6:6

پڑھیں

متن

دُلہا اپنی محبوبہ کے حسن کا بیان جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی تصویر کھینچتا ہے جو ہمیں پہلی نظر میں اجنبی لگتی ہے: ”تیرے دانت ابھی ابھی نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے سفید ہیں۔ ہر دانت کا جُڑواں ہے، ایک بھی گم نہیں ہوا۔“ یعنی اُس کی مسکراہٹ ایسی ہے جیسے چراگاہ سے تازہ دھلا ہوا ریوڑ ڈھلوان سے اُترتا آ رہا ہو، سفید، ترتیب میں، مکمل۔ کچھ کھویا نہیں، کوئی خلا نہیں، کوئی کمی نہیں۔

مرکزی بات

اِس آیت کا وزن آخری تین لفظوں میں ہے: ایک بھی گم نہیں ہوا۔ چرواہا اپنے ریوڑ کو گنتا ہے، اور جب گنتی پوری ہو تو وہ چین کی سانس لیتا ہے۔ دُلہا اپنی محبوبہ کو دیکھتے ہوئے یہی زبان استعمال کرتا ہے۔ اُس کی محبت گنتی کرنے والی محبت ہے، لاپروا تعریف نہیں۔ وہ سرسری طور پر نہیں کہتا ”تُو خوب صورت ہے“؛ وہ تفصیل میں جاتا ہے، ایک ایک چیز کو نام دیتا ہے، اور اُس تفصیل میں کوئی نقص نہیں پاتا۔ یہاں خدا کے بارے میں ایک بنیادی سچائی جھلکتی ہے: مقدّس محبت اندھی نہیں ہوتی، وہ دیکھتی ہے، جانچتی ہے، اور پھر بھی خوش ہوتی ہے۔ اور صفائی کا ذکر بھی رہ گیا ہے: بھیڑیں ”ابھی ابھی نہلائی ہوئی“ ہیں۔ حسن یہاں دھلائی کے بعد کا حسن ہے۔

نجات کا سنہری تار

بائبل میں خدا اپنے لوگوں کو بار بار ریوڑ کہتا ہے، اور خود کو چرواہا۔ اِس آیت میں دو تصویریں ایک ساتھ آتی ہیں جو آگے چل کر خداوند یسوع مسیح میں پوری ہوتی ہیں: دھلا ہوا ریوڑ، اور مکمل گنتی۔ جب یوحنا کی انجیل میں خداوند اپنے آپ کو اچھا چرواہا کہتے ہیں اور صلیب سے پہلے باپ کے حضور یہ حساب پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے سپرد کیے گئے لوگوں میں سے کسی کو ضائع نہیں کیا، تو وہی ”ایک بھی گم نہیں ہوا“ گونجتا ہے۔ اور جب پولس رسول کلیسیا کو مسیح کی دُلہن کہتا ہے جسے وہ پانی سے دھو کر بےداغ اپنے سامنے حاضر کرتے ہیں، تو ”ابھی ابھی نہلائی ہوئی“ محض شادی کے گیت کا لفظ نہیں رہتا۔ یہ زبردستی کی تعبیر نہیں؛ یہ وہی نمونہ ہے، پہلے سایہ، پھر حقیقت۔

آئینہ

آپ اپنی مسکراہٹ کے سامنے آئینے میں کھڑے ہوں تو کیا سوچتے ہیں؟ زیادہ تر ہم وہی دیکھتے ہیں جو گم ہو چکا ہے: وہ سال جو ضائع ہوئے، وہ رشتہ جو ٹوٹا، وہ عادت جس سے ہم آج تک نہیں چھوٹے، وہ نوکری جہاں ہماری قدر نہ ہوئی۔ ہم اپنی زندگی کو خلا کے حساب سے گنتے ہیں۔ اِس آیت کی چبھن یہی ہے کہ دُلہا وہ گنتی نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے: ایک بھی گم نہیں ہوا۔ آپ کے دل کا وہ حصہ جو کہتا ہے ”مجھ میں کچھ کم ہے، اِس لیے مجھے پوری طرح قبول نہیں کیا جا سکتا“، اِس آیت کے سامنے چپ ہو جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ایک سوال بھی اُٹھتا ہے: کیا آپ اپنے شریکِ حیات، اپنے بچوں، اپنی کلیسیا کو اِس طرح دیکھتے ہیں، یا صرف اُن کے نقص گنتے ہیں؟

مرکزی کردار

بولنے والا دُلہا ہے، وہ جو تین آیتیں پہلے ”سوسنوں میں چرتا ہے“۔ اُس کا مزاج غور سے دیکھنے والا ہے۔ آیت ۵ میں وہ کہتا ہے کہ محبوبہ کی نظریں اُسے بےقرار کر رہی ہیں، یعنی وہ محبت میں کمزور ہونے سے نہیں ڈرتا۔ پھر وہ اپنی نظر اُس کے چہرے پر ٹھہراتا ہے اور تعریف کرتا ہے، لیکن نہ چاپلوسی سے، نہ ملکیت کے لہجے سے۔ اُس کی زبان چرواہے کی زبان ہے: چراگاہ، ریوڑ، پہاڑ کی ڈھلوان۔ جو شخص روز جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ایک کھوئی ہوئی بھیڑ کا کیا مطلب ہے۔ اِس لیے اُس کی تعریف میں سکون ہے۔ یہ اُس شخص کا لہجہ ہے جو اپنی محبوبہ کو دیکھ کر مطمئن ہے، اور یہی خدا کا لہجہ ہے جب وہ اپنے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔

سوال

مگر ایمانداری سے پوچھیں: کیا واقعی ”ایک بھی گم نہیں ہوا“؟ ہمارے جسم بگڑتے ہیں، ہماری کلیسیاؤں سے لوگ چلے جاتے ہیں، ہمارے خاندانوں میں سے کچھ ایمان چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ آیت جھوٹی تسلی تو نہیں؟ دو باتیں سنجیدگی سے کہنی چاہئیں۔ پہلی، غزلُ الغزلات ایک محبت کا گیت ہے، دُلہا کی آنکھ سے کہا گیا؛ وہ اپنی محبوبہ کے بارے میں یہ سچ بول رہا ہے جو محبت دیکھتی ہے، اور محبت کی نظر خود ایک قسم کی سچائی ہے۔ دوسری، جو خدا مسیح میں اپنے لوگوں کو دیکھتے ہیں، اُس کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ ضمانت شدہ ہے۔ درمیان میں نقصان حقیقی ہے، اور ہمیں اُس پر رونے کی اجازت ہے۔ یہ آیت ہمارے آنسو مٹاتی نہیں، اُنہیں ایک وعدے کے دائرے میں رکھتی ہے۔

پس منظر

یہ گیت اُس دنیا سے آتا ہے جہاں شادی خاندانوں کا معاملہ تھی، محبت کا اظہار کھلے عام کم ہوتا تھا، اور عورت کی قیمت اکثر اُس کی افادیت سے ناپی جاتی تھی۔ آیت ۸ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بادشاہ کے حرم میں ساٹھ بیویاں اور اسّی داشتائیں ہو سکتی ہیں؛ ایسے ماحول میں کسی ایک عورت کو ”لاثانی“ کہنا انقلابی بات تھی۔ محبوبہ شولمیت ہے، غالباً شمالی دیہات کی ایک لڑکی، شہری رانیوں کے مقابلے میں سادہ۔ اور دُلہا اُس کے حسن کو گلعاد کے پہاڑوں، ترضہ اور یروشلم کی تصویروں میں بیان کرتا ہے، یعنی دیہاتی چراگاہ اور شاہی شہر دونوں کی زبان میں۔ چہرہ نقاب کے پیچھے ہے، اِس لیے دانتوں اور گالوں کی جھلک صرف اُس کو نظر آتی ہے جو قریب کھڑا ہے۔

غور و فکر

کیا آپ خدا کی محبت پر یقین کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو اپنے نقصانات اور کمیوں کے حساب سے گنتے رہتے ہیں؟

جن لوگوں کو خدا نے آپ کے سپرد کیا ہے، کیا آپ کی نظر اُن پر چرواہے کی نظر ہے، یا صرف جانچ پرکھ کرنے والے کی؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Song of Solomon 6:6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

غزلُ الغزلات 6:6 کا کیا مطلب ہے؟
دُلہا اپنی محبوبہ کے حسن کا بیان جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی تصویر کھینچتا ہے جو ہمیں پہلی نظر میں اجنبی لگتی ہے: ”تیرے دانت ابھی ابھی نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے سفید ہیں۔ ہر دانت کا جُڑواں ہے، ایک بھی گم نہیں ہوا۔“ یعنی اُس کی مسکراہٹ ایسی ہے جیسے چراگاہ سے تازہ دھلا ہوا ریوڑ ڈھلوان سے اُترتا آ رہا ہو، سفید، ترتیب میں، مکمل۔ کچھ کھویا نہیں، کوئی خلا نہیں، کوئی کمی نہیں۔
غزلُ الغزلات 6:6 کس بارے میں ہے؟
بائبل میں خدا اپنے لوگوں کو بار بار ریوڑ کہتا ہے، اور خود کو چرواہا۔ اِس آیت میں دو تصویریں ایک ساتھ آتی ہیں جو آگے چل کر خداوند یسوع مسیح میں پوری ہوتی ہیں: دھلا ہوا ریوڑ، اور مکمل گنتی۔ جب یوحنا کی انجیل میں خداوند اپنے آپ کو اچھا چرواہا کہتے ہیں اور صلیب سے پہلے باپ کے حضور یہ حساب پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے سپرد کیے گئے لوگوں میں سے کسی کو ضائع نہیں کیا، تو وہی ”ایک بھی گم نہیں ہوا“ گونجتا ہے۔ اور جب پولس رسول کلیسیا کو مسیح کی دُلہن کہتا ہے جسے وہ پانی سے دھو کر بےداغ اپنے سامنے حاضر کرتے ہیں، تو ”ابھی ابھی نہلائی ہوئی“ محض شادی کے گیت کا لفظ نہیں رہتا۔ یہ زبردستی کی تعبیر نہیں؛ یہ وہی نمونہ ہے، پہلے سایہ، پھر حقیقت۔
غزلُ الغزلات 6:6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
بولنے والا دُلہا ہے، وہ جو تین آیتیں پہلے ”سوسنوں میں چرتا ہے“۔ اُس کا مزاج غور سے دیکھنے والا ہے۔ آیت ۵ میں وہ کہتا ہے کہ محبوبہ کی نظریں اُسے بےقرار کر رہی ہیں، یعنی وہ محبت میں کمزور ہونے سے نہیں ڈرتا۔ پھر وہ اپنی نظر اُس کے چہرے پر ٹھہراتا ہے اور تعریف کرتا ہے، لیکن نہ چاپلوسی سے، نہ ملکیت کے لہجے سے۔ اُس کی زبان چرواہے کی زبان ہے: چراگاہ، ریوڑ، پہاڑ کی ڈھلوان۔ جو شخص روز جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ایک کھوئی ہوئی بھیڑ کا کیا مطلب ہے۔ اِس لیے اُس کی تعریف میں سکون ہے۔ یہ اُس شخص کا لہجہ ہے جو اپنی محبوبہ کو دیکھ کر مطمئن ہے، اور یہی خدا کا لہجہ ہے جب وہ اپنے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔
غزلُ الغزلات 6:6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ گیت اُس دنیا سے آتا ہے جہاں شادی خاندانوں کا معاملہ تھی، محبت کا اظہار کھلے عام کم ہوتا تھا، اور عورت کی قیمت اکثر اُس کی افادیت سے ناپی جاتی تھی۔ آیت ۸ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بادشاہ کے حرم میں ساٹھ بیویاں اور اسّی داشتائیں ہو سکتی ہیں؛ ایسے ماحول میں کسی ایک عورت کو ”لاثانی“ کہنا انقلابی بات تھی۔ محبوبہ شولمیت ہے، غالباً شمالی دیہات کی ایک لڑکی، شہری رانیوں کے مقابلے میں سادہ۔ اور دُلہا اُس کے حسن کو گلعاد کے پہاڑوں، ترضہ اور یروشلم کی تصویروں میں بیان کرتا ہے، یعنی دیہاتی چراگاہ اور شاہی شہر دونوں کی زبان میں۔ چہرہ نقاب کے پیچھے ہے، اِس لیے دانتوں اور گالوں کی جھلک صرف اُس کو نظر آتی ہے جو قریب کھڑا ہے۔
غزلُ الغزلات 6:6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
جن لوگوں کو خدا نے آپ کے سپرد کیا ہے، کیا آپ کی نظر اُن پر چرواہے کی نظر ہے، یا صرف جانچ پرکھ کرنے والے کی؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Song of Solomon 6 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 9

خداوند، شکر ہے کہ تُو مجھے بھیڑ میں گم شدہ نہیں سمجھتا بلکہ اپنا "کبوتر" اور "لاثانی" کہہ کر پکارتا ہے۔ جب دنیا مجھے بہتوں میں سے ایک گنتی ہے، تُو مجھے چہیتا جانتا ہے۔ اِس ایک نظر نے میرے دل کو تھام لیا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 6

دولھا وہی تعریف دہراتا ہے جو وہ پہلے کر چکا تھا: "تیرے دانت ابھی ابھی نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے ہیں۔" درمیان میں دوری آئی، تلاش ہوئی، مگر اُس کی نظر بدلی نہیں۔ اور غور کر، وہ گنتی کرتا ہے کہ ایک بھی کمی نہیں۔ کیا تُو یقین کر سکتا ہے کہ خدا تجھے یوں دیکھتا ہے؟ ادھورا نہیں، بلکہ پورا اور محبوب۔

دعا ادارتی کو آیت 10

اے خدا، تُو نے مجھے اپنی محبت میں یوں دیکھا جیسے صبح کی پہلی روشنی، چاند کی طرح حسین اور سورج کی طرح روشن۔ میں اکثر خود کو کمزور اور ادھورا سمجھتا ہوں، مگر تیری نظر میں میری قدر ہے۔ مجھے سکھا کہ میں تیری اِس نظر پر بھروسا کروں اور تیرے نور میں چلوں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 3

مَیں اپنے محبوب کی ہوں اور میرا محبوب میرا ہی ہے۔“ باغ کے دنوں میں اُس نے کہا تھا، میرا محبوب میرا ہے اور مَیں اُس کی ہوں۔ لیکن جدائی اور ڈھونڈنے کے بعد ترتیب بدل گئی۔ اب پہلا خیال یہ نہیں کہ وہ میرا ہے، بلکہ یہ کہ مَیں اُس کی ہوں۔ کیا آپ نے دیکھا؟ دُکھ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق جتانے سے پہلے سونپ دینا سیکھیں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟