صفنیاہ 3
متن
صفنیاہ 3 دو حصوں میں بٹا ہوا ہے جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ پہلا حصہ یروشلم پر سخت الزام لگاتا ہے: اُس کے بزرگ شیر ہیں، قاضی بھوکے بھیڑیئے، نبی گستاخ، امام شریعت کو روندتے ہیں۔ لیکن پھر لہجہ اچانک بدل جاتا ہے۔ خداوند خود شہر کے درمیان آ کھڑا ہوتا ہے، اپنی قوم کو پاک کرتا ہے، اور آخر میں کچھ ایسا کہتا ہے جو پوری بائبل میں کم ہی سنائی دیتا ہے: وہ اپنی قوم پر خوشی سے شادیانہ بجائے گا۔
مرکزی بات
یہ باب اُس گہرے تضاد کو سامنے لاتا ہے جو خدا کی ذات میں چھپا ہے: وہ راست ہے، اِس لیے گناہ کو نظرانداز نہیں کر سکتا؛ اور وہ محبت کرنے والا ہے، اِس لیے اپنی قوم کو چھوڑ نہیں سکتا۔ آیت 5 اِس تضاد کا مرکز ہے: "رب بھی شہر کے بیچ میں ہے، اور وہ راست ہے۔" وہی خدا جو عدالت لاتا ہے، وہی درمیان میں موجود ہے۔ نجات یہاں سستی معافی نہیں ہے۔ پہلے متکبر شیخی باز نکالے جاتے ہیں، پھر ایک بچا ہوا حصہ چھوڑا جاتا ہے، پھر خوشی آتی ہے۔ ترتیب اہم ہے۔
مشترکہ دھاگا
صفنیاہ کا "بچا ہوا حصہ" (باقی ماندہ) پوری بائبل میں گونجتا ہے۔ نوح کا خاندان، ایلیاہ کے سات ہزار، جلاوطنی سے لوٹنے والے، اور آخرکار وہ چھوٹا سا جماعت جو گلگتا کے بعد بالاخانے میں اکٹھی ہوئی۔ خدا ہمیشہ کسی نہ کسی کو بچاتا ہے۔ آیت 15 میں لکھا ہے، "رب جو اسرائیل کا بادشاہ ہے تیرے درمیان ہی ہے۔" یہ فقرہ یوحنا 1:14 کا پیش خیمہ ہے، جہاں کلام جسم بن کر ہمارے درمیان رہنے لگا۔ صفنیاہ اُس بادشاہ کا انتظار کرتا ہے جو شہر کے بیچ آ کھڑا ہو گا۔ مسیح نے وہ انتظار پورا کیا، اور آیت 17 کا "پہلوان جو نجات دے گا" یسوع کے نام میں ہی مجسم ہو گیا۔
آئینہ
آیت 2 پڑھیں اور رُک جائیں: "نہ وہ سنتا، نہ تربیت قبول کرتا ہے۔" یہ یروشلم کا الزام ہے، لیکن کیا یہ آپ کا بھی نہیں؟ آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، ہاں۔ لیکن تربیت قبول کرنا؟ جب کوئی دوست، شریکِ حیات، یا واعظ آپ کو کچھ ایسا کہے جو آپ سننا نہیں چاہتے، تو دل کا پہلا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟ اور آیت 11 کے "متکبر شیخی باز" کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ چرچ کے اندر بیٹھے ہیں، اپنے علم پر، اپنی خدمت پر، اپنی روحانی ترقی پر فخر کرتے ہیں۔ خدا نے کہا کہ وہ اُنہیں نکال دے گا۔ کیا آپ اُس فہرست میں ہیں؟ آیت 12 چونکا دینے والی ہے: خدا کے پاس صرف غریبوں اور ضرورت مندوں کو چھوڑا جائے گا، اُنہیں جو اُس کے نام میں پناہ لیتے ہیں۔ آپ کی پناہ کہاں ہے، اپنی قابلیت میں یا اُس کے نام میں؟
سوال
آیت 17 ایک عجیب دعویٰ کرتی ہے: "وہ شادمان ہو کر تیری خوشی منائے گا۔ اُس کی محبت تیرے قصور کا ذکر ہی نہیں کرے گی بلکہ وہ تجھ سے انتہائی خوش ہو کر شادیانہ بجائے گا۔" خدا خوشی سے گاتا ہے؟ اُس قوم پر جس نے ابھی آیت 7 میں اُسے مسترد کیا؟ یہ ہضم کرنا مشکل ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ خدا ہمیں بمشکل برداشت کرتا ہے، شاید معاف کرتا ہے، لیکن خوش ہوتا ہے؟ ہم پر؟ متن یہاں مبہم نہیں، یہ صاف کہتا ہے کہ خدا کی محبت اُس مقام تک پہنچتی ہے جہاں وہ قصور کا ذکر بھی چھوڑ دیتا ہے۔ یہ سستی معافی نہیں ہے، آیات 1 تا 8 کی سختی اِس کی گواہ ہیں۔ لیکن یہ عدالت کے دوسری طرف کھڑی محبت ہے، اور ہمارے پاس اِس کی مکمل وضاحت نہیں۔ یہاں راز کو راز رہنے دینا پڑتا ہے۔
پروفائل
صفنیاہ نے یہ الفاظ یوسیاہ بادشاہ کے دور میں کہے، جب یہوداہ اسیّرین کے سائے سے نکل رہا تھا اور بابل ابھی ابھر رہا تھا۔ یروشلم کے باشندے سوچتے تھے کہ ہیکل اُن کی ضمانت ہے، خدا اُنہیں کبھی نہیں چھوڑے گا، آخر داؤد کا شہر ہے۔ صفنیاہ کے سامعین کے کانوں میں آیت 15 چوٹ کی طرح لگی ہو گی: پہلے یہ کہ خدا "دشمن کو بھگا دے گا" یعنی وہ خود قابض دشمن نہیں ہے۔ اور دوسرا، آیت 10 میں ایتھوپیا کے پار سے پرستار آئیں گے، یعنی خدا کی قوم صرف یہودی خون تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ ایک ایسی قوم کے لیے دھچکا تھا جس نے اپنی شناخت اپنی نسل اور اپنی سرزمین سے جوڑی ہوئی تھی۔
بین المتن
آیت 17 کا "پہلوان جو نجات دے گا" یسعیاہ 9:6 کے "قادرِ مطلق خدا" کی گونج ہے، اور دونوں مسیح ک
Zephaniah 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
صفنیاہ 3 کا کیا مطلب ہے؟
صفنیاہ 3 کس بارے میں ہے؟
صفنیاہ 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
صفنیاہ 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
صفنیاہ 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Zephaniah 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میرا دل کئی بار بوجھل رہتا ہے، پھر بھی تُو مجھے خوشی کے نعرے لگانے کی دعوت دیتا ہے۔ مجھے یاد دلا کہ تُو میرے درمیان ہے اور تیری محبت میرے خوف سے بڑی ہے۔ میرے اندر ایک نیا گیت جگا دے، تاکہ میں پورے دل سے تیری خوشی مناؤں۔
صفنیاہ کی کتاب عدالت کے اعلان سے بھری ہوئی ہے، آگ، غضب، رب کا خوفناک دن۔ اور پھر اچانک گانے کی آواز: ”رب تیرا خدا تیرے درمیان ہے، وہ پہلوان ہے جو تجھے چھٹکارا دے گا۔“ جو پہلوان تجھے بچانے کے لئے کافی طاقتور ہے، وہی تیرے اوپر خوشی کے گیت گاتا ہے۔ سوچ، کیا تُو نے کبھی سنا کہ خدا تیرے بارے میں گا رہا ہے؟
رب نے تیری سزا مٹا کر تیرے دشمن کو بھگا دیا ہے۔ اسرائیل کا بادشاہ یعنی رب خود تیرے درمیان ہے۔“ غور کر، پہلے سزا ہٹتی ہے، پھر بادشاہ قریب آتا ہے۔ تیرا خوف اِس لئے نہیں جاتا کہ راستہ آسان ہو گیا، بلکہ اِس لئے کہ وہ تیرے بیچ میں کھڑا ہے۔ کیا تُو آج بھی اپنی پرانی سزا کا بوجھ اُٹھائے پھر رہا ہے جسے وہ کب کا مٹا چکا ہے؟
خداوند، شکر ہے کہ تُو بکھرے ہوؤں کو جمع کرتا اور اپنے لوگوں کو واپس لاتا ہے۔ تیرا شکر کہ تُو ہماری رُسوائی کو عزت اور شہرت میں بدل دیتا ہے، اور ہماری قسمت ہماری ہی آنکھوں کے سامنے بحال کرتا ہے۔ اِس وعدے پر میرا دل آج بھی جیتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
