کلسیوں کے خط کا تعارف: مسیح ہر چیز پر سردار
تعارف
لوکس کی وادی میں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، کلسّی۔ وہاں چند گھرانے تھے جنہوں نے اِپَفراس نامی ایک آدمی سے خوشخبری سنی اور مسیح پر ایمان لائے۔ پھر کوئی آیا اور اُس نے یہ نہیں کہا کہ "مسیح جھوٹا ہے"۔ اُس نے اِس سے زیادہ خطرناک بات کہی: "مسیح ٹھیک ہے، مگر کافی نہیں۔ کچھ اور بھی چاہیے، کچھ خاص علم، کچھ خاص پرہیز، فرشتوں کی مدد، کچھ مقررہ دن اور رسمیں۔" یہ خط اُسی ایک لفظ کے خلاف لکھا گیا: "مگر"۔
اِس صفحے پر آپ کلسیوں کے خط کا مصنف، زمانہ، حالات، ساخت، بنیادی موضوعات اور اہم آیات تفصیل سے دیکھیں گے، اور آخر میں ایک عملی منصوبہ بھی پائیں گے کہ اِس چار ابواب کے خط کو کیسے پڑھا جائے تاکہ یہ محض معلومات نہیں بلکہ آپ کے دل کی دوا بن جائے۔
اس رہنما کا زاویہ
اِس رہنما کا زاویہ یہ ہے: کلسیوں کا خط "مسیح کے ساتھ ساتھ" والی سوچ پر خدا کی قلم پھیرنے کا نام ہے۔ کلسّی کی غلطی مسیح کا انکار نہیں تھی، بلکہ مسیح میں کچھ اور جوڑ دینا تھا۔ پولس رسول اِس جمع کے نشان کو مٹاتے ہیں اور ایک ہی جواب بار بار دہراتے ہیں: مسیح میں الوہیت کی ساری معموری بستی ہے، اور تم اُسی میں معمور ہو۔ ہم اِس خط کو اِسی عینک سے پڑھیں گے، کیونکہ آج بھی ہمارا اصل مسئلہ مسیح کو چھوڑنا نہیں، بلکہ مسیح کے ساتھ تعویذ، رسم، کارکردگی اور خود ساختہ پرہیز کو جوڑ لینا ہے۔
بائبل کلسیوں کے خط کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
کلسیوں کا خط نئے عہدنامے کے اُن چار خطوں میں شمار ہوتا ہے جنہیں "قید کے خطوط" کہا جاتا ہے، یعنی افسیوں، فلپّیوں، کلسیوں اور فلیمون۔ خط اپنے آغاز ہی میں اپنے مصنف کا نام بتاتا ہے: پولس رسول، اور اُن کے ساتھ بھائی تیمُتھیُس۔ آخری باب میں پولس رسول اپنی زنجیروں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے سلام لکھتے ہیں۔ یہ خط غالباً روم کی قید سے، تقریباً ساٹھ سے باسٹھ عیسوی کے درمیان لکھا گیا، اور تُخِکُس اور اُنیسِمُس کے ہاتھ کلسّی بھیجا گیا۔ اِسی سفر میں فلیمون کا ذاتی خط بھی ساتھ گیا، اور یہی وجہ ہے کہ دونوں خطوں کے ناموں کی فہرست ایک دوسرے سے اتنی ملتی ہے۔
خط کا دل پہلے باب کا وہ عظیم حصہ ہے جسے اکثر "مسیح کا گیت" کہا جاتا ہے۔ وہاں لکھا ہے، کلسیوں 1:15، "وہ اندیکھے خدا کی صورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مولود ہے۔" یہ آیت کلسّی والوں کے اُس سوال کا جواب ہے جو ہر دور کا سوال ہے: خدا کیسا ہے، اور اُس تک پہنچنے کے لیے مجھے کتنے زینے چڑھنے ہوں گے؟ پولس رسول کہتے ہیں کہ اندیکھا خدا یسوع مسیح میں دکھائی دے گیا؛ اور "پہلوٹھا" یہاں وقت کی ترتیب نہیں بلکہ درجہ اور ورثے کا اعلان ہے، کیونکہ اگلی ہی آیتوں میں لکھا ہے کہ سب چیزیں اُسی میں اور اُسی کے واسطے پیدا ہوئیں۔
پھر دوسرے باب میں وہ جملہ آتا ہے جو اِس پورے خط کی چابی ہے، کلسیوں 2:9، "کیونکہ الوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔" کلسّی کے جھوٹے اُستاد "معموری" یعنی بھرپوری کا لفظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا کی بھرپوری ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، کچھ یہاں، کچھ فرشتوں میں، کچھ خاص علم میں۔ پولس رسول اُن کا اپنا لفظ اُٹھا کر مسیح کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں: ساری بھرپوری، بغیر کسی کٹوتی کے، جسم میں، یعنی اُس حقیقی انسانی بدن میں جو مریم سے پیدا ہوا اور صلیب پر چڑھا۔ اور اگلی آیت پڑھیے: "اور تم اُسی میں معمور ہو گئے ہو۔" اگر مسیح بھرپور ہے اور آپ مسیح میں ہیں، تو آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں رہی۔
اِسی سے وہ عملی حکم نکلتا ہے جو خط کا رُخ موڑ دیتا ہے، کلسیوں 2:6، "پس جس طرح تم نے مسیح یسوع کو قبول کیا اُسی طرح اُس میں چلتے رہو۔" مسیحی زندگی کا طریقہ وہی ہے جو اُس کا آغاز تھا: فضل سے، ایمان سے، وصول کرنے سے۔ جس دروازے سے آپ داخل ہوئے، گھر میں چلنے پھرنے کا راستہ بھی وہی ہے۔
اور یہ خط صرف نظریہ نہیں دیتا، یہ اندر بسنے والی حقیقت بتاتا ہے، کلسیوں 1:27، "جن پر خدا نے ظاہر کرنا چاہا کہ غیر قوموں میں اِس بھید کی عظیم دولت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح جو جلال کی امید ہے تم میں رہتا ہے۔" غور کیجیے، بھید یہ نہیں کہ کوئی خفیہ علم چند خاص لوگوں کو ملتا ہے، بلکہ یہ کہ وہی مسیح جو کائنات پر سردار ہے، ایک چھوٹے قصبے کے غیر یہودی ایمانداروں کے اندر سکونت کرتا ہے۔ خدا کی بھرپوری کسی مندر میں نہیں، مسیح میں ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
کلسیوں کا خط اچانک آسمان سے نہیں گرا۔ اُس کی ہر بڑی بات کی جڑیں پرانے عہدنامے میں ہیں۔ جب پولس رسول مسیح کو "اندیکھے خدا کی صورت" کہتے ہیں تو ہمارے کان پیدایش کے پہلے باب کی طرف جاتے ہیں، جہاں خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ آدم کو وہ صورت سونپی گئی تھی، اور آدم نے اُسے گناہ میں مسخ کر دیا۔ مسیح وہ دوسرا آدم ہے جس میں خدا کی صورت ٹوٹی نہیں، بلکہ پوری چمک کے ساتھ ظاہر ہوئی۔ اور یہی مسیح نئی انسانیت بناتا ہے، اِسی لیے تیسرے باب میں لکھا ہے کہ نئی انسانیت اپنے خالق کی صورت پر معرفت میں نئی بنتی جاتی ہے۔
"پہلوٹھے" کا لفظ بھی عبرانی زمین سے آیا ہے۔ خدا نے اسرائیل کو اپنا "پہلوٹھا بیٹا" کہا، اور زبور 89:27 میں داؤد کے بارے میں فرمایا کہ وہ اُسے "پہلوٹھا" بنائیں گے، یعنی زمین کے بادشاہوں میں سب سے بلند۔ پہلوٹھا ہونا پیدا ہونے کے وقت کا نہیں، ورثے اور اقتدار کا لقب ہے۔ اِس پس منظر میں کلسیوں 1:15 کا مطلب صاف ہو جاتا ہے: مسیح کائنات کا جائز وارث اور سردار ہے۔
جب پولس رسول "معموری" کہتے ہیں تو خیمۂ اجتماع اور ہیکل یاد آتے ہیں، جہاں خدا کا جلال اُتر کر بسا تھا، اتنا بھاری کہ موسیٰ اندر داخل نہ ہو سکے۔ کلسیوں 2:9 اُسی کہانی کا اختتام ہے: اب وہ جلال پتھر کی عمارت میں نہیں، ایک انسان کے بدن میں بسا ہے۔ اِسی طرح دوسرے باب کا "ختنہ" استثنا 30:6 اور یرمیاہ کی اُس پکار سے جُڑتا ہے جہاں خدا دل کے ختنے کا وعدہ فرماتے ہیں؛ پولس رسول کہتے ہیں کہ بپتسمے میں ہم مسیح کے ساتھ دفن ہوئے اور جی اُٹھے، اور یہی وہ ختنہ ہے جو ہاتھ سے نہیں ہوتا۔
سب سے خوبصورت تار وہ ہے جو عیدوں، نئے چاندوں اور سبت کے بارے میں کھینچا گیا ہے۔ کلسیوں 2:17 کہتی ہے، "یہ سب آیندہ باتوں کا سایہ ہیں مگر اصل چیز مسیح کی ہے۔" پرانا عہدنامہ جھوٹ نہیں تھا؛ وہ سایہ تھا۔ سایہ بُرا نہیں ہوتا، مگر جب جسم سامنے آ جائے تو سائے سے لپٹے رہنا عجیب بات ہے۔ قربانیاں، کاہن، ہیکل، سبت کا آرام، یہ سب ایک ہی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ عبرانیوں کا خط اِسی بات کو تفصیل سے کھولتا ہے، اور یوحنا کی انجیل کا پہلا باب اور فلپّیوں 2:6-11 اُسی مسیح کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو خدا کی صورت ہے۔ یوں کلسیوں کا خط پوری بائبل کے درمیان ایک پل کی طرح کھڑا ہے: جو کچھ شریعت اور نبیوں نے دھندلے خاکے میں دکھایا، وہ سب مسیح میں مکمل ہو گیا، اور جمع کا نشان ہمیشہ کے لیے کٹ گیا۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
کلسّی فروگیہ کا ایک پرانا شہر تھا، لودیکیہ اور ہیراپلس کے قریب، لوکس دریا کی وادی میں۔ کبھی یہ اُون کی تجارت کا مرکز تھا، مگر پولس رسول کے زمانے میں اِس کی رونق ماند پڑ چکی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس رسول خود کبھی وہاں نہیں گئے تھے؛ کلسیوں 2:1 میں وہ خود لکھتے ہیں کہ کلسّی اور لودیکیہ کے لوگوں نے اُن کا منہ نہیں دیکھا۔ کلیسیا غالباً اُس وقت قائم ہوئی جب پولس رسول اِفسس میں تین سال تعلیم دے رہے تھے اور خوشخبری پورے آسیہ میں پھیل گئی۔ اِپَفراس، جو خود کلسّی کا تھا، وہیں سے پیغام لے کر اپنے شہر گیا۔ بعد میں وہی اِپَفراس پولس رسول کے پاس پہنچا، کلیسیا کے ایمان اور محبت کی خبر بھی لایا اور ایک خطرے کی اطلاع بھی۔
خط چار ابواب میں بڑی صفائی سے بُنا گیا ہے، اور اُس کی ساخت خود اُس کے پیغام کی گواہی دیتی ہے۔ پہلا حصہ، باب ایک کی ابتدائی چودہ آیتیں، شکرگزاری اور دعا ہیں؛ پولس رسول اُن کے لیے دعا مانگتے ہیں کہ وہ خدا کی مرضی کی پہچان سے معمور ہو جائیں، اور پھر اُس بادشاہی کا ذکر کرتے ہیں جس میں خدا نے ہمیں تاریکی کے قبضے سے چھڑا کر داخل کیا۔ دوسرا حصہ، کلسیوں 1:15-20، مسیح کی سرداری کا گیت ہے: وہ خلقت کا سر، کلیسیا کا سر، مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا، اور صلیب کے خون کے وسیلے سے سب چیزوں کا میل کرانے والا۔ تیسرا حصہ، باب ایک کے آخر سے باب دو کی پانچویں آیت تک، پولس رسول کی اپنی خدمت ہے: وہ "بھید" کے خادم ہیں، اور اُن کا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص کو مسیح میں کامل کر کے پیش کریں۔
چوتھا حصہ، یعنی پورا دوسرا باب چھٹی آیت سے آگے، خط کا میدانِ جنگ ہے۔ یہیں جمع کا نشان کٹتا ہے۔ پولس رسول خبردار کرتے ہیں کہ کوئی اُنہیں "فلسفہ اور لاف زنی" سے شکار نہ کر لے؛ وہ کھانے پینے، عیدوں، نئے چاند اور سبت پر فیصلہ کرنے والوں کو روکتے ہیں؛ وہ خود ساختہ عبادت، جھوٹی فروتنی اور فرشتوں کی پرستش کے خلاف لکھتے ہیں؛ اور وہ اُن قاعدوں کا مذاق اُڑاتے ہیں جو کہتے ہیں "ہاتھ نہ لگا، چکھ نہ، چھو نہ"، کیونکہ ایسی باتوں میں حکمت کا دکھاوا تو ہے مگر جسم کی خواہشوں کو روکنے کی طاقت نہیں۔ اِسی حصے میں وہ عظیم اعلان ہے کہ خدا نے ہمارے خلاف لکھی ہوئی قرض کی تحریر مٹا کر صلیب پر کیل سے جڑ دی، اور حکومتوں اور اختیاروں کا کھلم کھلا تماشا بنا کر اُن پر فتح کا شادیانہ بجایا۔
پانچواں حصہ، باب تین کے شروع سے باب چار کی چھٹی آیت تک، عملی زندگی ہے، مگر یہ اخلاقیات کی فہرست نہیں بلکہ قیامت کی منطق ہے۔ کلسیوں 3:2 کہتی ہے، "عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔" اِس بنیاد پر پرانی انسانیت کے کپڑے اُتارے جاتے ہیں اور نئی انسانیت کے کپڑے پہنے جاتے ہیں، گھرانے کے رشتوں کی ترتیب دی جاتی ہے، اور دعا کا حکم آتا ہے، کلسیوں 4:2، "دعا میں مشغول رہو اور شکرگزاری کے ساتھ اُس میں بیدار رہو۔" آخری حصہ، باب چار کے اختتام پر، ناموں کی ایک گرم جوش فہرست ہے، تُخِکُس، اُنیسِمُس، ارِسترخُس، مرقس، لوقا، نِمفاس، ارخِپُس، اور وہ ہدایت کہ یہ خط لودیکیہ کی کلیسیا میں بھی پڑھا جائے۔ یوں بلند ترین مسیح شناسی سب سے عام لوگوں کے ناموں کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
کلسیوں 1:15 اِس خط کی بنیاد ہے: "وہ اندیکھے خدا کی صورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مولود ہے۔" دو باتیں یہاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ خدا کو جاننے کے لیے ہمیں اندازے نہیں لگانے پڑتے؛ جو خدا دیکھا نہیں جا سکتا، اُس نے خود کو مسیح میں دکھا دیا، اِس لیے یسوع مسیح کے چہرے سے بڑھ کر خدا کی کوئی تصویر موجود نہیں۔ دوسری یہ کہ "مولود" کا لفظ مسیح کو مخلوقات کی فہرست میں شامل نہیں کرتا بلکہ اُنہیں اُس فہرست کے اوپر وارث اور سردار کے طور پر کھڑا کرتا ہے، کیونکہ اگلی آیت واضح کرتی ہے کہ آسمان و زمین کی سب چیزیں، تخت اور ریاستیں بھی، اُسی کے وسیلے سے اور اُسی کے لیے پیدا ہوئیں۔ جو شخص خلقت کا خالق ہے وہ خلقت کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کلسیوں 2:6 خط کا عملی محور ہے: "پس جس طرح تم نے مسیح یسوع کو قبول کیا اُسی طرح اُس میں چلتے رہو۔" مسیحی زندگی میں سب سے عام پھسلن یہ ہے کہ ہم فضل سے شروع کرتے ہیں اور محنت سے جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولس رسول اِس دو رنگی کو جڑ سے کاٹ دیتے ہیں۔ جس دن آپ نے خالی ہاتھ آ کر مسیح کو قبول کیا تھا، آج بھی چلنے کا وہی طریقہ ہے: اُسی میں جڑ پکڑے ہوئے، اُسی پر تعمیر ہوتے ہوئے، اور شکرگزاری میں بڑھتے ہوئے۔ یہ آیت ہر اُس آواز کو خاموش کرتی ہے جو کہتی ہے کہ "اب آگے بڑھنے کے لیے کوئی اور راز چاہیے"۔
اور کلسیوں 3:13 اُس فضل کو ہمارے گھروں میں اُتار دیتی ہے: "اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کیے ویسے ہی تم بھی کرو۔" غور کیجیے، پولس رسول معافی کو مزاج یا طبیعت کی بات نہیں بناتے؛ وہ اِسے صلیب کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ معاف کرنے کی طاقت اُس جگہ سے آتی ہے جہاں آپ کے اپنے قصوروں کی تحریر مٹائی گئی۔ جس نے یہ مان لیا کہ مسیح میں اُس کا حساب صاف ہو چکا ہے، وہ دوسروں کا حساب کھلا رکھنے پر مجبور نہیں رہتا۔ معاف شدہ لوگ معاف کرنے والے لوگ بنتے ہیں۔
آئینہ
آپ سے ایک سیدھا سوال۔ آپ کے ایمان میں "مسیح" کے بعد کون سا "اور" لگا ہوا ہے؟ شاید وہ کوئی تعویذ ہو جو کسی بزرگ نے دیا اور آپ نے "احتیاطاً" رکھ لیا۔ شاید وہ کوئی رسم ہو جس کے بغیر آپ کو لگتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ شاید وہ آپ کی اپنی کارکردگی ہو: اتنے روزے، اتنے باب، اتنی خدمت، اور جس ہفتے یہ حساب پورا نہ ہو، اُس ہفتے آپ خدا سے نظریں چرانے لگتے ہیں، جیسے آپ کی قبولیت آپ کے ریکارڈ پر کھڑی ہو۔ کلسیوں کا خط اِس پورے ڈھانچے کو ہلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ پہلے ہی اُس میں معمور ہو چکے ہیں۔
یہ بات آپ کے کام کی جگہ پر چُبھتی ہے، جہاں آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی قیمت آپ کے عہدے سے طے ہوتی ہے۔ یہ آپ کے گھر میں چُبھتی ہے، جہاں برسوں پرانی شکایت کسی رشتے کو اندر ہی اندر کھا رہی ہے اور آپ کہتے ہیں "میں معاف نہیں کر سکتا"۔ کلسیوں 3:13 آپ کے جذبات کا انکار نہیں کرتی، مگر وہ آپ کو صلیب کے سامنے لے جا کر پوچھتی ہے: آپ کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا؟ یہ بات آپ کے پیسوں اور وقت پر بھی اثر ڈالتی ہے، کیونکہ کلسیوں 3:2 آپ سے کہتی ہے کہ عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہیں؛ اور آپ کا بینک اسٹیٹمنٹ اور آپ کا موبائل اسکرین ٹائم دونوں بتا دیتے ہیں کہ آپ کا خیال اصل میں کہاں رہتا ہے۔
اور اگر آپ تنہا ہیں، اگر بیماری نے آپ کے بدن کو کمزور کر دیا ہے، اگر دعا بے جواب لگتی ہے، تو کلسیوں 1:27 آپ کے لیے سب سے بڑی خبر ہے: مسیح آپ سے دور آسمان میں بیٹھا ہوا کوئی اجنبی نہیں، وہ آپ میں رہتا ہے، اور وہی آپ کے جلال کی امید ہے۔ اِسی لیے کلسیوں 4:2 کا حکم بوجھ نہیں بلکہ دعوت ہے: دعا میں مشغول رہیں، بیدار رہیں، شکرگزاری کے ساتھ۔ آپ ایک خالی آسمان سے باتیں نہیں کر رہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو کلسیوں کا خط سمجھانے کے لیے بڑی اصطلاحوں کی ضرورت نہیں۔ ایک سادہ تصویر کافی ہے۔ اُن سے کہیے کہ تصور کریں، کسی نے اُنہیں دنیا کا سب سے مزیدار کھانا بھر پیٹ کھلا دیا ہو، اور پھر کوئی آ کر کہے، "بھوکے تو نہیں رہ گئے؟ تھوڑا اور کچھ چاہیے؟" کلسّی کے مسیحیوں کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ اُنہیں یسوع مل چکے تھے، اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ یسوع کافی نہیں۔ پولس نے جیل سے خط لکھا اور بتایا کہ یسوع ہی سب کچھ ہیں: اُنہوں نے سارا جہان بنایا، وہ سب پر سردار ہیں، اور وہ ہمیں اپنا بنا لیتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ اِس خط کی تین باتیں دہرائی جا سکتی ہیں: یسوع سب سے بڑے ہیں، یسوع نے ہماری ساری غلطیوں کی فہرست صلیب پر مٹا دی، اور اِسی لیے ہم بھی ایک دوسرے کو معاف کرتے ہیں۔ یہ آخری بات چھوٹے بچوں کے دل سے بہت قریب ہے، کیونکہ بہن بھائیوں کی لڑائی اُن کی روزمرہ کی حقیقت ہے۔ کلسیوں 3:13 کو اپنے گھر کی زبان میں سمجھائیے: "جیسے خداوند نے ہمیں معاف کیا، ویسے ہی ہم بھی معاف کرتے ہیں۔"
ہر عمر کے بچے کی سمجھ مختلف ہوتی ہے، اِس لیے فیتھ نیٹ ورک پر اِسی موضوع کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے ننھے بچوں کے لیے کہانی اور تصویر کے انداز میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال جواب اور سرگرمی کے ساتھ، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے اُن سوالوں کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، مثلاً دوسرے عقائد، دباؤ اور شناخت کے بارے میں۔ اُنہیں ضرور دیکھیے اور اپنے بچوں کی عمر کے مطابق چنیے۔
اس خط کو پڑھنے کی عملی رہنمائی
سب سے پہلے پورا خط ایک ہی نشست میں پڑھیے۔ چار ابواب ہیں، تقریباً پندرہ منٹ لگیں گے، اور یہی وہ تجربہ ہے جو کلسّی کی کلیسیا نے کیا تھا جب تُخِکُس نے کھڑے ہو کر اُنہیں یہ خط سنایا۔ کوشش کیجیے کہ آواز سے پڑھیں۔
پھر دوسری بار پڑھتے ہوئے ایک قلم لیجیے اور ہر جگہ "مسیح میں"، "اُس میں"، "اُسی کے وسیلے سے" جیسے الفاظ کے نیچے لکیر کھینچیے۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ خط کتنی بار اِسی ایک مرکز کی طرف لوٹتا ہے۔ تیسری بار دوسرے باب کو آہستہ پڑھیے اور ایک کاغذ پر وہ ساری چیزیں لکھیے جو جھوٹے اُستاد مسیح میں جوڑنا چاہتے تھے، اور اُن کے سامنے پولس رسول کا جواب لکھیے۔
چوتھے مرحلے میں باب تین اور چار کو دعا کے ساتھ پڑھیے اور صرف ایک حکم چنیے جس پر آپ اِس ہفتے عمل کریں گے، مثلاً کلسیوں 3:13 کی روشنی میں کسی ایک شخص کو معاف کرنا، یا کلسیوں 4:2 کے مطابق ہر صبح پانچ منٹ شکرگزاری کی دعا۔ اور اگر آپ کے پاس مزید وقت ہو تو کلسیوں کے ساتھ افسیوں کا خط اور فلیمون کا مختصر خط بھی پڑھیے؛ تینوں ایک ہی قید خانے کی روشنی میں لکھے گئے اور ایک دوسرے کو روشن کرتے ہیں۔ ایک مہینے کے لیے روزانہ آدھا باب، یہی کافی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کلسیوں کا خط کس نے لکھا؟
خط اپنے پہلے ہی جملے میں بتاتا ہے کہ اِسے پولس رسول نے لکھا، اور بھائی تیمُتھیُس اُن کے ساتھ شامل ہیں۔ آخری باب میں پولس رسول اپنے ہاتھ سے سلام لکھتے ہیں اور اپنی قید کا ذکر کرتے ہیں۔ بعض جدید محققین زبان اور اسلوب کے فرق کی بنا پر سوال اُٹھاتے ہیں، مگر یہ فرق موضوع کے فرق سے آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے، اور قدیم کلیسیا نے ابتدا ہی سے اِس خط کو بلا جھجک پولس رسول کا مانا۔ فلیمون کے خط سے اِس کے ناموں کی قریبی مطابقت بھی اِسی کی تصدیق کرتی ہے۔
کلسیوں کا خط کب اور کہاں سے لکھا گیا؟
روایتی اور سب سے مضبوط رائے یہ ہے کہ یہ خط روم کی قید سے تقریباً ساٹھ سے باسٹھ عیسوی کے درمیان لکھا گیا، اُسی زمانے میں جب افسیوں اور فلیمون کے خط بھی لکھے گئے۔ کچھ عالِم قیصریہ یا اِفسس کی قید کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے تاریخ کچھ پہلے چلی جاتی ہے، مگر پیغام پر اِس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مسیح کی سرداری کا یہ سب سے بلند اعلان ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کے قلم سے نکلا۔
کلسّی شہر کہاں تھا اور وہاں کلیسیا کیسے قائم ہوئی؟
کلسّی موجودہ ترکی کے علاقے فروگیہ میں، لوکس دریا کی وادی میں واقع تھا، لودیکیہ اور ہیراپلس کے قریب۔ کبھی یہ اُون کی تجارت کا اہم مرکز تھا مگر پولس رسول کے دور تک اِس کی اہمیت گھٹ چکی تھی۔ پولس رسول خود کبھی وہاں نہیں گئے، جیسا کہ کلسیوں 2:1 میں وہ خود لکھتے ہیں۔ کلیسیا غالباً اُس وقت قائم ہوئی جب پولس رسول اِفسس میں خدمت کر رہے تھے اور اِپَفراس وہاں سے خوشخبری لے کر اپنے آبائی شہر پہنچا۔
کلسّی کی جھوٹی تعلیم اصل میں کیا تھی؟
خط سے جو تصویر بنتی ہے وہ ایک ملی جلی تعلیم کی ہے: یہودی رسوم جیسے کھانے پینے کے قاعدے، عیدیں، نیا چاند اور سبت؛ سخت جسمانی پرہیز اور خود ساختہ عبادت؛ فرشتوں کی پرستش اور رویا کے دعوے؛ اور ایک "فلسفہ" جو دنیوی ابتدائی باتوں پر مبنی تھا۔ یہ تعلیم مسیح کا صریح انکار نہیں کرتی تھی، بلکہ مسیح کو ناکافی بتاتی تھی۔ پولس رسول کا جواب بحث در بحث نہیں بلکہ مسیح کی معموری کا اعلان ہے۔
کلسیوں 1:15 میں "تمام مخلوقات سے پہلے مولود" کا کیا مطلب ہے، کیا یسوع مسیح مخلوق ہیں؟
نہیں۔ بائبل میں "پہلوٹھا" اکثر وقت کی ترتیب نہیں بلکہ درجہ، ورثہ اور اقتدار ظاہر کرتا ہے، جیسے زبور 89:27 میں داؤد کو پہلوٹھا کہا گیا حالانکہ وہ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ خود اگلی آیت فیصلہ کر دیتی ہے: آسمان اور زمین کی سب چیزیں اُسی کے وسیلے سے اور اُسی کے لیے پیدا ہوئیں۔ خالق مخلوق کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکتا۔ کلسیوں 2:9 اِسے اور پکا کر دیتی ہے کہ الوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر بستی ہے۔
کلسیوں اور افسیوں کے خط میں کیا فرق ہے؟
دونوں خط ایک ہی زمانے میں لکھے گئے اور بہت سی عبارتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں، مگر اُن کا زور مختلف ہے۔ افسیوں میں مرکزی موضوع کلیسیا ہے، یعنی مسیح کا بدن، اور مسیح اُس بدن کے سر کے طور پر پیش ہوتے ہیں۔ کلسیوں میں مرکز خود مسیح کی ذات اور کفایت ہے، اور کلیسیا کا ذکر اُسی روشنی میں آتا ہے۔ یوں افسیوں ایک پُرسکون تعلیمی خط لگتا ہے، جبکہ کلسیوں ایک ہنگامی خط ہے جو ایک خاص خطرے کا جواب دے رہا ہے۔
کیا کلسیوں 2:16 کا مطلب یہ ہے کہ مسیحیوں پر سبت اور عیدوں کی پابندی لازم نہیں؟
یہی پولس رسول کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی کھانے پینے، عید، نئے چاند یا سبت کے بارے میں تم پر الزام نہ لگائے، کیونکہ یہ سب آنے والی باتوں کا سایہ ہیں اور اصل چیز مسیح کی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آرام کا دن یا عبادت کے دن بے معنی ہیں؛ مطلب یہ ہے کہ وہ نجات کی شرط یا روحانی برتری کا پیمانہ نہیں۔ جو سائے کو پکڑ کر اصل سے منہ موڑ لے، وہی خطرے میں ہے۔
کلسیوں 3:2 میں "عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو" کا عملی مطلب کیا ہے؟
اِس کا مطلب دنیا سے بھاگنا یا اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دینا نہیں۔ پولس رسول اگلی ہی آیتوں میں کام، گھر، شادی، بچوں اور بول چال کی بات کرتے ہیں۔ عالمِ بالا کے خیال میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے فیصلوں کا مرکز وہ مسیح ہو جو خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہے، اور آپ کی اصل شناخت زمین کی کامیابیوں یا ناکامیوں سے نہیں بلکہ اُس سے طے ہو۔ عملی طور پر یہ آپ کے پیسے، وقت اور ناراضگیوں کے استعمال میں دکھائی دیتا ہے۔
کلسیوں 1:24 میں "مسیح کی مصیبتوں کی کمی" سے کیا مراد ہے؟
پولس رسول یہ ہرگز نہیں کہہ رہے کہ صلیب کا کفارہ ادھورا تھا؛ یہی خط کہتا ہے کہ قرض کی تحریر مٹا دی گئی اور میل مکمل ہو گیا۔ وہ اُن دکھوں کی بات کر رہے ہیں جو مسیح کے بدن یعنی کلیسیا کو خوشخبری کی خاطر اِس دنیا میں اُٹھانے پڑتے ہیں۔ پولس رسول اپنی قید اور تکلیف کو اُسی حصے کا ادا کرنا سمجھتے ہیں، اور وہ اِس پر خوش ہیں، کیونکہ اُن کے دکھوں کے ذریعے دوسروں تک وہ بھید پہنچتا ہے جس کا ذکر کلسیوں 1:27 میں ہے۔
فرشتوں کی پرستش کا مسئلہ کیا تھا اور کیا یہ آج بھی ہوتا ہے؟
کلسّی میں کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ خدا تک رسائی کے لیے درمیانی روحانی ہستیوں کی خوشامد ضروری ہے، اور وہ اِسے "فروتنی" کا نام دیتے تھے۔ پولس رسول اِسے جھوٹی فروتنی کہتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ مسیح ہر حکومت اور اختیار کا سر ہے اور اُس نے صلیب پر اُن پر فتح پائی۔ آج یہی سوچ مختلف شکلوں میں لوٹ آتی ہے، مثلاً تعویذ، دم درود، یا کسی واسطے کے بغیر خدا تک نہ پہنچ سکنے کا خوف۔ جواب وہی ہے: مسیح کافی ہے۔
"مسیح میں" ہونے کا مطلب کیا ہے؟
یہ کلسیوں کے خط کا سب سے بار بار دہرایا جانے والا خیال ہے۔ اِس کا مطلب محض یہ نہیں کہ آپ مسیح کی تعلیم مانتے ہیں، بلکہ یہ کہ خدا کی نظر میں آپ کی شناخت اب مسیح کے ساتھ جُڑ چکی ہے: آپ اُس کے ساتھ مرے، اُس کے ساتھ دفن ہوئے، اُس کے ساتھ جِلائے گئے، اور آپ کی زندگی مسیح کے ساتھ خدا میں پوشیدہ ہے۔ اِسی لیے کلسیوں 2:6 کہتی ہے کہ جس طرح آپ نے اُسے قبول کیا اُسی طرح اُس میں چلتے رہیں۔
کلسیوں 4:16 میں لودیکیہ کے خط کا ذکر ہے، وہ خط کہاں ہے؟
پولس رسول ہدایت دیتے ہیں کہ یہ خط لودیکیہ کی کلیسیا میں بھی پڑھا جائے اور وہاں سے آنے والا خط کلسّی میں بھی۔ وہ خط ہمارے پاس محفوظ نہیں، اور کئی عالِم خیال کرتے ہیں کہ وہ دراصل افسیوں کا وہی خط تھا جو کئی کلیسیاؤں میں گھوم رہا تھا۔ اِس سے بائبل میں کوئی کمی نہیں آتی؛ خدا نے وہی کلام محفوظ رکھا جو اُس کی کلیسیا کے لیے ہر زمانے میں ضروری تھا، اور کلسیوں کا خط خود اپنی گواہی میں مکمل ہے۔
کیا کلسیوں کا خط غلامی کی حمایت کرتا ہے؟
نہیں۔ پولس رسول اپنے زمانے کے ایک موجود ادارے کے اندر مسیحی رویہ سکھاتے ہیں، مگر ساتھ ہی اُس کی بنیاد کھود دیتے ہیں۔ وہ مالکوں کو بھی جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ آسمان پر اُن کا بھی ایک مالک ہے جو کسی کا طرفدار نہیں۔ کلسیوں 3:11 اعلان کرتی ہے کہ مسیح میں نہ غلام رہا نہ آزاد، اور ساتھ بھیجا گیا فلیمون کا خط ایک بھاگے ہوئے غلام کو "پیارے بھائی" کے طور پر واپس بھیجتا ہے۔ یہی بیج تھا جس نے بعد میں غلامی کی جڑ کاٹی۔
اختتام میں
کلسیوں کا خط ایک چھوٹے سے قصبے کی چھوٹی سی کلیسیا کے نام لکھا گیا تھا، مگر اِس میں نئے عہدنامے کے سب سے بلند جملے موجود ہیں۔ اِس کا پورا پیغام ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے: مسیح کافی ہے، اور جو مسیح میں ہے وہ خالی ہاتھ نہیں۔ جھوٹی تعلیم آج بھی وہی پرانی چال چلتی ہے، وہ مسیح کو چھیننے نہیں آتی، وہ مسیح کے آگے ایک جمع کا نشان لگانے آتی ہے؛ اور ہر وہ چیز جو اُس نشان کے بعد آتی ہے، چاہے وہ رسم ہو، پرہیز ہو، خاص علم ہو یا ہماری اپنی کارکردگی، وہ خاموشی سے کہتی ہے کہ صلیب ادھوری تھی۔
اِسی لیے یہ خط پڑھنے کے بعد سب سے بہتر قدم یہ ہے کہ آپ کاغذ پر اپنی زندگی کا وہ ایک "اور" لکھیں جس پر آپ چپکے چپکے بھروسہ کرتے آئے ہیں، اور اُسے دعا میں خداوند یسوع مسیح کے قدموں میں رکھ دیں۔ پھر کلسیوں 2:6 کو زبانی یاد کیجیے اور ایک مہینے تک روزانہ دہرائیے۔ آگے بڑھنے کے لیے افسیوں اور فلیمون کے خط ساتھ پڑھیے، اور مسیح کی ذات پر مزید غور کرنے کے لیے یوحنا 1 اور عبرانیوں 1 کو کھولیے۔
