قضاۃ کی کتاب کا تعارف اور پیغام
تعارف
ایک کسان اپنے ہی کھیت میں چور کی طرح کام کر رہا ہے۔ گندم گاہنے کی جگہ کھلا کھلیان ہوتا ہے، جہاں ہوا بھوسا اُڑا لے جاتی ہے؛ مگر یہ آدمی انگور کا رس نکالنے کے گڑھے میں چھپ کر، جھک کر، جلدی جلدی دانے جھاڑ رہا ہے، کہ کہیں مِدیانی دیکھ نہ لیں۔ اُس کا نام جدعون ہے۔ اور اِسی خوف زدہ، جھکے ہوئے آدمی سے خداوند کا فرشتہ کہتا ہے: "اے زبردست سُورما، خداوند تیرے ساتھ ہے۔"
قضاۃ کی کتاب ایسی ہی ہے۔ بظاہر یہ بہادروں کی داستان ہے، مگر اندر سے یہ ایک قوم کے ٹوٹنے، بار بار گرنے، اور ایک ایسے خدا کی کہانی ہے جو بار بار جھک کر اپنی بگڑی ہوئی اولاد کو اُٹھاتا ہے۔ اِس صفحے پر آپ جانیں گے کہ یہ کتاب کس نے، کب اور کیوں لکھی؛ اِس کا ڈھانچہ کیسے بنا ہے؛ اِس کے بڑے موضوعات کیا ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر، یہ کتاب آخرکار کس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
ہم قضاۃ کو "ایمان کے ہیروز کی کتاب" کے طور پر نہیں پڑھیں گے۔ یہ کتاب خود کو ایسے پیش نہیں کرتی۔ یہ ایک نیچے کو جاتا ہوا مرغولہ ہے: ہر قاضی پچھلے سے کمزور، ہر نجات پچھلی سے زیادہ داغدار، اور آخری پانچ باب تو ایسے ہیں جن میں کوئی قاضی ہے ہی نہیں۔ یعنی مصنف جان بوجھ کر ہمیں مایوس کرتا ہے، تاکہ ہمارے اندر ایک بھوک پیدا ہو: ایسے نجات دہندہ کی بھوک جو مرے نہیں، بگڑے نہیں، اور لوگوں کو پھر سے یتیم نہ چھوڑے۔ اِس زاویے سے قضاۃ کوئی نقشہ نہیں جس کی نقل کی جائے، بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنا چہرہ اور خدا کا صبر دونوں دیکھتے ہیں۔
بائبل قضاۃ کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
قضاۃ کی کتاب یشوع کی موت کے بعد اور سموئیل کے زمانے سے پہلے کے تقریباً ساڑھے تین سو سال پر محیط ہے۔ عبرانی بائبل میں یہ "اگلے انبیا" (یشوع، قضاۃ، سموئیل، سلاطین) میں شمار ہوتی ہے، یعنی اِسے محض تاریخ نہیں بلکہ نبوّتی تاریخ سمجھا گیا: واقعات اِس لیے لکھے گئے کہ خدا کے عہد کی روشنی میں قوم کو اپنی حالت دکھائی جائے۔
کتاب خود اپنے مصنف کا نام نہیں بتاتی۔ قدیم یہودی روایت (تلمود) اِسے سموئیل نبی سے منسوب کرتی ہے، اور یہ بے وجہ نہیں؛ سموئیل اُس نسل کے گواہ تھے جس میں قاضیوں کا دور ختم ہوا اور بادشاہت شروع ہوئی۔ کتاب کے اندر سے کچھ اشارے بھی ملتے ہیں: بار بار دہرایا جانے والا جملہ "اُن دِنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا" بتاتا ہے کہ لکھنے والا ایسے وقت میں لکھ رہا ہے جب بادشاہ موجود ہے؛ اور یروشلیم کا یبوسیوں کے قبضے میں ہونا (باب 19) داؤد کی فتحِ یروشلیم سے پہلے کی یادداشت کو تازہ رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر زیادہ تر عالم اِسے بادشاہت کے ابتدائی دور کی تالیف سمجھتے ہیں، جس میں پرانے قبائلی بیانات، گیت (جیسے دبورہ کا گیت، باب 5) اور یادداشتیں خدا کے الہام کے تحت ایک واضح مقصد کے ساتھ ترتیب دی گئیں۔
اور وہ مقصد کتاب خود کھول کر بیان کر دیتی ہے۔ دوسرے باب میں ہمیں پوری کتاب کا خلاصہ مل جاتا ہے، گویا کسی نے سرورق پر ہی پلاٹ لکھ دیا ہو۔ پہلے نجات: "پھر خداوند نے قاضی برپا کئے جنہوں نے اُن کو غارت گروں کے ہاتھ سے چھڑایا" (قضاۃ 2:16)۔ غور کیجیے کہ فاعل کون ہے۔ قاضی خود کو برپا نہیں کرتے، قوم اُنہیں منتخب نہیں کرتی؛ خداوند اُنہیں کھڑا کرتا ہے۔ قضاۃ کی ہر نجات اوپر سے آتی ہے، نیچے سے نہیں۔
مگر فوراً بعد وہ آیت آتی ہے جو اِس کتاب کا دل توڑ دیتی ہے: "لیکن جب وہ قاضی مَر جاتا تو وہ پھر جاتے اور اپنے باپ دادا سے بھی زیادہ بگڑ جاتے اور غیر معبودوں کی پیروی کر کے اُن کی عبادت کرتے اور اُن کو سجدہ کرتے تھے اور اپنے کاموں اور اپنی ضِد کی روِش کو نہ چھوڑتے تھے" (قضاۃ 2:19)۔ یہاں دو لفظ خاص طور پر چبھتے ہیں: "اپنے باپ دادا سے بھی زیادہ"۔ یہ دائرہ نہیں، یہ مرغولہ ہے۔ ہر چکر پچھلے چکر سے نیچے ہے۔ قوم وہیں واپس نہیں آتی جہاں سے گری تھی؛ وہ اُس سے بھی نیچے گرتی ہے۔
اِسی لیے قضاۃ کو صرف "گناہ، سزا، فریاد، نجات" کے چار مرحلوں کا دائرہ کہنا ناکافی ہے۔ ہاں، یہ ترتیب موجود ہے: قوم خداوند کی نظر میں بدی کرتی ہے، خدا اُنہیں دشمنوں کے ہاتھ میں کر دیتا ہے، وہ کراہتے ہیں، خدا کسی کو کھڑا کرتا ہے، اور ملک میں چند برس کا چین ہوتا ہے۔ مگر اِس ترتیب کے اندر ایک مسلسل زوال ہے؛ اور ساتھ ہی ایک مسلسل رحم۔ دسویں باب میں ایک حیرت انگیز جملہ آتا ہے کہ خداوند کی جان اسرائیل کے دُکھ کے سبب سے غمگین ہوئی۔ یہی کتاب کا توازن ہے: قوم کی ضد بڑھتی جاتی ہے، اور خدا کی شفقت ختم نہیں ہوتی۔
اور پھر کتاب کا آخری جملہ، جو ایک تشخیص بھی ہے اور ایک پکار بھی: "اُن دِنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ ہر شخص جو کچھ اُس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا" (قضاۃ 21:25)۔ قضاۃ کا پیغام یہی ہے کہ جب لوگ اپنی اپنی آنکھوں کو حرفِ آخر بنا لیتے ہیں تو آزادی نہیں، انتشار پیدا ہوتا ہے۔
قاضی مرتے رہے؛ خدا کی وفاداری نہ مری۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
قضاۃ ایک پل ہے۔ ایک طرف یشوع کی کتاب ہے، جہاں ملک تقسیم ہو چکا ہے اور وعدے پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں؛ دوسری طرف سموئیل کی کتابیں ہیں، جہاں قوم بادشاہ مانگتی ہے۔ قضاۃ ہمیں بتاتی ہے کہ درمیان میں کیا ہوا: نسل بدلی، اور نئی نسل نے "نہ خداوند کو جانا اور نہ اُس کام کو جو اُس نے اسرائیل کے لئے کیا تھا" (قضاۃ 2:10 کا مفہوم)۔ ایمان وراثت میں نہیں ملتا؛ ہر نسل کو خود خداوند کو جاننا پڑتا ہے۔
پرانے عہد نامے میں قضاۃ کی گونج بار بار سنائی دیتی ہے۔ 1 سموئیل 8 میں جب قوم بادشاہ مانگتی ہے تو وہ قضاۃ کے زخموں ہی سے بول رہی ہے؛ مگر اُن کی خرابی یہ ہے کہ وہ "اور قوموں کی مانند" بادشاہ چاہتے ہیں، نہ کہ خدا کا مقرر کردہ چرواہا۔ زبور 106 اسرائیل کی اِسی تاریخ کو گا کر دہراتا ہے کہ وہ بار بار سرکش ہوئے اور خدا نے بار بار اُن کے کراہنے پر دھیان دیا۔ نحمیاہ 9 میں کاہن قوم کے سامنے یہی مرغولہ کھول کر رکھتے ہیں: چین، بغاوت، دشمن، فریاد، نجات دہندہ۔ روت کی کتاب جان بوجھ کر "اُن دنوں جب قاضی عدالت کرتے تھے" سے شروع ہوتی ہے، گویا اندھیرے باب کے بیچ میں ایک چراغ رکھ دیا گیا ہو، اور وہ چراغ داؤد کے خاندان تک لے جاتا ہے۔
نئے عہد نامے میں قضاۃ کے کردار ایک ہی آیت میں سمٹ آتے ہیں: "اور اب میں اور کیا کہوں؟ کیونکہ مجھے اِتنی فرصت نہیں کہ جدعون اور برق اور سمسون اور اِفتاح اور داؤد اور سموئیل اور نبیوں کا احوال بیان کروں" (عبرانیوں 11:32)۔ یہ آیت حیران کر دیتی ہے۔ جدعون جس نے بعد میں افود بنا کر قوم کو پھندے میں ڈالا؛ برق جس نے دبورہ کے بغیر جانے سے انکار کیا؛ اِفتاح جس کی بےسوچی منت نے اُس کے گھر کو اجاڑا؛ سمسون جس کی زندگی نفس کی غلامی میں گزری۔ یہ لوگ ایمان کے باب میں کیسے پہنچے؟ جواب یہ ہے کہ عبرانیوں کا مصنف اُن کے کردار کی سند نہیں دے رہا، بلکہ اُس خدا کی سند دے رہا ہے جس پر اُنہوں نے، کمزوری کے باوجود، بھروسا کیا۔ اُسی باب میں لکھا ہے کہ وہ "کمزوری میں زورآور ہوئے"۔ قضاۃ کے سورما ہمیں اپنی طرف نہیں، فضل کی طرف دھکیلتے ہیں۔
اور یہیں سے مسیح کی طرف راستہ کھلتا ہے۔ قضاۃ کی سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں کہ قاضی گنہگار تھے، بلکہ یہ کہ وہ مر جاتے تھے۔ ہر بار جب نجات دہندہ قبر میں اُترتا، قوم پھر لُڑھک جاتی۔ خداوند یسوع مسیح وہ نجات دہندہ ہیں جو مرے، مگر مُردوں میں نہ رہے۔ اُن کی نجات کے بعد کوئی "اور جب وہ قاضی مر گیا" والا جملہ نہیں آتا۔ اور قضاۃ 21:25 کے مقابل، جہاں ہر شخص اپنی نظر میں اچھا کام کرتا تھا، مسیح فرماتے ہیں کہ "میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں"۔ جو قوم نہ کر سکی، وہ بادشاہ نے کر دکھایا: ایک کامل فرمانبرداری، ایک ایسا دل جو اپنی آنکھوں کا نہیں، باپ کی مرضی کا تابع ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
قضاۃ کی عمارت حیرت انگیز طور پر منظم ہے، اور اُس کی ترتیب ہی اُس کا پیغام ہے۔ کتاب کے دو تعارف ہیں، ایک لمبا درمیانی حصہ، اور دو اختتامیے۔
پہلا تعارف (1:1 سے 2:5) فوجی ہے۔ یہاں قبیلہ در قبیلہ بتایا جاتا ہے کہ کس نے کنعانیوں کو نہ نکالا۔ یہوداہ سے آغاز ہوتا ہے، جو نسبتاً کامیاب ہے، اور پھر فہرست شمال کی طرف بڑھتی جاتی ہے اور ناکامیاں بڑھتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ دان کا قبیلہ اپنے ہی علاقے سے پہاڑوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ محض فوجی رپورٹ نہیں؛ یہ ادھوری فرمانبرداری کی فہرست ہے۔ قوم نے بتوں کو نہ مٹایا، معاہدے کر لیے، اور خداوند کا فرشتہ بوکیم میں آ کر کہتا ہے کہ اب یہ قومیں تمہارے پہلوؤں میں کانٹے بنیں گی۔ ادھوری اطاعت وقتی سہولت دیتی ہے اور نسلوں کا زخم چھوڑ جاتی ہے۔
دوسرا تعارف (2:6 سے 3:6) دینی ہے۔ یہاں وہ تھیسس بیان ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا: قاضی برپا ہوتے ہیں، نجات ملتی ہے، قاضی مرتا ہے، قوم پہلے سے بدتر ہو جاتی ہے۔ قضاۃ 2:16 اور قضاۃ 2:19 اِسی حصے کے دو ستون ہیں۔
درمیانی حصہ (3:7 سے 16:31) بارہ قاضیوں کا بیان ہے۔ چھ کا تفصیل سے ذکر ہے: غُتنی ایل، اہود، دبورہ اور برق، جدعون، اِفتاح اور سمسون۔ چھ کا مختصر: شمجر، تولع، یائیر، اِبضان، ایلون اور عبدون۔ اور درمیان میں ابی مَلِک ہے، جو قاضی نہیں بلکہ قاضی کا اُلٹ ہے: اپنے ستر بھائیوں کو قتل کر کے خود کو بادشاہ بنانے والا۔
اب اُس مرغولے پر غور کیجیے جو ہمارا زاویہ ہے۔ غُتنی ایل مثالی قاضی ہے: یہوداہ سے، بے داغ، مختصر اور صاف ستھرا بیان۔ اہود کا بیان لمبا اور طنزیہ ہے، ایک بائیں ہاتھ والے کا چھپا ہوا خنجر۔ دبورہ کے باب میں قیادت تو مضبوط ہے مگر مرد سپہ سالار ہچکچاتا ہے اور فتح کا سہرا ایک غیراسرائیلی عورت یاعیل کے سر بندھتا ہے۔ جدعون خوف سے شروع ہوتا ہے، نشان پر نشان مانگتا ہے، شاندار فتح پاتا ہے، اور پھر سونے کا افود بنا کر پورے اسرائیل کو زِنا کاری میں ڈال دیتا ہے؛ اُس کا بیٹا بادشاہ بننے کے لیے خون بہاتا ہے۔ اِفتاح ایک بدنام ماں کا بیٹا ہے جسے خاندان نے نکال دیا تھا؛ وہ خداوند سے سودا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی بےسوچی منت سے اپنی ہی بیٹی کا مستقبل اجاڑ دیتا ہے، پھر بھائیوں کے خلاف خانہ جنگی میں بیالیس ہزار اِفرائیمی مروا دیتا ہے۔ اور سمسون، جو پیدائش سے پہلے مخصوص کیا گیا تھا، اپنی پوری کہانی میں کبھی قوم کی قیادت کرتا نظر نہیں آتا؛ وہ تنہا، اپنی ہوس کے پیچھے، اپنی ذاتی رنجشیں نمٹاتا ہے، اور اندھا اور قیدی ہو کر مرتا ہے۔ قاضی جتنے آگے بڑھتے ہیں، اُتنے ہی نیچے جاتے ہیں۔
اور پھر دو اختتامیے، جن میں کوئی قاضی نہیں۔ باب 17 اور 18 میں میکاہ اپنی ماں کی چاندی سے بُت بنواتا ہے اور ایک گھومتے پھرتے لاوی کو کرائے کا کاہن رکھ لیتا ہے؛ دان کا قبیلہ وہ بُت اور وہ کاہن دونوں چھین کر شمال چلا جاتا ہے اور وہاں اپنی عبادت گاہ قائم کر لیتا ہے۔ باب 19 سے 21 میں ایک لاوی کی حرم کے ساتھ جِبعہ میں ایسا گھناؤنا ظلم ہوتا ہے کہ پڑھتے ہوئے دم گھٹتا ہے، اور اُس کے بعد پوری قوم بنیمین کے قبیلے کو تقریباً مٹا دیتی ہے، پھر اُس قبیلے کو بچانے کے لیے لڑکیاں اغوا کرنے کا منصوبہ بناتی ہے۔ دونوں اختتامیوں پر وہی مہر لگی ہے: کوئی بادشاہ نہ تھا، ہر شخص اپنی نظر میں جو اچھا تھا وہی کرتا تھا۔
بنیادی موضوعات اِسی ڈھانچے سے اُبھرتے ہیں: اوّل، خدا کی وفاداری اور انسان کی بے وفائی کا تضاد۔ دوم، بُت پرستی کا منطقی انجام، یعنی اخلاقی انتشار؛ کتاب دکھاتی ہے کہ جھوٹی عبادت ہمیشہ بگڑے ہوئے رشتوں اور بہائے گئے خون پر ختم ہوتی ہے۔ سوم، خدا کا ناموزوں لوگوں کو چننا: سب سے چھوٹے گھرانے کا سب سے چھوٹا بیٹا، ایک عورت، ایک بدنام ماں کا بیٹا، ایک بائیں ہاتھ والا۔ چہارم، قیادت کا بحران اور سچے بادشاہ کی ضرورت۔ پنجم، فضل: کتاب میں قوم کبھی توبہ کی گہرائی تک نہیں پہنچتی، وہ زیادہ تر صرف درد سے چِلّاتی ہے، اور پھر بھی خدا جواب دیتا ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
قضاۃ 2:16 اِس کتاب کا دروازہ ہے: "پھر خداوند نے قاضی برپا کئے جنہوں نے اُن کو غارت گروں کے ہاتھ سے چھڑایا۔" لفظ "پھر" پر ٹھہریے۔ ابھی ابھی بتایا گیا ہے کہ قوم نے خداوند کو چھوڑا، بعلوں کی پرستش کی، اور خدا کا قہر بھڑکا۔ منطقی طور پر اگلا جملہ سزا کا ہونا چاہیے تھا۔ مگر لکھا ہے "پھر خداوند نے قاضی برپا کئے"۔ نجات اُس وقت آتی ہے جب اُس کا کوئی حق نہیں بنتا۔ اور یہ نجات انسانی تدبیر کا نتیجہ نہیں؛ قوم نے کوئی اصلاحی تحریک نہیں چلائی، کوئی انتخاب نہیں کرایا۔ خدا نے خود اُٹھایا۔ یہ آیت پوری بائبل کی نجات کا نمونہ ہے: مرے ہوؤں کو زندہ کرنے والا خدا۔
قضاۃ 6:14 انفرادی بلاہٹ کا نمونہ ہے: "تب خداوند نے اُس پر نظر کر کے کہا تُو اپنی اِسی طاقت میں جا اور بنی اسرائیل کو مِدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔ کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟" جدعون کی "اِسی طاقت" کیا تھی؟ ایک گڑھے میں چھپ کر گندم جھاڑنے والا خوف زدہ آدمی، جس نے ابھی ابھی شکایت کی تھی کہ اگر خداوند ہمارے ساتھ ہے تو یہ سب کیوں ہوا۔ اُس کی طاقت اُس کے بازو میں نہیں تھی؛ اُس کی طاقت وہ جملہ تھا: "کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟" بھیجنے والے کی گواہی ہی بھیجے جانے والے کی قوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا بعد میں اُس کی فوج بتیس ہزار سے کم کر کے تین سو کر دیتا ہے؛ وہ فتح چاہتا تھا، مگر ایسی فتح جس کا سہرا کوئی اپنے سر نہ باندھ سکے۔
قضاۃ 21:25 کتاب کی آخری سطر ہے اور اُس کی تشخیص: "اُن دِنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ ہر شخص جو کچھ اُس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا۔" یہ جملہ کسی آزاد خیالی کی تعریف نہیں، ایک ماتم ہے۔ قوم نے شریعت نہیں کھوئی تھی، وہ موجود تھی؛ اُنہوں نے صرف یہ طے کر لیا تھا کہ فیصلہ کُن معیار اُن کی اپنی آنکھ ہے۔ اور نتیجہ بُت، اغوا، خانہ جنگی اور قبیلے کی تباہی نکلا۔ اِس آیت کو پڑھ کر پورا صحیفہ آگے جھکتا ہے، اُس بادشاہ کی طرف جو آ رہا ہے۔
اِن تین کے ساتھ دو اور آیتیں اِس کتاب کے مزاج کو کھولتی ہیں۔ قضاۃ 4:4 ہمیں بتاتی ہے: "اور دبورہ نام ایک نبیہ جو لپیدوت کی بیوی تھی اُس وقت بنی اسرائیل کی قاضی تھی۔" ایسے زمانے میں جب مردوں کی قیادت بیٹھ چکی تھی، خدا نے ایک عورت کو کھڑا کیا جو کھجور کے درخت تلے بیٹھ کر قوم کے جھگڑے نمٹاتی تھی اور جس کی زبان سے خداوند کا کلام نکلتا تھا۔ اور قضاۃ 13:5 میں سمسون کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے: "کیونکہ دیکھ تُو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا اور اُس کے سر پر اُسترا نہ پھرے گا اِس لئے کہ وہ لڑکا پیٹ ہی سے خدا کا نذیر ہو گا اور وہ بنی اسرائیل کو فلستیوں کے ہاتھ سے چھڑانا شروع کرے گا۔" لفظ "شروع کرے گا" چونکا دینے والا ہے۔ یہ نذیر کام مکمل نہیں کرے گا۔ خدا خود، پہلے سے، اعلان کر دیتا ہے کہ یہ نجات ادھوری ہو گی۔ مرغولہ یہاں اپنی تہہ کو چھو لیتا ہے، اور ہماری نظر مجبوراً آگے اُٹھتی ہے۔
اس کتاب کو پڑھنے کا عملی رہنما
قضاۃ کو ٹکڑوں میں پڑھنے سے اکثر غلط فہمی ہوتی ہے؛ اِسے بہاؤ میں پڑھیے۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اِسے پانچ نشستوں میں بانٹ لیا جائے۔ پہلی نشست میں باب 1 سے 3:6 تک پڑھیے اور صرف یہ نوٹ کیجیے کہ قوم کہاں کہاں "ادھوری اطاعت" کرتی ہے اور خدا اُس کا کیا نتیجہ بتاتا ہے۔ دوسری نشست میں باب 3:7 سے 5 تک، یعنی غُتنی ایل، اہود، شمجر اور دبورہ؛ یہاں دبورہ کے گیت (باب 5) کو زور سے پڑھیے، کیونکہ وہ گیت ہے اور گیت سننے کے لیے بنے ہوتے ہیں۔ تیسری نشست میں باب 6 سے 9 تک، جدعون اور ابی مَلِک؛ دھیان رکھیے کہ جدعون کی کہانی فتح پر ختم نہیں ہوتی بلکہ افود اور خون پر ختم ہوتی ہے۔ چوتھی نشست میں باب 10 سے 16 تک، اِفتاح اور سمسون۔ اور پانچویں نشست میں باب 17 سے 21 تک، وہ تاریک اختتامیے جنہیں لوگ عموماً چھوڑ دیتے ہیں؛ حالانکہ اُنہی کے بغیر کتاب کا پیغام ادھورا رہ جاتا ہے۔
پڑھتے وقت تین سوال ساتھ رکھیے۔ پہلا: اِس واقعے میں خدا کیا کر رہا ہے؟ کتاب انسانوں کے کاموں کی تفصیل دیتی ہے، مگر اصل کردار خداوند ہے جو برپا کرتا، چھڑاتا، صبر کرتا اور غمگین ہوتا ہے۔ دوسرا: کیا مصنف اِس عمل کی تعریف کر رہا ہے یا صرف رپورٹ کر رہا ہے؟ بائبل بہت سی چیزیں بیان کرتی ہے جن کی وہ ہرگز تائید نہیں کرتی؛ اِفتاح کی منت اور جِبعہ کا واقعہ اِسی قسم کے ہیں۔ تیسرا: یہ باب میرے اندر کس چیز کی بھوک پیدا کر رہا ہے؟
ساتھ میں دو چیزیں پڑھنا بہت مددگار ہے۔ قضاۃ ختم کر کے فوراً روت کی کتاب پڑھیے؛ وہ اُسی اندھیرے زمانے کی کہانی ہے، مگر وہاں ایک خاندان وفاداری سے جیتا ہے اور خدا اُس سے داؤد کا سلسلہ نکالتا ہے۔ اور پھر عبرانیوں 11 پڑھیے، خاص طور پر عبرانیوں 11:32، تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ خدا اِن ٹوٹے پھوٹے لوگوں کو کس نظر سے یاد کرتا ہے۔ اگر آپ ہر نشست کے بعد ایک جملہ لکھ لیں، "آج میں نے خدا کے بارے میں کیا سیکھا"، تو پانچ جملوں میں آپ کے پاس پوری کتاب کا نچوڑ ہو گا۔
آئینہ
آپ نے کبھی غور کیا کہ قضاۃ کا مرغولہ آپ کی اپنی زندگی میں کس شکل میں چلتا ہے؟ وہ کون سی عادت ہے جس سے آپ نے پانچ بار توبہ کی اور پانچ بار واپس لوٹ گئے؟ وہ کون سا غصہ ہے جو گھر میں ہر چند مہینے بعد پھٹتا ہے، اور ہر بار پہلے سے تھوڑا زیادہ نقصان کر جاتا ہے؟ قضاۃ 2:19 آپ کے بارے میں بھی ایک سچ بولتی ہے: جب دباؤ ہٹ جاتا ہے، جب درد کم ہو جاتا ہے، جب وہ "قاضی" مر جاتا ہے جو ہمیں قابو میں رکھے ہوئے تھا، تو دل اپنی پرانی ڈگر پر لوٹ آتا ہے۔
غور کیجیے کہ اسرائیل نے بُت کیوں رکھے۔ بعل بارش کا دیوتا تھا اور عستارات زرخیزی کی دیوی۔ یعنی مسئلہ فلسفہ نہیں تھا، فصل تھی۔ اُنہیں ڈر تھا کہ اگر ہم نے صرف خداوند پر بھروسا کیا تو کھیت سوکھ جائے گا۔ آپ کے بُت بھی شاید اِسی خوف سے جنم لیتے ہیں۔ بینک کا بیلنس، نوکری کی حفاظت، لوگوں کی رائے، بچوں کی کامیابی، جسم کی شکل، موبائل کی وہ اسکرین جو تنہائی کے لمحے میں سب سے پہلے کھلتی ہے۔ ہم خداوند کو چھوڑتے نہیں؛ ہم اُس کے ساتھ ساتھ ایک انشورنس پالیسی رکھ لیتے ہیں۔ قضاۃ کہتی ہے کہ وہی پالیسی ہمارے پہلو کا کانٹا بن جاتی ہے۔
اور وہ آخری جملہ، کہ ہر شخص جو اُس کی نظر میں اچھا تھا وہی کرتا تھا؟ یہ ہمارے زمانے کا نعرہ ہے۔ "میرا دل مطمئن ہے"، "مجھے تو یہی ٹھیک لگتا ہے"، "میں کسی کو جواب دہ نہیں"۔ یہ آزادی کی زبان لگتی ہے، مگر قضاۃ ہمیں اُس کا انجام دکھاتی ہے: بکھرے رشتے، اکیلے لوگ، اور ایسے زخم جو اگلی نسل بھرتی ہے۔
مگر یہی آئینہ آپ کو آزاد بھی کرتا ہے۔ کیونکہ اِس پوری کتاب میں خدا ایک بار بھی یہ نہیں کہتا، "بس، اب میں تم سے تنگ آ گیا"۔ وہ قاضی پر قاضی بھیجتا رہتا ہے، اور آخرکار اپنے بیٹے کو بھیج دیتا ہے۔ اگر آپ آج اپنے ہی مرغولے سے تھک چکے ہیں، تو یہ کتاب آپ کو شرمندہ کرنے نہیں، آپ کو اُس تک لانے آئی ہے جو مرتا نہیں۔
آپ کی ناکامی خدا کی وفاداری سے بڑی نہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو قضاۃ سنانا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان اِس لیے کہ اِس میں کہانیاں ہیں: تین سو آدمی، گھڑے، مشعلیں، نرسنگے؛ کیلیں اور ہتھوڑیاں؛ لمبے بالوں والا طاقتور آدمی۔ مشکل اِس لیے کہ اِسی کتاب میں ایسے باب ہیں جو بڑوں کا دل بھی دہلا دیتے ہیں۔ اِس لیے بچوں کے ساتھ انتخاب کرنا ہوتا ہے، اور کہانی کو اُس کے اصل مرکز پر رکھنا ہوتا ہے۔
سب سے سادہ طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو ایک ہی بات بار بار سنائی جائے: خدا کے لوگ بھول جاتے تھے، مشکل میں پھنس جاتے تھے، مدد کے لیے پکارتے تھے، اور خدا ہر بار کسی کو بھیج دیتا تھا۔ پھر پوچھیے، "اور کیا وہ مددگار ہمیشہ رہتا تھا؟" بچے خود کہیں گے، "نہیں، وہ مر جاتا تھا۔" یہیں پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ اِسی لیے خدا نے آخر میں خداوند یسوع مسیح کو بھیجا، جو ہمیں بچانے کے لیے مرے مگر پھر جی اُٹھے، اور اب کبھی ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔
جدعون کی کہانی چھوٹے بچوں کے لیے بہترین ہے، کیونکہ وہ ڈرتا ہے اور خدا پھر بھی اُسے بھیجتا ہے؛ ڈرے ہوئے بچے کے لیے اِس سے میٹھا سبق کوئی نہیں۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ سمسون پر بات کر سکتے ہیں کہ طاقت سے زیادہ اہم فرمانبرداری ہے۔ اور نوجوانوں کے ساتھ قضاۃ 21:25 پر کھل کر گفتگو کیجیے، کیونکہ "جو مجھے ٹھیک لگے" والا فلسفہ آج اُن کی دنیا کی ہوا میں گھلا ہوا ہے۔
ہماری ویب سائٹ پر اِسی کتاب کی عمر کے مطابق وضاحتیں الگ سے موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ کہانی کے انداز میں، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور نقشے کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن سوالوں سمیت جو وہ واقعی پوچھتے ہیں۔ انہیں اپنے گھر کی عبادت میں ضرور شامل کیجیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
قضاۃ کی کتاب کس نے لکھی؟
کتاب اپنے مصنف کا نام نہیں بتاتی، اِس لیے وہ باقاعدہ طور پر گمنام ہے۔ قدیم یہودی روایت، خاص کر تلمود، اِسے سموئیل نبی سے منسوب کرتی ہے، اور یہ قیاس معقول ہے کیونکہ سموئیل قاضیوں کے دور کے آخری گواہ اور بادشاہت کے آغاز کے مسح کرنے والے تھے۔ اندرونی شہادت یہ بتاتی ہے کہ لکھنے والے کے زمانے میں اسرائیل میں بادشاہ موجود تھا، کیونکہ وہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ "اُن دِنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا"۔ بہرحال ایمان کی بنیاد مصنف کا نام نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ کتاب خدا کے الہام سے لکھی گئی اور کلیسیا نے ہمیشہ اِسے مقدّس صحیفے کا حصہ مانا ہے۔
قاضیوں کا دور کتنا لمبا تھا اور یہ کب کا زمانہ ہے؟
قضاۃ کا زمانہ یشوع کی وفات سے لے کر سموئیل اور ساؤل کے عہد تک پھیلا ہوا ہے، یعنی تقریباً تین سو سے ساڑھے تین سو سال۔ تاریخوں کے بارے میں دو بڑی رائیں ہیں: ایک کے مطابق خروج پندرھویں صدی قبل مسیح میں ہوا اور قاضیوں کا دور تقریباً 1375 سے 1050 قبل مسیح تک چلا؛ دوسری رائے خروج کو تیرھویں صدی میں رکھتی ہے اور دور کو مختصر کرتی ہے۔ کتاب میں دیے گئے سال جمع کریں تو کل مدت کچھ زیادہ بنتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض قاضی ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں خدمت کر رہے تھے۔
"قاضی" کا مطلب کیا ہے؟ کیا وہ عدالتوں کے جج تھے؟
عبرانی لفظ "شوفیط" کا دائرہ ہمارے "جج" سے کہیں وسیع ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر نجات دہندہ اور رہنما تھے جنہیں خدا نے کسی خاص بحران میں کھڑا کیا تاکہ وہ قوم کو ظلم سے چھڑائیں اور پھر انصاف قائم کریں۔ اِن میں سے صرف دبورہ کے بارے میں صاف لکھا ہے کہ لوگ فیصلے کرانے اُن کے پاس آتے تھے، جیسا قضاۃ 4:4 میں ہے۔ باقی زیادہ تر فوجی اور قبائلی رہنما تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ عہدہ موروثی نہیں تھا اور قوم انہیں منتخب نہیں کرتی تھی؛ خداوند انہیں خود برپا کرتا تھا۔
قضاۃ کی کتاب میں کتنے قاضی ہیں؟
کتاب میں بارہ قاضیوں کا ذکر ملتا ہے۔ چھ کا بیان تفصیل سے آیا ہے: غُتنی ایل، اہود، برق (دبورہ کے ساتھ)، جدعون، اِفتاح اور سمسون۔ چھ کا ذکر بہت مختصر ہے: شمجر، تولع، یائیر، اِبضان، ایلون اور عبدون۔ دبورہ کو شامل کریں تو تعداد تیرہ ہو جاتی ہے، اور بعض لوگ ابی مَلِک کو بھی گنتے ہیں، حالانکہ وہ اصل میں قاضی نہیں بلکہ ایک خود ساختہ بادشاہ تھا جس نے اپنے بھائیوں کا خون بہایا۔ عیلی اور سموئیل بھی قاضی تھے، مگر اُن کا بیان 1 سموئیل میں آتا ہے۔
کیا دبورہ کا قاضی ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ عورتیں قیادت کر سکتی ہیں؟
قضاۃ 4:4 کسی بحث کو جیتنے کے لیے نہیں لکھی گئی، مگر وہ ایک حقیقت ضرور بتاتی ہے: خدا نے ایک عورت کو نبیہ اور قاضی کے طور پر استعمال فرمایا، اور کتاب اِس پر کوئی اعتراض نہیں کرتی بلکہ دبورہ کو پوری کتاب کے سب سے مثبت کرداروں میں پیش کرتی ہے۔ ساتھ ہی سیاق یہ بھی دکھاتا ہے کہ یہ ایسے زمانے کی بات ہے جب مردوں کی روحانی قیادت بیٹھ چکی تھی اور برق خود اکیلے جانے سے گھبرا رہا تھا۔ اِس لیے دانش مندی یہ ہے کہ اِس باب سے خدا کی آزادی اور فضل سیکھا جائے، اور کلیسیائی خدمت کے سوال پر نئے عہد نامے کی مکمل تعلیم کے ساتھ غور کیا جائے۔
سمسون اور اِفتاح جیسے لوگ ایمان کے باب میں کیوں شمار ہوئے؟
عبرانیوں 11:32 میں جدعون، برق، سمسون اور اِفتاح کے نام اُس فہرست میں آتے ہیں جسے ہم ایمان کا باب کہتے ہیں۔ یہ اُن کے کردار کی تعریف نہیں بلکہ خدا کے فضل کی گواہی ہے۔ عبرانیوں کا مصنف واضح کرتا ہے کہ یہ لوگ "کمزوری میں زورآور ہوئے"، یعنی اُن کی طاقت اُن کے اندر سے نہیں آئی۔ نجات کبھی ہماری کارکردگی کا انعام نہیں تھی؛ خدا نے ناقص لوگوں کے ذریعے کام کیا اور آج بھی کرتا ہے۔ یہ آیت گنہگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے، گناہ کی اجازت کے لیے نہیں۔
کیا اِفتاح نے واقعی اپنی بیٹی کو قربان کر دیا؟
متن بتاتا ہے کہ اِفتاح نے منت مانی کہ فتح کے بعد جو پہلے اُس کے گھر سے نکلے گا وہ خداوند کے لیے ہو گا، اور نکلنے والی اُس کی اکلوتی بیٹی تھی۔ دو تشریحیں ہیں: ایک یہ کہ اُس نے لڑکی کو جلا کر قربان کیا، اور دوسری یہ کہ اُس نے اُسے کنوارپن میں خداوند کے لیے مخصوص کر دیا، کیونکہ متن بار بار اُس کے کنوارے رہنے کا ذکر کرتا ہے۔ جو بھی ہو، کتاب اِس فعل کی تعریف نہیں کرتی۔ شریعت انسانی قربانی کو گھناؤنا کہتی ہے؛ یہ واقعہ اِس بات کی مثال ہے کہ بُت پرستی سے متاثر دل خدا کے ساتھ بھی سودے بازی کرنے لگتا ہے۔
قضاۃ 21:25 کا اصل مطلب کیا ہے؟
"اُن دِنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ ہر شخص جو کچھ اُس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا تھا وہی کرتا تھا۔" یہ جملہ کتاب کی آخری سطر ہے اور اُس کا خلاصہ بھی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ محض سیاسی نظام کی کمی تھی، بلکہ یہ کہ قوم نے خدا کی حکومت کو اپنے دل سے ہٹا کر اپنی رائے کو معیار بنا لیا تھا۔ اِس کا نتیجہ بُت، خانہ جنگی اور بے گناہوں کا خون تھا۔ آیت ہمیں آگے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے، اُس بادشاہ کی طرف جو اپنی مرضی نہیں بلکہ باپ کی مرضی پوری کرتا ہے۔
کیا خدا نے قضاۃ کی کتاب کے تشدد کی منظوری دی؟
یہاں ایک بنیادی فرق یاد رکھنا ضروری ہے: بائبل بہت سی باتیں بیان کرتی ہے جن کی وہ تائید نہیں کرتی۔ جِبعہ کا ظلم، بنیمین کے خلاف جنگ، اور لڑکیوں کا اغوا، یہ سب کتاب میں اِس لیے درج ہیں کہ ہم دیکھ سکیں کہ خدا سے دور ہو کر انسان کہاں تک گر سکتا ہے۔ مصنف اِن واقعات پر وہی مہر لگاتا ہے کہ کوئی بادشاہ نہ تھا اور ہر شخص اپنی نظر میں جو اچھا تھا وہی کرتا تھا۔ دوسری طرف دشمنوں کے خلاف خدا کی عدالت کو اِن ذاتی مظالم کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے؛ وہ ایک الگ اور وسیع موضوع ہے۔
یشوع اور قضاۃ میں تضاد کیوں لگتا ہے؟
یشوع کی کتاب بتاتی ہے کہ خداوند نے ملک اسرائیل کے حوالے کر دیا اور بڑی فتوحات حاصل ہوئیں، جبکہ قضاۃ 1 ایک کے بعد ایک قبیلے کی ناکامی گنواتی ہے۔ یہ تضاد نہیں بلکہ دو زاویے ہیں۔ یشوع میں ملک کی بڑی مزاحمت توڑی گئی اور زمین تقسیم ہوئی؛ قضاۃ میں یہ دکھایا گیا کہ قبیلوں نے اپنے اپنے حصے میں وہ کام مکمل نہ کیا جو اُنہیں سونپا گیا تھا۔ خدا نے وعدہ پورا کیا؛ قوم نے اپنا حصہ ادھورا چھوڑا۔ یہی ادھوری اطاعت پوری کتاب کے دکھ کی جڑ بنی۔
کیا جدعون کا اُون کا نشان مانگنا ہدایت پانے کا نمونہ ہے؟
بہت سے ایمان دار "اُون رکھنے" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، مگر متن کو غور سے پڑھیں تو جدعون پہلے ہی خدا کا صاف کلام سن چکا تھا کہ "کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟" (قضاۃ 6:14)۔ اُون کا نشان ایمان کی مثال سے زیادہ کمزوری کا اقرار تھا، اور خدا نے اپنی مہربانی سے اُس کی کمزوری کو برداشت فرمایا۔ آج ہمارے پاس مکمل کلامِ مقدّس، خداوند یسوع مسیح کا کامل مکاشفہ اور روح القدس موجود ہے۔ ہدایت کا بائبلی راستہ نشانیوں کی جانچ نہیں بلکہ کلام، دعا، دانش مندی اور کلیسیا کے مشورے میں چلنا ہے۔
قضاۃ کی کتاب آج ہمیں کیوں پڑھنی چاہیے؟
کیونکہ یہ کتاب ہمیں وہ دکھاتی ہے جو ہم آئینے میں دیکھنے سے کتراتے ہیں: ایک ایسا دل جو برکت ملتے ہی بھول جاتا ہے، اور ایک ایسا خدا جو پھر بھی نہیں چھوڑتا۔ قضاۃ ہمیں ادھوری اطاعت کے خطرے، بُت پرستی کے اصل محرک، اور ذاتی رائے کو معیار بنانے کے انجام سے خبردار کرتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ ہمارے اندر اُس نجات دہندہ کی بھوک پیدا کرتی ہے جو مرے نہیں اور جس کے بعد کسی اور قاضی کی ضرورت نہ رہے۔ اِسی بھوک کے ساتھ انجیل پڑھی جائے تو وہ دوگنی میٹھی لگتی ہے۔
اختتام میں
قضاۃ کی کتاب پڑھ کر کوئی خود کو بہادر محسوس نہیں کرتا، اور یہی اُس کی کامیابی ہے۔ یہ کتاب جان بوجھ کر ہمیں نیچے لے جاتی ہے: مثالی غُتنی ایل سے لے کر اندھے سمسون تک، اور پھر ایسے باب تک جہاں کوئی قاضی باقی نہیں رہتا اور قوم اپنے ہی بھائیوں کا خون بہاتی ہے۔ آخری سطر پر پہنچ کر دل چاہتا ہے کہ کوئی آئے، کوئی سچا بادشاہ، کوئی ایسا نجات دہندہ جو اپنی نظر میں نہیں بلکہ خدا کی نظر میں جو اچھا ہے وہی کرے۔
وہ آیا۔ قضاۃ 2:16 کا خدا، جو بار بار قاضی برپا کرتا رہا، آخرکار اپنے اکلوتے بیٹے کو لے آیا؛ اور اِس بار نجات دہندہ کی موت کہانی کا انجام نہیں بلکہ اُس کا مرکز بن گئی، کیونکہ وہ تیسرے دن جی اُٹھے۔
اب اِس کتاب کو خود کھولیے۔ پانچ نشستوں میں پڑھیے، ہر باب کے بعد خدا کے کردار پر غور کیجیے، اور پھر روت کی کتاب اور عبرانیوں 11 کی طرف بڑھیے۔ اگر پڑھتے ہوئے آپ کو اپنا چہرہ دکھائی دے، تو گھبرائیے مت؛ آئینہ اِسی لیے دیا گیا ہے، اور جس نے آئینہ دیا ہے وہی دھونے والا بھی ہے۔
