زبور کی کتاب کا تعارف اور پیغام
تعارف
رات کے دو بجے ہیں۔ ہسپتال کے برآمدے میں ایک ماں پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھی ہے، اندر اُس کا بیٹا آپریشن تھیٹر میں ہے، اور اُس کے پاس کہنے کو کوئی خوبصورت دعا نہیں بچی۔ بس ایک لفظ ہے: "کب تک؟" کیا یہ بھی دعا ہے؟ کیا خدا ایسی ٹوٹی پھوٹی آواز سنتا ہے؟
بائبل مقدس کے بیچوں بیچ ایک کتاب رکھی ہے جو اِسی سوال کا جواب ہے۔ ڈیڑھ سو گیت، جن میں تخت نشین بادشاہ بھی روتا ہے اور غار میں چھپا ہوا مفرور بھی گاتا ہے؛ جہاں شکایت اور حمد ایک ہی صفحے پر ساتھ ساتھ بیٹھتی ہیں۔ زبور کی کتاب خدا کا وہ تحفہ ہے جس میں اُس نے ہمیں اپنے ہی الفاظ اُدھار دیے تاکہ ہم اُس سے بات کر سکیں۔
اِس صفحے پر آپ جانیں گے کہ یہ کتاب کس نے، کب اور کن حالات میں لکھی، اِس کی ساخت کیا ہے، اِس کے بڑے موضوعات کون سے ہیں، یہ مسیح تک کیسے پہنچتی ہے، اور آپ آج رات سے اِسے کیسے پڑھنا اور دعا میں ڈھالنا شروع کر سکتے ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
اکثر لوگ زبور کو "حمد و ثنا کی کتاب" کہہ کر بند کر دیتے ہیں۔ ہم اِسے دوسرے زاویے سے دیکھیں گے: زبور خدا کا قائم کردہ دعا کا مدرسہ ہے، جہاں پہلا سبق دیانت داری ہے اور آخری امتحان حمد۔ اِس کتاب میں شکایت بھی عبادت بن جاتی ہے، آنسو بھی قربانی ٹھہرتے ہیں، اور غم کا راستہ بند گلی نہیں بلکہ ایک لمبی چڑھائی ہے جو "ہر متنفس خداوند کی حمد کرے" پر ختم ہوتی ہے۔ یہ زاویہ اِس لیے اہم ہے کہ بہت سے ایمان دار اپنی سچی حالت خدا سے چھپاتے ہیں اور نتیجتاً اُس سے بات کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ زبور اُس چھپن چھپائی کو ختم کر دیتا ہے۔
بائبل زبور کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
عبرانی بائبل میں اِس کتاب کا نام "تہلیم" ہے، یعنی "حمدیں"، اور یونانی ترجمے میں اِسے "سالموئی" کہا گیا، یعنی وہ گیت جو ساز کے ساتھ گائے جائیں۔ اُردو میں ہم اِسے زبور کہتے ہیں اور اِس کے انفرادی حصوں کو مزامیر۔ نام ہی بتا دیتا ہے کہ یہ کتاب پڑھنے سے زیادہ گانے کے لیے لکھی گئی، اور سوچنے سے زیادہ جینے کے لیے۔
مصنفین ایک نہیں، کئی ہیں۔ کتاب کے عنوانات کے مطابق تہتر مزامیر داؤد بادشاہ سے منسوب ہیں، بارہ آسف اور اُس کے خاندان سے، گیارہ بنی قورح سے، دو سلیمان سے، ایک ہیمان اذراحی سے (زبور 88)، ایک ایتان اذراحی سے (زبور 89)، اور سب سے پرانا، زبور 90، خدا کے بندے موسیٰ سے۔ باقی تقریباً پچاس مزامیر گمنام ہیں، جنہیں روایتی طور پر "یتیم مزامیر" کہا جاتا ہے۔ یعنی اِس کتاب کی تصنیف ایک ہی قلم کا کام نہیں بلکہ تقریباً ایک ہزار سال پر پھیلا ہوا ایمان کا سفر ہے: موسیٰ کے بیابان سے لے کر (تقریباً پندرہویں صدی قبلِ مسیح)، داؤد اور سلیمان کے زمانے سے ہوتا ہوا (گیارہویں تا دسویں صدی قبلِ مسیح)، جلاوطنی کے آنسوؤں تک (زبور 137) اور بابل سے واپسی کے بعد کی نئی حمد تک۔ آخری ترتیب و تدوین غالباً عزرا اور نحمیاہ کے دور میں مکمل ہوئی، جب ہیکل کی عبادت دوبارہ بحال ہو رہی تھی اور قوم کو ایک مشترکہ گیت کی کتاب درکار تھی۔
اب اِس کتاب کے دروازے پر کھڑے ہو کر پہلی آیت سنیں: "مبارک ہے وہ آدمی جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹھابازوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا" (زبور 1:1)۔ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں؛ یہ پوری کتاب کا دروازہ ہے۔ کتاب شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے جہاں انسان کھڑا ہے، یعنی دو راستوں کے درمیان، اور یہ کہتی ہے کہ برکت کی جڑ کہیں اور نہیں، خدا کے کلام میں دن رات ڈوبے رہنے میں ہے۔ زبور 1 گویا کہتا ہے: اِس کتاب کے آگے بڑھنے سے پہلے فیصلہ کر لو کہ تم کس مجلس میں بیٹھو گے۔
پھر یہی کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا سے کیا کہا جا سکتا ہے۔ زبور 42:1 میں پیاس ہے: "جس طرح ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے اُسی طرح اے خدا! میری جان تیری مشتاق ہے۔" زبور 130:1 میں گہرائی ہے: "اے خداوند! میں نے گہراؤ میں سے تجھے پکارا ہے۔" اور زبور 51:10 میں وہ توبہ ہے جو صرف معافی نہیں، نئی تخلیق مانگتی ہے: "اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرِ نو مستقیم روح ڈال۔" داؤد یہاں مرمت نہیں، تخلیق مانگ رہا ہے؛ وہی لفظ جو پیدایش کے پہلے باب میں استعمال ہوا ہے۔
اور یہ سب کچھ ہوا میں معلق نہیں۔ زبور 119:105 ہمیں بتاتا ہے کہ اندھیرے میں چلنے کا واحد ذریعہ کیا ہے: "تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ اور میری راہ کے لیے روشنی ہے۔" یہ چراغ پورے میدان کو روشن نہیں کرتا، صرف اگلا قدم دکھاتا ہے، اور ایمان کی زندگی اِسی طرح چلتی ہے۔ آخر میں پوری کتاب ایک ہی جملے میں سمٹ آتی ہے: "ہر متنفس خداوند کی حمد کرے۔ خداوند کی حمد کرو" (زبور 150:6)۔ سانس لینے والا ہر وجود، ہر قوم، ہر عمر، ہر حال میں۔
زبور خدا کا کلام ہے جو ہمیں واپس بولنا سکھاتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
زبور کی کتاب پرانے عہدنامے میں تنہا کھڑی نہیں۔ یہ اُس پورے قصے کا گیت ہے جو پیدایش سے شروع ہوا۔ زبور 8 اور 104 تخلیق کا جشن مناتے ہیں؛ زبور 105 اور 106 ابرہام سے لے کر بیابان تک کی تاریخ دہراتے ہیں؛ زبور 78 والدین کو حکم دیتا ہے کہ آنے والی نسل کو خداوند کے کام سنائیں؛ اور زبور 137 بابل کی ندیوں کے کنارے بیٹھی اُس قوم کا نوحہ ہے جس کے ساز درختوں پر لٹکے رہ گئے۔ گویا اسرائیل کی پوری تاریخ یہاں شاعری بن کر دعا میں ڈھل گئی ہے۔ توریت خدا کے کام بیان کرتی ہے، انبیا اُن کی تشریح کرتے ہیں، اور زبور اُن پر ایمان کا ردِعمل ہمیں سکھاتا ہے۔
پھر ایک اور دھاگا ہے جو پوری کتاب میں چمکتا ہے: بادشاہ۔ زبور 2 میں خداوند اپنے ممسوح کے بارے میں فرماتا ہے، "تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مجھ سے پیدا ہوا"، اور زبور 110:1 میں داؤد وہ عجیب بات کہتا ہے: "خداوند نے میرے خداوند سے کہا تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ۔" داؤد کی اپنی سلطنت ٹوٹ گئی، اُس کی نسل جلاوطن ہوئی، مگر یہ گیت گائے جاتے رہے۔ کیوں؟ کیونکہ اسرائیل جانتا تھا کہ اِن الفاظ کا اصل حق دار ابھی آنا باقی ہے۔
اور وہ آیا۔ نیا عہدنامہ زبور کی کتاب سے اِس قدر بھرا ہوا ہے کہ اِسے پرانے عہدنامے کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی کتاب کہا جاتا ہے۔ زبور 110 رسولوں کے لیے مسیح کی سرفرازی کا ثبوت بنا؛ زبور 118:22، "جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا"، خود خداوند یسوع نے اپنے اوپر لاگو کیا؛ زبور 16 پطرس نے پنتیکست کے دن قیامت کی پیشین گوئی کے طور پر پیش کیا۔ اور صلیب پر؟ وہاں مسیح نے کوئی نئی دعا ایجاد نہیں کی۔ اُنہوں نے زبور کی کتاب کھولی: "اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" (زبور 22:1)، اور آخری سانس میں زبور 31 کے الفاظ میں اپنی روح باپ کے ہاتھوں میں سونپ دی۔ آخری فسح کی رات وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ حمد کے وہی مزامیر گا کر زیتون کے پہاڑ کو گئے۔
جی اُٹھنے کے بعد اُنہوں نے شاگردوں سے کھول کر فرمایا کہ موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں جو کچھ اُن کی بابت لکھا ہے، اُسے پورا ہونا ضرور تھا (لوقا 24:44)۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسیا نے یہ کتاب چھوڑی نہیں بلکہ سینے سے لگا لی۔ پولس رسول لکھتا ہے کہ "مسیح کا کلام تمہارے دلوں میں کثرت سے بسا رہے"، اور پھر مزامیر اور گیت اور روحانی غزلوں کا ذکر کرتا ہے (کلسیوں 3:16)۔ دو ہزار سال سے کلیسیا اِنہی الفاظ میں روتی اور گاتی آئی ہے۔
یوں دعا کا وہ مدرسہ، جس کا ذکر ہم نے شروع میں کیا، اپنا سب سے بڑا شاگرد اور سب سے بڑا اُستاد ایک ہی شخص میں پاتا ہے۔ مسیح نے یہ گیت گائے، اور اب وہ ہمارے ساتھ گاتے ہیں۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
زبور کی کتاب کوئی بے ترتیب مجموعہ نہیں۔ یہ پانچ کتابوں میں تقسیم ہے، اور یہ تقسیم اتفاقی نہیں: جس طرح توریت پانچ حصوں پر مشتمل ہے، اُسی طرح اسرائیل کی گیت کی کتاب بھی پانچ حصوں میں ترتیب دی گئی، گویا یہ "دعا کی توریت" ہو۔ پہلی کتاب زبور 1 سے 41 تک، دوسری 42 سے 72 تک، تیسری 73 سے 89 تک، چوتھی 90 سے 106 تک، اور پانچویں 107 سے 150 تک۔ ہر حصے کا اختتام ایک حمدیہ آیت پر ہوتا ہے، اور آخری حصہ پورے پانچ ابواب (146 تا 150) کی مسلسل "ہلیلویاہ" پر ختم ہوتا ہے۔
اب اِس ترتیب میں وہ سفر دیکھیے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا۔ پہلی تین کتابوں میں نوحے اور فریادیں غالب ہیں؛ داؤد بھاگ رہا ہے، دشمن گھیرے ہوئے ہیں، دل ٹوٹ رہا ہے۔ تیسری کتاب کا اختتام تو گویا اندھیرے میں ہوتا ہے: زبور 88 بائبل کا سب سے تاریک گیت ہے جس کی آخری سطر میں کوئی روشنی نہیں، اور زبور 89 داؤد کے ساتھ باندھے گئے عہد کی بظاہر ناکامی پر آنسو بہاتا ہے۔ پھر چوتھی کتاب موسیٰ کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ داؤد کا تخت خالی سہی، مگر "خداوند بادشاہی کرتا ہے۔" اور پانچویں کتاب میں حمد کا زور بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ہر ساز اور ہر سانس گانے لگتی ہے۔ یعنی کتاب کا ڈھانچہ خود ایک پیغام ہے: ایمان کا راستہ شکایت سے ہوتا ہوا حمد تک جاتا ہے، اور حمد تک پہنچنے کے لیے شکایت کو نگلنا نہیں، خدا کے سامنے رکھنا پڑتا ہے۔
اِس کتاب میں کئی طرح کے گیت شامل ہیں۔ حمدیہ مزامیر خدا کی ذات اور کاموں پر خوشی مناتے ہیں۔ فریادیہ مزامیر، جو تعداد میں سب سے زیادہ ہیں، انفرادی یا قومی دُکھ خدا کے سامنے اُنڈیل دیتے ہیں اور اکثر عجیب طور پر بھروسے کے اعلان پر ختم ہوتے ہیں۔ شکرگزاری کے مزامیر نجات ملنے کے بعد کی گواہی ہیں۔ توکل کے مزامیر، جیسے زبور 23 اور 91، خطرے کے بیچ سکون کا اعلان کرتے ہیں۔ شاہی مزامیر بادشاہ اور اُس کے تخت کے گرد گھومتے ہیں اور مسیح تک پہنچتے ہیں۔ صیون کے گیت خدا کے شہر کی خوشی گاتے ہیں۔ حکمت اور شریعت کے مزامیر، جیسے زبور 1، 19 اور 119، کلام سے محبت سکھاتے ہیں۔ توبہ کے سات مزامیر، جن میں زبور 51 سب سے مشہور ہے، صدیوں سے ٹوٹے دلوں کی زبان رہے ہیں۔ اور 120 سے 134 تک "سیڑھیوں کے گیت" ہیں، جو زائرین یروشلیم کی چڑھائی پر گاتے تھے۔
موضوعات کے اعتبار سے چند دھاگے بار بار لوٹتے ہیں: خدا کی شاہی حکمرانی؛ اُس کی "حسد" یعنی عہد کی وفادار محبت جو کبھی ختم نہیں ہوتی؛ انسان کی کمزوری اور فانی پن؛ خدا کے کلام کی خوبصورتی؛ عدل کا مطالبہ اور شریروں کے انجام پر حیرت؛ اور آخرکار وہ حمد جو تخلیق کے ہر گوشے کو سمیٹ لیتی ہے۔ عبرانی شاعری کا خاص انداز، یعنی خیال کا دہرایا جانا اور مقابلہ کیا جانا، اِن سب کو یاد رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ اِسی لیے یہ گیت کتابوں سے زیادہ دلوں میں محفوظ رہے ہیں۔
اس کتاب کی اہم آیات
زبور 23:1 کو دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی آیتوں میں شمار کیا جاتا ہے: "خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔" ایک چرواہا بادشاہ بنا، اور بادشاہ بن کر بھی اُس نے اپنے آپ کو بھیڑ کہا۔ یہ آیت آسائش کا وعدہ نہیں کرتی؛ یہ رفاقت کا وعدہ کرتی ہے۔ چوپان بھیڑ کو ہر وادی سے بچا کر نہیں لے جاتا، بلکہ وادی میں ساتھ چلتا ہے۔ غور کیجیے کہ اِسی زبور میں "موت کے سائے کی وادی" کا ذکر ہے، یعنی کمی نہ ہونے کا مطلب مشکل نہ ہونا نہیں بلکہ اکیلے نہ ہونا ہے۔ اور یہ آیت اپنی پوری معنویت اُس دن پاتی ہے جب اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔
زبور 51:10 ہمیں شاہی محل کے سب سے شرمناک لمحے میں لے جاتا ہے: "اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرِ نو مستقیم روح ڈال۔" داؤد نے زنا کیا، پھر قتل کروایا، پھر مہینوں چھپاتا رہا۔ جب ناتن نبی نے پردہ اُٹھایا تو داؤد نے صفائی پیش نہیں کی۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ایک اور موقع دے؛ اُس نے کہا کہ مجھے ایک نیا دل دے۔ یہی اِس زبور کا معجزہ ہے: توبہ اپنی اصلاح کا وعدہ نہیں بلکہ اپنی نااہلی کا اقرار ہے۔ اِسی مزمور میں آگے لکھا ہے کہ "خدا کی قربانیاں شکستہ روح ہیں۔" جو دل ٹوٹ چکا ہو، وہ خدا کے نزدیک ردی نہیں، قربانی ہے۔
زبور 91:1 پناہ کی زبان بولتا ہے: "جو حق تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے وہ قادرِ مطلق کے سایہ میں سکونت کرے گا۔" یہ آیت جادوئی تعویذ نہیں، جیسا کہ بعض اوقات سمجھا جاتا ہے۔ دونوں فعل غور طلب ہیں: "رہتا ہے" اور "سکونت کرے گا"۔ یہ کسی ہنگامی لمحے میں پکارے گئے نعرے کی بات نہیں کرتی بلکہ ایک مستقل ٹھکانے کی بات کرتی ہے۔ جو خدا کے ساتھ رہتا ہو، وہ اُس کے سائے میں محفوظ ہے، خواہ باہر طوفان ہو۔ ابلیس نے یہی زبور بیابان میں مسیح کے سامنے غلط استعمال کیا، اور مسیح نے اُس کے غلط استعمال کو رد کر کے اِس کے صحیح مطلب کو اپنی زندگی سے ثابت کیا: باپ پر بھروسہ، تماشا نہیں۔
زبور کو پڑھنے کا عملی رہنما
سب سے پہلے، جلدی نہ کیجیے۔ زبور کو ناول کی طرح ایک ہی نشست میں پڑھنا اِس کی روح کے خلاف ہے۔ ایک پرانی مسیحی روایت یہ ہے کہ مہینے کے ہر دن پانچ مزامیر پڑھے جائیں تاکہ تیس دن میں پوری کتاب مکمل ہو جائے۔ یہ اچھی مشق ہے، مگر شروع میں شاید بہتر ہو کہ روزانہ ایک ہی زبور لیں اور اُسے دو بار پڑھیں: پہلی بار سمجھنے کے لیے، دوسری بار دعا کے طور پر۔
دوسرا، بلند آواز سے پڑھیے۔ یہ گیت ہیں، خاموش مطالعے کے لیے نہیں لکھے گئے۔ جب آپ زبان سے کہتے ہیں "خداوند میرا چوپان ہے"، تو الفاظ آپ کے کان تک پہنچتے ہیں اور دل تک اُترتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ترنم آتا ہے تو گا لیجیے؛ اردو مسیحی گیتوں کی روایت بڑی حد تک اِنہی مزامیر پر کھڑی ہے۔
تیسرا، ہر زبور کو تین سوالوں سے پڑھیے۔ یہ گیت خدا کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ یہ انسان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اور یہ مجھے کیا کہنا سکھا رہا ہے؟ آخری سوال سب سے اہم ہے، کیونکہ زبور کا مقصد معلومات نہیں بلکہ تربیت ہے۔ جہاں آپ کے جذبات اُس زبور سے میل نہ کھائیں، وہاں دو راستے ہیں: یا تو آپ اُن کے لیے دعا کریں جن کا حال ایسا ہے، یا اُس زبور کو مسیح کی زبان میں سنیں جو ہمارے لیے روئے بھی اور ہمارے لیے گائے بھی۔
چوتھا، اگر آپ نئے ہیں تو ترتیب سے پہلے چند دروازے کھولیے: زبور 1 راستے کے لیے، زبور 23 تسلی کے لیے، زبور 51 توبہ کے لیے، زبور 103 شکرگزاری کے لیے، زبور 121 سفر اور بےچینی کے لیے، اور زبور 145 حمد کے لیے۔ جب دل بہت بھاری ہو تو زبور 13، 42 اور 88 پڑھیے اور جان لیجیے کہ خدا نے یہ الفاظ اپنی کتاب میں شامل کر کے آپ کے دُکھ کو زبان دی ہے۔
پانچواں، لکھیے۔ ایک کاپی لیں اور جس زبور نے آپ کا دل چھوا ہو، اُسے اپنے الفاظ میں دوبارہ لکھیں: اپنے نام، اپنے حالات، اپنے خوف کے ساتھ۔ یہی وہ لمحہ ہے جب کتاب آپ کی دعا بن جاتی ہے۔ اور مہینے کے آخر میں زبور 150 پر پہنچ کر رُکیے اور دیکھیے کہ خدا نے آپ کی زبان کو کہاں سے کہاں پہنچایا۔
آئینہ
اب ایک لمحے کو رُکیے اور اپنے آپ سے پوچھیے: آپ نے آخری بار خدا سے کھل کر سچ کب بولا تھا؟
ہم میں سے بہت سے لوگ عبادت میں شریک ہوتے ہیں، ہاتھ اُٹھاتے ہیں، آمین کہتے ہیں، اور اندر ہی اندر ایک ایسا کمرہ بند رکھتے ہیں جس کا دروازہ خدا کے لیے بھی نہیں کھولتے۔ اُس کمرے میں کیا ہے؟ شاید وہ نوکری کی ناانصافی جس پر آپ برسوں سے خاموش ہیں۔ شاید وہ رشتہ جو گھر میں سب کے سامنے مسکراتا ہے اور دروازہ بند ہوتے ہی جم جاتا ہے۔ شاید قرض کا وہ بوجھ جس کا ذکر آپ اپنے قریبی دوست سے بھی نہیں کرتے۔ شاید وہ بیماری جس کے لیے آپ نے دعا مانگنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ جواب نہیں ملا۔ شاید وہ تنہائی جو اتوار کی صبح سب سے زیادہ چبھتی ہے۔
زبور آپ سے کہتا ہے: وہ دروازہ کھول دیجیے۔ داؤد نے خدا سے کہا "کب تک؟" اور وہ خدا کا دل عزیز رہا۔ آسف نے کہا کہ شریروں کو دیکھ کر میرے قدم پھسلنے کو تھے، اور اُس کا نوحہ بائبل مقدس میں محفوظ کر لیا گیا۔ زبور 88 کا لکھنے والا اندھیرے میں دعا ختم کرتا ہے، اور خدا نے وہ دعا مٹائی نہیں۔ اگر آپ کے آنسو خدا کی کتاب میں جگہ پا سکتے ہیں، تو وہ آپ کی دعا میں کیوں نہ آئیں؟
مگر یاد رکھیے، زبور آپ کو دیانت داری میں چھوڑتا نہیں۔ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے لے جاتا ہے، وہاں تک جہاں شکایت کے بعد بھروسہ آتا ہے، اور بھروسے کے بعد حمد۔ آپ کو زبردستی مسکرانے کو نہیں کہا جا رہا۔ آپ کو سچ بول کر آگے چلنے کو کہا جا رہا ہے۔
خدا سے سچ بولنا اُس سے دور نہیں کرتا، قریب لاتا ہے۔
آج رات، سونے سے پہلے، ایک زبور کھولیے اور اپنے اُس بند کمرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیے۔ وہ چوپان وہاں پہلے سے موجود ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو زبور سمجھانے کا سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ اِسے "خدا کی گیت کی کتاب" کہا جائے۔ آپ اُن سے پوچھ سکتے ہیں: جب تم بہت خوش ہوتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ اور جب ڈر لگتا ہے تو؟ پھر بتائیں کہ بائبل مقدس میں ایک ایسی کتاب ہے جس میں ڈرنے والوں کے گیت بھی ہیں اور خوش لوگوں کے گیت بھی، اور خدا دونوں سنتا ہے۔ داؤد کی کہانی یہاں بہت کام آتی ہے: ایک لڑکا جو بھیڑیں چراتا تھا، ساز بجاتا تھا، بعد میں بادشاہ بنا، غلطیاں بھی کیں، اور ہر حال میں خدا سے بات کرتا رہا۔
چھوٹے بچوں کے لیے زبور 23 بہترین آغاز ہے۔ اُنہیں چرواہے اور بھیڑ کی تصویر دکھائیں اور کہیں کہ خداوند یسوع ہمارے چرواہے ہیں جو ہمیں کبھی گم نہیں ہونے دیتے۔ ذرا بڑے بچوں کے ساتھ زبور 119:105 پر بات کیجیے: رات کے اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی صرف اگلا قدم دکھاتی ہے، اور خدا کا کلام بالکل ایسا ہی ہے۔ اور نوجوانوں کے ساتھ وہ سوال اُٹھائیے جو اُن کے دل میں پہلے سے ہے: کیا خدا سے ناراض ہونا یا شکایت کرنا جائز ہے؟ زبور کا جواب اُنہیں حیران کر دے گا۔
بچوں کو حمد کی مشق بھی کروائیے۔ زبور 150:6 کو ساتھ مل کر بلند آواز میں پڑھیں اور پھر ہر بچہ ایک چیز بتائے جس کے لیے وہ خدا کا شکر کرتا ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر اِسی موضوع کی الگ الگ عمر کے مطابق وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے، سات سے بارہ سال کے اسکول جانے والے بچوں کے لیے، اور بارہ سال سے اوپر نوجوانوں کے لیے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ کھولیے اور مل کر پڑھیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
زبور کی کتاب کس نے لکھی؟
زبور کی کتاب کسی ایک مصنف کا کام نہیں بلکہ کئی صدیوں پر پھیلا ہوا مجموعہ ہے۔ عنوانات کے مطابق تہتر مزامیر داؤد بادشاہ سے منسوب ہیں، بارہ آسف سے، گیارہ بنی قورح سے، دو سلیمان سے، ایک ایک ہیمان اور ایتان سے، اور سب سے قدیم زبور 90 موسیٰ سے۔ باقی تقریباً پچاس مزامیر کے لکھنے والوں کے نام معلوم نہیں۔ اِن سب کو بعد میں، غالباً بابل کی اسیری سے واپسی کے بعد، ایک کتاب کی شکل میں ترتیب دیا گیا تاکہ قوم اجتماعی عبادت میں اِنہیں گا سکے۔
زبور میں کتنے باب ہیں اور یہ کیسے تقسیم ہے؟
زبور کی کتاب میں ایک سو پچاس مزامیر ہیں اور یہ پانچ کتابوں میں تقسیم ہے: پہلی 1 سے 41، دوسری 42 سے 72، تیسری 73 سے 89، چوتھی 90 سے 106، اور پانچویں 107 سے 150 تک۔ ہر حصہ ایک حمدیہ آیت پر ختم ہوتا ہے۔ روایتی طور پر یہ پانچ حصے توریت کی پانچ کتابوں کے متوازی سمجھے جاتے ہیں، گویا زبور اسرائیل کی "دعا کی توریت" ہو۔ سب سے چھوٹا زبور 117 ہے جو صرف دو آیتوں پر مشتمل ہے، اور سب سے طویل زبور 119 ہے جس میں ایک سو چھہتر آیتیں ہیں۔
"سلاہ" کا کیا مطلب ہے؟
"سلاہ" وہ لفظ ہے جو زبور میں تقریباً اکہتر بار آتا ہے اور اِس کا حتمی مطلب علما کے درمیان زیرِ بحث ہے۔ سب سے قابلِ قبول رائے یہ ہے کہ یہ موسیقی سے متعلق ایک ہدایت ہے: شاید گیت میں وقفہ، سازوں کی آواز بلند کرنے کا اشارہ، یا سننے والوں کے لیے ٹھہر کر غور کرنے کا موقع۔ عملی طور پر جب آپ پڑھتے ہوئے "سلاہ" تک پہنچیں تو رُک جائیں، سانس لیں اور جو ابھی پڑھا ہے اُس پر سوچیں۔ یہ خود میں ایک اچھی روحانی مشق ہے۔
کیا زبور 23 صرف موت کے وقت پڑھنے کے لیے ہے؟
نہیں۔ زبور 23 عام طور پر جنازوں میں پڑھا جاتا ہے، مگر یہ زندگی کا گیت ہے، موت کا نہیں۔ اِس میں سبزہ زار، پرسکون پانی، بحال ہوتی جان، مہمان نوازی کی میز اور بھری ہوئی پیالی کا ذکر ہے۔ "موت کے سائے کی وادی" اِس کے بیچ میں آتی ہے، سرے پر نہیں۔ داؤد یہ نہیں کہہ رہا کہ وادی نہیں آئے گی، بلکہ یہ کہ وادی میں بھی چوپان ساتھ چلے گا۔ اِسے روزمرہ کی بےچینی، مالی فکر اور تنہائی میں بھی اُتنا ہی پڑھا جانا چاہیے جتنا سوگ میں۔
کیا انتقام مانگنے والے زبور مسیحیوں کے لیے ہیں؟
زبور 69، 109 اور 137 جیسے مزامیر، جن میں دشمنوں کے خلاف سخت الفاظ ہیں، بہت سے قارئین کو پریشان کرتے ہیں۔ دو باتیں یاد رکھیں۔ پہلی، یہ دعائیں ہیں، منصوبے نہیں: لکھنے والا بدلہ اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے پورا معاملہ خدا کے عدل کے سپرد کر رہا ہے۔ دوسری، خداوند یسوع نے ہمیں دشمنوں سے محبت کرنا سکھایا، اِس لیے مسیحی اِن مزامیر کو ذاتی انتقام کے لیے نہیں بلکہ ظلم، ناانصافی اور بدی کے خاتمے کی دعا کے طور پر پڑھتے ہیں، اور اِس یقین کے ساتھ کہ آخری فیصلہ خدا کا ہے۔
زبور اور مزامیر میں کیا فرق ہے؟
فرق صرف واحد اور جمع کا ہے۔ "زبور" پوری کتاب کا نام بھی ہے اور اِس کے ایک انفرادی گیت کا بھی، جبکہ "مزامیر" اِسی کی جمع ہے، یعنی کئی زبور۔ اِسی لیے ہم کہتے ہیں "زبور 23" مگر "توبہ کے سات مزامیر"۔ عبرانی میں پوری کتاب کو "تہلیم" یعنی حمدیں کہا جاتا ہے، اور یونانی سے آنے والا لفظ "سالم" ساز کے ساتھ گائے جانے والے گیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو مسیحی روایت میں دونوں الفاظ عام ہیں اور اِن میں کوئی تعلیمی اختلاف نہیں۔
کیا زبور 91 ہر بیماری اور حادثے سے حفاظت کی ضمانت ہے؟
زبور 91 خدا کی حفاظت کا حقیقی اور شاندار وعدہ ہے، مگر اِسے بیمہ پالیسی کی طرح پڑھنا غلط ہے۔ یہ مزمور شاعری کی زبان میں اُس شخص کی سلامتی بیان کرتا ہے جو خدا کے ساتھ رہتا ہے، اور اِس کی سب سے گہری تکمیل ابدی حفاظت میں ہے، نہ کہ ہر دنیاوی مصیبت سے استثنا میں۔ یاد رہے کہ ابلیس نے بیابان میں یہی مزمور مسیح کے سامنے غلط استعمال کیا اور مسیح نے اُسے رد کر دیا۔ بھروسہ خدا پر ہوتا ہے، خدا کو آزمانے پر نہیں۔
کیا زبور میں خداوند یسوع مسیح کی پیشین گوئیاں ہیں؟
جی ہاں، اور نیا عہدنامہ اِن کا کھل کر حوالہ دیتا ہے۔ زبور 2 اور 110 مسیح کی بادشاہت اور کہانت کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛ زبور 22 صلیب کی تکلیف کو حیران کن تفصیل سے بیان کرتا ہے؛ زبور 16 قیامت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسا کہ پطرس رسول نے پنتیکست کے دن سمجھایا؛ اور زبور 118 کا رد کیا ہوا پتھر خود مسیح نے اپنے اوپر لاگو کیا۔ جی اُٹھنے کے بعد خداوند یسوع نے شاگردوں سے فرمایا کہ زبور میں اُن کی بابت جو کچھ لکھا تھا، اُسے پورا ہونا ضروری تھا (لوقا 24:44)۔
"سیڑھیوں کے گیت" کیا ہیں؟
زبور 120 سے 134 تک کے پندرہ مزامیر پر "سیڑھیوں کا گیت" یا "زائرین کا گیت" کا عنوان ملتا ہے۔ سب سے مقبول رائے یہ ہے کہ یہ گیت اُس وقت گائے جاتے تھے جب اسرائیلی سال میں تین بار عیدوں کے موقع پر یروشلیم کی طرف چڑھائی کرتے تھے۔ اِن میں سفر کی حفاظت، شہر کا اشتیاق، خاندان کی برکت، معافی اور بھائیوں کی یگانگت جیسے موضوع ہیں۔ یہ چھوٹے، آسان اور یاد کرنے کے قابل گیت ہیں، اور آج بھی سفر، ہجرت اور بےیقینی کے موسموں میں گہری تسلی دیتے ہیں۔
کیا خدا سے شکایت کرنا گناہ ہے؟
زبور کی کتاب کا سب سے حیران کن سبق یہی ہے کہ نہیں۔ کتاب میں سب سے زیادہ تعداد فریادیہ مزامیر کی ہے، جن میں لکھنے والے "کب تک؟" اور "تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" جیسے سوال کرتے ہیں، اور خدا نے یہ الفاظ اپنے کلام میں شامل فرمائے۔ فرق شکایت اور بغاوت میں ہے: بغاوت خدا سے منہ موڑ کر بولتی ہے، جبکہ زبور کی شکایت خدا کے منہ کی طرف دیکھ کر بولتی ہے۔ اپنی تلخی خدا کے سامنے رکھنا بےادبی نہیں، بلکہ ایمان کی سب سے دیانت دار شکل ہے۔
زبور 51 داؤد نے کن حالات میں لکھا؟
اِس مزمور کا عنوان خود بتاتا ہے کہ یہ اُس وقت لکھا گیا جب ناتن نبی داؤد کے پاس آیا، بت سبع کے ساتھ اُس کے گناہ کے بعد۔ داؤد نے زنا کیا، پھر اُس کے شوہر اوریاہ کی موت کا انتظام کیا، اور تقریباً ایک سال تک خاموش رہا۔ جب اُس کا پردہ کھلا تو اُس نے بہانہ نہیں بنایا۔ زبور 51:10 میں وہ صرف معافی نہیں بلکہ نئی تخلیق مانگتا ہے: "اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر۔" یہی مزمور صدیوں سے ہر توبہ کرنے والے کی زبان بنا ہوا ہے۔
روزانہ زبور پڑھنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
ایک آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ مہینے کے ہر دن پانچ مزامیر پڑھے جائیں تاکہ تیس دن میں پوری کتاب مکمل ہو جائے، مگر شروع کرنے والوں کے لیے روزانہ ایک زبور کافی ہے۔ اُسے بلند آواز سے پڑھیں، پھر دوبارہ پڑھتے ہوئے اُس کے الفاظ اپنی دعا بنا لیں، اپنے نام اور اپنے حالات کے ساتھ۔ صبح حمد کے مزامیر اور رات بھروسے کے مزامیر خاص طور پر موزوں ہیں۔ اور جو آیت دل کو چھو جائے، اُسے لکھ لیں یا زبانی یاد کر لیں۔
اختتام میں
زبور کی کتاب ہمیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ایمان کو خوبصورت بننے کی ضرورت نہیں، صرف سچا ہونا کافی ہے۔ یہاں بادشاہ روتا ہے، زائر گاتا ہے، توبہ کرنے والا نیا دل مانگتا ہے، اور آخر میں ہر سانس لینے والا وجود حمد میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی اِس کتاب کا سفر ہے: زبور 1:1 کے دو راستوں سے شروع ہو کر، زبور 51:10 کے ٹوٹے دل سے گزرتا ہوا، زبور 23:1 اور زبور 91:1 کی پناہ میں سانس لیتا ہوا، زبور 119:105 کے چراغ کی روشنی میں چلتا ہوا، اور زبور 150:6 کے مکمل نغمے پر ختم ہوتا ہوا۔
اور یہ سب مسیح میں پورا ہوتا ہے، جس نے یہ گیت خود گائے، صلیب پر یہی الفاظ پکارے، اور اب اپنی کلیسیا کے ساتھ مل کر باپ کی حمد کرتے ہیں۔
اب کتاب اُٹھائیے۔ آج ایک زبور پڑھیے، بلند آواز سے، اور اُسے اپنی دعا بننے دیجیے۔ جو کچھ آپ سالوں سے کہنا چاہتے تھے مگر الفاظ نہیں ملے، وہ الفاظ خدا نے پہلے ہی لکھ کر آپ کے ہاتھ میں دے دیے ہیں۔