کلیسیا کیا ہے اور ایمان دار کے لیے اس کی اہمیت
تعارف
لاہور کی ایک گلی میں، ایک کرائے کے کمرے میں، بارہ لوگ پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ چھت پر پنکھا شور کرتا ہے، باہر موٹر سائیکلوں کا ہارن بجتا ہے، اور ایک بوڑھی بہن اپنی پھٹی ہوئی بائبل سے زبور پڑھ رہی ہے۔ نہ گھنٹی، نہ صلیب والا مینار، نہ رنگین شیشے۔ سوال یہ ہے: کیا یہ کلیسیا ہے؟
اور اُسی شہر میں ایک بڑی، خوبصورت عمارت ہے جس پر "چرچ" لکھا ہے، جہاں ہر اتوار سیکڑوں لوگ آتے ہیں، گیت گاتے ہیں، اور ایک گھنٹے بعد اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں، ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے۔ کیا وہ کلیسیا ہے؟
اِن دو تصویروں کے درمیان کہیں ہم سب کھڑے ہیں۔ اِس صفحے پر آپ دریافت کریں گے کہ بائبل کلیسیا کو کیا کہتی ہے، یہ سلسلہ پیدائش سے مکاشفہ تک کس طرح چلتا ہے، کون سی غلط فہمیاں ہمیں تھکا دیتی ہیں، اور آپ کی اپنی جگہ اِس میں کہاں ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ صفحہ ایک خاص زاویے سے لکھا گیا ہے: کلیسیا کوئی جگہ نہیں جہاں آپ جاتے ہیں، بلکہ ایک بدن ہے جس کا آپ عضو ہیں؛ اور اِس لیے آپ کلیسیا کے گاہک نہیں، اُس کے اعضا ہیں۔ آج کے زمانے میں ہم ہر چیز کو خدمت (سروس) کی طرح دیکھتے ہیں: ہم پسند کرتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں، اور جب دل نہ لگے تو بدل لیتے ہیں۔ مگر ہاتھ کسی بدن کا گاہک نہیں ہوتا۔ وہ اُس بدن سے جُڑا ہوتا ہے، اُسی سے خون پاتا ہے، اور اُس کے بغیر مر جاتا ہے۔ یہی فرق ہر اُس سوال کا جواب بدل دیتا ہے جو ہم کلیسیا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
بائبل کلیسیا کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
لفظ "کلیسیا" کے پیچھے یونانی لفظ "ایکلیسیا" ہے، جس کے معنی ہیں "بلائی ہوئی جماعت"۔ یہ لفظ یونانی شہروں میں اُس مجلس کے لیے استعمال ہوتا تھا جو شہر کے معاملات طے کرنے کے لیے بلائی جاتی تھی۔ یعنی جڑ میں کلیسیا کا مطلب اینٹ، گارا یا چھت نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جنہیں پکارا گیا ہے۔ کس نے پکارا؟ خداوند نے۔ کہاں سے؟ اندھیرے سے۔ کس کے لیے؟ اپنے لیے۔
خداوند یسوع مسیح نے پہلی بار یہ لفظ قیصریہ فلپی کے قریب استعمال فرمایا، جب پطرس نے اُنہیں مسیح اور زندہ خدا کا بیٹا مانا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا: "اور مَیں تُجھ سے یہ بھی کہتا ہُوں کہ تُو پطرس ہے اور مَیں اِس پتّھر پر اپنی کلِیسیا بناؤُں گا اور عالَمِ اَرواح کے دروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے" (متی 16:18)۔ اِس ایک فقرے میں تین باتیں چھپی ہیں جو پورے موضوع کی بنیاد ہیں۔ پہلی: کلیسیا "میری" ہے، یعنی مسیح کی ملکیت، نہ کسی پادری کی، نہ کسی خاندان کی، نہ کسی فرقے کی۔ دوسری: "مَیں بناؤں گا"، یعنی اِس کا معمار خود خداوند ہے؛ ہم مزدور ہیں، مالک نہیں۔ تیسری: موت کے دروازے بھی اِس پر غالب نہ آئیں گے، یعنی یہ کمزور دکھنے والی جماعت درحقیقت ناقابلِ شکست ہے۔
مگر کلیسیا کیسی دکھتی ہے؟ اِس کا جواب اعمال کی کتاب میں پنتِکُست کے فوراً بعد ملتا ہے: "اور وہ رسولوں سے تعلِیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغُول رہے" (اعمال 2:42)۔ یہ آیت ابتدائی کلیسیا کی چار رگیں دکھاتی ہے۔ رسولوں کی تعلیم، یعنی خدا کا کلام جو اُن کے ذریعے سے دیا گیا۔ رفاقت، یعنی ایک دوسرے کی زندگی میں حقیقی شرکت، نہ صرف ایک ہی کمرے میں بیٹھنا۔ روٹی توڑنا، یعنی مسیح کی قربانی کی یادگاری اور ساتھ کھانا۔ اور دعا، یعنی وہ سانس جس کے بغیر جماعت زندہ نہیں رہ سکتی۔ غور کریں کہ یہاں عمارت، بجٹ یا پروگرام کا ذکر نہیں۔ جو کچھ بنیادی ہے، وہ سستا ہے اور ہر جگہ ممکن ہے۔
پھر پولس رسول ایک ایسی تصویر دیتے ہیں جو سب کچھ بدل دیتی ہے: "اب تُم مل کر مسِیح کا بَدن ہو اور فرداً فرداً اُس کے اعضا ہو" (1 کرنتھیوں 12:27)۔ یہ محض خوبصورت تشبیہ نہیں۔ بدن کا مطلب ہے زندہ وابستگی، ایک دوسرے پر محتاج ہونا، اور درد کا مشترک ہونا۔ جب پاؤں میں کانٹا لگتا ہے تو آنکھ روتی ہے اور ہاتھ جھک جاتا ہے۔ اِسی لیے پولس رسول آگے لکھتے ہیں کہ کوئی عضو یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ بدن میں فالتو عضو نہیں ہوتا، صرف بیمار عضو ہوتا ہے۔
اور اِس بدن کا ایک ہی سر ہے: "اور وہی بَدن یعنی کلِیسیا کا سر ہے۔ وہی مبدا ہے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا تاکہ سب چِیزوں میں اوّل ہو" (کلسیوں 1:18)۔ یہ آیت ہر دور کی کلیسیا کی سب سے بڑی آزمائش کا علاج ہے۔ جب کلیسیا میں کوئی انسان سر بننے لگتا ہے، تو بدن بیمار پڑ جاتا ہے۔ مسیح سر ہیں، اِس لیے اختیار اُن کا ہے، سمت اُن کی ہے، اور جلال اُن کا ہے۔
اور یہ بدن کتنا قیمتی ہے؟ پولس رسول شوہروں کو نصیحت کرتے ہوئے اُس قیمت کا ذکر کرتے ہیں: "اَے شوہرو! اپنی بِیویوں سے مُحبّت رکھّو جَیسے مسِیح نے بھی کلِیسیا سے مُحبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے موت کے حوالہ کر دِیا" (افسیوں 5:25)۔ اگر خداوند نے کلیسیا کے لیے اپنی جان دی، تو کلیسیا کو حقیر جاننا معمولی بات نہیں۔ آپ اُس چیز کو بیکار نہیں کہہ سکتے جسے خدا نے اپنے خون سے خریدا۔ اعمال 20:28 میں پولس رسول بزرگوں سے کہتے ہیں کہ وہ "خُدا کی اُس کلِیسیا کی گلّہ بانی کرو جِسے اُس نے خاص اپنے خُون سے خرِیدا ہے"۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
کلیسیا پنتِکُست کے دن آسمان سے نئی نویلی گری ہوئی چیز نہیں۔ اُس کی جڑیں پیدائش کی پہلی صفحات تک جاتی ہیں۔ خدا نے آدم کو دیکھ کر فرمایا کہ انسان کا اکیلا رہنا اچھا نہیں۔ یعنی تنہائی اُس تصویر کا حصہ نہیں تھی جسے خدا نے "بہت اچھا" کہا۔ انسان کو اُس خدا کی صورت پر بنایا گیا جو خود رفاقت میں ہے، اور اِسی لیے انسان کی فطرت میں جُڑنے کی پیاس رکھی گئی۔
پھر نوح کا گھرانہ، ابرہام کی بلاہٹ، اور بالآخر مصر سے نکلی ہوئی ایک قوم۔ کوہِ سینا پر خدا نے فرمایا: "اور تُم میرے لِئے ایک کاہِنوں کی مملکت اور ایک مُقدّس قَوم ہو گے" (خروج 19:6)۔ عبرانی زبان میں اِس جمع ہوئی جماعت کو "قاہال" کہا جاتا ہے، اور جب پرانا عہدنامہ یونانی میں ترجمہ ہوا تو اِسی لفظ کے لیے "ایکلیسیا" استعمال ہوا۔ یعنی اسرائیل کی وہ جماعت جو خیمۂ اجتماع کے سامنے جمع ہوتی تھی، نئے عہد کی کلیسیا کا پہلا خاکہ تھی۔ خدا کا منصوبہ کبھی صرف الگ تھلگ افراد کو بچانا نہیں تھا؛ وہ ایک قوم بنا رہا تھا۔
مگر اسرائیل ٹھوکر کھاتا رہا۔ انبیا نے اِسی لیے ایک نئے عہد کا وعدہ دیا: ایک نیا دل، ایک نئی روح، اور خدا کی شریعت پتھر پر نہیں بلکہ دل پر لکھی ہوئی۔ یرمیاہ اور حزقی ایل کی زبان میں یہ وعدہ ایک ایسی جماعت کا ہے جہاں خدا خود اپنے لوگوں میں بسے گا۔
اور یہ سب خداوند یسوع مسیح میں پورا ہوتا ہے۔ آپ نے بارہ شاگرد چنے، جو واضح طور پر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی طرف اشارہ تھا؛ یعنی خدا اپنی قوم کو نئے سرے سے جمع فرما رہے تھے۔ آپ نے صلیب پر اپنا خون بہایا اور نئے عہد کی بنیاد رکھی۔ قیامت کے بعد، پنتِکُست کے دن، روحُ القدس نازل ہوا اور وہ جماعت جو پہلے ایک قوم تک محدود تھی، ہر قوم، ہر زبان اور ہر رنگ کے لیے کھل گئی۔ پطرس رسول ایمان داروں سے کہتے ہیں: "لیکن تُم ایک برگُزِیدہ نسل۔ شاہی کاہِنوں کا فِرقہ۔ مُقدّس قَوم اور ایسی خاص مِلکیّت ہو جو خُدا کی ہے" (1 پطرس 2:9)۔ وہی الفاظ جو سینا پر اسرائیل سے کہے گئے تھے، اب مسیح کی کلیسیا پر لگائے جاتے ہیں۔
یہ سلسلہ کہاں جا کر ختم ہوتا ہے؟ مکاشفہ میں کلیسیا کو دلہن کہا گیا ہے، اور یوحنا رسول دیکھتے ہیں کہ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا۔ باغ سے شروع ہو کر، خیمے اور ہیکل سے گزر کر، صلیب اور خالی قبر سے ہو کر، کہانی ایک شہر پر ختم ہوتی ہے جہاں خدا اپنے لوگوں کے درمیان ہمیشہ بسے گا۔ وہ جماعت جو آج کرائے کے کمرے میں پنکھے کے شور میں زبور گاتی ہے، اُسی دلہن کا حصہ ہے۔ اِسی لیے بدن کا زاویہ یہاں بھی کام کرتا ہے: آپ کسی عمارت کے ممبر نہیں بن رہے، آپ ایک ایسی حقیقت میں پیوست ہو رہے ہیں جو ابدی ہے۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: کلیسیا ایک عمارت ہے۔ ہم روز مرہ کی زبان میں کہتے ہیں "چرچ کی چھت ٹپک رہی ہے" یا "چرچ بند ہے"، اور آہستہ آہستہ ہمارا دل بھی یہی ماننے لگتا ہے۔ مگر نئے عہدنامے میں کلیسیا کے لیے کبھی کوئی عمارت مراد نہیں لی گئی۔ پولس رسول "اُن کے گھر کی کلِیسیا" کا ذکر کرتے ہیں، یعنی لوگ۔ افسیوں 2:19 کہتا ہے: "پس اب تُم پردیسی اور مُسافِر نہیں رہے بلکہ مُقدّسوں کے ہم وطن اور خُدا کے گھرانے کے ہو"۔ گھرانہ رشتہ ہے، نہ کہ مکان۔ عمارت برکت ہو سکتی ہے، مگر عمارت کلیسیا نہیں۔ اگر کل عمارت چھن جائے تو کلیسیا ختم نہیں ہوتی؛ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ایسے وقت میں وہ زیادہ زندہ ہو جاتی ہے۔
دوسری غلط فہمی: میں کلیسیا کے بغیر بھی اچھا مسیحی رہ سکتا ہوں۔ یہ بات آج بہت مقبول ہے: "میرا یسوع کے ساتھ ذاتی تعلق ہے، مجھے جماعت کی ضرورت نہیں۔" مگر 1 کرنتھیوں 12:27 کی روشنی میں یہ بات ایسی ہے جیسے ہاتھ کہے، میں بدن سے کٹ کر بھی صحت مند رہوں گا۔ عبرانیوں 10:25 صاف کہتا ہے: "اور ایک دُوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جَیسا بعض کا دستُور ہے بلکہ ایک دُوسرے کو اور بھی زِیادہ نصِیحت کریں خاص کر جب تُم اُس دِن کو نزدِیک دیکھتے ہو"۔ غور کریں کہ یہ حکم قانون کی طرح نہیں بلکہ حفاظت کی طرح دیا گیا ہے۔ جمع ہونا ایک دوسرے کو ہمت دلانے کا ذریعہ ہے۔ جو بھیڑ ریوڑ سے الگ ہو جاتی ہے، وہ زیادہ آزاد نہیں ہوتی، زیادہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔
تیسری غلط فہمی: کلیسیا پادری اور چند خاص لوگوں کا کام ہے، باقی ناظرین ہیں۔ افسیوں 4:11 لکھتا ہے: "اور اُسی نے بعض کو رسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشِّر اور بعض کو چرواہے اور اُستاد بنا کر دے دِیا"۔ مگر اگلی آیت وضاحت کرتی ہے کہ یہ عطیے کس مقصد سے دیے گئے: تاکہ مقدس خدمت کے کام کے لیے تیار کیے جائیں۔ یعنی قیادت کا کام یہ نہیں کہ وہ سب کام خود کر لے، بلکہ یہ کہ وہ بدن کے ہر عضو کو کام کے قابل بنائے۔ وہ کلیسیا جہاں دس فیصد خدمت کرتے ہیں اور نوے فیصد تنقید، بائبل کے نقشے سے مختلف ہے۔ یہیں ہمارا زاویہ پھر سامنے آتا ہے: گاہک کرسی پر بیٹھتا ہے اور معیار پرکھتا ہے؛ عضو اُٹھتا ہے اور کام کرتا ہے۔
چوتھی غلط فہمی: سچی کلیسیا کامل ہوتی ہے، اِس لیے جہاں خامی ہے وہ کلیسیا نہیں۔ نئے عہدنامے کے خطوط اِسی لیے لکھے گئے کہ جماعتوں میں مسئلے تھے: کرنتھس میں دھڑے بندی اور بدچلنی، گلتیہ میں جھوٹی تعلیم، لاودیکیہ میں سردمہری۔ پھر بھی پولس رسول کرنتھیوں کو "مقدس" کہہ کر خط لکھتے ہیں۔ کلیسیا شفا خانہ ہے، عجائب گھر نہیں جہاں بے عیب مجسمے رکھے ہوں۔ افسیوں 5:25 میں مسیح کلیسیا کو اُس حالت میں محبت کرتے ہیں جس میں وہ ہے، اور اُسے پاک کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو شخص کامل کلیسیا کی تلاش میں نکلتا ہے، وہ ساری عمر سفر کرتا رہے گا؛ اور جس دن اُسے مل جائے گی، اُس کے داخل ہونے سے وہ بھی ناکامل ہو جائے گی۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
فرض کریں اتوار کی صبح ہے اور آپ تھکے ہوئے ہیں۔ ہفتہ بھر اوورٹائم لگا، بچوں نے رات سونے نہ دیا، اور موبائل پر ایک اچھا واعظ موجود ہے۔ اعمال 2:42 کا نمونہ یاد رکھیں: تعلیم تو آپ اسکرین سے بھی پا سکتے ہیں، مگر رفاقت، روٹی توڑنا، اور مل کر دعا کرنا اسکرین سے نہیں ہوتا۔ کوئی ویڈیو آپ کے کندھے پر ہاتھ نہیں رکھ سکتی۔ اِس لیے عملی قدم یہ ہے کہ ہفتے کا ایک وقت ایسا مقرر کریں جو سودے بازی سے باہر ہو، جیسے نوکری کی شفٹ باہر ہوتی ہے۔
دوسری صورت حال: آپ کلیسیا جاتے ہیں مگر کسی کو جانتے نہیں۔ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ یہاں بدن کا اصول لاگو کریں: عضو بننے کے لیے جُڑنا پڑتا ہے۔ عبادت کے بعد دس منٹ جلدی نہ جائیں۔ دو تین لوگوں کے نام یاد کریں۔ کسی ایک گھرانے کو چائے پر بلائیں۔ رفاقت اکثر بڑے پروگراموں سے نہیں، چھوٹی میزوں سے پیدا ہوتی ہے۔
تیسری صورت حال: آپ سوچتے ہیں کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ 1 کرنتھیوں 12:27 کے مطابق آپ "فرداً فرداً اُس کے اعضا" ہیں، یعنی آپ کے پاس ضرور کچھ ہے۔ شاید آپ گاڑی چلا سکتے ہیں اور بوڑھی بہن کو عبادت تک لا سکتے ہیں۔ شاید آپ حساب جانتے ہیں اور کلیسیا کا ریکارڈ ایمان داری سے رکھ سکتے ہیں۔ شاید آپ کچھ نہیں جانتے مگر آپ دعا کر سکتے ہیں اور بیماروں کے لیے روٹی پکا سکتے ہیں۔ کلیسیا میں بڑی خدمت اور چھوٹی خدمت کی تقسیم انسانوں نے بنائی ہے، خدا نے نہیں۔
چوتھی صورت حال: آپ کو کلیسیا میں چوٹ لگی ہے۔ کسی نے آپ کی بات باہر پھیلا دی، یا قیادت نے ناانصافی کی۔ یہ درد حقیقی ہے اور اِسے جھٹلانا مت۔ مگر کلسیوں 1:18 یاد کریں: سر مسیح ہیں، اور کسی انسان کی ناکامی نے سر کو تبدیل نہیں کیا۔ کلیسیا سے مکمل کنارہ کشی کا فیصلہ درد کے عروج پر نہ کریں۔ پہلے ایک بالغ، بھروسے کے لائق ایمان دار کے ساتھ بات کریں، معافی کے راستے کھلے رکھیں، اور ضرورت ہو تو صحت مند جماعت تلاش کریں؛ مگر اکیلے پن کو روحانیت کا نام نہ دیں۔
آئینہ
اب ایک لمحے کے لیے مجھے آپ سے سیدھی بات کرنے دیں۔ آپ کلیسیا کے بارے میں جو کچھ محسوس کرتے ہیں، وہ اکثر اُس سے زیادہ بتاتا ہے کہ آپ اپنے بارے میں کیا مانتے ہیں۔ اگر آپ کلیسیا کو ایک خدمت سمجھتے ہیں جسے آپ خریدتے ہیں، تو ہر گیت کمزور لگے گا، ہر واعظ لمبا، اور ہر انسان مشکل۔ آپ ہر اتوار ایک پرکھنے والے کی کرسی پر بیٹھیں گے اور کبھی گھر محسوس نہیں کریں گے۔ مگر اگر آپ خود کو ایک عضو مانتے ہیں، تو آپ کا سوال بدل جائے گا۔ "مجھے یہاں کیا ملا؟" کی جگہ "آج میری غیر حاضری سے کس کی کمی ہوئی؟" آ جائے گا۔
یہ بات چبھتی ہے، میں جانتا ہوں۔ کیونکہ ہمارے پاس وقت کی کمی ہے، پیسے کی تنگی ہے، جسم تھکا ہوا ہے، اور دل پہلے ہی کئی جگہ سے زخمی ہے۔ کام کی جگہ پر آپ سے صرف پیداوار مانگی جاتی ہے، گھر میں صرف ذمہ داری، اور اب کلیسیا بھی کچھ مانگے؟ مگر غور کریں: مسیح نے کلیسیا سے پہلے کچھ مانگا نہیں، پہلے دیا۔ افسیوں 5:25 یہی کہتا ہے کہ اُس نے "اپنے آپ کو اُس کے واسطے موت کے حوالہ کر دِیا"۔ آپ کسی خالی ہاتھ والے ادارے میں شامل نہیں ہو رہے؛ آپ اُس بدن میں شامل ہو رہے ہیں جس کے لیے خون بہایا گیا۔
اور ایک اور بات۔ ہو سکتا ہے آپ تنہا ہوں۔ بیوہ، یا طلاق شدہ، یا پردیس میں مزدوری کرتے ہوئے، یا ایسے گھر میں جہاں آپ کے سوا کوئی مسیح کو نہیں مانتا۔ آپ کے لیے کلیسیا عیاشی نہیں، آکسیجن ہے۔ خدا نے آپ کو صرف نجات نہیں دی، ایک گھرانہ بھی دیا ہے۔ خدا آپ کو بچا کر اکیلا نہیں چھوڑتا، گھر میں لاتا ہے۔ اور یہ گھرانہ ناکامل لوگوں سے بھرا ہے، جن میں آپ بھی شامل ہیں، اور یہی اُس کی خوبصورتی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو کلیسیا سمجھانے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اُنہیں عمارت کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ پھر وہ ساری عمر یہی سمجھتے ہیں کہ کلیسیا ایک جگہ ہے جہاں چپ چاپ بیٹھنا پڑتا ہے۔ اِس کے بجائے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کریں۔ پوچھیں: اگر یہ انگلی ہاتھ سے الگ ہو جائے تو کیا ہوگا؟ بچہ فوراً سمجھ جائے گا۔ پھر کہیں کہ بائبل کہتی ہے ہم سب مل کر خداوند یسوع مسیح کا بدن ہیں، اور وہ ہمارا سر ہیں۔ کلیسیا وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنے گھرانے میں بلایا ہے، اور ہم اکٹھے ہوتے ہیں کیونکہ ہم ایک خاندان ہیں، نہ کہ ایک قاعدے کی وجہ سے۔
چھوٹے بچوں کے لیے گھر میں دیکھی جانے والی مثالیں سب سے زیادہ کام کرتی ہیں: جب امی بیمار ہوں اور پڑوس والی آنٹی سالن لے آئیں، تو یہ بھی کلیسیا ہے۔ جب کوئی بھائی آپ کے لیے دعا کرے، وہ بھی کلیسیا ہے۔ بچوں کو خدمت میں شامل کریں؛ کرسیاں لگانا، گیت کی کتاب بانٹنا، کسی بوڑھے کے لیے پانی لانا۔ عضو ہونے کا احساس تقریر سے نہیں، شرکت سے پیدا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں اِس موضوع پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں بھی موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے آسان کہانی اور تصویری انداز میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے آیات اور سوالات کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے اُن سوالوں کا سامنا کرتے ہوئے جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے "اگر کلیسیا کے لوگ منافق ہیں تو میں کیوں جاؤں؟" آپ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ چن سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کلیسیا کا لفظی مطلب کیا ہے؟
کلیسیا یونانی لفظ "ایکلیسیا" سے آیا ہے، جس کے معنی ہیں "بلائی ہوئی جماعت" یا "باہر پکارے گئے لوگوں کا اجتماع"۔ پرانے عہدنامے کے یونانی ترجمے میں یہی لفظ اسرائیل کی اُس جماعت کے لیے استعمال ہوا جو خدا کے سامنے جمع ہوتی تھی۔ یعنی لفظ کی جڑ میں عمارت کا کوئی تصور نہیں، بلکہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنے لیے بلایا۔ اِسی لیے بائبل میں کلیسیا کبھی تالا لگا کر بند نہیں کی جا سکتی؛ وہ جہاں بھی جمع ہوتی ہے، وہیں موجود ہوتی ہے۔
کیا کلیسیا عمارت ہے یا لوگ؟
بائبل کے مطابق کلیسیا ہمیشہ لوگ ہیں۔ نئے عہدنامے میں ایمان دار گھروں میں جمع ہوتے تھے، اور پولس رسول "اُن کے گھر کی کلیسیا" جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ عمارت ایک مفید اور بابرکت سہولت ہے، خاص طور پر جب جماعت بڑی ہو، مگر وہ کلیسیا کی تعریف نہیں۔ افسیوں 2:19 ایمان داروں کو "خدا کے گھرانے" کا فرد کہتا ہے، یعنی رشتہ، نہ کہ مکان۔ اگر عمارت گر جائے تو کلیسیا باقی رہتی ہے؛ اگر لوگ منتشر ہو جائیں تو عمارت صرف ایک خالی ہال ہے۔
کیا میں کلیسیا کے بغیر مسیحی رہ سکتا ہوں؟
نجات کلیسیا کی رکنیت سے نہیں بلکہ مسیح پر ایمان سے ملتی ہے، اِس لیے بات رکنیت کے کارڈ کی نہیں۔ مگر بائبل ایسے مسیحی کا تصور ہی نہیں دیتی جو جان بوجھ کر بدن سے کٹا رہے۔ 1 کرنتھیوں 12:27 کے مطابق ہم مسیح کے بدن کے اعضا ہیں، اور عبرانیوں 10:25 ہمیں جمع ہونے سے باز نہ آنے کی تاکید کرتا ہے۔ اکیلا ایمان دار زندہ رہ سکتا ہے، مگر پھلدار اور محفوظ مشکل سے رہتا ہے۔ جماعت خدا کا انتظام ہے آپ کی حفاظت اور بڑھوتری کے لیے۔
مقامی کلیسیا اور عالمگیر کلیسیا میں کیا فرق ہے؟
عالمگیر کلیسیا میں ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان کے وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خداوند یسوع مسیح کے ہیں، چاہے وہ آسمان پر ہوں یا زمین پر۔ مقامی کلیسیا اُس عالمگیر حقیقت کا دکھائی دینے والا، ٹھوس روپ ہے: ایک خاص جگہ کے ایمان دار جو کلام، عشائے ربانی، دعا اور باہمی ذمہ داری میں جُڑے ہوئے ہیں۔ عالمگیر کلیسیا پر ایمان رکھنا اور مقامی جماعت سے کٹا رہنا ایسا ہے جیسے خاندان سے محبت کا دعویٰ کرنا مگر گھر کبھی نہ آنا۔
متی 16:18 میں "اس پتھر" سے کیا مراد ہے؟
متی 16:18 میں خداوند فرماتے ہیں: "تُو پطرس ہے اور مَیں اِس پتّھر پر اپنی کلِیسیا بناؤُں گا"۔ یہ بات پطرس کے اُس اقرار کے فوراً بعد کہی گئی کہ یسوع مسیح، زندہ خدا کا بیٹا ہے۔ اِس لیے تاریخی طور پر اکثر ایمان دار سمجھتے ہیں کہ بنیاد پطرس کی ذات نہیں بلکہ وہ اقرار ہے جو اُس نے کیا، یعنی خود مسیح کی شخصیت۔ پطرس رسول اُس بنیاد کا پہلا پتھر ضرور تھا، مگر پورا بدن کسی انسان پر نہیں، مسیح پر قائم ہے، جیسا کلسیوں 1:18 واضح کرتا ہے۔
کلیسیا کا سر کون ہے؟
کلسیوں 1:18 صاف کہتا ہے: "اور وہی بَدن یعنی کلِیسیا کا سر ہے"۔ یعنی اختیار، سمت اور جلال سب خداوند یسوع مسیح کے ہیں۔ پادری، بزرگ اور رہنما گلہ بان ہیں، مالک نہیں؛ اعمال 20:28 میں اُنہیں یاد دلایا گیا ہے کہ ریوڑ خدا کا ہے جسے اُس نے اپنے خون سے خریدا۔ جب کوئی انسان یا کوئی ادارہ خود کو سر کی جگہ رکھنے لگتا ہے، تو کلیسیا بیمار ہو جاتی ہے۔ صحت مند قیادت ہمیشہ لوگوں کو اپنی طرف نہیں، مسیح کی طرف لے جاتی ہے۔
کلیسیا میں بپتسمہ اور عشائے ربانی کی کیا اہمیت ہے؟
اعمال 2:42 ابتدائی کلیسیا کو "روٹی توڑنے" میں مشغول دکھاتا ہے، اور اُسی باب میں ایمان لانے والوں نے بپتسمہ لیا۔ بپتسمہ ایک بار کا، دکھائی دینے والا اعلان ہے کہ میں مسیح کا ہوں، اُس کے ساتھ موت اور نئی زندگی میں شریک ہوں۔ عشائے ربانی بار بار کی جانے والی یادگاری ہے جو ہمیں صلیب کی طرف لوٹاتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے سے بھی جوڑتی ہے، کیونکہ ہم ایک ہی روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ دونوں خدا کے مقرر کردہ نشان ہیں، محض رسمیں نہیں۔
اگر کلیسیا میں میرا دل ٹوٹا ہو تو کیا کروں؟
پہلے یہ مانیں کہ آپ کا درد حقیقی ہے؛ خدا اُسے نظرانداز نہیں کرتا۔ پھر یاد رکھیں کہ کسی انسان کی ناکامی نے کلیسیا کے سر کو نہیں بدلا، اور آپ کا زخم آپ کے لیے الگ تھلگ رہنے کا جواز نہیں بنتا۔ کسی پختہ، بھروسے کے لائق ایمان دار کے ساتھ دل کھول کر بات کریں، جہاں ممکن ہو صاف بات اور معافی کا راستہ اختیار کریں، اور اگر جماعت واقعی غیر صحت مند ہو تو ایسی جگہ تلاش کریں جہاں کلام کی تعلیم اور ایمان داری موجود ہو۔ شفا اکثر دوسرے لوگوں کے ذریعے ہی آتی ہے۔
کیا اسرائیل اور کلیسیا ایک ہی ہیں؟
یہ ایک پرانی اور سنجیدہ بحث ہے، مگر بنیادی باتوں پر ایمان دار متفق ہیں: اسرائیل خدا کی چنی ہوئی قوم تھی جس کے ذریعے سے مسیح آئے، اور کلیسیا وہ جماعت ہے جو مسیح میں یہودیوں اور غیر یہودیوں پر مشتمل ہے۔ 1 پطرس 2:9 میں وہی الفاظ جو سینا پر اسرائیل سے کہے گئے تھے، کلیسیا پر لگائے گئے ہیں، جو گہری تسلسل دکھاتا ہے۔ کچھ ایمان دار اسرائیل کے لیے خدا کے الگ وعدوں پر زور دیتے ہیں، مگر دونوں صورتوں میں نجات کا ایک ہی راستہ ہے: خداوند یسوع مسیح۔
کلیسیا میں قیادت کس طرح کام کرتی ہے؟
افسیوں 4:11 بتاتا ہے کہ خدا نے بعض کو رسول، نبی، مبشر، چرواہے اور اُستاد بنا کر دیا۔ یہ عطیے بدن پر حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ بدن کو خدمت کے کام کے لیے تیار کرنے کے لیے ہیں۔ نئے عہدنامے میں مقامی جماعتوں میں بزرگ اور خادم مقرر کیے جاتے تھے، اور اُن کی شرائط زیادہ تر کردار سے متعلق تھیں، نہ کہ قابلیت یا شہرت سے۔ صحت مند قیادت خدمت گزار ہوتی ہے، جوابدہ ہوتی ہے، اور کسی ایک شخص کے ہاتھ میں سارا اختیار جمع نہیں کرتی۔
کیا ہر اتوار کلیسیا جانا ضروری ہے؟
بائبل اتوار کی حاضری کا کوئی حساب کتاب والا قانون نہیں دیتی، مگر عبرانیوں 10:25 جمع ہونے سے باز نہ آنے کی واضح تاکید کرتی ہے، اور ابتدائی کلیسیا ہفتے کے پہلے دن، یعنی قیامت کے دن، اکٹھی ہوتی تھی۔ سوال "کیا لازم ہے" سے بدل کر "کیا میں اپنے بدن سے جُڑا ہوا ہوں" بن جانا چاہیے۔ بیماری، سفر یا مجبوری کے دن استثنا ہیں؛ مگر عادت کے طور پر غیر حاضری آہستہ آہستہ دل کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ حاضری محبت کا اظہار ہے، حاضری کی پرچی نہیں۔
کلیسیا کا مقصد کیا ہے؟
اعمال 2:42 سے چار بنیادی مقاصد نکلتے ہیں: کلام کی تعلیم، باہمی رفاقت، عشائے ربانی کے ذریعے مسیح کی یادگاری، اور دعا۔ اِن کے ساتھ خداوند کا بھیجا ہوا حکم بھی جُڑا ہے کہ خوشخبری ہر قوم تک پہنچائی جائے، اور شاگرد بنائے جائیں۔ آخری مقصد یہ ہے کہ خدا کا جلال ظاہر ہو؛ کلیسیا دنیا کے سامنے ایک زندہ نمونہ ہے کہ جب خدا کی محبت ناکامل لوگوں کو جوڑ دے تو کیسا دکھتا ہے۔ کلیسیا خدا کی سب سے بڑی تشہیر ہے۔
اختتام میں
شروع میں ہم نے دو تصویریں دیکھی تھیں: پلاسٹک کی کرسیوں والا کمرہ اور خوبصورت عمارت جہاں لوگ اجنبی رہتے ہیں۔ بائبل کا جواب یہ ہے کہ کلیسیا کی پہچان فرنیچر سے نہیں، بدن ہونے سے ہوتی ہے۔ جہاں مسیح سر ہیں، جہاں اُس کا کلام سکھایا جاتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے بوجھ اُٹھاتے ہیں، جہاں روٹی توڑی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے، وہاں کلیسیا ہے، چاہے چھت ٹپکتی ہو۔
اور آپ کا مقام اِس میں ناظر کا نہیں۔ آپ گاہک نہیں جو خدمت کا معیار پرکھے؛ آپ عضو ہیں جس کے بغیر بدن میں کمی رہ جاتی ہے۔ یہ بات ایک ساتھ چبھتی بھی ہے اور آزاد بھی کرتی ہے: چبھتی ہے کیونکہ اب غیر حاضری معمولی نہیں رہتی، اور آزاد کرتی ہے کیونکہ اب آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ کی جگہ ہے۔ وہ جگہ مسیح نے اپنے خون سے خریدی ہے۔
آگے کے مطالعے کے لیے افسیوں کے خط کے پہلے چار باب آرام سے پڑھیں، پھر اعمال کا دوسرا باب، اور آخر میں 1 کرنتھیوں کا بارھواں باب۔ ایک کاغذ پر لکھیں کہ آپ کس ایک کام سے اپنی مقامی جماعت میں عضو کی طرح جُڑ سکتے ہیں۔ پھر اُسی ہفتے وہ ایک کام کر دیں۔ بدن اِسی طرح بڑھتا ہے: ایک عضو کے حرکت میں آنے سے۔
