رب کی رحمت ہر حال میں قائم
رحمت اور ہمدردی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے Amos 7:8, Luke 7:13-14, یشوع 2:18 and Jonah 4:9.
☀ صبح کا لمحہ
رب نے مجھ سے پوچھا، ”اے عاموس، تجھے کیا نظر آتا ہے؟“ مَیں نے جواب دیا، ”ساہول۔“ تب رب نے فرمایا، ”مَیں اپنی قوم اسرائیل کے درمیان ساہول لگانے والا ہوں۔ آئندہ مَیں اُن کے گناہوں کو نظرانداز نہیں کروں گا بلکہ ناپ ناپ کر اُن کو سزا دوں گا۔
Amos 7:8
ہم مان لیتے ہیں کہ جو دیوار نظر کو سیدھی لگے، وہ واقعی سیدھی ہے، کیونکہ آنکھ آخری پیمانہ ہے۔ عاموس کے زمانے کا اسرائیل بھی یہی سمجھتا تھا۔ بازار بھرے ہوئے تھے، عبادت گاہیں چل رہی تھیں، قوم خوشحال نظر آتی تھی۔ مگر خدا نے ایک اور آلہ اٹھایا، ساہول کا دھاگہ، اور دیوار کو نئے سرے سے جانچا۔
عاموس خود کسان اور چرواہا تھا، یہوداہ کے گاؤں تقوع سے، مگر خدا نے اسے شمالی سلطنت اسرائیل میں بھیجا، اس دور میں جب ملک خوشحال تھا مگر انصاف کہیں کھو چکا تھا۔ ساہول کا دھاگہ معمار دیوار کی سیدھ جانچنے کے لیے استعمال کرتے تھے: اوپر سے لٹکایا ہوا وزن بتاتا تھا کہ دیوار واقعی سیدھی ہے یا صرف دکھاوے کی۔ خدا نے عاموس کو دکھایا کہ وہ خود قوم کے بیچ یہ دھاگہ لٹکا رہا ہے۔
یہ پیمانہ ظلم نہیں بلکہ ایمانداری تھی۔ دیوار پہلے ہی ٹیڑھی تھی، دھاگے نے صرف وہ سچائی سامنے لائی جو نظر چھپا رہی تھی۔ آج بھی ہم اپنی زندگی کو اپنی آنکھ سے ناپتے ہیں، گھر سنبھلا ہوا لگے، رشتے ٹھیک لگیں، دل مطمئن لگے، تو کافی سمجھ لیتے ہیں۔
مگر یہی خدا جو دھاگہ لٹکاتا ہے، وہی ہاتھ تھامے بھی رکھتا ہے۔ اس کا پیمانہ گرانے کے لیے نہیں بلکہ سیدھا کرنے کے لیے ہے۔ ہفتے کی اس صبح، جب گھر کا کام ہلکا ہے اور دل کو سانس لینے کی مہلت ہے، یہی وقت ہے کہ خاموشی میں پوچھا جائے: کہاں میری زندگی صرف دیکھنے میں سیدھی ہے۔
آج
آج گھر میں کوئی ایک تصویر، آئینہ یا پردہ تلاش کریں جو ذرا ٹیڑھا لٹکا ہوا ہے، اپنے ہاتھ سے اسے سیدھا کریں، اور یہ کام کرتے ہوئے دھیرے سے یہ دعا کہیں: اے خدا، میری زندگی میں بھی وہی سیدھ کر جو صرف تیری آنکھ دیکھ سکتی ہے۔
✦ دوپہر کا لمحہ
اُسے دیکھ کر خداوند کو اُس پر بڑا ترس آیا۔ اُس نے اُس سے کہا، ”مت رو۔“ پھر وہ جنازے کے پاس گیا اور اُسے چھوا۔ اُسے اُٹھانے والے رُک گئے تو عیسیٰ نے کہا، ”اے نوجوان، مَیں تجھے کہتا ہوں کہ اُٹھ!“
Luke 7:13-14
نین کے شہر کا دروازہ تنگ تھا۔ جنازے کا تابوت کھلا ہوتا تھا، لکڑی کے تختوں پر، کندھوں پر اٹھایا جاتا، اور پیچھے رونے والیوں کی آوازیں بلند ہوتیں۔ ایسے جلوس میں ہر قدم بھاری ہوتا، ہر سانس میں ماتم۔
یہ عورت بیوہ تھی، اور جو بیٹا اس کے ساتھ تھا وہ اس کا اکلوتا سہارا تھا۔ شوہر جا چکا تھا، اب بیٹا بھی جا رہا تھا۔ اس زمانے میں بیوہ کے پاس نہ آمدنی کا ذریعہ تھا نہ تحفظ کا کوئی اور راستہ۔ یہ جلوس صرف ایک موت کا نہیں، ایک پوری زندگی کے ختم ہو جانے کا جلوس تھا۔
ٹھیک اسی دروازے پر دو ہجوم ٹکرائے۔ ایک زندگی کی طرف جا رہا تھا، دوسرا موت کی طرف۔ عیسیٰ نے اسے دیکھا۔ کسی نے درخواست نہیں کی، کسی نے التجا نہیں کی۔ اس نے خود دیکھا اور دل میں درد محسوس کیا، اور تابوت کو ہاتھ لگایا، ایسا کام جو اسے رسمی طور پر ناپاک بنا دیتا۔ مگر وہ رکا نہیں۔
جو لوگ جلوس میں تھے، وہ صرف ایک آواز سن سکے، اور وہ آواز موت سے بڑی نکلی۔ کسی نے مانگا نہیں تھا، پھر بھی اسے دیا گیا۔
آج
آج کے دن، گھر میں، کسی خالی جگہ کے پاس بیٹھنا ہو سکتا ہے جہاں درد چھپا ہوا ہے۔ کسی ایسے شخص کا نام لکھیں جو اکیلا رہ گیا ہے، بیوہ، یا کوئی جو کسی کو کھو چکا ہے، اور آج اسے فون کر کے اس کی خیریت پوچھیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
کہ آپ ہمارے اِس ملک میں آتے وقت قرمزی رنگ کا یہ رسّا اُس کھڑکی کے سامنے باندھ دیں جس میں سے آپ نے ہمیں اُترنے دیا ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ اُس وقت آپ کے ماں باپ، بھائی بہنیں اور تمام گھر والے آپ کے گھر میں ہوں۔
یشوع 2:18
دیوار سے لٹکتی رسی ابھی ہلکی سی کانپ رہی ہے، دو مرد نیچے اتر چکے ہیں، اور کھڑکی میں اب ایک سرخ دھاگہ باندھا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی دھاگہ نہیں، یہ ایک عورت کا پورا داؤ ہے جو شہر کی فصیل میں بنے اپنے گھر کی کھڑکی میں بندھا جا رہا ہے۔
راحب یریحو کی ایک کسبی تھی، ایسی عورت جس کا کوئی مقام نہ تھا، نہ خاندان میں عزت، نہ قوم میں شناخت۔ اس کا گھر شہر کی فصیل کا ہی حصہ تھا، باہر والوں کے لیے، بھاگنے والوں کے لیے بنا ہوا۔ مگر جب جاسوسوں نے اس سے وعدہ کیا تو اس نے صرف یقین نہیں کیا، اس نے اپنے ہاتھ سے دھاگہ باندھا اور کھڑکی میں چھوڑا، ایسی جگہ جہاں سے پوری فوج اسے دیکھ سکتی تھی۔
یہ دھاگہ باندھنا آسان نہ تھا۔ جب شہر میں ہنگامہ مچے گا، چیخیں اٹھیں گی، تو کیا وہ اپنی جگہ ٹکی رہے گی، یا گھبرا کر بھاگ جائے گی؟ اس کا بھروسا صرف دل میں نہیں تھا، وہ ایک کھڑکی میں لٹکا ہوا، سب کو نظر آنے والا نشان بن چکا تھا۔ اس نے اپنے باپ، ماں، بھائیوں کو بھی اسی گھر میں جمع کرنا تھا، سب کو ایک ہی چھت کے نیچے۔
یہی عورت بعد میں مسیح کے نسب نامے میں آتی ہے۔ ایک باہر کی عورت، جس کی زندگی کا داغ مٹایا نہیں گیا بلکہ اس کے ایمان کے ساتھ یاد رکھا گیا۔
آج
آج ایک سرخ دھاگہ یا ربن اپنے گھر کے دروازے یا کھڑکی پر باندھ دیں، اور جب نظر پڑے تو اونچی آواز میں اپنے گھر والوں میں سے کسی ایک کا نام لیں جسے آپ چاہتے ہیں کہ اس ہفتے کے آخر میں سب ایک ساتھ، محفوظ جمع ہوں۔
☾ شام کا لمحہ
تب اللہ نے اُس سے پوچھا، ”کیا تُو بیل کے سبب سے غصے ہونے میں حق بجانب ہے؟“ یونس نے جواب دیا، ”جی ہاں، مَیں مرنے تک غصے ہوں، اور اِس میں مَیں حق بجانب بھی ہوں۔“
Jonah 4:9
یوناہ خدا سے غصے میں بات کرتا ہے، اور خدا اسے خاموش نہیں کراتا۔
یوناہ نینوہ کے باہر بیٹھا ہے۔ شہر بچ گیا، لوگوں نے توبہ کر لی، اور خدا نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ یہ یوناہ کو پسند نہیں۔ وہ شہر سے باہر ایک جھونپڑی بناتا ہے اور دیکھنے بیٹھ جاتا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔ خدا ایک پودا اگاتا ہے، شاید ایک تیزی سے بڑھنے والا جھاڑی نما درخت، جو ریگستانی گرمی میں سایہ دیتا ہے۔ یوناہ اس سائے سے خوش ہوتا ہے۔ پھر ایک کیڑا پودے کو کھا جاتا ہے، دھوپ تیز ہو جاتی ہے، اور یوناہ غصے سے بیزار ہو کر موت مانگتا ہے۔
خدا سوال پوچھتا ہے، کیا تجھے غصہ ہونا ٹھیک ہے، اور یوناہ جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ کہتا ہے، ہاں، مجھے غصہ ہے، مرنے تک۔ یہ ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ ایمانداری ہے۔
یہ یوناہ کی کہانی کا وہ حصہ ہے جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ ہم بھی کسی چھوٹی چیز، ایک پودے جیسی چیز، پر اتنا غصہ کر سکتے ہیں جتنا کسی بڑی بات پر۔ خدا اس غصے سے بھاگتا نہیں، وہ سوال کے ساتھ قریب آتا ہے۔
آج
آج رات، جو بات دن میں تمہیں چبھی، اسے خاموشی سے نگلنے کی بجائے بلند آواز میں خدا کے سامنے کہہ دو، جیسے یوناہ نے کہا۔ ایک جملے میں بتاؤ، مجھے یہ بات ناگوار گزری، اور پھر چپ ہو کر سن لو کہ وہ کیا کہتا ہے۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
8رب نے مجھ سے پوچھا، ”اے عاموس، تجھے کیا نظر آتا ہے؟“ مَیں نے جواب دیا، ”ساہول۔“ تب رب نے فرمایا، ”مَیں اپنی قوم اسرائیل کے درمیان ساہول لگانے والا ہوں۔ آئندہ مَیں اُن کے گناہوں کو نظرانداز نہیں کروں گا بلکہ ناپ ناپ کر اُن کو سزا دوں گا۔
13اُسے دیکھ کر خداوند کو اُس پر بڑا ترس آیا۔ اُس نے اُس سے کہا، ”مت رو۔“
14پھر وہ جنازے کے پاس گیا اور اُسے چھوا۔ اُسے اُٹھانے والے رُک گئے تو عیسیٰ نے کہا، ”اے نوجوان، مَیں تجھے کہتا ہوں کہ اُٹھ!“
18کہ آپ ہمارے اِس ملک میں آتے وقت قرمزی رنگ کا یہ رسّا اُس کھڑکی کے سامنے باندھ دیں جس میں سے آپ نے ہمیں اُترنے دیا ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ اُس وقت آپ کے ماں باپ، بھائی بہنیں اور تمام گھر والے آپ کے گھر میں ہوں۔
9تب اللہ نے اُس سے پوچھا، ”کیا تُو بیل کے سبب سے غصے ہونے میں حق بجانب ہے؟“ یونس نے جواب دیا، ”جی ہاں، مَیں مرنے تک غصے ہوں، اور اِس میں مَیں حق بجانب بھی ہوں۔“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں