نوح کی زندگی اور کشتی کا واقعہ
تعارف
ایک آدمی ہے جو خشکی پر ایک بہت بڑا جہاز بنا رہا ہے۔ آس پاس کوئی سمندر نہیں، کوئی بندرگاہ نہیں، دور تک پانی کا نام و نشان نہیں۔ سالوں تک ہتھوڑے کی آواز گونجتی رہی، اور سالوں تک لوگ ہنستے رہے۔ اُس کے پاس اپنے کام کا کوئی ثبوت نہ تھا سوائے ایک بات کے: خدا نے فرمایا تھا۔
نوح نبی کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں بچوں کی کتابوں کی وہ تصویر آتی ہے جس میں زرافے کی گردن کشتی سے باہر جھانک رہی ہے۔ مگر پیدائش کے ابواب 6 سے 9 تک جو کہانی لکھی ہے، وہ جانوروں کی گنتی کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا کی کہانی ہے جو اپنے ہی گناہ میں ڈوب چکی تھی، ایک ایسے خدا کی کہانی ہے جس کا دل غمگین ہوا، اور ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جو خدا کے فضل کے سہارے کھڑا رہا اور پھر اپنے ہی انگور کے باغ میں گر گیا۔
اِس صفحے پر ہم نوح کی زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: اُس کی پیدائش سے لے کر اُس کی موت تک، اُس کی راستبازی سے لے کر اُس کی شرمندگی تک، اور یہ سمجھیں گے کہ اُس کی کشتی ہمیں کس دروازے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
اِس رہنما میں ہم نوح کو "دوسرے آدم" کے طور پر پڑھیں گے۔ طوفان صرف سزا نہ تھا، وہ تخلیق کا اُلٹ جانا تھا؛ اور کشتی سے باہر نکلنا ایک نئی تخلیق کا آغاز تھا۔ خدا نے نوح کو نئی زمین پر اُسی برکت کے ساتھ کھڑا کیا جو آدم کو دی گئی تھی۔ لیکن نوح بھی ایک باغ میں، ایک پھل کے ذریعے، دوبارہ گر گیا۔ یہی ناکامی اِس واقعے کا سب سے اہم پیغام ہے: پانی دنیا کو دھو سکتا ہے، مگر انسان کے دل کو نہیں۔ اِس لیے نوح کی کہانی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ایک آخری آدم کی راہ دیکھیں، اور یہ بھی سکھاتی ہے کہ فضل نوح کی نیکی کا انعام نہیں، بلکہ اُس کی نیکی کی جڑ تھا۔
بائبل نوح نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
نوح کا تعارف بائبل میں ایک لمبی نسب نامے کی فہرست کے آخر میں ہوتا ہے۔ پیدائش کے پانچویں باب میں ایک ہی بات بار بار دہرائی جاتی ہے: فلاں پیدا ہوا، اِتنے سال جیا، اور مر گیا۔ موت کی یہ گھنٹی مسلسل بجتی رہتی ہے، اور پھر لمک اپنے بیٹے کا نام نوح رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ہمیں تسلی دے گا۔ نوح کے نام کا مطلب ہی آرام اور تسلی ہے۔ ایک ایسی زمین پر جس پر لعنت پڑی تھی، ایک باپ نے اپنے بیٹے میں راحت کی اُمید دیکھی۔
مگر جس دنیا میں نوح جوان ہوا، وہ راحت سے بہت دور تھی۔ پیدائش 6:5 میں لکھا ہے کہ "خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اُس کے دل کے تصور اور خیال سب کے سب ہمیشہ برے ہی ہیں۔" یہ صرف بیرونی بدکاری کا بیان نہیں، یہ دل کی تشخیص ہے۔ خدا نے انسان کے کاموں سے پہلے اُس کے خیالوں کو دیکھا۔ اور پھر ایک ایسی بات لکھی جاتی ہے جو کانپ دیتی ہے: خدا کو افسوس ہوا اور اُس کا دل غمگین ہوا۔ ہمارا خدا پتھر کا بُت نہیں جو انسان کی بربادی کو بےحسی سے دیکھتا رہے۔
اِسی اندھیرے کے بیچ ایک جملہ روشنی کی طرح آتا ہے: نوح خداوند کی نگاہ میں مقبول ہوا۔ ترتیب پر غور کیجیے، کیونکہ یہی اِس پورے واقعے کی کنجی ہے۔ پہلے فضل، پھر راستبازی۔ آیت 8 میں فضل ملتا ہے، اور آیت 9 میں گواہی دی جاتی ہے: "نوح کا احوال یہ ہے۔ نوح مرد راستباز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا" (پیدائش 6:9)۔ یہاں "کامل" کا مطلب بےگناہ نہیں بلکہ سالم، مکمل، بےریا ہے؛ ایک ایسا آدمی جس کی زندگی دو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہ تھی۔ اور "خدا کے ساتھ ساتھ چلنا" وہی زبان ہے جو حنوک کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ نوح کی راستبازی اُس کی کارکردگی کا تمغہ نہیں تھی، وہ اُس فضل کا پھل تھی جو اُسے پہلے مل چکا تھا۔
پھر خدا اُسے ایک عجیب حکم دیتے ہیں: "سو تُو اپنے لئے گوفر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا۔ اُس کشتی میں کوٹھریاں بنانا اور اُسے اندر اور باہر رال سے پوتنا" (پیدائش 6:14)۔ یہ حکم بہت عملی ہے: لکڑی، کوٹھریاں، رال، ناپ، دروازہ، روشندان۔ خدا کا فضل نوح کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا؛ فضل اُسے آری اور ہتھوڑے کے ساتھ سالوں کی محنت میں دھکیل دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ کشتی کا نقشہ نوح کے دماغ کی پیداوار نہ تھا۔ نجات کا ڈھانچہ خدا نے خود ڈیزائن کیا۔
نجات کا نقشہ آسمان سے آیا، ہتھوڑا زمین پر چلا۔
اور جب کشتی تیار ہوئی تو دعوت آئی: "اور خداوند نے نوح سے کہا کہ تُو اور تیرا سارا گھرانا کشتی میں داخل ہو کیونکہ میں نے اِس زمانہ کے لوگوں میں سے تجھ ہی کو اپنے حضور راستباز دیکھا ہے" (پیدائش 7:1)۔ غور کیجیے، خدا نہیں کہتے "جا کر بچ جا"، بلکہ "میرے پاس آ جا"، "داخل ہو"۔ اور یہ دعوت پورے گھرانے کے لیے ہے۔ نوح کی راستبازی اُس کے بیٹوں کو راستباز نہیں بناتی، مگر خدا کا فضل ایک آدمی کے ایمان کے ذریعے ایک پورے خاندان کو کشتی کے اندر لے آتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
نوح کا نام پیدائش کے بعد بھی بائبل میں گونجتا رہتا ہے۔ یسعیاہ نبی کے ذریعے خدا اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ جس طرح میں نے نوح سے قسم کھائی تھی کہ پانی پھر زمین پر نہیں آئے گا، اُسی طرح میرا تجھ پر غضب ہمیشہ نہیں رہے گا (یسعیاہ 54:9 کا مضمون)۔ یعنی قوسِ قزح صرف موسم کی نشانی نہیں، وہ خدا کی وفاداری کی دستاویز بن جاتی ہے جس کی بنیاد پر نبی قوم کو دلاسا دیتے ہیں۔ حزقی ایل 14:14 میں نوح کا نام دانی ایل اور ایوب کے ساتھ اُن تین آدمیوں میں گنا جاتا ہے جن کی راستبازی مشہور تھی، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُن کی راستبازی صرف اُنہی کو بچا سکتی ہے، دوسروں کو نہیں۔ ایک انسان کی نیکی کسی دوسرے کے لیے کافی نہیں۔ یہ بات ہمیں اُس ایک کی طرف دھکیلتی ہے جس کی راستبازی بہتوں کے لیے کافی ہے۔
نئے عہد نامے میں نوح تین طرح سے سامنے آتا ہے۔ پہلا، ایمان کے نمونے کے طور پر: "ایمان ہی سے نوح نے ہدایت پا کر جو اُن چیزوں کی بابت تھی جو اُس وقت تک اَن دیکھی تھیں خدا کے خوف سے کشتی بنائی تاکہ اُس کا گھرانا بچے اور اُس ایمان کے سبب سے اُس نے دنیا کو مجرم ٹھہرایا اور اُس راستبازی کا وارث ہوا جو ایمان سے ہے" (عبرانیوں 11:7)۔ یہ آیت نوح کے بارے میں سب سے گہری تفسیر ہے۔ اُس نے وہ چیز دیکھی جو ابھی اَن دیکھی تھی؛ اُس نے خدا کے خوف سے کام کیا، ہجوم کے خوف سے نہیں؛ اور جو راستبازی اُسے ملی، وہ ایمان سے ملی۔ عبرانیوں کا مصنف پیدائش 6:8 کی ترتیب کی تصدیق کر رہا ہے۔
دوسرا، عدالت کی تنبیہ کے طور پر۔ خود خداوند یسوع مسیح نے فرمایا: "اور جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِ آدم کے آنے کے وقت ہو گا" (متی 24:37)۔ آگے وہ سمجھاتے ہیں کہ لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے رہے اور کچھ نہ سمجھے جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خداوند اُس زمانے کے لوگوں کے خوفناک جرائم کا ذکر نہیں کرتے، بلکہ اُن کی معمول کی زندگی کا۔ سب سے بڑا خطرہ کھلی بغاوت نہیں، بےپروا عام سی مصروفیت ہے۔
تیسرا، بپتسمے کے سایے کے طور پر۔ پطرس رسول لکھتا ہے کہ کشتی میں آٹھ جانیں پانی سے گزر کر بچیں، اور اِسی کے مطابق بپتسمہ ہمیں بچاتا ہے، جسم کی نجاست دور کرنے سے نہیں بلکہ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلے سے (1 پطرس 3:20-21 کا مضمون)۔ پانی نے دنیا کو ہلاک کیا اور کشتی نے نوح کو بچایا: عدالت اور نجات ایک ہی لمحے میں۔ صلیب پر بھی یہی ہوا۔ خدا کے غضب کا طوفان مسیح پر ٹوٹ پڑا، اور جو اُس میں ہیں وہ اُس کے اندر محفوظ ہیں۔ کشتی کا صرف ایک دروازہ تھا؛ خداوند یسوع نے فرمایا کہ دروازہ میں ہوں۔ اور پطرس اپنے دوسرے خط میں نوح کو "راستبازی کا منادی کرنے والا" کہتا ہے، یعنی وہ صرف بڑھئی نہ تھا بلکہ ایک مبشر بھی تھا جس کی منادی کا نتیجہ اُس کے گھرانے کے سوا کوئی نہ تھا۔
اُن کی زندگی کا مرکز
نوح کی نو سو پچاس سالہ زندگی میں تین لمحے ایسے ہیں جن پر پوری کہانی گھومتی ہے۔
پہلا لمحہ وہ ہے جب خدا نے دروازہ بند کیا۔ نوح، اُس کی بیوی، اُس کے تین بیٹے سِم، حام اور یافت اور اُن کی بیویاں کشتی میں داخل ہوئے، اور پیدائش 7:16 کے آخر میں ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جو پہاڑ جیسا بھاری ہے: "اور خداوند نے اُسے باہر سے بند کر دیا۔" نوح نے کشتی بنائی، مگر دروازہ اُس نے بند نہیں کیا۔ اگر وہ خود بند کرتا تو ساری زندگی سوچتا رہتا کہ کیا ٹھیک سے بند ہوا؟ کیا کوئی درز رہ گئی؟ جسے خدا اپنے ہاتھ سے محفوظ کرتے ہیں، اُس کی سلامتی اُس کے اپنے ہاتھوں کی مضبوطی پر نہیں ٹکتی۔ اِس لمحے میں فضل کی وہی ترتیب نظر آتی ہے: انسان اطاعت میں چلتا ہے، مگر حفاظت خدا کا کام ہے۔ چالیس دن اور چالیس رات مینہ برستا رہا، گہرے سمندر کے سوتے پھٹ پڑے، اور جو پانی خدا نے تخلیق کے وقت الگ کیے تھے وہ واپس آ کر ملنے لگے۔ دنیا واپس اُس بےترتیبی کی طرف لوٹ گئی جہاں سے خدا نے اُسے نکالا تھا۔
دوسرا لمحہ خاموشی کے بعد آتا ہے۔ ایک سو پچاس دن پانی زمین پر چڑھا رہا، اور کشتی کے اندر بند لوگوں کے پاس کوئی خبر، کوئی کھڑکی سے نظر آنے والا کنارہ نہ تھا۔ پھر لکھا ہے: "اور خدا نے نوح کو اور اُن سب جنگلی جانوروں اور چوپایوں کو جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے یاد کیا اور خدا نے زمین پر ہوا چلائی اور پانی گھٹنے لگا" (پیدائش 8:1)۔ بائبل میں "یاد کرنا" اِس کا مطلب نہیں کہ خدا بھول گئے تھے؛ اِس کا مطلب ہے کہ خدا اپنے عہد کے مطابق عمل میں آ گئے۔ اور جس ہوا کا ذکر ہے، وہ وہی لفظ ہے جو پیدائش 1:2 میں خدا کی روح کے لیے استعمال ہوا جو پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔ نئی تخلیق شروع ہو رہی ہے۔ نوح نے پہلے کوّا چھوڑا، پھر کبوتر، اور جب کبوتر زیتون کی تازہ پتی لے کر آیا تو اُسے معلوم ہوا کہ زندگی واپس آ رہی ہے۔ باہر نکل کر نوح کا پہلا کام قربان گاہ بنانا تھا۔ نئی دنیا میں پہلی عمارت گھر نہیں، مذبح تھی۔
تیسرا لمحہ عہد کا ہے۔ خدا نے نوح اور اُس کے بیٹوں کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو بھر دو، بالکل وہی الفاظ جو آدم کو کہے گئے تھے۔ اور پھر: "میں اپنی کمان بادل میں رکھتا ہوں۔ وہ میرے اور زمین کے درمیان عہد کا نشان ہو گی" (پیدائش 9:13)۔ عبرانی میں یہ لفظ جنگی کمان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خدا اپنی کمان بادلوں میں لٹکا دیتے ہیں، تانی ہوئی نہیں بلکہ رکھ دی ہوئی، اور اُس کا رُخ زمین کی طرف نہیں، آسمان کی طرف ہے۔ یہ عہد کسی شرط پر نہیں، خدا کی اپنی وفاداری پر قائم ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جس کے بعد نوح کی کہانی اپنی سب سے تکلیف دہ آیت کی طرف بڑھتی ہے: نئے آدم نے انگور کا باغ لگایا، اُس کا پھل پیا، مست ہوا اور بےلباس پڑا رہا، اور اُس کے بیٹے کے ردِعمل سے ایک نئی لعنت نکل آئی۔ نیا آغاز پرانے دل کے ساتھ ہوا تھا۔
نوح سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ اطاعت اکثر تنہائی میں ہوتی ہے۔ نوح کے پاس ہم خیال لوگوں کی جماعت نہ تھی، کوئی تنظیم نہ تھی، کوئی سالانہ رپورٹ نہ تھی جس میں وہ اپنی کامیابی دکھا سکتا۔ سالوں کی محنت کے بعد اُس کے ایمان کا کل حاصل سات لوگ تھے، اور وہ بھی اُس کے اپنے گھر کے۔ اگر آپ اپنے دفتر میں واحد مسیحی ہیں، یا اپنے خاندان میں وہ واحد شخص ہیں جو خدا کے کلام کو سنجیدگی سے لیتا ہے، تو نوح کی گواہی آپ کے لیے ہے۔ عبرانیوں 11:7 کہتی ہے کہ اُس نے "خدا کے خوف سے" کام کیا۔ جس کے دل میں خدا کا خوف بس جاتا ہے، اُس کے دل سے لوگوں کا خوف نکل جاتا ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ راستبازی فضل سے پیدا ہوتی ہے، فضل راستبازی سے نہیں۔ ہمارے ذہن میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ نوح اِس لیے بچا کہ وہ اچھا آدمی تھا۔ مگر کلام کی ترتیب اِس کے برعکس ہے: پہلے وہ خداوند کی نگاہ میں مقبول ہوا، پھر اُس کے بارے میں لکھا گیا کہ وہ راستباز اور کامل تھا۔ اگر یہ ترتیب اُلٹ جائے تو مسیحی زندگی ایک تھکا دینے والی دوڑ بن جاتی ہے جس میں ہم روز خدا کی محبت کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوح کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم قبولیت کی طرف کام نہیں کرتے، ہم قبولیت سے نکل کر کام کرتے ہیں۔
فضل پہلے آتا ہے، ہتھوڑا اُس کے بعد اُٹھتا ہے۔
تیسرا سبق سب سے تلخ اور سب سے ضروری ہے: بہترین انسان بھی نجات دہندہ نہیں بن سکتا۔ نوح دوسرا آدم تھا، نئی زمین پر خدا کی برکت کے ساتھ کھڑا، مگر اُس کے دل میں وہی پرانا بیج موجود تھا۔ باغ، پھل، بےلباسی، شرمندگی: پیدائش 3 اور پیدائش 9 کے یہ الفاظ اتفاقی نہیں۔ خدا نے طوفان سے پہلے فرمایا تھا کہ انسان کے دل کے خیال برے ہیں، اور طوفان کے بعد بھی وہی بات دہرائی: "انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے برا ہے" (پیدائش 8:21 کا حصہ)۔ پانی نے زمین کو صاف کیا، مگر انسان کے دل کو نہیں۔ اِسی لیے بائبل ہمیں نوح پر نہیں چھوڑتی۔ ہمیں ایک ایسے آخری آدم کی ضرورت ہے جو باغ میں گرا نہیں بلکہ ایک اَور باغ میں یہ کہہ کر سرِ تسلیم خم کیا کہ "میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو"۔
آئینہ
آپ نوح کی کہانی کو دور کی کہانی سمجھ کر ٹال سکتے ہیں، مگر خداوند یسوع نے اِسے آپ کی زندگی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ متی 24:37 کے مطابق جو نوح کے دنوں میں ہوا وہی پھر ہو گا، اور جو ہوا وہ یہ تھا کہ لوگ کھاتے پیتے اور شادیاں کرتے رہے اور کچھ نہ سمجھے۔ اپنے پچھلے ہفتے کے بارے میں سوچیے۔ ملازمت کا دباؤ، بجلی کے بل، بچوں کے سکول کی فیس، رشتوں کی گفتگو، موبائل پر لامتناہی سکرول۔ اِن میں سے کوئی چیز گناہ نہیں۔ اور بالکل یہی خطرے کی بات ہے۔ نوح کے زمانے کے لوگ کسی بڑی برائی میں نہیں، بلکہ اپنی معمول کی مصروفیت میں غافل تھے۔
کیا آپ کے پاس خدا کے لیے وقت "بچتا" نہیں، یا آپ نے اُسے دیا نہیں؟ کیا آپ کے پیسے کی ترتیب بتاتی ہے کہ آپ کسی آنے والے دن کے منتظر ہیں، یا صرف اِسی دنیا میں گھر بنا رہے ہیں؟ نوح نے سالوں تک اُس چیز پر محنت کی جو اُس وقت تک اَن دیکھی تھی۔ آپ اپنی توانائی کہاں لگا رہے ہیں: جو نظر آتا ہے اُس پر، یا جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے اُس پر؟
اور ایک اَور بات، جو زیادہ چھبتی ہے۔ نوح گر گیا، اور وہ اُس وقت گرا جب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ طوفان میں وہ کھڑا رہا، سکون میں لڑکھڑا گیا۔ ہم میں سے بہت لوگ مشکل میں دعا کے پہلوان بن جاتے ہیں اور آسانی میں سست ہو جاتے ہیں۔ آپ کا انگور کا باغ کیا ہے؟ وہ کامیابی، وہ آرام، وہ تنہائی کے لمحے جہاں کوئی نہیں دیکھتا؟ نوح کی بےلباسی ہمیں ذلیل کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی؛ وہ اِس لیے لکھی گئی کہ ہم اپنی راستبازی پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں۔ کشتی کا دروازہ خدا نے بند کیا تھا، اور آج بھی جو ہاتھ آپ کو تھامے ہوئے ہے وہ آپ کا نہیں، مسیح کا ہے۔ یہی بات آپ کو خوف سے آزاد کرتی ہے اور غفلت سے جگاتی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو نوح کی کہانی بہت پسند آتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ وہ صرف جانوروں کی قطار پر ختم نہ ہو جائے۔ چھوٹے بچوں کے لیے آسان زبان یہ ہو سکتی ہے: خدا نے دنیا کو بہت خوبصورت بنایا تھا، مگر لوگوں نے ایک دوسرے کو دُکھ دینا شروع کر دیا اور خدا کا دل بہت غمگین ہوا۔ خدا نے ایک آدمی کو چنا جس کا نام نوح تھا، اور اُسے کہا کہ ایک بہت بڑی کشتی بنا۔ نوح نے خدا کی بات مانی، حالانکہ لوگ ہنسے۔ جب بارش آئی تو خدا نے کشتی کا دروازہ خود بند کیا، اور نوح کا سارا خاندان اور سب جانور محفوظ رہے۔ بعد میں خدا نے آسمان پر ایک رنگین قوس رکھی اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ ایک قدم آگے جا سکتے ہیں: کشتی کا صرف ایک دروازہ تھا، اور خداوند یسوع نے کہا کہ وہ خود دروازہ ہیں۔ اور نوح کی کمزوری کا ذکر بھی چھپانا ضروری نہیں، کیونکہ بچے یہ جان کر تسلی پاتے ہیں کہ بائبل کے ہیرو بھی کامل نہ تھے، صرف خدا کامل ہے۔
اگر آپ گھر یا اتوار سکول میں یہ کہانی سکھانا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس عمر کے لحاظ سے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، سکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)، جن میں سوالات اور گفتگو کے نکات بھی شامل ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نوح نبی کون تھے؟
نوح لمک کے بیٹے اور آدم سے دسویں پشت میں تھے، اور اُن کا نام "تسلی" یا "آرام" کے معنی رکھتا ہے۔ بائبل اُنہیں ایک راستباز، سالم اور خدا کے ساتھ چلنے والا آدمی کہتی ہے، جیسا کہ پیدائش 6:9 میں لکھا ہے۔ پطرس رسول اُنہیں راستبازی کا منادی کرنے والا کہتا ہے، یعنی وہ صرف کشتی کے بڑھئی نہ تھے بلکہ اپنے زمانے کو خدا کی عدالت سے خبردار کرنے والے مبشر بھی تھے۔ اُن کے تین بیٹے سِم، حام اور یافت تھے، اور طوفان کے بعد ساری انسانیت اِنہی سے پھیلی۔
نوح کی کشتی کتنی بڑی تھی؟
پیدائش 6 کے مطابق کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ، چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی، یعنی تقریباً ایک سو پینتیس میٹر لمبی، بائیس میٹر چوڑی اور تیرہ میٹر اونچی۔ اُس کی تین منزلیں اور اندر بہت سی کوٹھریاں تھیں۔ خدا نے حکم دیا کہ اُسے گوفر کی لکڑی سے بنایا جائے اور اندر باہر رال سے پوتا جائے (پیدائش 6:14)۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈیزائن تیز رفتار جہاز کا نہیں، ایک تیرتے ہوئے حفاظتی گھر کا تھا؛ اُس میں بادبان یا چپو کا ذکر نہیں، کیونکہ اُس کی رہنمائی خدا کے ہاتھ میں تھی۔
کشتی بنانے میں کتنے سال لگے؟
بائبل کوئی حتمی تعداد نہیں بتاتی۔ پیدائش 6:3 میں ایک سو بیس سال کا ذکر ہے، جسے بہت سے مفسر خدا کے صبر کی مہلت سمجھتے ہیں، اور پیدائش 5:32 اور 7:6 کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نوح چھ سو سال کے تھے جب طوفان آیا۔ اِس سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ تعمیر کا کام کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا تھا۔ اصل نکتہ گنتی نہیں بلکہ ثابت قدمی ہے: نوح نے سالہا سال ایک ایسے وعدے پر محنت کی جس کا کوئی بیرونی ثبوت موجود نہ تھا۔
کیا طوفان پوری دنیا پر آیا تھا؟
پیدائش کا بیان عالمگیر زبان استعمال کرتا ہے: پانی نے سب اونچے پہاڑوں کو ڈھانپ لیا اور ہر جاندار جو خشکی پر تھا ہلاک ہوا، سوائے اُن کے جو کشتی میں تھے۔ روایتی مسیحی تعلیم اِسے ایک عالمی عدالت کے طور پر لیتی ہے، اور نئے عہد نامے میں پطرس رسول بھی "پہلی دنیا" کی ہلاکت کی زبان استعمال کرتا ہے۔ کچھ مسیحی اِس کی وسعت پر بحث کرتے ہیں، مگر ایمان کا مرکزی نکتہ متنازع نہیں: خدا گناہ کی عدالت کرتے ہیں اور اپنے لوگوں کو بچاتے ہیں۔
خدا نے نوح کو ہی کیوں چنا؟
پیدائش 7:1 میں خداوند فرماتے ہیں کہ "میں نے اِس زمانہ کے لوگوں میں سے تجھ ہی کو اپنے حضور راستباز دیکھا ہے"، مگر اِس سے پہلے آیت 6:8 یہ بتا چکی ہے کہ نوح خداوند کی نگاہ میں مقبول ہوا۔ یعنی چناؤ کی بنیاد نوح کی خوبی نہیں بلکہ خدا کا فضل تھا، اور اُس فضل کا پھل نوح کی راستباز زندگی تھی۔ عبرانیوں 11:7 بھی صاف کہتی ہے کہ وہ اُس راستبازی کا وارث ہوا "جو ایمان سے ہے"۔ نوح خدا کی مہربانی کا نمونہ ہے، انسانی کارکردگی کا نہیں۔
پیدائش 8:1 میں "خدا نے نوح کو یاد کیا" کا کیا مطلب ہے؟
بائبل میں "یاد کرنا" بھولنے کے برعکس نہیں بلکہ عہد کے مطابق عمل کرنے کا اظہار ہے۔ پیدائش 8:1 کہتی ہے: "اور خدا نے نوح کو اور اُن سب جنگلی جانوروں اور چوپایوں کو جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے یاد کیا"، اور اِس کے فوراً بعد پانی گھٹنے لگتا ہے۔ یہ آیت اُن سب کے لیے تسلی ہے جو لمبی خاموشی میں ہیں: خدا کی خاموشی اُس کی غیرحاضری نہیں۔ جس گھڑی وہ اپنے وعدے کے مطابق حرکت کرتے ہیں، حالات بدلنے لگتے ہیں۔
قوسِ قزح کا بائبل میں کیا مطلب ہے؟
پیدائش 9:13 میں خدا فرماتے ہیں: "میں اپنی کمان بادل میں رکھتا ہوں۔ وہ میرے اور زمین کے درمیان عہد کا نشان ہو گی۔" عبرانی میں یہاں جو لفظ ہے وہ جنگی کمان کے لیے استعمال ہوتا ہے، اِس لیے یہ تصویر بہت پُرمعنی ہے: خدا اپنی کمان بادلوں میں رکھ دیتے ہیں، تانی ہوئی نہیں۔ یہ عہد بغیر کسی شرط کا ہے اور ساری زمین کے لیے ہے۔ جب ہم آسمان پر قوس دیکھتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ خدا اپنے وعدے کا پابند ہے۔
نوح نے شراب پی کر گناہ کیوں کیا؟
پیدائش 9 بتاتی ہے کہ نوح نے انگور کا باغ لگایا، مے پی، مست ہوا اور بےلباس پڑا رہا۔ بائبل اِس واقعے کی کوئی صفائی پیش نہیں کرتی اور نوح کی عزت بچانے کے لیے اُسے چھپاتی بھی نہیں۔ اِس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ نئی زمین پر بھی انسان کا دل پرانا ہی رہا۔ نوح طوفان میں کھڑا رہا مگر سکون میں لڑکھڑا گیا، اور اِسی سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں ایک بہتر نجات دہندہ کی ضرورت ہے، جسے ہم خداوند یسوع مسیح میں پاتے ہیں۔
حام یا کنعان پر لعنت کا معاملہ کیا تھا؟
جب حام نے اپنے باپ کی بےلباسی دیکھی تو اُس نے احترام کے ساتھ اُسے ڈھانپا نہیں بلکہ باہر جا کر بھائیوں کو بتایا، جبکہ سِم اور یافت نے پیچھے ہٹ کر عزت سے اپنے باپ کو ڈھانپ دیا۔ ہوش میں آنے پر نوح نے حام کے بیٹے کنعان پر لعنت اور دوسرے بیٹوں پر برکت کا اعلان کیا۔ یہ آیت تاریخ میں افسوسناک طور پر نسلی امتیاز کے جواز کے لیے غلط استعمال ہوئی ہے، جو کلام کی صریح خلاف ورزی ہے؛ اِس کا تعلق بعد کی کنعانی قوموں سے ہے، کسی نسل یا رنگ سے نہیں۔
کیا نوح کی کشتی آج بھی کہیں موجود ہے؟
پیدائش 8:4 کہتی ہے کہ کشتی ارارات کے پہاڑوں پر ٹک گئی، جو موجودہ ترکی اور اُس کے گردونواح کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں سے کئی مہمات نے وہاں کشتی کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر آج تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہو۔ ہمارا ایمان لکڑی کے کسی ٹکڑے کی دریافت پر نہیں بلکہ خدا کے کلام کی گواہی پر قائم ہے، اور عبرانیوں 11:7 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نوح کا ایمان بھی اَن دیکھی چیزوں پر تھا۔
نوح اور بپتسمے میں کیا تعلق ہے؟
پہلا پطرس 3 میں رسول بتاتا ہے کہ کشتی میں آٹھ جانیں پانی سے گزر کر بچیں، اور اِسی کے مطابق بپتسمہ ہمیں یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلے سے بچاتا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ وہی پانی جو دنیا کی عدالت تھا، نوح کے لیے نجات کا راستہ بن گیا، کیونکہ وہ کشتی کے اندر تھا۔ بپتسمہ اِسی حقیقت کی نشانی ہے: ہم مسیح کے ساتھ موت میں شامل ہوتے ہیں اور اُس کے ساتھ نئی زندگی میں اُٹھتے ہیں۔ پانی نہیں بچاتا، مسیح بچاتا ہے۔
نوح کی عمر کتنی تھی اور وہ کب مرے؟
پیدائش 7:6 کے مطابق نوح چھ سو سال کے تھے جب طوفان آیا، اور پیدائش 9:29 بتاتی ہے کہ طوفان کے بعد وہ مزید تین سو پچاس سال جیے اور نو سو پچاس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ اِن طویل عمروں کے بارے میں مسیحیوں میں مختلف تعبیریں ہیں، مگر پیدائش 5 اور 11 کی فہرستیں یہ بھی دکھاتی ہیں کہ طوفان کے بعد انسانی عمریں تیزی سے کم ہونے لگیں۔ نوح کی موت کی خبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے راستباز آدمی بھی موت کا مقابلہ نہیں کر سکا۔
متی 24:37 میں خداوند یسوع نوح کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟
خداوند یسوع نے فرمایا: "اور جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِ آدم کے آنے کے وقت ہو گا" (متی 24:37)۔ وہ اپنی دوسری آمد کو نوح کے زمانے سے تشبیہ دیتے ہیں، مگر جس بات پر زور دیتے ہیں وہ لوگوں کی بےپروائی ہے: وہ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے رہے اور کچھ نہ سمجھے۔ یعنی سب سے بڑا خطرہ کھلی بغاوت نہیں بلکہ روزمرہ مصروفیت میں غفلت ہے۔ اِس آیت کا مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ جگانا اور تیار رکھنا ہے۔
اختتام میں
نوح کی زندگی ہمیں دو باتیں بیک وقت سکھاتی ہے، اور اِن دونوں کو ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ خدا گناہ کو نظرانداز نہیں کرتے؛ اُنہوں نے ایک دنیا کی عدالت کی اور اپنے بیٹے کے ذریعے اِس بات کا اعلان کیا کہ ایک اَور دن آنے والا ہے۔ دوسری بات یہ کہ خدا کی عدالت کے بیچ ہمیشہ ایک کشتی ہوتی ہے، ایک دروازہ، ایک راستہ جو اُنہوں نے خود بنایا اور خود بند کیا۔
اور یہ بھی نہ بھولیں کہ کہانی نوح پر ختم نہیں ہوتی۔ نئی زمین پر ایک نیا آغاز ہوا، مگر نئے آدم کا دل پرانا تھا، اور وہ اپنے ہی باغ میں گر گیا۔ اِسی خالی جگہ میں انجیل کی روشنی چمکتی ہے۔ ایک اَور "آخری آدم" آیا جو باغ میں گرا نہیں، جو عدالت کے پانیوں میں ہمارے لیے اُترا، اور جس میں ہو کر ہم محفوظ ہیں۔
کشتی ایک تصویر تھی، مسیح اُس کی حقیقت ہے۔
اگر آپ اِس مضمون کو مزید گہرائی میں لے جانا چاہیں تو پیدائش 6 سے 9 کو ایک ہی نشست میں آرام سے پڑھیے، اور ساتھ ہی عبرانیوں 11:7 اور متی 24:37 پر ٹھہریے۔ پھر خود سے یہ پوچھیے: میں آج اُس اَن دیکھی حقیقت پر کتنا بھروسا کر رہا ہوں جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے؟