خروج 3
متن
چالیس سال سے موسیٰ ایک ہی کام کر رہا تھا: دوسرے کی بھیڑبکریاں چَراتا، ریگستان کے پتھروں پر دھوپ گنتا۔ پھر ایک دن وہ ریوڑ کو "ریگستان کی پرلی جانب" لے گیا اور حورب پہاڑ تک پہنچ گیا، جہاں ایک جھاڑی جل رہی تھی مگر بھسم نہیں ہو رہی تھی۔ وہاں سے خدا نے اُسے نام لے کر پکارا، اپنی قوم کی چیخیں سننے کا اعلان کیا، اپنا نام ظاہر کیا اور اُسی کانپتے ہوئے چرواہے کو فرعون کے دربار میں بھیج دیا۔
اصل بات
غور کیجیے کہ خدا پہلے کیا کہتے ہیں: "مَیں نے مصر میں اپنی قوم کی بُری حالت دیکھی اور غلامی میں اُن کی چیخیں سنی ہیں، اور مَیں اُن کے دُکھوں کو خوب جانتا ہوں۔" دیکھا، سنا، جانا۔ یہ تین فعل اُس الزام کو توڑ دیتے ہیں جو ہر دُکھی دل کے اندر چپکے سے پلتا ہے: کہ آسمان خاموش ہے، کہ کسی کو پروا نہیں۔ خدا دور سے ہمدردی نہیں جتاتے، وہ "اُتر آتے" ہیں۔ اور پھر وہ اپنا نام دیتے ہیں، "مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں"، یعنی وہ ہستی جو کسی اور پر منحصر نہیں، جسے کوئی بیان، کوئی بُت، کوئی سلطنت قابو میں نہیں کر سکتی۔ غلاموں کا خدا کمزور نہیں؛ وہ وجود کی جڑ ہے۔
سلسلۂ کلام
جھاڑی میں آگ ہے مگر جھاڑی سلامت ہے۔ یہی اِس پورے قصے کا نقشہ ہے: خدا کی قدوسیت ایسی چیز کو چھو لیتی ہے جسے جل جانا چاہیے تھا، اور وہ باقی رہتی ہے۔ موسیٰ کو جوتیاں اُتارنے کو کہا جاتا ہے، فاصلہ قائم رکھنے کو کہا جاتا ہے، اور وہ منہ ڈھانپ لیتا ہے۔ صدیوں بعد ایک اور شخص اِسی قدوسیت کو لے کر گلیوں میں چلے گا، چھوئے گا اور چھوا جائے گا، اور جب لوگ پوچھیں گے کہ وہ کون ہے تو وہی نام اپنے اوپر لے لے گا: مَیں ہوں۔ حورب کی آگ ایک دن جسم پہن کر ہمارے درمیان آ بسے گی، اور تب فاصلہ نہیں بلکہ دعوت ہو گی۔
آئینہ
موسیٰ کا پہلا جواب مذہبی نہیں، نفسیاتی ہے: "مَیں کون ہوں کہ فرعون کے پاس جا کر اسرائیلیوں کو مصر سے نکال لاؤں؟" یہ اُس آدمی کی آواز ہے جو ایک بار ناکام ہو چکا ہے اور جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال بھیڑوں کے پیچھے گزار دیے۔ ہم میں سے بہت سے اِسی جگہ کھڑے ہیں: وہ شکستہ رشتہ، وہ بات جو باس سے کہنی چاہیے، وہ بیٹا جس سے دس سال سے بات نہیں ہوئی۔ اور ہم کہتے ہیں، مَیں کون ہوں۔ خدا موسیٰ کی خود اعتمادی نہیں بڑھاتے، وہ اُس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیتے۔ وہ صرف کہتے ہیں، "مَیں تو تیرے ساتھ ہوں گا۔" آج ہی ایک کام کیجیے: جس شخص یا جس صورتِ حال کے سامنے آپ خود کو سب سے زیادہ ناکافی محسوس کرتے ہیں، اُس کا نام کاغذ پر لکھیے اور اُس کے ساتھ یہ جملہ لکھیے، "مَیں تو تیرے ساتھ ہوں گا"، پھر وہ کاغذ اپنی جیب میں رکھ لیجیے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکزی کردار جھاڑی میں سے بولنے والا ہے، اور اُس کا مزاج حیران کن حد تک دوہرا ہے۔ ایک طرف وہ قریب آنے سے روکتا ہے، جوتیاں اُتروا دیتا ہے، اور موسیٰ ڈر کر منہ ڈھانپ لیتا ہے۔ دوسری طرف وہی خدا ایک آدمی کا نام دو بار پکارتا ہے، جیسے ماں بچے کو، اور اپنے آپ کو ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ساتھ باندھ کر پیش کرتا ہے، یعنی اُن وعدوں کے ساتھ جو چار سو سال سے پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ غیرمتحرک نہیں، وہ غصے میں ہے: "مَیں نے دیکھا ہے کہ مصری اُن پر کس طرح کا ظلم ڈھا رہے ہیں۔" مقدّس اور شفیق، دُور اور اُترنے والا۔ یہی وہ خدا ہے جس کے سامنے ہم کھڑے ہیں۔
پہلے سننے والے
یہ کہانی سب سے پہلے اُن لوگوں نے سنی جو مصر سے نکل چکے تھے اور ریگستان میں تھکے ہوئے سفر کر رہے تھے، شاید اُسی حورب پہاڑ کے سائے میں۔ اُن کے لیے آیت 12 کوئی نظریہ نہیں تھی بلکہ تصدیق شدہ تجربہ: "تم یہاں آ کر اِس پہاڑ پر میری عبادت کرو گے۔" وہ گواہ تھے کہ خدا نے جو نشان وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوا۔ اُن کے کانوں میں "دودھ اور شہد کی کثرت" محض خوبصورت جملہ نہیں تھا بلکہ اُس زمین کی خوشبو تھی جو ابھی سامنے تھی۔ اور اُنہیں یاد تھا کہ جاتے وقت وہ خالی ہاتھ نہیں گئے تھے؛ چاندی اور سونا اُن کے بچوں نے پہنا تھا۔ خدا نے وہی کیا جو جھاڑی کے پاس کہا تھا۔
سوال
پھر بھی ایک کانٹا رہ جاتا ہے: اگر خدا نے چیخیں "سنی" ہیں، تو اُنہیں سننے میں چار صدیاں کیوں لگیں؟ موسیٰ کی پیدائش سے پہلے بھی مائیں رو رہی تھیں، اور اُن میں سے اکثر نے کوئی جلتی جھاڑی نہیں دیکھی۔ متن اِس کا جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ خدا بھولا نہیں تھا، کہ وعدہ زندہ تھا، اور کہ ایک وقت پر وہ اُترا۔ یہ تسلی ہے، مگر سستی تسلی نہیں۔ ہمیں اجازت ہے کہ ہم تاخیر پر ماتم کریں، جیسے کئی زبوروں میں ماتم کیا گیا ہے۔ ایمان یہ دعویٰ نہیں کہ ہم خدا کی گھڑی سمجھ گئے ہیں؛ ایمان یہ ہے کہ ہم جھاڑی کی طرف بڑھ کر دیکھتے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کی کون سی "پرلی جانب" ہے، یعنی وہ عام، بےرونق جگہ جہاں آپ خدا سے ملاقات کی توقع ہی نہیں کرتے؟
موسیٰ نے پوچھا "مَیں کون ہوں"، اور خدا نے جواب دیا "مَیں ہوں"۔ آپ کی ناکافی ہونے کی کون سی سوچ اِس جواب سے بدلنی چاہیے؟
Exodus 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
خروج 3 کا کیا مطلب ہے؟
خروج 3 کس بارے میں ہے؟
خروج 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
خروج 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
خروج 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Exodus 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ موسیٰ کے ڈر اور ہچکچاہٹ کا جواب تُو نے یہی دیا: ”مَیں تیرے ساتھ ہوں گا۔“ شکر کہ تُو نے اُسے خالی ہاتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنی حضوری دی، اور یہ وعدہ بھی کہ وہ اِسی پہاڑ پر تیری عبادت کریں گے۔ میری کمزوری میں بھی تیرا ساتھ ہی میرا سہارا ہے۔
خدا موسیٰ کو اکیلا فرعون کے دربار میں نہیں بھیجتا۔ وہ کہتا ہے: ”وہ تیری سنیں گے۔ پھر تُو اسرائیل کے بزرگوں کے ساتھ مصر کے بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے کہنا۔“ جس آواز کو موسیٰ خود کمزور سمجھتا تھا، خدا نے اُس کے ساتھ ساتھی کھڑے کر دیے۔ تُو بھی اپنی لڑائی اکیلے لڑنے کی ضد کیوں کرتا ہے؟
خدا موسیٰ کو بھیجنے سے پہلے ہی بتا دیتا ہے: ”لیکن مَیں جانتا ہوں کہ مصر کا بادشاہ تمہیں جانے نہیں دے گا۔“ وہ مشکل چھپاتا نہیں۔ پہلا جواب ”نہیں“ ہوگا، اور یہ ناکامی کی نشانی نہیں۔ سوچ ذرا، تُو نے کتنی بار بند دروازہ دیکھ کر سمجھا کہ شاید خدا نے مجھے بھیجا ہی نہیں تھا؟
اے خدا، موسیٰ کی طرح میرے دل میں بھی سوال ہیں۔ جب لوگ پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا، تُو کون ہے؟ میری اُلجھن کو دُور کر اور مجھے اپنی پہچان دے۔ مجھے کافی ہے کہ تُو ہے اور میرے ساتھ ہے، اِسی یقین پر مجھے چلنا سکھا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
