بائبل کی تشریح

یسعیاہ 53:7

پڑھیں

متن

ظلم اُس پر ٹوٹ پڑا، اور اُس نے کچھ نہ کہا۔ آیت کا مرکز ایک ہی بات ہے جو دو بار دہرائی گئی ہے: "اپنا منہ نہ کھولا۔" نبی دو منظر ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ پہلا، وہ بھیڑ جسے ذبح خانے کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور وہ رستے میں چیخ و پکار نہیں کرتی۔ دوسرا، وہ لیلا جو بال کترنے والوں کے ہاتھوں میں پڑا ہے اور خاموش رہتا ہے۔ خادم پر ناانصافی ہوئی، اُس نے سب کچھ برداشت کیا، اور نہ اپنی صفائی پیش کی، نہ بدلہ لیا، نہ ظالموں کو کوسا۔ آیت میں کوئی جذباتی تشریح نہیں، صرف ایک ٹھنڈی، ناقابلِ فراموش تصویر ہے۔

مرکزی بات

یہ خاموشی بےبسی نہیں، انتخاب ہے۔ اِسی باب کی بارہویں آیت کہتی ہے کہ "اُس نے اپنی جان کو موت کے حوالے کر دیا"، یعنی اُس سے جان چھینی نہیں گئی، اُس نے دی۔ تو یہاں ہم خدا کی طاقت کا وہ چہرہ دیکھتے ہیں جو ہمارے تصور سے بالکل اُلٹ ہے: قدرت جو اپنا حق منوانے سے انکار کرتی ہے۔ دنیا میں انصاف عموماً آواز اُٹھانے سے ملتا ہے؛ یہاں نجات آواز نہ اُٹھانے سے آتی ہے۔ اور یہ محض اخلاقی مثال نہیں، اِس کا کفارے سے تعلق ہے: قربانی کا جانور اپنی صفائی پیش نہیں کرتا، کیونکہ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے بدلے مر رہا ہے۔ خادم چپ رہا اِس لئے کہ اُس کے چپ رہنے میں ہماری "سلامتی" چھپی تھی۔ یہی بات ہمیں کھٹکتی ہے، کیونکہ ہماری فطرت خود کو بچانے کے لئے فوراً منہ کھولتی ہے۔

مشترکہ سلسلہ

قربانی کا برّہ اسرائیل کی یادداشت میں گہرا نقش تھا: مصر سے نکلتے وقت جس برّے کے خون نے دروازوں کو محفوظ کیا، اور ہیکل میں ہر صبح و شام ذبح ہونے والا جانور۔ یسعیاہ اِس تصویر کو اُٹھا کر ایک شخص پر رکھ دیتے ہیں۔ جانور اِس لئے خاموش نہیں کہ وہ نیک ہے بلکہ اِس لئے کہ وہ سمجھتا نہیں؛ یہ خادم سب کچھ جانتے ہوئے خاموش ہے۔ یہی فرق سب کچھ بدل دیتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جس کے سامنے پیلاطس حیران رہ گیا: ایک ملزم جس کے پاس جواب تھا مگر جس نے جواب دینے سے انکار کیا۔ انجیل کہیں یہ نہیں کہتی کہ خداوند یسوع بولنا نہیں جانتے تھے؛ وہ یہ کہتی ہے کہ وہ چپ رہے۔ نجات کی پوری زنجیر اِسی خاموشی کی کڑی سے گزرتی ہے۔

آئینہ

یہ آیت ہماری سب سے پرانی عادت پر ہاتھ رکھتی ہے: اپنی صفائی۔ دفتر میں کوئی آپ کی غلطی گنواتا ہے اور آپ کے اندر فوراً پورا جواب تیار ہو جاتا ہے۔ گھر میں بحث ختم ہو چکی ہوتی ہے مگر آپ آخری جملہ کہے بغیر سو نہیں سکتے۔ کسی نے آپ کے بارے میں غلط بات پھیلائی اور اب آپ کے دن کا ایک حصہ لوگوں کو سچائی بتانے میں خرچ ہو رہا ہے۔ پیسوں کے کسی جھگڑے میں آپ کا حق واقعی آپ کا ہے، اور پھر بھی سوال باقی ہے کہ اُس حق کو منوانے میں آپ کتنا کچھ کچل رہے ہیں۔

مگر یہاں محتاط رہیں۔ یہ آیت مظلوموں کو چپ رہنے کا حکم نہیں دیتی۔ جو خاموشی کسی ظالم کو ڈھانپتی ہے یا کمزور کو تنہا چھوڑتی ہے، وہ خادم کی خاموشی نہیں، بزدلی ہے۔ خادم چپ رہا کیونکہ وہ دوسروں کی جگہ کھڑا تھا، اپنی جگہ بچانے کے لئے نہیں۔ فرق نیت میں ہے: آپ کس کو بچا رہے ہیں؟

آج یہ کریں: وہ جواب جو آپ نے کسی کے سامنے اپنی صفائی میں تیار کر رکھا ہے، اُسے کاغذ پر پورا لکھیں، پھر اُس پر لکیر پھیر دیں اور اُس شخص کا نام لے کر دو منٹ دعا کریں۔

سامعین کا خاکہ

پہلے سننے والے وہ لوگ تھے جو خود بھیڑوں کی طرح ہانکے جا چکے تھے۔ بابل کی فوجیں یروشلم کو اُجاڑ چکی تھیں، لوگ قیدی بن کر سینکڑوں میل دُور بسائے گئے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ سلطنت کے سامنے منہ کھولنے کا انجام کیا ہوتا ہے، اور اُن کی خاموشی مجبوری کی خاموشی تھی، شرمندگی کی۔ اِسی قوم کو نبی ایک ایسا خادم دکھاتے ہیں جو وہی خاموشی اختیار کرتا ہے، مگر مجبوری سے نہیں۔ اُن کے کانوں میں یہ بات کھٹکی ہوگی: کیا ہماری ذلت کا کوئی مطلب ہو سکتا ہے؟ کیا خدا کی قدرت شکست کی شکل میں بھی کام کر سکتی ہے؟ یسعیاہ کا جواب ہاں ہے، اور یہی اُن کی سب سے بڑی تسلی تھی۔

سیاق و سباق

یسعیاہ کے اِس حصے کا پس منظر جلاوطنی ہے: ہیکل ملبہ، قربانیوں کا سلسلہ بند، اور قوم ایک عالمی طاقت کے رحم و کرم پر۔ آیت میں دو الگ دنیائیں ملتی ہیں۔ ایک گاؤں کی: بال کترنے کا موسم، جب برّے کو باندھ کر بٹھایا جاتا ہے اور وہ لرزتا ہوا خاموش رہتا ہے۔ دوسری عدالت کی: اگلی ہی آیت "ظلم اور عدالت" کی زبان بولتی ہے۔ اُس زمانے کے مقدمے میں ملزم کا اپنے دفاع میں نہ بولنا عملاً اپنے خلاف فیصلہ لکھوانے کے برابر تھا۔ گواہ خریدے جا سکتے تھے، جج طاقتوروں کے دباؤ میں تھے، اور بےزبان آدمی کے پاس کوئی موقع نہ تھا۔ خادم نے یہ موقع جان بوجھ کر ضائع کیا۔

بین المتون

اعمال کی کتاب میں حبشی خوجہ سرا اپنی گاڑی میں بیٹھا بالکل یہی آیت پڑھ رہا تھا اور پوچھتا ہے: نبی یہ کس کے بارے میں کہہ رہا ہے؟ فلپّس اُسی آیت سے شروع کر کے اُسے یسوع کی خوشخبری سناتا ہے۔ یعنی ابتدائی کلیسیا کے لئے یہ آیت مسیح کی شناخت کا دروازہ تھی۔ اور پطرس رسول اپنے پہلے خط میں اِسے سیدھا اخلاق میں بدل دیتا ہے: مسیح نے گالی کے بدلے گالی نہ دی، دُکھ اُٹھاتے وقت دھمکی نہ دی، بلکہ معاملہ اُس کے سپرد کیا جو انصاف سے عدالت کرتا ہے۔ پطرس یہ بات نوکروں کو لکھ رہا تھا، اُن لوگوں کو جن کے پاس کوئی طاقت نہ تھی۔ خاموشی وہاں ہار نہیں، حوالگی ہے۔

غور و فکر کے سوالات

پچھلے ہفتے آپ نے جس بات میں اپنی صفائی پیش کی، اُس میں آپ اصل میں کیا بچا رہے تھے: سچائی، یا اپنی عزت؟

آپ کی زندگی میں کون سی خاموشی مسیح کی خاموشی ہے، اور کون سی محض ڈر ہے کہ بولنے کی قیمت چکانی پڑے گی؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 53:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 53:7 کا کیا مطلب ہے؟
ظلم اُس پر ٹوٹ پڑا، اور اُس نے کچھ نہ کہا۔ آیت کا مرکز ایک ہی بات ہے جو دو بار دہرائی گئی ہے: "اپنا منہ نہ کھولا۔" نبی دو منظر ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ پہلا، وہ بھیڑ جسے ذبح خانے کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور وہ رستے میں چیخ و پکار نہیں کرتی۔ دوسرا، وہ لیلا جو بال کترنے والوں کے ہاتھوں میں پڑا ہے اور خاموش رہتا ہے۔ خادم پر ناانصافی ہوئی، اُس نے سب کچھ برداشت کیا، اور نہ اپنی صفائی پیش کی، نہ بدلہ لیا، نہ ظالموں کو کوسا۔ آیت میں کوئی جذباتی تشریح نہیں، صرف ایک ٹھنڈی، ناقابلِ فراموش تصویر ہے۔
یسعیاہ 53:7 کس بارے میں ہے؟
قربانی کا برّہ اسرائیل کی یادداشت میں گہرا نقش تھا: مصر سے نکلتے وقت جس برّے کے خون نے دروازوں کو محفوظ کیا، اور ہیکل میں ہر صبح و شام ذبح ہونے والا جانور۔ یسعیاہ اِس تصویر کو اُٹھا کر ایک شخص پر رکھ دیتے ہیں۔ جانور اِس لئے خاموش نہیں کہ وہ نیک ہے بلکہ اِس لئے کہ وہ سمجھتا نہیں؛ یہ خادم سب کچھ جانتے ہوئے خاموش ہے۔ یہی فرق سب کچھ بدل دیتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جس کے سامنے پیلاطس حیران رہ گیا: ایک ملزم جس کے پاس جواب تھا مگر جس نے جواب دینے سے انکار کیا۔ انجیل کہیں یہ نہیں کہتی کہ خداوند یسوع بولنا نہیں جانتے تھے؛ وہ یہ کہتی ہے کہ وہ چپ رہے۔ نجات کی پوری زنجیر اِسی خاموشی کی کڑی سے گزرتی ہے۔
یسعیاہ 53:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مگر یہاں محتاط رہیں۔ یہ آیت مظلوموں کو چپ رہنے کا حکم نہیں دیتی۔ جو خاموشی کسی ظالم کو ڈھانپتی ہے یا کمزور کو تنہا چھوڑتی ہے، وہ خادم کی خاموشی نہیں، بزدلی ہے۔ خادم چپ رہا کیونکہ وہ دوسروں کی جگہ کھڑا تھا، اپنی جگہ بچانے کے لئے نہیں۔ فرق نیت میں ہے: آپ کس کو بچا رہے ہیں؟
یسعیاہ 53:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پہلے سننے والے وہ لوگ تھے جو خود بھیڑوں کی طرح ہانکے جا چکے تھے۔ بابل کی فوجیں یروشلم کو اُجاڑ چکی تھیں، لوگ قیدی بن کر سینکڑوں میل دُور بسائے گئے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ سلطنت کے سامنے منہ کھولنے کا انجام کیا ہوتا ہے، اور اُن کی خاموشی مجبوری کی خاموشی تھی، شرمندگی کی۔ اِسی قوم کو نبی ایک ایسا خادم دکھاتے ہیں جو وہی خاموشی اختیار کرتا ہے، مگر مجبوری سے نہیں۔ اُن کے کانوں میں یہ بات کھٹکی ہوگی: کیا ہماری ذلت کا کوئی مطلب ہو سکتا ہے؟ کیا خدا کی قدرت شکست کی شکل میں بھی کام کر سکتی ہے؟ یسعیاہ کا جواب ہاں ہے، اور یہی اُن کی سب سے بڑی تسلی تھی۔
یسعیاہ 53:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اعمال کی کتاب میں حبشی خوجہ سرا اپنی گاڑی میں بیٹھا بالکل یہی آیت پڑھ رہا تھا اور پوچھتا ہے: نبی یہ کس کے بارے میں کہہ رہا ہے؟ فلپّس اُسی آیت سے شروع کر کے اُسے یسوع کی خوشخبری سناتا ہے۔ یعنی ابتدائی کلیسیا کے لئے یہ آیت مسیح کی شناخت کا دروازہ تھی۔ اور پطرس رسول اپنے پہلے خط میں اِسے سیدھا اخلاق میں بدل دیتا ہے: مسیح نے گالی کے بدلے گالی نہ دی، دُکھ اُٹھاتے وقت دھمکی نہ دی، بلکہ معاملہ اُس کے سپرد کیا جو انصاف سے عدالت کرتا ہے۔ پطرس یہ بات نوکروں کو لکھ رہا تھا، اُن لوگوں کو جن کے پاس کوئی طاقت نہ تھی۔ خاموشی وہاں ہار نہیں، حوالگی ہے۔

Isaiah 53 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟