لوقا 12
متن
امیر آدمی اپنی تمثیل میں کسی سے بات نہیں کرتا، سوائے اپنے آپ سے: "اب مَیں کیا کروں؟" اور یہی اِس پورے باب کا مرکزی مسئلہ ہے۔ ہزاروں کے ہجوم کے درمیان خداوند یسوع پہلے اپنے شاگردوں کو ریاکاری اور انسانی خوف سے خبردار کرتے ہیں، پھر لالچ کے خلاف اُس کسان کی تمثیل سناتے ہیں جو گودام بڑے کرتا ہے مگر اُسی رات مر جاتا ہے۔ اِس کے بعد کوّوں اور سوسن کے پھولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ فکرمندی کو بادشاہی کی تلاش سے بدلنے کو کہتے ہیں، جاگتے نوکروں کی تمثیلیں دیتے ہیں، اور آخر میں آگ، گھرانوں میں پھوٹ اور عدالت کے راستے کا ذکر کر کے سامعین سے پوچھتے ہیں کہ وہ موسم پہچان لیتے ہیں مگر اپنا زمانہ کیوں نہیں پہچانتے۔
مرکزی بات
باب کا دھاگا ایک ہی ہے: خوف کہاں رکھنا ہے۔ ریاکاری انسانوں کے خوف سے پیدا ہوتی ہے، لالچ موت کے خوف سے، فکرمندی محرومی کے خوف سے۔ خداوند اِن سب کو ایک ہی جواب دیتے ہیں: باپ جانتا ہے، باپ گنتا ہے، باپ دینا پسند کرتا ہے۔ چڑیاں دو پیسوں میں بِکتی ہیں مگر ایک بھی بھولی نہیں جاتی؛ سر کے بال گنے ہوئے ہیں۔ یہی خدا وہ ہے جس کے ہاتھ میں ہلاک کرنے کا اختیار ہے، اور یہی وہ ہے جو "اے چھوٹے گلے، مت ڈرنا" کہتا ہے۔ نجات یہاں تعلیم نہیں بلکہ منتقلی ہے: خزانہ زمین سے آسمان کی طرف، کیونکہ "جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دل بھی لگا رہے گا۔" دل خزانے کے پیچھے چلتا ہے، اُلٹا نہیں۔
سلسلۂ کلام
امیر آدمی کے الفاظ نئے نہیں ہیں۔ "اب آرام کر۔ کھا، پی اور خوشی منا" یسعیاہ 22:13 کی بازگشت ہے، جہاں یروشلم کے باشندے محاصرے کے سائے میں دعوتیں اُڑاتے ہیں: کھاؤ پیو، کل تو مرنا ہی ہے۔ نبی کے ہاں یہ کفر کی انتہا ہے، اور خداوند یسوع اُسی جملے کو کسان کے منہ میں رکھ کر دکھاتے ہیں کہ خوشحالی بھی محاصرے جیسی اندھی ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف باب کا اختتام میکاہ 7:6 پر جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں بیٹا باپ کی بےعزتی کرتا ہے اور بہو ساس کے خلاف اُٹھتی ہے۔ میکاہ کے لئے یہ قوم کے ٹوٹنے کی علامت تھی؛ مسیح اُسے اپنی آمد کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ یعنی جو نبیوں کے ہاں آخری زمانے کا بحران تھا، وہ مسیح کے آنے سے شروع ہو چکا ہے۔ صلیب ("ایک بپتسمہ ہے جسے لینا ضروری ہے") وہ آگ ہے جو یہ فیصلہ بھڑکاتی ہے۔
آئینہ
یہ باب اُس جگہ ہاتھ رکھتا ہے جہاں ہم سب سے زیادہ معقول محسوس ہوتے ہیں۔ گودام بڑے کرنا حماقت نہیں، عقل مندی لگتی ہے: بیمہ، بچت، بچوں کا مستقبل۔ خداوند اِسے احمقانہ نہیں کہتے کیونکہ منصوبہ بندی بُری ہے، بلکہ کیونکہ اُس آدمی کے پورے منصوبے میں نہ خدا ہے نہ پڑوسی، صرف "میرا اناج، میرے گودام، میری جان۔" اپنی گفتگو سنیں: جب پیسے، ملازمت یا صحت کا ذکر ہو تو آپ کن سے مشورہ کرتے ہیں اور کن کو حساب سے باہر رکھتے ہیں؟ اور وہ ورثے کا جھگڑا (آیت 13) آج بھی زندہ ہے: زمین کا مقدمہ، بھائیوں کی خاموشی، برسوں کی تلخی۔ خداوند نے جج بننے سے انکار کر دیا؛ اُنہیں تقسیم سے نہیں، اُس لالچ سے دلچسپی تھی جو دونوں بھائیوں کو کھا رہا تھا۔
سوال
پھر آیت 33 کا کیا کریں؟ "اپنی ملکیت بیچ کر غریبوں کو دے دینا۔" کیا یہ حکم ہے یا محض تشبیہ؟ ہم فوراً نرمی کرنے لگتے ہیں: مطلب دل کا لگاؤ چھوڑ دو۔ مگر لوقا کی انجیل میں یہ لفظ باربار حقیقی معنوں میں پورا ہوتا ہے، اور ابتدائی کلیسیا نے اِسے واقعی مال بانٹ کر سمجھا۔ ساتھ ہی وہی خداوند وفادار نوکر کو مالک کے گھر اور مال پر مقرر کرتے ہیں، یعنی ملکیت خود گناہ نہیں بلکہ امانت ہے۔ میں یہ تناؤ حل نہیں کر سکتا اور شاید ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔ جو بھی فارمولا ہم بنائیں گے، وہ ہمیں تسلی دے گا اور حکم کی دھار توڑ دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کتنا کافی ہے، بلکہ یہ کہ آپ نے آخری بار کچھ ایسا دیا کب تھا جس سے واقعی فرق پڑا۔
پس منظر
لوقا 12 اُس طویل سفر کا حصہ ہے جس میں خداوند یروشلم کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور فریسیوں کے ساتھ کشیدگی کھلی دشمنی بن چکی ہے (باب 11 کے آخر پر نظر ڈالیں)۔ ہجوم اِتنا بڑا ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں، مگر تعلیم بنیادی طور پر شاگردوں کے لئے ہے: بھیڑ کے بیچ خانگی تربیت۔ جس گاؤں کی معیشت کا ذکر ہے وہ زراعتی ہے، جہاں اچھی فصل کا مطلب پڑوسیوں کی قلت میں قیمت بڑھانا بھی ہو سکتا تھا۔ عبادت خانوں، حاکموں اور جیل کا ذکر بتاتا ہے کہ سامعین کے لئے مذہبی اور سیاسی طاقت ایک ہی ہاتھ کی دو اُنگلیاں تھیں، اور ایک غریب گلیلی کے پاس کوئی تحفظ نہ تھا سوائے اُس باپ کے جو چڑیوں کو گنتا ہے۔
سامعین کا خاکہ
لوقا اُن لوگوں کے لئے لکھ رہا ہے جن کے لئے آیت 11 نظریہ نہیں تجربہ تھا: عبادت خانوں سے نکالے گئے، رشتہ داروں کے سامنے مسیح کا اقرار کرنے پر گھر سے کٹے ہوئے ایمان دار۔ جب اُنہوں نے سنا کہ "باپ بیٹے کے خلاف ہو گا"، تو اُنہیں کسی مبہم پیشین گوئی کی نہیں، اپنے کھانے کی میز کی یاد آئی جہاں جگہ خالی ہو گئی تھی۔ اُن کے لئے "اے چھوٹے گلے" محض پیارا لقب نہیں تھا؛ وہ واقعی چھوٹے، بےاختیار اور بکھرے ہوئے تھے۔ اور اُنہوں نے ایک بات سنی جو ہم اکثر پھسل جانے دیتے ہیں: مالک واپس آ کر خود کپڑے بدل کر نوکروں کو بٹھائے گا اور اُن کی خدمت کرے گا۔ جو گھر میں بےعزت ہوئے، اُن کے لئے یہ محض انعام نہیں، عزت کی بحالی تھی۔
غور و فکر
آپ کے موجودہ منصوبوں میں سے کون سا منصوبہ ایسا ہے جو آپ نے صرف اپنے آپ سے مشورہ کر کے بنایا ہے، بغیر خدا اور پڑوسی کو شامل کیے؟
آپ کے گھرانے یا رشتہ داری میں کہاں مسیح کی وفاداری نے پھوٹ ڈالی ہے، اور آپ اُس زخم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں: ناکامی، یا اُس آگ کا حصہ جو خداوند لگانے آئے تھے؟
Luke 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 12 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 12 کس بارے میں ہے؟
لوقا 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، کئی بار میں تیرے پاس آ کر چاہتا ہوں کہ تو میرے حق میں فیصلہ سنا دے، میرے جھگڑے میرے مطابق نمٹا دے۔ مجھے معاف کر۔ میرا دل چیزوں کے بٹوارے سے زیادہ تیری محبت کا پیاسا ہو جائے۔ میری خواہشوں کو سنبھال، اور مجھے سکھا کہ اصل دولت تُو ہی ہے۔
اے باپ، میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ تیری ہی بخشش ہے۔ مجھے اِس دھوکے سے بچا کہ بڑے گودام میری زندگی کو محفوظ بنا دیں گے۔ مجھے سکھا کہ کھلے دل سے بانٹوں اور اپنی دولت تجھ میں ڈھونڈوں، کیونکہ اصل امیری تیرے قریب رہنے میں ہے۔
اے خدا، تُو میرے دل کے چھپے کونے بھی جانتا ہے۔ مجھے ایسا بننے سے بچا جو باہر سے کچھ اور اور اندر سے کچھ اور ہو۔ ریاکاری تھوڑی سی بھی ہو تو پورے وجود میں پھیل جاتی ہے، اِس لیے مجھے سچائی میں جینا سکھا، تیرے سامنے اور لوگوں کے سامنے بھی۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
