امثال 21
متن
کسان گھٹنوں تک کیچڑ میں کھڑا ہے۔ وہ اپنے پاؤں کی ایک جنبش سے مٹی کی ایک منڈیر توڑتا ہے، اور پانی کا پورا بہاؤ دوسری کیاری کی طرف مڑ جاتا ہے۔ امثال کا یہ باب اِسی منظر سے شروع ہوتا ہے: ”بادشاہ کا دل رب کے ہاتھ میں نہر کی مانند ہے۔ وہ جدھر چاہے اُس کا رُخ پھیر دیتا ہے۔“ اِس کے بعد اکتیس آیتوں میں ہمیں عدالت کے دروازے، منڈی کے ترازو، چھت کا کونا، غریب کی پکار اور جنگ کے لئے تیار کھڑا گھوڑا دکھایا جاتا ہے۔ ہر منظر ایک ہی سوال کے گرد گھومتا ہے: اصل میں کون چلا رہا ہے؟ اور خدا دراصل کیا دیکھ رہے ہیں؟
مرکزی بات
دوسری آیت اِس پورے باب کی کنجی ہے: ”ہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، لیکن رب ہی دلوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔“ یہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، انسان کی خود فریبی کی تشخیص ہے۔ ہم اپنے فیصلوں کے وکیل بھی ہیں اور جج بھی، اور ہمیشہ اپنے حق میں فیصلہ سناتے ہیں۔ اِس کے مقابل خدا ترازو اُٹھاتے ہیں۔ اور جب وہ تولتے ہیں تو حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے: ”راست بازی اور انصاف کرنا رب کو ذبح کی قربانیوں سے کہیں زیادہ پسند ہے۔“ یعنی مذہبی کارکردگی خدا کو خرید نہیں سکتی۔ عبادت گاہ میں بخشی گئی قربانی اور گلی میں کی گئی بےانصافی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
مرکزی دھاگا
آیت 21 ایک شکاری کی زبان بولتی ہے: ”جو انصاف اور شفقت کا تعاقب کرتا رہے وہ زندگی، راستی اور عزت پائے گا۔“ تعاقب، یعنی پیچھا کرنا، ہار نہ ماننا۔ پرانے عہدنامے کا پورا انبیائی سلسلہ یہی پکار ہے، اور یہ پکار بالآخر ایک شخص میں مجسم ہوتی ہے جو انصاف اور شفقت کا پیچھا کرتے کرتے صلیب تک پہنچ گیا۔ آیت 18 میں ایک عجیب جملہ ہے: ”جب راست باز کا فدیہ دینا ہے تو بےدین کو دیا جائے گا۔“ امثال کی دنیا میں اِس کا مطلب سیدھا ہے: ظلم کا انجام آخرکار ظالم کے سر آتا ہے۔ مگر انجیل میں یہ ترتیب اُلٹ جاتی ہے۔ وہاں راست باز نے بےدین کی جگہ اپنے آپ کو فدیہ کے طور پر پیش کر دیا۔ امثال انصاف کا قاعدہ بتاتی ہے؛ مسیح اُس قاعدے کو اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔
آئینہ
آیت 13 ہاتھ پکڑ کر ہمیں اپنے ہی دروازے پر لے جاتی ہے: ”جو کان میں اُنگلی ڈال کر غریب کی مدد کے لئے چیخیں نہیں سنتا وہ بھی ایک دن چیخیں مارے گا، اور اُس کی بھی سنی نہیں جائے گی۔“ یہ آیت ہمیں بےحسی کا نہیں بلکہ منصوبہ بند بہرے پن کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ ہم غریب کی پکار نہیں سنتے کیونکہ ہم نے کان بند کر رکھے ہیں: وہ رشتہ دار جس کا نمبر ہم دیکھ کر فون الٹا کر دیتے ہیں، وہ بیوہ جس کا ذکر دعا کی فہرست میں تو ہے مگر بجٹ میں نہیں، وہ ملازم جس کی تنخواہ ہم ”اگلے مہینے“ کہہ کر ٹالتے ہیں۔ اور آیت 2 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اِن سب کے لئے ہمارے پاس معقول جواز موجود ہیں۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کی پکار آپ نے سنی مگر جواب نہیں دیا، اور دن ڈھلنے سے پہلے اُسے فون کریں۔
دیگر صحیفوں کی گونج
آیت 3 اور 27 کا مضمون پورے کلامِ مُقدّس میں گونجتا ہے۔ سموئیل نے ساؤل سے بالکل یہی کہا تھا جب وہ لُوٹ کا مال قربان گاہ پر چڑھانے لایا: اطاعت قربانی سے بہتر ہے۔ ساؤل کی بھیڑیں بھی ”بُرے مقصد سے پیش کی گئی قربانی“ تھیں، اور خدا نے اُنہیں قبول نہ کیا۔ صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح نے فریسیوں پر یہی الزام لگایا کہ وہ پودینے اور سونف کا دسواں حصہ تو ادا کرتے ہیں مگر شریعت کی اہم باتیں، انصاف اور رحم اور ایمان، چھوڑ دیتے ہیں (متی 23)۔ میں یہ دونوں حوالے اِس لئے لا رہا ہوں تاکہ صاف ہو جائے کہ امثال 21 کوئی انوکھی بات نہیں کہہ رہی؛ یہ خدا کی مستقل شکایت ہے، بادشاہ سے لے کر مذہبی عالم تک۔
ایک باریک بات
اِس باب میں دو بار وہ جملہ آتا ہے جس پر آج کا قاری اٹک جاتا ہے: ”جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔“ یہ کھردرا ہے، اور ہمیں اِسے چکنا نہیں کرنا چاہئے۔ مگر دیکھئے یہ کہتا کیا ہے۔ چھت کا کونا کوئی کمرہ نہیں؛ وہ کھلی چھت پر بھوسے اور ٹوٹے مٹکوں کے درمیان کی جگہ ہے، دھوپ میں تپتی، رات کو ٹھنڈی۔ کہنے والا یہ نہیں کہہ رہا کہ عورتیں جھگڑالو ہوتی ہیں؛ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ مسلسل لڑائی گھر کو گھر نہیں رہنے دیتی۔ اور چونکہ آیت 23 زبان کی پہرا داری کا حکم مرد عورت دونوں کو دیتی ہے، اِس لئے اِس آیت کو ہتھیار بنانے والا خود اُسی چھت پر بیٹھا ہے۔
پس منظر
یہ مجموعہ سلیمان بادشاہ کے دربار کی پیداوار ہے، اُس دنیا کی جہاں انصاف شہر کے پھاٹک پر بزرگوں کے سامنے ہوتا تھا، جہاں ایک جھوٹا گواہ کسی کی زمین اور زندگی اُجاڑ سکتا تھا، اور جہاں ”کسی کی جیب گرم کرنے“ سے فیصلے بدل جاتے تھے۔ آیت 14 رشوت کی تعریف نہیں کرتی، وہ صرف بتاتی ہے کہ یہ نظام کیسے چلتا ہے۔ کسان آبپاشی کی نہروں پر زندہ تھے، گھر کی چھت فلیٹ تھی اور وہیں سویا جاتا تھا، اور گھوڑے ریاست کا سب سے مہنگا فوجی سرمایہ تھے۔ اِسی لئے آخری آیت دربار کے عین دل پر ضرب لگاتی ہے: ”گھوڑے کو جنگ کے دن کے لئے تیار تو کیا جاتا ہے، لیکن فتح رب کے ہاتھ میں ہے۔“ اصطبل بھرا ہو یا خالی، نہر کا رُخ کوئی اور موڑتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آیت 2 کی روشنی میں: اِس وقت آپ کی زندگی کا کون سا فیصلہ ہے جس کے حق میں آپ کے پاس بہت اچھے جواز ہیں، مگر آپ نے کبھی خدا سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اُس کے پیچھے چھپے دل کے بارے میں کیا دیکھتے ہیں؟
آپ کی عبادت اور آپ کے انصاف کے درمیان کہاں فاصلہ ہے، یعنی ایسی کون سی بات ہے جو آپ اتوار کو گاتے ہیں مگر پیر کو اپنے معاملات میں نہیں کرتے؟
Proverbs 21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
امثال 21 کا کیا مطلب ہے؟
امثال 21 کس بارے میں ہے؟
امثال 21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
امثال 21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
امثال 21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Proverbs 21 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جو راستبازی اور شفقت کا تعاقب کرتا رہے وہ زندگی، راستبازی اور عزت پائے گا۔" تعاقب کرنا یعنی پیچھا کرنا، جیسے شکاری تھکن کے باوجود ہار نہیں مانتا۔ غور کریں، وہ زندگی اور عزت کے پیچھے نہیں بھاگتا، وہ راستبازی اور شفقت کے پیچھے بھاگتا ہے، اور زندگی خود اُس کے پیچھے آ جاتی ہے۔ آج تُو کس چیز کا پیچھا کر رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
