بائبل کی تشریح

امثال 7

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

شام کا دھندلکا ہے۔ ایک استاد اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکتا ہے اور گلی میں چند سادہ لوح نوجوانوں کو دیکھتا ہے؛ اُن میں سے ایک بےعقل جوان ٹہلتے ٹہلتے اُس کونے کی طرف مڑ جاتا ہے جہاں سے ایک مخصوص گھر کا راستہ نکلتا ہے۔ عورت باہر نکل کر اُسے پکڑتی ہے، بوسہ دیتی ہے، قربانی کے گوشت، مصر کے رنگین کمبلوں، مُر اور دارچینی، اور شوہر کے لمبے سفر کا ذکر کرتی ہے۔ نوجوان اُس کے پیچھے یوں چل پڑتا ہے جیسے بَیل ذبح ہونے کے لئے جاتا ہے۔ باب کا آغاز اور انجام ایک ہی التجا سے ہوتا ہے: حکمت کو اپنی بہن بنا، ورنہ یہ راستہ پاتال تک پہنچتا ہے۔

مرکزی بات

یہ باب اخلاقی لیکچر نہیں، ایک منظر ہے، اور یہی اِس کی طاقت ہے۔ حکمت کی کتاب جانتی ہے کہ انسان دلیل سے نہیں، تصویر سے بہکتا ہے، اِس لئے وہ دلیل کے بجائے تصویر سے جواب دیتی ہے۔ گناہ یہاں کسی بھیانک عفریت کی صورت نہیں آتا؛ وہ خوشبو، گرمجوشی اور اپنائیت کی صورت آتا ہے۔ عورت کہتی ہے، ”مَیں نے تیرا پتا کیا اور اب تُو مجھے مل گیا ہے“، یعنی تُو مطلوب ہے، تُو منتخب ہے۔ یہی جھوٹ کا اصل زہر ہے۔ اِس کے مقابل باپ حکمت کو ”بہن“ اور سمجھ کو ”قریبی رشتے دار“ کہلوانا چاہتا ہے: خدا کی ہدایت کوئی قانون کی کتاب نہیں جو الماری میں پڑی رہے، بلکہ ایک رشتہ ہے جو آپ کے ساتھ چلتا ہے، اُس لمحے بھی جب شام ڈھلتی ہے اور کوئی دیکھ نہیں رہا۔

سنہری دھاگا

عبرانی میں اُس نوجوان کے لئے لفظ ہے پیتی، یعنی وہ جو کھلا ہوا ہے، جس کی شخصیت ابھی کسی سانچے میں نہیں ڈھلی۔ وہ بُرا نہیں، خالی ہے، اور خالی جگہ ہمیشہ بھر دی جاتی ہے، کسی نہ کسی آواز سے۔ پوری کتابِ امثال دو آوازوں کا مقابلہ ہے: حکمت جو چوک میں پکارتی ہے، اور یہ عورت جو ہر کونے پر تاک میں بیٹھی ہے۔ دونوں دعوت دیتی ہیں، دونوں گھر میں بلاتی ہیں، دونوں کھانے کا وعدہ کرتی ہیں۔ فرق صرف انجام کا ہے۔ اور جب مسیح آ کر کہتے ہیں ”آؤ، میرے پاس“، تو وہ اِسی پکارتی ہوئی حکمت کی آواز کو اپنے جسم میں لے آتے ہیں۔ اُن کی دعوت خفیہ نہیں، دھندلکے کی نہیں؛ وہ دن کے اُجالے میں دی جاتی ہے اور جان لیتی نہیں، جان بچاتی ہے۔

آئینہ

غور کیجئے کہ سقوط کہاں شروع ہوا: بستر پر نہیں، کونے پر۔ نوجوان نے صرف ”ٹہلنے“ کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم سب کے اپنے کونے ہیں۔ وہ رابطہ جسے آپ دفتر میں ضرورت سے زیادہ وقت دیتے ہیں۔ وہ ایپ جو رات گیارہ بجے کھلتی ہے جب گھر سو چکا ہو۔ وہ سفر جس میں کوئی آپ کو جانتا نہیں۔ وہ مالی سمجھوتہ جو ابھی صرف ایک خیال ہے۔ متن طعنہ نہیں دیتا، وہ صرف نقشہ دکھاتا ہے: یہ گلی اُس گھر تک جاتی ہے، اور وہ گھر پاتال کا راستہ ہے۔ عورت کا سب سے خطرناک جملہ یہ تھا کہ ”میرا خاوند گھر میں نہیں ہے“؛ یعنی، کوئی حساب نہیں ہوگا۔ ہر گناہ اِسی جھوٹ پر کھڑا ہوتا ہے۔ آج ہی کریں: اپنے فون یا کیلنڈر میں وہ ایک ”کونا“ پہچانیں جہاں آپ بلاوجہ ٹہلتے ہیں، اور ابھی، دس منٹ کے اندر، ایک عملی رکاوٹ کھڑی کریں: وہ نمبر بلاک کریں، وہ ایپ ڈیلیٹ کریں، یا کسی بھروسے کے دوست کو لکھ بھیجیں کہ ”مجھے اِس بارے میں پوچھتے رہنا۔“

سوال

سوال یہ ہے کہ متن اِتنا یک طرفہ کیوں ہے۔ عورت کی آواز ہم سنتے ہیں، اُس کا دل نہیں۔ کیا وہ تنہا ہے؟ کیا شوہر نے اُسے چھوڑ رکھا ہے؟ نوجوان کو ”بےعقل“ کہا گیا ہے، مگر مجرم وہی ٹھہرتی ہے۔ یہ تلخی حقیقی ہے اور اِسے چھپانا بےایمانی ہوگی۔ ایک حد تک جواب یہ ہے کہ یہ باب ایک باپ کی گفتگو ہے اپنے بیٹے سے، اور باپ اُسی خطرے کا نقشہ بناتا ہے جو اُس کے بیٹے کے سامنے ہے؛ کتاب کے آخر میں وہی کتاب ایک عورت کی تعریف میں ختم ہوتی ہے۔ مگر مکمل تسلی نہیں ملتی۔ متن ہمیں یہ سکھانے نہیں آیا کہ عورتوں سے ڈرو، بلکہ یہ کہ اپنے دل سے ڈرو؛ اور اگر ہم اِسے عورتوں کے خلاف ہتھیار بنائیں تو ہم نے وہی سادہ لوحی دکھائی جس پر یہ باب رو رہا ہے۔

سامعین کا خاکہ

پہلے سننے والے نوجوان تھے، شاید بارہ سے اٹھارہ سال کے، جو دربار یا انتظامیہ کی تربیت لے رہے تھے، ایسے معاشرے میں جہاں زنا صرف اخلاقی گناہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کی عزت، میراث اور نسب پر حملہ تھا۔ ”پورے چاند تک واپس نہیں آئے گا“ کا مطلب وہ فوراً سمجھ جاتے تھے: مہینوں کا تجارتی سفر، بٹوے میں پیسے، یعنی سودا بڑا ہے۔ ”سلامتی کی قربانیاں“ کا ذکر سن کر اُن کے کان کھڑے ہوتے: اِس عورت کے گھر میں آج تازہ گوشت ہے، اور وہ مذہب کی زبان بول کر بےدینی کی دعوت دے رہی ہے۔ یہی سب سے خوفناک تفصیل تھی۔ عبادت کے الفاظ گناہ کے دروازے پر بھی لکھے جا سکتے ہیں۔

مرکزی کردار

اصل مرکزی کردار وہ نوجوان ہے، اور اُس کا المیہ یہ نہیں کہ وہ شریر تھا بلکہ یہ کہ وہ غیرحاضر تھا۔ اُس نے سوچا نہیں، صرف چلتا رہا۔ جب عورت بولی، اُس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، کوئی اندرونی آواز نہیں جو کہتی: ٹھہرو۔ اِسی لئے باپ کہتا ہے کہ احکام کو ”اپنے دل کی تختی پر کندہ“ کرو، کیونکہ فیصلے کے لمحے میں صرف وہی دستیاب ہوتا ہے جو پہلے سے اندر لکھا جا چکا ہو۔ متن اُس کے انجام کو تین تصویروں میں دیتا ہے: بَیل، ہرن، چڑیا۔ تینوں بےخبر، تینوں پھنسے ہوئے۔ اور سب سے دل چیر دینے والی سطر یہ ہے: ”خیال تک نہیں کرتی کہ میری جان خطرے میں ہے۔“ یہ غصے کا جملہ نہیں، ماتم کا ہے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”کونا“ ہے جہاں آپ خود کو بتاتے ہیں کہ آپ صرف ٹہل رہے ہیں؟

آپ کے دل کی تختی پر ابھی کیا کندہ ہے، اور وہ اگلی بار دھندلکے میں آپ سے کیا کہے گا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Proverbs 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

امثال 7 کا کیا مطلب ہے؟
شام کا دھندلکا ہے۔ ایک استاد اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکتا ہے اور گلی میں چند سادہ لوح نوجوانوں کو دیکھتا ہے؛ اُن میں سے ایک بےعقل جوان ٹہلتے ٹہلتے اُس کونے کی طرف مڑ جاتا ہے جہاں سے ایک مخصوص گھر کا راستہ نکلتا ہے۔ عورت باہر نکل کر اُسے پکڑتی ہے، بوسہ دیتی ہے، قربانی کے گوشت، مصر کے رنگین کمبلوں، مُر اور دارچینی، اور شوہر کے لمبے سفر کا ذکر کرتی ہے۔ نوجوان اُس کے پیچھے یوں چل پڑتا ہے جیسے بَیل ذبح ہونے کے لئے جاتا ہے۔ باب کا آغاز اور انجام ایک ہی التجا سے ہوتا ہے: حکمت کو اپنی بہن بنا، ورنہ یہ راستہ پاتال تک پہنچتا ہے۔
امثال 7 کس بارے میں ہے؟
عبرانی میں اُس نوجوان کے لئے لفظ ہے پیتی، یعنی وہ جو کھلا ہوا ہے، جس کی شخصیت ابھی کسی سانچے میں نہیں ڈھلی۔ وہ بُرا نہیں، خالی ہے، اور خالی جگہ ہمیشہ بھر دی جاتی ہے، کسی نہ کسی آواز سے۔ پوری کتابِ امثال دو آوازوں کا مقابلہ ہے: حکمت جو چوک میں پکارتی ہے، اور یہ عورت جو ہر کونے پر تاک میں بیٹھی ہے۔ دونوں دعوت دیتی ہیں، دونوں گھر میں بلاتی ہیں، دونوں کھانے کا وعدہ کرتی ہیں۔ فرق صرف انجام کا ہے۔ اور جب مسیح آ کر کہتے ہیں ”آؤ، میرے پاس“، تو وہ اِسی پکارتی ہوئی حکمت کی آواز کو اپنے جسم میں لے آتے ہیں۔ اُن کی دعوت خفیہ نہیں، دھندلکے کی نہیں؛ وہ دن کے اُجالے میں دی جاتی ہے اور جان لیتی نہیں، جان بچاتی ہے۔
امثال 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ متن اِتنا یک طرفہ کیوں ہے۔ عورت کی آواز ہم سنتے ہیں، اُس کا دل نہیں۔ کیا وہ تنہا ہے؟ کیا شوہر نے اُسے چھوڑ رکھا ہے؟ نوجوان کو ”بےعقل“ کہا گیا ہے، مگر مجرم وہی ٹھہرتی ہے۔ یہ تلخی حقیقی ہے اور اِسے چھپانا بےایمانی ہوگی۔ ایک حد تک جواب یہ ہے کہ یہ باب ایک باپ کی گفتگو ہے اپنے بیٹے سے، اور باپ اُسی خطرے کا نقشہ بناتا ہے جو اُس کے بیٹے کے سامنے ہے؛ کتاب کے آخر میں وہی کتاب ایک عورت کی تعریف میں ختم ہوتی ہے۔ مگر مکمل تسلی نہیں ملتی۔ متن ہمیں یہ سکھانے نہیں آیا کہ عورتوں سے ڈرو، بلکہ یہ کہ اپنے دل سے ڈرو؛ اور اگر ہم اِسے عورتوں کے خلاف ہتھیار بنائیں تو ہم نے وہی سادہ لوحی دکھائی جس پر یہ باب رو رہا ہے۔
امثال 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اصل مرکزی کردار وہ نوجوان ہے، اور اُس کا المیہ یہ نہیں کہ وہ شریر تھا بلکہ یہ کہ وہ غیرحاضر تھا۔ اُس نے سوچا نہیں، صرف چلتا رہا۔ جب عورت بولی، اُس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، کوئی اندرونی آواز نہیں جو کہتی: ٹھہرو۔ اِسی لئے باپ کہتا ہے کہ احکام کو ”اپنے دل کی تختی پر کندہ“ کرو، کیونکہ فیصلے کے لمحے میں صرف وہی دستیاب ہوتا ہے جو پہلے سے اندر لکھا جا چکا ہو۔ متن اُس کے انجام کو تین تصویروں میں دیتا ہے: بَیل، ہرن، چڑیا۔ تینوں بےخبر، تینوں پھنسے ہوئے۔ اور سب سے دل چیر دینے والی سطر یہ ہے: ”خیال تک نہیں کرتی کہ میری جان خطرے میں ہے۔“ یہ غصے کا جملہ نہیں، ماتم کا ہے۔
امثال 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کے دل کی تختی پر ابھی کیا کندہ ہے، اور وہ اگلی بار دھندلکے میں آپ سے کیا کہے گا؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Proverbs 7 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 12

اے خدا، تُو جانتا ہے کہ آزمائش ہر گلی اور ہر موڑ پر میری تاک میں رہتی ہے، کبھی کھلے عام، کبھی چھپ کر۔ مجھے پہچان دے کہ میں اُسے وقت پر دیکھ سکوں، اور ایسا دل دے جو تیری محبت میں اتنا بھرا ہو کہ کہیں اور بھٹکنے کی خواہش ہی نہ رہے۔ میرے قدم محفوظ رکھ۔

بصیرت ادارتی کو آیت 11

وہ بےلگام اور خودسر ہے، اُس کے پاؤں کبھی اُس کے گھر میں نہیں ٹکتے۔“ غور کریں، سب سے پہلے بےچینی گھر سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل کہیں ٹک نہ پائے تو قدم ہر دروازے کو آزماتے ہیں۔ آپ کے پاؤں آج کہاں بھٹک رہے ہیں؟ خدا آپ کو کسی شور میں نہیں، اپنی حضوری میں ٹھہرنا سکھانا چاہتا ہے۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 4

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے حکمت کو مجھ سے دُور نہیں رکھا بلکہ فرمایا کہ اُسے کہوں، "تُو میری بہن ہے،" اور سمجھ کو اپنی قریبی رشتے دار بناؤں۔ شکر کہ تیری باتیں مجھے اپنے گھر کی طرح مانوس لگتی ہیں اور خطرے کے وقت مجھے سنبھالتی ہیں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟