زبور 119
متن
زبور ۱۱۹ ایک لمبی، بہ ترتیب حروفِ تہجی نظم ہے جس میں گیت نگار بار بار ایک ہی بات دہراتا ہے: خداوند کی شریعت، اُس کے احکام، اُس کے فرمان میری زندگی ہیں۔ وہ دشمنوں کے درمیان، مصیبت میں، رات کے اندھیرے میں، اور جوانی کے تقاضوں میں کلامِ خدا سے چمٹا رہتا ہے۔ یہ ایک عاشق کا نغمہ ہے، مگر عاشق کی محبت کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا کے کلام سے ہے، اور اُس محبت نے اُس کی روزمرہ زندگی کا ہر گوشہ بدل ڈالا ہے۔
مرکزی نکتہ
یہ زبور ایک بنیادی دعویٰ کرتا ہے جو ہمارے زمانے کو کھٹکتا ہے: قوانین سے محبت کی جا سکتی ہے۔ ہم آزادی کو "کوئی مجھے نہ بتائے کہ کیا کرنا ہے" سمجھتے ہیں، لیکن یہاں شاعر کہتا ہے، "مَیں کھلے میدان میں چلتا پھروں گا، کیونکہ تیرے آئین کا طالب رہتا ہوں" (آیت ۴۵)۔ حدود ہی وہ جگہ ہیں جہاں وہ سانس لے سکتا ہے۔ یہ اخلاقی نکتہ اہم ہے: خدا کے احکام کوئی بوجھ نہیں جو مذہبی لوگوں کو اُٹھانا پڑتا ہے، بلکہ وہ نقشہ ہیں جو ایک زندہ رہنے کے قابل زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ شاعر ان احکام کو "سونے چاندی کے ہزاروں سِکوں سے زیادہ پسند" کرتا ہے (آیت ۷۲)، اور یہ محض شاعرانہ مبالغہ نہیں ہے۔ وہ حقیقتاً پیسے اور کلام کے درمیان انتخاب کر چکا ہے۔
مشترکہ دھاگا
یسوع نے کہا، "اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔" یہ زبور ۱۱۹ کی گونج ہے۔ لیکن ایک فرق ہے جو انجیل لاتی ہے: یہاں شاعر بار بار فریاد کرتا ہے، "مجھے اپنے احکام سکھا" (آیات ۱۲، ۲۶، ۶۴، ۶۸، ۱۲۴، ۱۳۵)۔ وہ جانتا ہے کہ صرف بیرونی شریعت کافی نہیں، اُسے اندرونی سمجھ درکار ہے۔ نئے عہد نامے میں یہی روح القدس کا کام بن جاتا ہے: کلام کو دل پر لکھنا۔ مسیح میں شریعت مٹتی نہیں، بلکہ وہ ہمارے اندر منتقل ہو جاتی ہے۔ آیت ۱۷۶ کا آخری اعتراف، "مَیں بھٹکی ہوئی بھیڑ کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں"، خود اُس گڈریے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کھوئی ہوئی بھیڑ کی تلاش میں نکلے گا۔
آئینہ
یہ زبور آپ سے کچھ بےآرام سوال پوچھتا ہے۔ آپ اپنی صبح کیسے شروع کرتے ہیں، خبروں سے یا کلام سے (آیت ۱۴۷)؟ رات کو جب نیند نہیں آتی، تو آپ کا دماغ کہاں بھٹکتا ہے، فکروں میں یا فرمان میں (آیت ۱۴۸)؟ جب دفتر میں کوئی جھوٹ بولنے کا دباؤ ہو کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں، تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے (آیت ۲۹)؟ جب پیسہ آنکھوں کے سامنے چمکے، کیا کلام سونے سے زیادہ پیارا رہے گا (آیت ۱۲۷)؟ اور جوان بیٹے یا بیٹی کے بارے میں، جن کے سامنے فحاشی اور بےمقصدیت کا سمندر کھلا ہے، آپ اُنہیں پاکیزگی کا کیا راستہ دکھائیں گے؟ شاعر کا جواب سیدھا ہے: "اِس طرح کہ تیرے کلام کے مطابق زندگی گزارے" (آیت ۹)۔ یہ نصیحت پرانی لگتی ہے، لیکن اِس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں۔
سوال
ایک بات یہاں کھٹکتی ہے۔ شاعر بار بار کہتا ہے، "میرے لئے اچھا تھا کہ مجھے پست کیا گیا، کیونکہ اِس طرح مَیں نے تیرے احکام سیکھ لئے" (آیت ۷۱)۔ یعنی اُس کے دکھ کے پیچھے خدا کا ہاتھ تھا، اور وہ اِس پر شکر گزار ہے۔ یہ ہضم کرنا آسان نہیں۔ کیا ہم اپنے دکھوں کے بارے میں بھی یہ کہہ سکیں گے؟ کیا کینسر کی تشخیص، بچے کی موت، یا شادی کا ٹوٹنا، ہمیں کبھی اِس مقام پر لے جا سکتا ہے کہ ہم کہیں، "یہ میرے لئے اچھا تھا"؟ زبور یہاں جواب نہیں دیتا کہ کیسے۔ وہ صرف ایک آدمی کی گواہی ہے جو وہاں سے گزر چکا ہے۔ شاید یہی راستہ ہے: پہلے ماننا نہیں پڑتا، پہلے صرف کلام سے چمٹے رہنا پڑتا ہے۔
بین المتن
زبور ۱ کے ساتھ اِس کا رشتہ گہرا ہے۔ وہاں مبارک انسان وہ ہے جو "دن رات" شریعت میں غور کرتا ہے۔ زبور ۱۱۹ اُس ایک آیت کو ۱۷۶ آیات میں پھیلا دیتا ہے۔ دوسری طرف، پولس رومیوں میں کہتا ہے کہ شریعت گناہ کو پہچانواتی ہے مگر بچا نہیں سکتی۔ کیا یہ تضاد ہے؟ نہیں۔ زبور ۱۱۹ کا شاعر خود اعتراف کرتا ہے کہ وہ بھٹکی ہوئی بھیڑ ہے (آیت ۱۷۶)۔ وہ شریعت پر فخر نہیں کرتا، وہ اُس سے محبت کرتا ہے۔ فرق ہے فخر اور محبت میں۔ فریسی نے شریعت کو ہتھیار بنای
Psalms 119 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 119 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 119 کس بارے میں ہے؟
زبور 119 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 119 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 119 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 119 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
