زبور 5:5
متن
داؤد صبح کے وقت اپنی فریاد خدا کے سامنے رکھتا ہے، اور دعا کے بیچ میں اچانک رُک کر بتاتا ہے کہ وہ کس قسم کے خدا سے بات کر رہا ہے: ایسا خدا جس کے حضور مغرور لوگ پاؤں جما کر کھڑے نہیں رہ سکتے، اور جو بدکاری کرنے والے سے صاف نفرت کرتا ہے۔ یہ آیت اُس فہرست کے بیچ میں ہے جو آیت 4 سے شروع ہو کر آیت 6 تک چلتی ہے: بےدینی سے خوش نہ ہونے والا خدا، جھوٹوں کو تباہ کرنے والا خدا، خوں خوار اور دھوکے باز سے گھن کھانے والا خدا۔ داؤد کا نکتہ سادہ ہے: میری سنوائی اِسی لئے ممکن ہے کیونکہ تُو غیرجانبدار نہیں ہے۔
اصل نکتہ
ہم عام طور پر خدا کی پاکیزگی کو ایک خوبی سمجھتے ہیں، جیسے وہ اُس کی صفات کی فہرست میں ایک اندراج ہو۔ یہ آیت اُسے ایک ردِعمل بنا دیتی ہے۔ ”نفرت کرتا ہے“ کوئی نرم لفظ نہیں؛ عبرانی میں یہاں جو فعل ہے (سانے، یعنی ٹھکرا دینا، ردّ کر دینا) رشتوں کی زبان سے آتا ہے، عدالت کے دفتر سے نہیں۔ خدا بُرائی کو محض غلط قرار نہیں دیتا، وہ اُس سے دور ہٹتا ہے۔ اور غور کریں کہ داؤد سب سے پہلے کن کا نام لیتا ہے: قاتلوں کا نہیں، مغروروں کا۔ گھمنڈ ہی وہ رویّہ ہے جو خود کو خدا کے حضور جواب دہ نہیں سمجھتا، اور بالکل اِسی لئے وہ اُس حضوری میں ٹک نہیں سکتا۔ یہ بات ہمیں تسلی نہیں دیتی؛ یہ ہمیں گِن لیتی ہے۔ کیونکہ اگر پیمانہ یہ ہے، تو آیت 7 کا ”لیکن“ ہماری واحد اُمید بن جاتا ہے۔
سلسلۂ کلام
اگر مغرور خدا کے حضور کھڑے نہیں ہو سکتے، تو سوال یہ بنتا ہے کہ کوئی کھڑا کیسے ہوتا ہے۔ داؤد خود اِس کا جواب دو آیتوں بعد دیتا ہے، اور وہ جواب اُس کے کردار میں نہیں ہے: ”لیکن مجھ پر تُو نے بڑی مہربانی کی ہے، اِس لئے مَیں تیرے گھر میں داخل ہو سکتا“۔ داخلے کا واحد پروانہ مہربانی ہے۔ یہیں سے وہ دھاگا شروع ہوتا ہے جو صلیب تک جاتا ہے۔ کیونکہ اِس زبور میں دو چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں: خدا کی بدکار سے نفرت، اور خدا کی مہربانی سے کھلنے والا دروازہ۔ عہدِ جدید میں یہ دونوں ایک ہی جگہ ملتی ہیں، اُس ایک شخص میں جو کبھی مغرور نہ تھا اور جس نے پھر بھی وہ ردّ کیا سہا جو بدکاروں کا حق تھا۔ مسیح خدا کے حضور سے دھکیلا گیا تاکہ ہم اُس حضور میں ٹھہر سکیں۔ آیت 5 اور آیت 7 کے درمیان جو خلا ہے، اُسے کوئی نصیحت نہیں بھرتی؛ اُسے صرف ایک بدل بھرتا ہے۔
آئینہ
غور کریں کہ یہ آیت کہاں لکھی گئی ہے: ایک ایسے آدمی کی صبح کی دعا کے بیچ میں جو کہتا ہے، ”صبح کو مَیں تجھے سب کچھ ترتیب سے پیش کر کے جواب کا انتظار کرنے لگتا ہوں“۔ یعنی گھمنڈ کی سب سے خطرناک قسم بےدین کی نہیں، دعا کرنے والے کی ہوتی ہے۔ وہ باپ جو گھر میں بحث ہارنا گناہ سمجھتا ہے۔ وہ استاد یا ملازم جو اپنی قابلیت کو اپنی حفاظت بنا لیتا ہے۔ وہ شخص جو روز بائبل پڑھتا ہے اور بےخبری میں یہی سمجھ بیٹھتا ہے کہ اُس کے پاؤں جمے ہوئے ہیں کیونکہ اُس کی ترتیب اچھی ہے۔ آیت 5 اِس زمین کو پیروں کے نیچے سے کھینچ لیتی ہے۔ آپ کھڑے ہیں تو صرف اُس مہربانی پر جو آپ کی کمائی نہیں۔
آج کوئی ایک ایسا معاملہ لکھیں جس میں آپ نے اِس ہفتے اپنے آپ کو حق پر مانا اور کسی کو غلط، پھر آواز سے آیت 7 کے الفاظ پڑھیں: ”مجھ پر تُو نے بڑی مہربانی کی ہے“، اور اُس کاغذ کو پھاڑ دیں۔
سوال
متن یہ نہیں کہتا کہ خدا بدکاری سے نفرت کرتا ہے؛ وہ کہتا ہے ”بدکار سے تُو نفرت کرتا ہے“۔ فرق شخص کا ہے، اور ہم اِسے فوراً نرم کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم نے سیکھا ہے کہ خدا گناہ سے نفرت اور گناہگار سے محبت کرتا ہے۔ یہ جملہ خوبصورت ہے مگر یہ آیت اُس کی تصدیق نہیں کرتی۔ اور شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ بُرائی کوئی الگ چیز نہیں جو کسی انسان سے کھرچ کر اُتاری جا سکے؛ وہ ہمارے فیصلوں، زبانوں اور دلوں میں پیوست ہے۔ خدا اگر بےاعتنائی برتتا تو یہ محبت نہ ہوتی۔ اُس کی نفرت ذاتی ہے کیونکہ اُس کی محبت ذاتی ہے۔ اِس تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں؛ صلیب اِسی تناؤ کے اندر کھڑی ہے، اور وہاں دونوں سچ ایک ساتھ پورے ہوتے ہیں۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا اصل کردار داؤد نہیں، خدا ہے، اور وہ کوئی بےچہرہ اصول نہیں۔ آیات 4 سے 6 تک ہم ایک ایسی ہستی کو دیکھتے ہیں جو خوش ہوتی ہے، گھن کھاتی ہے، ٹھکراتی ہے۔ یہ زندہ خدا کا مزاج ہے، اور یہی داؤد کی اُمید کی بنیاد ہے۔ ایک غیرجانبدار خدا فریاد سن سکتا ہے مگر بچا نہیں سکتا، کیونکہ جو ظلم پر بھڑکتا نہیں وہ مظلوم کے لئے کچھ نہیں کرے گا۔ داؤد کے دشمن جھوٹ بولتے ہیں، ”چِکنی چپڑی باتیں“ کرتے ہیں، اور داؤد کے پاس اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اُس کی ساری تسلی اِس میں ہے کہ خدا کو فرق پڑتا ہے۔ آخری آیت اِسی مزاج کو ڈھال بنا دیتی ہے: ”تُو اپنی مہربانی کی ڈھال سے اُس کی چاروں طرف حفاظت کرتا ہے“۔
کلام سے کلام کی روشنی
پولوس رسول رومیوں 3 میں اِسی زبور کی آیت 9 کو اُٹھاتا ہے، ”اُن کا گلا کھلی قبر ہے“، مگر وہ اِسے داؤد کے دشمنوں پر لاگو نہیں کرتا بلکہ پوری انسانیت پر۔ یعنی جو فہرست ہم پڑھتے وقت اپنے مخالفوں پر چسپاں کرتے ہیں، عہدِ جدید اُسے ہمارے سامنے آئینہ بنا کر رکھ دیتا ہے: مغرور کوئی اور نہیں، ہم ہیں۔ اور خداوند یسوع کی وہ تمثیل یاد کریں جہاں دو آدمی ہیکل میں دعا کرتے ہیں: ایک اعتماد سے کھڑا ہوتا اور اپنی نیکیاں گنتا ہے، دوسرا آنکھ اُٹھانے کے قابل نہیں اور صرف رحم مانگتا ہے۔ گھر جا کر راست باز وہی ٹھہرتا ہے جو کھڑا ہو نہ سکا۔ یہی زبور 5 کا نتیجہ ہے، مسیح کے ہونٹوں پر۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی کامیابی یا خوبی ہے جسے آپ خاموشی سے خدا کے حضور اپنا حقِ داخلہ سمجھتے ہیں؟
اگر خدا واقعی بےدینی سے ”خوش“ نہیں ہوتا، تو اُس کی یہ ناخوشی آپ کے لئے خوف کی بات ہے یا تحفظ کی؟ اور کیوں؟
Psalms 5:5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 5:5 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 5:5 کس بارے میں ہے؟
زبور 5:5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 5:5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 5:5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 5 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں