دانیال 5
متن
بابل کے محل میں ہزار مہمانوں کی ضیافت ہے، اور نشے میں بادشاہ بیل شَضَر یروشلم کی ہیکل سے لُوٹے ہوئے پیالے منگوا کر اُن میں مَے پیتا ہے اور اپنے بُتوں کی تمجید کرتا ہے۔ اُسی لمحے دیوار کے پلستر پر ایک انسانی ہاتھ لکھنے لگتا ہے؛ بادشاہ کے گھٹنے ٹکرانے لگتے ہیں، اُس کے دانش مند ناکام رہتے ہیں، اور ملکہ کے مشورے پر دانیال بُلایا جاتا ہے۔ دانیال انعام ٹھکرا کر پہلے نبوکدنضر کے غرور اور زوال کی یاد دلاتا ہے، پھر تین الفاظ کھولتا ہے: گنا ہوا، تولا ہوا، تقسیم ہوا۔ اُسی رات بادشاہ قتل ہوتا ہے اور دارا مادی تخت پر بیٹھ جاتا ہے۔
مرکزی بات
ذرا اُس منظر میں کھڑے ہو جائیں۔ روشنی، ہنسی، پیالوں کی کھنک، اور ہر پیالہ چوری کا مال ہے۔ یہ صرف بدتمیزی نہیں، یہ ایک بیان ہے: "تمہارے خدا کے برتن میرے ہاتھ میں ہیں، اِس لیے تمہارا خدا مجھ سے چھوٹا ہے۔" اور ٹھیک اُس نقطے پر خدا جواب دیتے ہیں۔ نہ لشکر سے، نہ بجلی سے، بلکہ ایک ہاتھ اور تین لفظوں سے۔ دانیال جو کہتا ہے وہ پورے باب کی جڑ ہے: "جس خدا کے ہاتھ میں آپ کی جان اور آپ کی تمام راہیں ہیں اُس کا احترام آپ نے نہیں کیا۔" یہاں خدا کی حکومت کا مسئلہ ہے: سلطنت عطیہ ہے، ملکیت نہیں۔ اور جو عطیے کو ملکیت سمجھ لے، وہ تُل کر ہلکا نکلتا ہے۔
وہ ایک دھاگا
دانیال انعام لینے سے انکار کرتا ہے: "مجھے اجر نہ دیں، اپنے تحفے کسی اَور کو دیجئے۔" یہ ادا اِس کتاب کے بڑے دعوے کی خدمت کرتی ہے: خدا کا کلام خریدا نہیں جا سکتا، اور خدا کا نبی دربار کا ملازم نہیں۔ اِسی دھاگے پر آگے چل کر مسیح کھڑے ہیں، جنہوں نے دنیا کی ساری بادشاہیوں کی پیشکش ٹھکرا دی۔ دوسری بات: بابل ابد تک نہیں رہتا۔ جو سلطنت خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتی تھی، ایک رات میں تقسیم ہو جاتی ہے، اور خدا کے لوگ اُس کے بعد بھی زندہ ہیں۔ یہ اُس امید کا سایہ ہے جو مسیح کی بادشاہی میں پوری ہوتی ہے: ایک ایسی حکومت جسے نہ گنا جائے گا، نہ تولا جائے گا، نہ تقسیم کیا جائے گا۔
آئینہ
بیل شَضَر کا سب سے بڑا گناہ یہ نہیں تھا کہ وہ نہیں جانتا تھا۔ دانیال کہتا ہے: "گو آپ اُن کے بیٹے ہیں اور اِس بات کا علم رکھتے ہیں توبھی آپ فروتن نہ رہے۔" اُس کے پاس خاندانی گواہی تھی، اُس نے اپنے باپ کا زوال دیکھا تھا، اور پھر بھی اُس نے وہی راستہ چُنا۔ ہم اِسی بیماری کے مریض ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ صحت عطیہ ہے، تنخواہ عطیہ ہے، بچے عطیہ ہیں، وقت عطیہ ہے، اور پھر بھی ہم پیالے اپنے نام کروا لیتے ہیں: میری ترقی، میری عزت، میرا کنٹرول۔ خدا کا ہاتھ ہمیں ہمیشہ محل کی دیوار پر نہیں دکھائی دیتا، مگر ہلکا وزن ہلکا ہی رہتا ہے۔
آج ایک کام کریں: قلم لے کر ایک کاغذ پر وہ تین چیزیں لکھیں جن پر آپ سب سے زیادہ فخر کرتے ہیں، اور ہر ایک کے سامنے لکھیں "یہ عطیہ ہے"، پھر اُسے بلند آواز میں پڑھ کر خدا کا شکر ادا کریں۔
سوال
سوال یہ ہے: بیل شَضَر کو توبہ کا موقع کیوں نہ ملا؟ نبوکدنضر گھاس چرنے کے بعد بحال ہوا؛ اُس کا بیٹا اُسی رات قتل ہوا۔ متن کوئی نرمی نہیں دکھاتا، اور ہمیں یہاں جھوٹی تسلی نہیں گھڑنی چاہیے۔ مگر غور کریں: بیل شَضَر نے دانیال کی بات سن کر بھی صرف ایک کام کیا، اُسے ارغوانی لباس اور سونے کی زنجیر پہنا دی۔ اُس نے پیغام کو انعام سے دبانے کی کوشش کی، دل سے نہیں جھکا۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ سچائی سن لینا اور سچائی کے آگے سر جھکا دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ پھر بھی تلخی باقی رہتی ہے: خدا کے صبر کی ایک حد ہوتی ہے، اور وہ حد کہاں ہے، یہ ہم نہیں جانتے۔ یہی اِس باب کا کانٹا ہے۔
کلام کی گونج
یسعیاہ 47 میں بابل سے کہا گیا تھا کہ وہ خود کو ابدی ملکہ سمجھتی ہے اور اُس پر ایک ہی لمحے میں تباہی آئے گی؛ دانیال 5 وہی پیشین گوئی ایک ضیافت کے ہال میں پوری ہوتی ہوئی دکھاتا ہے۔ دوسری گونج مسیح کی اُس تمثیل میں ہے جس میں ایک دولت مند آدمی نئے گودام بنانے کا منصوبہ بناتا ہے اور اُسی رات اُس کی جان طلب کر لی جاتی ہے (لوقا 12)۔ دونوں جگہ وہی ساخت ہے: بھری میز، پکا ارادہ، اور "اُسی رات"۔ اِن دو حوالوں کو ساتھ رکھنے سے صاف ہوتا ہے کہ دانیال 5 محض قدیم سیاست کا قصہ نہیں؛ یہ ہر اُس زندگی کا آئینہ ہے جو خدا کے بغیر اپنا حساب لگاتی ہے۔
ایک باریک بات
"تقیل" یعنی "تولا ہوا"۔ یہ لفظ اصل میں ایک سکّے اور باٹ کا نام ہے، یعنی ترازو کی زبان۔ بابل کے بازار میں چاندی تول کر بیچی جاتی تھی، اور ہلکا باٹ دھوکہ کہلاتا تھا۔ اب سوچیں: جو بادشاہ سونے چاندی کے پیالوں سے پی رہا تھا، اُسی کو ترازو میں رکھا گیا اور وہ ہلکا نکلا۔ سونا اُس کے ہاتھ میں تھا، مگر وزن اُس کی جان میں نہ تھا۔ خدا انسان کو اُس کے اثاثوں سے نہیں، اُس کی فروتنی سے تولتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ دانیال، ایک جلاوطن قیدی جس کے پاس کچھ نہ تھا، اُس ہال میں سب سے بھاری آدمی تھا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا "پیالہ" ہے جو خدا کا دیا ہوا ہے مگر آپ اُسے اپنی شان کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
بیل شَضَر نے سچائی سُن کر انعام دیا مگر دل نہ بدلا؛ آپ نے حال ہی میں کون سی بات سنی جسے آپ نے سراہا مگر اُس پر عمل ٹال دیا؟
Daniel 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
دانیال 5 کا کیا مطلب ہے؟
دانیال 5 کس بارے میں ہے؟
دانیال 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
دانیال 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
دانیال 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Daniel 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ سلطنت، عظمت، جلال اور شان و شوکت تیرے ہی ہاتھ سے ملتے ہیں۔ نبوکدنضر کو جو کچھ ملا، وہ تیری عطا تھی۔ یوں ہی میری زندگی کی ہر بڑائی اور ہر چھوٹی برکت بھی تیرا ہی تحفہ ہے، اور میں اِسے اپنی کمائی سمجھ کر نہیں بلکہ تیرے فضل کا نشان جان کر تھامے رکھتا ہوں۔
اے خدا، تُو میرے دل کو تولتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ مجھ میں کہاں کمی ہے۔ میں اپنی کامیابیوں کے پیچھے چھپنا چھوڑتا ہوں۔ مجھے معاف کر اور اپنے فضل سے وہ خلا بھر دے جو میں خود نہیں بھر سکتا۔ مجھے سکھا کہ تیری نظر میں سچائی سے جیوں۔
اے خدا، دیوار پر لکھے ہوئے اُن لفظوں کا خیال مجھے ہلا دیتا ہے۔ تُو ہر دل کو تولتا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔ مجھے غرور سے بچا، اور ایسی زندگی دے جو تیری نظر میں ہلکی نہ نکلے۔ تیرے فضل پر بھروسا ہے۔
بیلشضر کی محفل عروج پر تھی، ہنسی، شراب، دیوتاؤں کی تعریف۔ اور پھر ایک ہاتھ: "اُسی لمحے ایک اِنسانی ہاتھ کی اُنگلیاں نظر آئیں جو شاہی محل کی دیوار پر لکھنے لگیں، وہاں جہاں شمعدان کی روشنی پڑ رہی تھی۔"
خدا نے اندھیرے کونے میں نہیں، عین روشنی میں لکھا۔ وہ اپنی بات چھپاتا نہیں۔ سوچ، تیری زندگی کی کون سی دیوار ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور تُو نظر پھیر لیتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
