بائبل کی تشریح

حزقی ایل 13

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

خداوند حِزقی ایل کو حکم دیتا ہے کہ وہ اُن نبیوں کے خلاف بولے جو "اپنے دلوں سے اُبھرنے والی باتیں ہی پیش کرتے ہیں" اور پھر اُن پر "رب فرماتا ہے" کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ قوم نے ایک کچی دیوار کھڑی کر لی ہے اور یہ نبی اُس پر سفیدی پھیر کر اُسے مضبوط دکھا رہے ہیں؛ خدا فرماتا ہے کہ آندھی، بارش اور اولے آئیں گے اور دیوار کے ساتھ سفیدی کرنے والے بھی گر جائیں گے۔ پھر رُخ اُن عورتوں کی طرف مُڑتا ہے جو تعویذ اور پردے بیچ کر لوگوں کو پرندوں کی طرح پھانستی ہیں، اور خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ یہ جال پھاڑ کر اپنی قوم کو رہا کرے گا۔

مرکزی بات

یہ باب جھوٹ کے بارے میں نہیں، تسلی دینے والے جھوٹ کے بارے میں ہے۔ وہ جھوٹ جو کسی کو دُکھ نہیں دیتا، بلکہ سب کو اچھا لگتا ہے۔ "امن و امان کا اعلان کرتے ہیں اگرچہ امن و امان ہے نہیں" — یہی وہ گناہ ہے جس پر خدا کا غصہ بھڑکتا ہے۔ کیونکہ خدا کا کلام حقیقت کو بیان کرنے کے لیے ہے، اور جب ہم اُس کے نام پر وہ بولتے ہیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں، تو ہم ایک نقلی دنیا بنا دیتے ہیں جس میں لوگ رہنے لگتے ہیں۔ پھر جب اصل طوفان آتا ہے تو وہ تیار نہیں ہوتے۔ سفیدی دیوار کو مضبوط نہیں کرتی، صرف معائنے کو مؤخر کر دیتی ہے۔ اور خدا کی سچائی بالآخر ہر معائنہ خود کرتی ہے۔

سلسلۂ کلام

آیت 5 ایک عجیب شکایت ہے: "نہ کوئی دیوار کے رخنوں میں کھڑا ہوا، نہ کسی نے اُس کی مرمت کی۔" خدا کسی ایسے کو ڈھونڈ رہا ہے جو شگاف میں جا کھڑا ہو، جو قوم اور آنے والی آفت کے درمیان اپنا جسم رکھ دے۔ پورے عہدِ عتیق میں یہ جگہ خالی رہتی ہے۔ موسیٰ نے کوشش کی، یرمیاہ نے آنسو بہائے، مگر دیوار ٹوٹتی رہی۔ یسوع یروشلم کو دیکھ کر رویا اور صاف کہا کہ یہ شہر وہ باتیں نہیں پہچانتا جو اُس کے امن سے متعلق ہیں؛ اُس نے جھوٹی تسلی نہیں دی، بلکہ خود رخنے میں کھڑا ہو گیا۔ مسیح وہ واحد نبی ہے جو ناخوشگوار سچ بھی بولتا ہے اور اُس سچ کا بوجھ بھی خود اُٹھاتا ہے۔ سفیدی نہیں، صلیب۔

آئینہ

یہ باب اُن لوگوں کے لیے نہیں جو کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں، بلکہ اُن کے لیے جو نرمی کو ایمان داری پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کارکردگی کا جائزہ جس میں آپ نے سخت بات لکھنی تھی مگر "سب ٹھیک چل رہا ہے" لکھ دیا۔ وہ بھائی جس کے قرض اور شراب کے بارے میں خاندان خاموش رہتا ہے کیونکہ بات کرنے سے عید خراب ہو جائے گی۔ وہ دوست جسے آپ نے کہا "فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا" جبکہ آپ جانتے تھے کہ وہ ایک تباہ کن فیصلہ کر رہا ہے۔ آیت 19 ہمیں مزید چُبھتی ہے: "میری قوم جھوٹ سننا پسند کرتی ہے۔" ہم صرف سفیدی کرنے والے نہیں، اُس کے خریدار بھی ہیں۔ اور آیت 22 سب سے سخت ہے: جھوٹی تسلی راست بازوں کو دُکھ دیتی ہے اور بےدینوں کو اُن کی راہ پر مضبوط کرتی ہے۔

آج ہی دس منٹ نکالیں: ایک کاغذ پر وہ ایک جملہ لکھیں جو آپ نے پچھلے ہفتے کسی کو تسلی دینے کے لیے کہا تھا اور جس کے بارے میں آپ خود جانتے تھے کہ وہ پوری سچائی نہیں تھی۔ اُس کے نیچے وہ جملہ لکھیں جو سچ تھا، اور اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے پڑھیں۔

پس منظر

حِزقی ایل بابل میں جلاوطنوں کے درمیان بیٹھا ہے، یروشلم کے گرنے سے چند سال پہلے۔ اُن کے آس پاس ایسے نبی گھوم رہے ہیں جو کہہ رہے ہیں: گھبراؤ مت، یہ جلاوطنی عارضی ہے، شہر محفوظ ہے، خدا اپنے مقدِس کو کبھی گرنے نہیں دے گا۔ یہ سننے والوں کے لیے محض مذہبی بحث نہیں تھی؛ اِس پر منحصر تھا کہ وہ بابل میں گھر بنائیں یا سامان باندھے رکھیں۔ اور وہ عورتیں جو کلائی کے تعویذ اور سر کے پردے سیتی تھیں، غریب اور خوف زدہ لوگوں کے لیے ایک متبادل مذہبی منڈی چلا رہی تھیں: تھوڑی سی فیس دو، تحفظ لے جاؤ۔ پہلے سننے والوں کے کانوں میں یہ باب ایک دروازہ بند ہونے کی آواز تھی: اب کوئی آسان راستہ نہیں بچا۔

ایک باریک نکتہ

"چند ایک مٹھی بھر جَو اور روٹی کے دو چار ٹکڑوں کے لئے۔" یہ قیمت ہے۔ سونا نہیں، زمین نہیں، ایک مٹھی جَو، جانوروں کا چارہ۔ خدا یہاں صرف گناہ کا نہیں، گناہ کی حقارت کا ذکر کر رہا ہے۔ اُنہوں نے اُس کی بےحرمتی کی اور بدلے میں تقریباً کچھ بھی نہ لیا۔ یہ تفصیل ہمیں بے نقاب کرتی ہے، کیونکہ ہم بھی اپنی ایمان داری بڑی قیمتوں پر نہیں بیچتے۔ ہم اُسے ایک میٹنگ میں شرمندگی سے بچنے کے لیے بیچتے ہیں، ایک رشتے میں سکون قائم رکھنے کے لیے، کسی کی ناراضی سے بچنے کے لیے۔ مٹھی بھر جَو۔ گناہ کی اصل کڑواہٹ اکثر اُس کی بڑائی میں نہیں، اُس کے سستے پن میں ہوتی ہے۔

مرکزی کردار

اِس باب کا مرکزی کردار وہ خدا ہے جو طوفان بھیجتا ہے، اور اُس کا غصہ ٹھنڈے انصاف کا نہیں بلکہ زخمی محبت کا ہے۔ غور کیجیے کہ اُس کا ہاتھ کس کے خلاف اور کس کے لیے اُٹھتا ہے: "اُنہیں رِہا کروں گا جنہیں تم نے پرندوں کی طرح پکڑ لیا ہے۔" آندھی دیوار کے لیے عذاب ہے مگر پھنسے ہوؤں کے لیے نجات۔ وہ تعویذ بازوؤں سے نوچتا ہے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کی گردن سے پھندا کھینچتا ہے۔ یہ خدا جھوٹی تسلی کو برداشت نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنی قوم کو حقیقت میں بچانا چاہتا ہے، نہ کہ اُنہیں محفوظ ہونے کا احساس دلانا۔ محبت کا یہی فرق ہے: احساس دینا آسان ہے، بچانا مہنگا۔

غور و فکر

پچھلے مہینے میں آپ نے کس شخص کو وہ بات کہی جو وہ سننا چاہتا تھا، اور کیا قیمت آپ نے سچ نہ کہنے سے بچائی؟

آپ خود کس سے ایسی باتیں سننا پسند کرتے ہیں جو آپ کی کچی دیوار پر سفیدی پھیر دیتی ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Ezekiel 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

حزقی ایل 13 کا کیا مطلب ہے؟
خداوند حِزقی ایل کو حکم دیتا ہے کہ وہ اُن نبیوں کے خلاف بولے جو "اپنے دلوں سے اُبھرنے والی باتیں ہی پیش کرتے ہیں" اور پھر اُن پر "رب فرماتا ہے" کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ قوم نے ایک کچی دیوار کھڑی کر لی ہے اور یہ نبی اُس پر سفیدی پھیر کر اُسے مضبوط دکھا رہے ہیں؛ خدا فرماتا ہے کہ آندھی، بارش اور اولے آئیں گے اور دیوار کے ساتھ سفیدی کرنے والے بھی گر جائیں گے۔ پھر رُخ اُن عورتوں کی طرف مُڑتا ہے جو تعویذ اور پردے بیچ کر لوگوں کو پرندوں کی طرح پھانستی ہیں، اور خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ یہ جال پھاڑ کر اپنی قوم کو رہا کرے گا۔
حزقی ایل 13 کس بارے میں ہے؟
آیت 5 ایک عجیب شکایت ہے: "نہ کوئی دیوار کے رخنوں میں کھڑا ہوا، نہ کسی نے اُس کی مرمت کی۔" خدا کسی ایسے کو ڈھونڈ رہا ہے جو شگاف میں جا کھڑا ہو، جو قوم اور آنے والی آفت کے درمیان اپنا جسم رکھ دے۔ پورے عہدِ عتیق میں یہ جگہ خالی رہتی ہے۔ موسیٰ نے کوشش کی، یرمیاہ نے آنسو بہائے، مگر دیوار ٹوٹتی رہی۔ یسوع یروشلم کو دیکھ کر رویا اور صاف کہا کہ یہ شہر وہ باتیں نہیں پہچانتا جو اُس کے امن سے متعلق ہیں؛ اُس نے جھوٹی تسلی نہیں دی، بلکہ خود رخنے میں کھڑا ہو گیا۔ مسیح وہ واحد نبی ہے جو ناخوشگوار سچ بھی بولتا ہے اور اُس سچ کا بوجھ بھی خود اُٹھاتا ہے۔ سفیدی نہیں، صلیب۔
حزقی ایل 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی دس منٹ نکالیں: ایک کاغذ پر وہ ایک جملہ لکھیں جو آپ نے پچھلے ہفتے کسی کو تسلی دینے کے لیے کہا تھا اور جس کے بارے میں آپ خود جانتے تھے کہ وہ پوری سچائی نہیں تھی۔ اُس کے نیچے وہ جملہ لکھیں جو سچ تھا، اور اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے پڑھیں۔
حزقی ایل 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
"چند ایک مٹھی بھر جَو اور روٹی کے دو چار ٹکڑوں کے لئے۔" یہ قیمت ہے۔ سونا نہیں، زمین نہیں، ایک مٹھی جَو، جانوروں کا چارہ۔ خدا یہاں صرف گناہ کا نہیں، گناہ کی حقارت کا ذکر کر رہا ہے۔ اُنہوں نے اُس کی بےحرمتی کی اور بدلے میں تقریباً کچھ بھی نہ لیا۔ یہ تفصیل ہمیں بے نقاب کرتی ہے، کیونکہ ہم بھی اپنی ایمان داری بڑی قیمتوں پر نہیں بیچتے۔ ہم اُسے ایک میٹنگ میں شرمندگی سے بچنے کے لیے بیچتے ہیں، ایک رشتے میں سکون قائم رکھنے کے لیے، کسی کی ناراضی سے بچنے کے لیے۔ مٹھی بھر جَو۔ گناہ کی اصل کڑواہٹ اکثر اُس کی بڑائی میں نہیں، اُس کے سستے پن میں ہوتی ہے۔
حزقی ایل 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
پچھلے مہینے میں آپ نے کس شخص کو وہ بات کہی جو وہ سننا چاہتا تھا، اور کیا قیمت آپ نے سچ نہ کہنے سے بچائی؟

Ezekiel 13 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟