حزقی ایل 2:2
متن
حزقی ایل منہ کے بل زمین پر پڑا ہے، بابل کی نہر کبار کے کنارے، اور اوپر سے ایک آواز اُسے کھڑا ہونے کا حکم دیتی ہے۔ لیکن وہ اپنی طاقت سے نہیں اُٹھتا۔ آیت یوں کہتی ہے: ”جوں ہی وہ مجھ سے ہم کلام ہوا تو روح نے مجھ میں آ کر مجھے کھڑا کر دیا۔“ حکم اور قوت ایک ہی لمحے میں آتے ہیں؛ جو کہا گیا وہی کر بھی دیا گیا۔ اور جب وہ کھڑا ہو جاتا ہے، تب کہیں جا کر وہ آواز صاف سنائی دیتی ہے جو اُسے بھیجنے والی ہے۔ گویا سننے کے لیے پہلے کھڑا ہونا ضروری تھا، اور کھڑا ہونے کے لیے پہلے روح کا اُس میں داخل ہونا۔
اصل بات
یہ آیت خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہتی ہے جو ہمیں بےچین کرتی ہے: وہ ایسے لوگوں کو حکم دیتا ہے جو حکم ماننے کے قابل نہیں، اور پھر خود ہی اُن کے اندر وہ صلاحیت پیدا کر دیتا ہے۔ ”آدم زاد“ کا مطلب ہی مٹی کا بیٹا، کمزور، فانی۔ ایسا آدمی جلال کے سامنے گر پڑتا ہے، یہی فطری ہے۔ اُسے اُٹھانے والی کوئی اندرونی ہمت نہیں بلکہ روح ہے جو باہر سے آ کر اندر بستا ہے۔ یہاں فضل کی ساری منطق چھپی ہوئی ہے: خدا تقاضا کرتا ہے، اور اپنے تقاضے کو پورا کرنے کا وسیلہ بھی خود عطا کرتا ہے۔ خدمت کسی انسانی اہلیت پر کھڑی نہیں ہوتی؛ وہ اُس سانس پر کھڑی ہوتی ہے جو خدا اپنے بھیجے ہوئے میں پھونکتا ہے۔
مشترک سلسلہ
یہ نمونہ بائبل میں بار بار لوٹتا ہے: مٹی پڑی رہتی ہے جب تک خدا کا دم اُس میں نہ آئے۔ پیدائش میں آدم مٹی کا ڈھیر تھا یہاں تک کہ خدا نے اُس میں زندگی کا دم پھونکا؛ حزقی ایل خود آگے چل کر ایک وادی میں سوکھی ہڈیوں کو دیکھے گا جو صرف روح کے آنے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ کبار کے کنارے پڑا یہ نبی اُسی وادی کا پہلا نمونہ ہے، ایک آدمی جس میں قوم کا سارا انجام سمٹا ہوا ہے۔ اور یہ سلسلہ مسیح تک پہنچتا ہے، جس نے اپنے شاگردوں کو بھیجتے وقت پہلے اُن پر دم کیا اور کہا کہ روح القدس لو۔ بھیجنے سے پہلے بھرنا، حکم سے پہلے قوت: انجیل اِسی ترتیب پر چلتی ہے۔
آئینہ
ہم اُلٹی ترتیب پسند کرتے ہیں۔ پہلے اپنی اہلیت جانچتے ہیں، پھر ہاں کہتے ہیں۔ کلاس میں کھڑے ہونے سے پہلے سوچتے ہیں کہ آج دم ہے یا نہیں؛ بیمار ماں کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے حساب لگاتے ہیں کہ اتنی طاقت بچی ہے یا نہیں؛ اُس ناراض بھائی کو فون کرنے سے پہلے انتظار کرتے ہیں کہ دل مضبوط ہو جائے۔ حزقی ایل کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اُس نے پہلے حکم سنا، اور اُٹھنے کی طاقت حکم کے اندر سے آئی، نہ کہ اُس سے پہلے۔ آج ہی، اپنے کمرے میں اکیلے، زمین سے اُٹھ کر سیدھے کھڑے ہو جائیں اور بلند آواز میں یہ ایک جملہ کہیں: ”خداوند، مَیں خود نہیں اُٹھ سکتا، اپنا روح مجھ میں ڈال اور مجھے کھڑا کر۔“
پہلے سننے والے
سوچیں: 593 قبلِ مسیح، جنوبی عراق کی چپٹی، گرم زمین، مٹی کی اینٹوں کے گھر، نہر کبار کا کیچڑ اور نرسل۔ یہ جلاوطن یہودی ہیں، دس سال پہلے یروشلم سے اُٹھا کر لائے گئے۔ ہیکل وہاں، وہ یہاں۔ حزقی ایل کاہن تھا، مگر قربان گاہ کے بغیر کاہن بےکار ہے۔ چاروں طرف بابل کے مندروں کے اونچے مینار، بابلی شگون دیکھنے والے جانوروں کے جگر پڑھتے، اور یہ تاثر گہرا ہوتا جاتا کہ مردوک جیت گیا اور اسرائیل کا خدا ہار گیا۔ ایسے ماحول میں یہ خبر بجلی کی طرح گری: خدا بابل میں بولتا ہے، اور بولنے کے ساتھ ایک آدمی کو کھڑا کر دیتا ہے۔ جو قوم زمین پر پڑی تھی، اُس کے بیچ میں سے ایک اُٹھایا گیا۔
مشکل سوال
اگر روح نے حزقی ایل کو کھڑا کیا، تو اُس کا اپنا اختیار کہاں گیا؟ کیا وہ صرف ایک آلہ ہے؟ متن ہمیں آسان جواب نہیں دیتا۔ آگے چل کر یہی نبی کڑوا ہو کر بیٹھے گا، اُسے بولنے سے روکا جائے گا، اُس کی بیوی مرے گی اور اُسے رونے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ سب کسی مشین کے تجربات نہیں، ایک زندہ آدمی کے زخم ہیں۔ شاید سچائی یہی ہے کہ خدا کا ہاتھ ہماری مرضی کو مٹاتا نہیں بلکہ اُسے اُٹھاتا ہے، اور اُٹھایا جانا کبھی آرام دہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ نہیں سمجھا سکتے کہ روح اور انسانی ارادہ ایک ہی لمحے میں کیسے کام کرتے ہیں۔ ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ آدمی کھڑا ہے، اور بول رہا ہے۔
ایک باریک تفصیل
”جوں ہی“ پر ٹھہریں۔ کوئی وقفہ نہیں، کوئی تیاری کا عرصہ نہیں، کوئی تربیتی مرحلہ نہیں۔ بولنا اور اُٹھایا جانا ایک ہی سانس میں ہوتے ہیں۔ عبرانی میں یہاں جو لفظ روح کے لیے آیا ہے وہ ”رُوَح“ ہے، جس کا مطلب ہوا، سانس اور روح تینوں ہے۔ یعنی جو آواز حزقی ایل کے کانوں میں پڑی، وہی ہوا اُس کے پھیپھڑوں میں بھر گئی۔ کلام اور قوت دو الگ چیزیں نہیں؛ خدا کا بولنا خود ایک کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں وہ دوبارہ ”آواز“ سنتا ہے۔ پہلے وہ آواز اُسے کچل رہی تھی، اب وہی آواز اُسے بھیج رہی ہے۔ فرق آواز میں نہیں، سننے والے کے کھڑا ہونے میں ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سا حکم ایسا ہے جسے آپ اِس لیے ٹال رہے ہیں کہ پہلے اپنے اندر طاقت محسوس کرنا چاہتے ہیں؟
جلاوطنی میں پڑا ہوا وہ آدمی آپ کو اپنے کس حال کی یاد دلاتا ہے، اور اُس حال میں آپ نے خدا کی آواز کہاں سنی؟
Ezekiel 2:2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 2:2 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 2:2 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 2:2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 2:2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 2:2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ezekiel 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خدا حزقی ایل کو کانٹوں اور بچھوؤں سے نکالتا نہیں، بلکہ اُن کے بیچ میں کھڑا رہنے کا حوصلہ دیتا ہے: ”اے آدم زاد، اُن سے مت ڈرنا، نہ اُن کی باتوں سے۔“ ڈر کی جڑ اکثر لوگوں کے چہرے ہوتے ہیں، اُن کی خاموش ناراضی، اُن کا طنز۔ کیا تُو بھی کسی کے چہرے کے خوف سے سچائی نگل جاتا ہے؟ خدا تیرے حالات نہیں، پہلے تیرا دل بدلنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں