حزقی ایل 2:3
متن
خدا ایزی کی ایل کو کھڑا کرتا ہے اور اُسے ایک ایسا مشن سونپتا ہے جو کسی کو رشک نہ آئے: ”اے آدم زاد، مَیں تجھے اسرائیلیوں کے پاس بھیج رہا ہوں، ایک ایسی سرکش قوم کے پاس جس نے مجھ سے بغاوت کی ہے۔“ سننے والوں کی شناخت اُن کے مندر، اُن کی نسل یا اُن کے وعدوں سے نہیں بلکہ اُن کی بغاوت سے کی جا رہی ہے۔ اور یہ کوئی وقتی پھسلن نہیں: ”شروع سے لے کر آج تک وہ اپنے باپ دادا سمیت مجھ سے بےوفا رہے ہیں۔“ یعنی ایک ہی پشت کا قصور نہیں، ایک پوری تاریخ کا مرض ہے۔ نبی کو پہلے ہی دن بتا دیا جاتا ہے کہ وہ کس مٹی میں بیج بو رہا ہے۔
اصل بات
یہاں خدا کے بارے میں دو باتیں ساتھ ساتھ کھڑی ہیں، اور اُن کا ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل پیغام ہے۔ پہلی: خدا سب کچھ جانتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے بارے میں کوئی خوش گمانی نہیں پالتا؛ وہ صاف لفظوں میں اُن کی بےوفائی کی سند لکھ دیتا ہے۔ دوسری: باوجود اِس کے وہ بھیجتا ہے۔ ”مَیں تجھے بھیج رہا ہوں“ اُس منہ سے نکلتا ہے جو ابھی اُن کی بغاوت گنوا چکا ہے۔ عدالت کا فیصلہ سنانے سے پہلے ہی وہ ایک آواز اُن کے درمیان رکھ دیتا ہے۔ یہی فضل کا ڈھانچہ ہے: انسان کی حالت کا بےرحم تشخیص، اور اُسی حالت میں خدا کا اپنی طرف سے قدم اُٹھانا۔ ہمیں یاد رہے کہ کلام اُن کے پاس آیا جو سننے کو تیار نہ تھے، نہ اُن کے پاس جو مستحق تھے۔
سلسلۂ نجات
اِس آیت میں دو الفاظ آگے چل کر پوری انجیل کا ڈھانچہ بن جاتے ہیں: ”بھیج رہا ہوں“ اور ”آدم زاد“۔ عبرانی میں ”بن آدم“ کا مطلب ہے ”انسان کا بیٹا“، یعنی ایک فانی، مٹی کا آدمی، جسے خدا اپنے کلام کا بوجھ اُٹھانے کو کھڑا کرتا ہے۔ یہی لقب خداوند یسوع اپنے لیے سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اور بھیجنے کا یہ سلسلہ مسیح نے خود اپنی تمثیل میں کھول کر بیان کیا: مالک نے نوکر بھیجے، پھر نوکر، اور آخر میں اپنے بیٹے کو بھیجا (متی 21)۔ ایزی کی ایل اُس لمبی قطار کا ایک کڑی ہے جس کے سرے پر وہ ہے جس کے بارے میں یوحنا لکھتا ہے کہ وہ اپنے گھر آیا اور اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔ فرق یہ ہے کہ ایزی کی ایل نے ماتم کا طومار کھایا؛ مسیح نے ماتم اپنے بدن پر اُٹھایا۔
آئینہ
یہ آیت دو جگہ چبھتی ہے۔ پہلی: اگر آپ کسی کو خدا کی بات سنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے جوان بیٹے کو، اُس بہن کو جس نے کلیسیا چھوڑ دی، اُس ساتھی کو جو ہر بار طنز سے جواب دیتا ہے، تو یہاں آپ کو یہ سہارا ملتا ہے کہ بےاثر لگنا ناکامی کا ثبوت نہیں۔ خدا نے نبی کو نتائج کی ضمانت نہیں دی، صرف بھیجا۔ دوسری چبھن گہری ہے: ”اپنے باپ دادا سمیت“ ہمیں بتاتا ہے کہ بغاوت خاندانوں میں وراثت کی طرح چلتی ہے۔ وہ غصہ جو آپ نے اپنے والد سے سیکھا، وہ خاموشی جس سے آپ کے گھر میں مسئلے دبائے جاتے ہیں، وہ پیسے کی حفاظت جو ایمان سے بڑی ہو گئی: یہ سب آپ کی ذاتی ایجاد نہیں، مگر آپ کی ذمہ داری ہیں۔
آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس کے بارے میں آپ نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا ہے کہ ”یہ کبھی نہیں سنے گا“، اور نام کے نیچے یہ جملہ بلند آواز میں کہیں: ”خدا نے مجھے بھی اِسی حالت میں پایا تھا۔“
سیاق و سباق
یہ تقریباً 593 قبلِ مسیح ہے، بابل کی سرزمین، دریائے کبار کے کنارے جلاوطنوں کی ایک بستی۔ ایزی کی ایل کاہن خاندان کا آدمی ہے، مگر مندر سینکڑوں میل دور ہے اور وہ قربانی چڑھانے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اُسے 597 میں یہویاکین کے ساتھ اُٹھا کر لایا گیا تھا، یعنی وہ اُس پہلے گروہ میں شامل ہے جو شہر کی مکمل تباہی سے پہلے ہی جلاوطن ہوا۔ یروشلم ابھی کھڑا ہے، مندر ابھی سلامت ہے، اور جلاوطنوں میں یہ اُمید گرم ہے کہ چند سال میں واپسی ہو جائے گی۔ اِس ماحول میں خدا ایک کاہن کو نبی بنا کر کھڑا کرتا ہے، بغیر مندر، بغیر مذبح، صرف کلام کے ساتھ۔ اُس کا منبر ایک غیر ملک کی مٹی ہے۔
سننے والوں کا خاکہ
پہلے سننے والے وہی جلاوطن تھے، اور اُنہوں نے اِس آیت میں اپنا نام سنا۔ اُن کی اپنی کہانی میں وہ مظلوم تھے: بابل کی فوج نے زیادتی کی، بادشاہوں نے غلط فیصلے کیے، وہ بس پس گئے۔ خدا اُس کہانی کو سیدھا کاٹ دیتا ہے۔ وہ شکار نہیں، باغی ہیں، اور نئی نسل پرانی نسل کے راستے پر ہے۔ مگر اِسی جملے میں اُن کے لیے ایک ایسی خبر چھپی تھی جو ہم آسانی سے کھو دیتے ہیں: خدا بابل میں بول رہا ہے۔ اُن کے عقیدے میں خدا کا پتہ صیون تھا؛ اب معلوم ہوا کہ جلاوطنی نے اُس کی زبان بند نہیں کی۔ ملامت خود اِس بات کا ثبوت تھی کہ تعلق ٹوٹا نہیں۔
سوال
اگر خدا پہلے سے جانتا ہے کہ وہ نہیں سنیں گے، تو بھیجنے کا فائدہ کیا؟ آیت 5 اِس سوال کو نرم نہیں کرتی: ”خواہ یہ باغی سنیں یا نہ سنیں، وہ ضرور جان لیں گے کہ ہمارے درمیان نبی برپا ہوا ہے۔“ یعنی کم از کم ایک نتیجہ یقینی ہے: اب اُن کے پاس بےخبری کا عذر نہیں رہے گا۔ یہ ہمیں بےچین کرتا ہے، کیونکہ اِس سے کلام محض عدالت کا گواہ لگنے لگتا ہے۔ مَیں اِسے صاف نہیں کر سکتا۔ مگر ایک بات نظر آتی ہے: خدا کا بولنا کوئی حساب کتاب والی حکمتِ عملی نہیں، وہ اُس کی ذات کا اصرار ہے۔ وہ اُن کے بارے میں بات کرنے کے بجائے اُن سے بات کرنے پر تلا ہوا ہے۔ صلیب پر بھی یہی ضد نظر آتی ہے، اور یہیں ہمیں خاموش ہو جانا چاہیے۔
غور و فکر کے سوالات
کون سی ”باپ دادا سے ملی“ عادت آپ کے گھر میں اب آپ کے ذریعے جاری ہے، اور آپ اُسے خدا کے سامنے کب رکھیں گے؟
کیا آپ کی فرمانبرداری نتائج پر منحصر ہے، یا بھیجنے والے پر؟ آپ کے پچھلے ہفتے کے فیصلے اِس کا کیا جواب دیتے ہیں؟
Ezekiel 2:3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 2:3 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 2:3 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 2:3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 2:3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 2:3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ezekiel 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خدا حزقی ایل کو کانٹوں اور بچھوؤں سے نکالتا نہیں، بلکہ اُن کے بیچ میں کھڑا رہنے کا حوصلہ دیتا ہے: ”اے آدم زاد، اُن سے مت ڈرنا، نہ اُن کی باتوں سے۔“ ڈر کی جڑ اکثر لوگوں کے چہرے ہوتے ہیں، اُن کی خاموش ناراضی، اُن کا طنز۔ کیا تُو بھی کسی کے چہرے کے خوف سے سچائی نگل جاتا ہے؟ خدا تیرے حالات نہیں، پہلے تیرا دل بدلنا چاہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں