یسعیاہ 35
متن
یسعیاہ 35 ایک ایسے ویرانے کی تصویر کھینچتا ہے جو اچانک پھولوں سے بھر جاتا ہے: "ریگستان اور پیاسی زمین باغ باغ ہوں گے، بیابان خوشی منا کر کِھل اُٹھے گا۔" یہ محض موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ خدا کے آنے کا نتیجہ ہے، کیونکہ اُسی زمین پر "لوگ رب کا جلال اور ہمارے خدا کی شان و شوکت دیکھیں گے۔" پھر باب ڈرے ہوئے لوگوں کی طرف مڑتا ہے: نڈھال ہاتھ، ڈانواں ڈول گھٹنے، دھڑکتے ہوئے دل، اور اُنہیں حکم ملتا ہے کہ حوصلہ رکھیں، کیونکہ خدا خود آ رہا ہے، انصاف کرنے اور بچانے۔ اُس آمد پر اندھے دیکھتے ہیں، بہرے سنتے ہیں، لنگڑے ہرن کی طرح چھلانگیں لگاتے ہیں۔ آخر میں ایک سڑک نظر آتی ہے، "شاہراہِ مُقدّس"، جس پر کوئی وحشی جانور نہیں، اور جس پر فدیہ دے کر چھڑائے ہوئے لوگ گاتے ہوئے صیون میں داخل ہوتے ہیں۔
مرکزی حقیقت
اِس باب کی جڑ یہ ہے کہ نجات کوئی اندرونی احساس نہیں بلکہ خدا کی آمد ہے جو پوری تخلیق کو بدل ڈالتی ہے۔ غور کیجیے کہ آیت 4 میں انتقام اور رہائی ایک ہی سانس میں آتے ہیں: "تمہارا خدا انتقام لینے کے لئے آ رہا ہے۔ وہ ہر ایک کو جزا و سزا دے کر تمہیں بچانے کے لئے آ رہا ہے۔" ہم عدالت اور فضل کو الگ خانوں میں رکھنا چاہتے ہیں، مگر یسعیاہ اُنہیں ایک ہی عمل کے دو رُخ بتاتا ہے: جب خدا ظلم کا حساب چکاتا ہے، تب ہی مظلوم آزاد ہوتا ہے۔ اور یہ نجات جسمانی ہے، مٹی اور پانی اور آنکھوں اور گھٹنوں تک پہنچتی ہے، کیونکہ عہد کا خدا خالق بھی ہے۔ جس زمین کو اُس نے بنایا، اُسی کو وہ چھوڑے گا نہیں؛ جن جسموں کو اُس نے گھڑا، اُنہی کو وہ بحال کرے گا۔ قدوسیت یہاں سختی نہیں بلکہ حفاظت ہے: ایک راستہ جہاں شیرببر نہیں آ سکتا۔
نجات کا سلسلہ
یہ باب خالی خواب نہیں رہا۔ جب یوحنا بپتسمہ دینے والا جیل سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ ہی آنے والے ہیں، تو خداوند یسوع جواب میں کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتے بلکہ یسعیاہ 35 کی فہرست دہراتے ہیں: اندھے دیکھتے ہیں، لنگڑے چلتے ہیں، بہرے سنتے ہیں۔ گویا وہ کہہ رہے ہوں: جو زمین صدیوں سے سوکھی پڑی تھی، اُس پر پانی آ چکا ہے۔ مگر دھیان رکھیے، یسعیاہ کی تصویر صرف چند معجزوں سے پوری نہیں ہوتی؛ وہ پوری زمین کے بحال ہونے کی بات کرتا ہے۔ اِس لیے مسیح کی خدمت اُس آمد کی پہلی قسط ہے، بیعانہ، نہ کہ اختتام۔ اور "فدیہ دے کر رِہا" ہونے کا لفظ صلیب پر اپنی آخری قیمت پاتا ہے: وہ شاہراہ مفت نہیں بنی، خدا نے خود اُس کا کرایہ ادا کیا۔
آئینہ
یہ باب اُن لوگوں کو مخاطب کرتا ہے جن کے ہاتھ نڈھال ہو چکے ہیں۔ شاید آپ کے ہاتھ بھی ایسے ہی ہیں: ایک بیماری جو ٹیسٹ در ٹیسٹ لمبی ہوتی جا رہی ہے، ایک بیٹا جو کلیسیا سے دور ہو گیا، ایک نوکری جہاں ہر مہینہ عزتِ نفس تھوڑی اور گھستی ہے۔ ہمارا بڑا خوف یہ نہیں کہ خدا موجود نہیں، بلکہ یہ کہ وہ دیر سے آئے گا، جب سب کچھ ختم ہو چکا ہو گا۔ یسعیاہ اِس خوف کو جھٹلاتا نہیں، وہ "دھڑکتے ہوئے دلوں" کو تسلیم کرتا ہے اور پھر اُن کے سامنے ایک خبر رکھتا ہے، کوئی نصیحت نہیں۔ اور غور کیجیے کہ حکم کس کو ملا ہے: آیت 3 میں خدا کسی اور سے کہتا ہے کہ کمزور ہاتھوں کو تقویت دو۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام لکھیے جس کے گھٹنے اِس وقت ڈانواں ڈول ہیں، اور اُسے آیت 4 کے الفاظ بھیج دیجیے: "حوصلہ رکھو، مت ڈرو۔"
پس منظر
یسعیاہ کے سننے والے ایک چھوٹی سی قوم تھے جو عالمی طاقتوں کی چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہی تھی، پہلے اسور، پھر بابل۔ ابواب 34 اور 35 جڑواں ہیں: پہلا ادوم پر عدالت کی تصویر ہے، جہاں شاداب ملک کانٹوں اور گیدڑوں کا ٹھکانہ بن جاتا ہے؛ دوسرا اُس کا بالکل الٹ ہے، جہاں گیدڑوں کی جگہ سرکنڈے اُگتے ہیں۔ جلاوطنی کا مطلب صرف جغرافیائی دوری نہ تھا بلکہ یہ خوف کہ ہمارا خدا ہار گیا۔ ریگستان اُن کے لیے محض منظر نہیں تھا، وہ بابل اور یروشلیم کے درمیان کی اصل، جان لیوا مسافت تھی، جہاں ڈاکو اور درندے گھات لگائے بیٹھتے تھے۔ اِسی لیے ایک محفوظ شاہراہ کا وعدہ کوئی شاعری نہیں، بلکہ گھر لوٹنے کی ٹھوس امید تھا۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، اور وہ یہاں خاموش منصف نہیں بلکہ چلتا ہوا نجات دہندہ ہے: "دیکھو، تمہارا خدا انتقام لینے کے لئے آ رہا ہے۔" وہ ضمیر "تمہارا" بہت بڑا ہے؛ یہ عہد کی زبان ہے۔ ایک ایسا خدا جس نے اپنے آپ کو اِس قوم کے ساتھ باندھ لیا ہے، اور جو اُس بندھن کو اپنی عزت کا معاملہ سمجھتا ہے۔ وہ جلال اُس وقت ظاہر نہیں ہوتا جب وہ دور سے کڑکتا ہے، بلکہ اُس وقت جب اندھے کی آنکھ کھلتی ہے اور ریت میں چشمہ پھوٹتا ہے۔ یہ خدا کمزوروں سے ناراض نہیں بلکہ اُن کے پیچھے آتا ہے، قیمت چکاتا ہے، اور اپنے چھڑائے ہوؤں کے سر پر "ابدی خوشی کا تاج" رکھ دیتا ہے، جیسے وہ شکست خوردہ مہاجر نہیں بلکہ فاتح ہوں۔
ایک باریک نکتہ
آخری آیت کی ترتیب پر رکیے: "ماتم اور گریہ و زاری اُن کے آگے آگے بھاگ جائے گی۔" غم کو مٹایا نہیں جاتا، اُسے بھگایا جاتا ہے، اور وہ بھی لوٹنے والوں کے آگے آگے، جیسے کوئی قبضہ کرنے والا جو اصل مالک کے آتے ہی جگہ خالی کر دے۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ دکھ اِس دنیا کا اصل باشندہ نہیں، ایک غاصب ہے۔ اور یہ بھی کہ خوشی کو غم کا پیچھا کرنا پڑتا ہے، یعنی چھٹکارا کوئی لمحہ بھر کا جادو نہیں بلکہ ایک سفر ہے جس میں آنسو آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جو لوگ ماتم کے عادی ہو چکے ہیں، اُن کے لیے یہ آیت کہتی ہے: تمہارا غم تمہاری شناخت نہیں، تمہاری منزل تو صیون ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ اِس وقت "پیاسی زمین" جیسا ہے، اور کیا آپ واقعی یقین رکھتے ہیں کہ خدا وہاں بھی چشمہ پھوڑ سکتا ہے، یا آپ نے خاموشی سے اُس حصے کو لاعلاج قرار دے دیا ہے؟
خدا کی عدالت اور اُس کا فضل آیت 4 میں ایک ہی عمل ہیں؛ آپ کی زندگی میں کون سی ناانصافی ایسی ہے جس کا حساب آپ خود چکانا چاہتے ہیں بجائے اِس کے کہ آنے والے خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیں؟
Isaiah 35 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 35 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 35 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 35 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 35 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 35 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 35 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جہاں گیدڑ بیٹھا کرتے تھے، وہیں سرکنڈے اور ہری گھاس اُگے گی۔ خدا کسی نئی جگہ کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ اُسی ویران جگہ کا جسے تُو چھوڑ کر بھاگنا چاہتا ہے۔ "جُھلستی ریت جھیل میں اور پیاسی زمین چشموں میں بدل جائے گی۔" تیری زندگی کا وہ سُوکھا کونا جس پر تُو شرمندہ ہے، شاید وہیں سے پانی پھوٹے گا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
