یسعیاہ 40
متن
خدا اپنی عدالت کے بعد پہلی بار پھر بولتا ہے، اور اُس کا پہلا لفظ سزا نہیں بلکہ ہمدردی ہے: ”تسلی دو، میری قوم کو تسلی دو!“ یروشلم کی غلامی کے دن پورے ہو چکے، قصور معاف ہو چکا۔ پھر ایک آواز ریگستان میں خداوند کے لئے راستہ تیار کرنے کا حکم دیتی ہے، دوسری آواز انسان کی ناپائیداری اور کلامِ خدا کی ابدیت کا اعلان کرتی ہے، اور تیسری صیون کو منادی کے لئے پہاڑ پر چڑھنے کو کہتی ہے۔ باب کا دوسرا حصہ سوالوں کی بوچھاڑ ہے: کس نے سمندر ناپا، کس نے خدا کو مشورہ دیا، خدا کا موازنہ کس سے ہو سکتا ہے؟ اور یہ سب ایک وعدے پر آ کر رُکتا ہے: تھکے ماندوں کو نئی طاقت ملے گی۔
اصل بات
آیت 2 میں ایک جملہ ہے جو ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کرتا ہے: ”تجھے رب کے ہاتھ سے تمام گناہوں کی دُگنی سزا مل گئی ہے۔“ یہ حساب کتاب کی زبان نہیں بلکہ عدالت کے مکمل ہو جانے کا اعلان ہے۔ خدا کی قدوسیت نے گناہ کو نظرانداز نہیں کیا، سزا واقعی دی گئی، تباہی واقعی ہوئی۔ مگر عدالت کا آخری لفظ عدالت نہیں۔ یہی فضل کی ساخت ہے: معافی سستی نہیں، وہ ادا شدہ ہے۔ اور دھیان دیجئے، تسلی کی بنیاد اسرائیل کی توبہ نہیں بلکہ خدا کا فیصلہ ہے۔ وہ ”میری قوم“ کہتا ہے، یعنی عہد ٹوٹا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باب کا دوسرا نصف خالق کی عظمت پر اصرار کرتا ہے: جو وعدہ کرتا ہے اُسی کے پاس اُسے پورا کرنے کی قدرت بھی ہے۔
سنہری دھاگا
آیت 3 کی آواز، ”ریگستان میں رب کی راہ تیار کرو!“، چاروں انجیلیں یوحنا بپتسمہ دینے والے پر لاگو کرتی ہیں۔ یہ محض ایک آسان حوالہ نہیں؛ اِس سے یسعیاہ کی ساری اُمید مسیح میں مرتکز ہو جاتی ہے۔ بابل سے واپسی ایک حقیقی واقعہ تھی، مگر وہ چھوٹی واپسی تھی، اور ”تمام انسان مل کر اُسے دیکھیں گے“ والا جلال اُس میں ظاہر نہ ہوا۔ یسعیاہ یہاں ایک ایسے آنے کی بات کرتا ہے جس میں خدا خود گلّے کے پاس آتا ہے۔ آیت 10 اور 11 ساتھ ساتھ کھڑی ہیں: قادرِ مطلق جو ”بڑی قدرت کے ساتھ“ آتا ہے اور چرواہا جو ”بھیڑ کے بچوں کو اپنے بازوؤں میں“ اُٹھاتا ہے۔ یہ تضاد نہیں؛ یہ مجسم ہونے کی پیشین گوئی ہے۔
آئینہ
”میری راہ رب کی نظر سے چھپی رہتی ہے“ (آیت 27)۔ یہ جلاوطنوں کی شکایت ہے، مگر یہ اُس شخص کی بھی ہے جو برسوں سے ایک ہی دعا مانگ رہا ہے اور جواب نہیں آیا۔ بیمار جسم، بے روزگاری کا خط، وہ اولاد جو کلیسیا چھوڑ چکی۔ ہم خدا کے وجود سے نہیں، اُس کی توجہ سے مایوس ہوتے ہیں۔ یسعیاہ اِس شکایت کا جواب نرم تسلی سے نہیں بلکہ ستاروں کی طرف اشارہ کر کے دیتا ہے: وہ ”ہر ایک کو نام لے کر بُلاتا ہے“۔ جو ستاروں کے نام جانتا ہے وہ آپ کا نام بھولے گا؟ آج رات باہر نکلئے، آسمان کی طرف دیکھئے، اور اپنی وہ ایک شکایت بلند آواز سے خدا کے سامنے رکھئے جو آپ اب تک صرف دل میں کہتے آئے ہیں۔
بین المتون
پطرس رسول آیت 6 تا 8 کو براہِ راست اُٹھاتا ہے اور اُس کلام کو، جو ”ابد تک قائم رہتا ہے“، اُس خوش خبری سے جوڑ دیتا ہے جو اُس کے سامعین نے سنی۔ یعنی: گھاس کے مُرجھا جانے کی خبر مایوسی نہیں، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر نئی پیدائش ٹکی ہے۔ دوسری گونج زبور 23 ہے۔ یسعیاہ 40 میں چرواہے کی تصویر محض ذاتی تسلی نہیں بلکہ قومی نجات کا بیان ہے: خدا ایک بکھرے ہوئے، جلاوطن گلّے کو گھر لے جا رہا ہے۔ جب یسوع خود کو اچھا چرواہا کہتے ہیں، وہ دونوں دھاگے اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، زبور کی ذاتی حفاظت اور یسعیاہ کا عہد کا وعدہ۔
سامعین کا خاکہ
تصور کیجئے کہ آپ بابل میں تیسری پشت کے اسرائیلی ہیں۔ آپ نے ہیکل کبھی نہیں دیکھی۔ آپ کے ارد گرد سال میں ایک بار مردوک کا جلوس نکلتا ہے: سونے سے مڑھے بُت، شاہی طاقت کی نمائش، اور یہ خاموش پیغام کہ آپ کا خدا ہار گیا۔ اِسی لئے آیت 19 اور 20 بُت بنانے کے عمل کا اتنا طنزیہ بیان دیتی ہیں: کاریگر ڈھالتا ہے، سنار سونا چڑھاتا ہے، اور آخر میں اُسے کیل سے جما دیا جاتا ہے ”کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے“۔ وہ خدا جسے گرنے سے بچانا پڑے۔ جلاوطنوں کے کانوں میں یہ محض علمِ الٰہیات نہیں تھا، یہ آزادی تھی۔
پس منظر
ہم تقریباً 586 قبلِ مسیح کے بعد کے عرصے میں ہیں۔ یروشلم جل چکا، ہیکل کھنڈر ہے، داؤد کا تخت خالی ہے، اور قوم کا ایک بڑا حصہ دریائے فرات کے کنارے آباد ہے۔ یسعیاہ کے پہلے انتالیس باب زیادہ تر عدالت کی منادی ہیں؛ چالیسواں باب ایک نئی آواز سے شروع ہوتا ہے، گویا آسمانی دربار میں فیصلہ ہو چکا ہو۔ ”ریگستان“ کوئی شاعرانہ منظر نہیں بلکہ وہ حقیقی صحرا ہے جو بابل اور یہوداہ کے بیچ پڑا ہے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ کی آمد سے پہلے سڑکیں ہموار کی جاتی تھیں؛ یہاں وہ سڑک اُس بادشاہ کے لئے بن رہی ہے جو اپنے قیدیوں کو ساتھ لے کر لوٹے گا۔
غور و فکر
آیت 27 کی شکایت آپ کی زندگی میں کس صورت میں بولتی ہے، اور آپ نے اب تک اُس کا جواب کہاں تلاش کیا ہے؟
آیت 31 طاقت پانے کو ”رب سے اُمید رکھنے“ سے جوڑتی ہے، کوشش سے نہیں۔ عملی طور پر اِس ہفتے آپ کے لئے اِس انتظار کی شکل کیا ہو گی؟
Isaiah 40 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 40 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 40 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 40 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 40 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 40 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 40 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جلاوطنی میں لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمارا راستہ رب سے چھپا ہوا ہے۔ خدا جواب میں نصیحت نہیں، سوال دیتا ہے: "کیا تجھے معلوم نہیں، کیا تُو نے نہیں سنا؟" یعنی تُو یہ پہلے سے جانتا ہے، بس تھکن نے تیری یادداشت پر پردہ ڈال دیا ہے۔ "نہ وہ تھک جاتا، نہ نڈھال ہو جاتا ہے۔" تیری تھکن اُس کی تھکن نہیں۔ آج جو بوجھ تجھے چپ کرا رہا ہے، وہ اُسے ذرا بھی نہیں تھکاتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
