یشوع 9
متن
جِبعون کے باشندوں نے یریحو اور عَی کا انجام سن کر ایک چالاک منصوبہ بنایا۔ اُنہوں نے پرانے کپڑے، پھٹے جوتے، خشک روٹی اور مرمت شدہ مشکیں لے کر یشوع کے پاس آ کر جھوٹ بولا کہ ہم دُوردراز ملک سے آئے ہیں۔ اسرائیلیوں نے رب سے پوچھے بغیر اُن سے قَسم کھا کر معاہدہ کر لیا، اور جب دھوکے کا پتا چلا تو قَسم کی وجہ سے وہ اُنہیں ہلاک نہ کر سکے، بلکہ اُنہیں لکڑہارے اور پانی بھرنے والے بنا دیا۔
مرکز
یہ باب ایک چھوٹے سے فقرے کے گرد گھومتا ہے: "افسوس، اُنہوں نے رب سے ہدایت نہ مانگی۔" پورا بحران اِسی ایک کوتاہی سے پھوٹتا ہے۔ اسرائیل کے پاس عقل تھی، تجربہ تھا، شک بھی تھا (دیکھیں آیت 7)، مگر شک کو دعا میں بدلنے کی عادت نہیں تھی۔ یہ متن خدا کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی حماقت کے باوجود اپنی قَسم کا احترام کرتا ہے۔ اور انسان کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ ہماری سب سے بڑی کمزوری بدنیتی نہیں، خوداعتمادی ہے۔ فتح کے بعد کی خودی، عَی کے بعد کی وہ فاتحانہ چال جو مشورہ کرنا بھول جاتی ہے۔
مشترکہ دھاگا
یہ کہانی حیرت انگیز طور پر انجیل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جِبعونی جانتے ہیں کہ اُن کی موت یقینی ہے، اور وہ صرف ایک ہی چیز سے پناہ ڈھونڈتے ہیں: اسرائیل کے خدا کے نام سے (آیت 9)۔ اُن کا طریقہ فریب ہے، مگر اُن کی سمجھ درست ہے کہ زندگی صرف اُس کے ساتھ عہد باندھنے میں ہے۔ آخر میں وہ رب کی قربان گاہ کی خدمت کرنے والے بن جاتے ہیں (آیت 27)، غیرقوم جو خدا کے گھر میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ راحب کی طرح ایک اور جھلک ہے اُس دن کی جب مسیح میں دُور کے لوگ قریب لائے جائیں گے، نہ اپنی نیکی سے بلکہ اُس کے نام کی پناہ سے۔
آئینہ
آپ نے کتنی بار فیصلہ کیا اور بعد میں سوچا کہ کاش پہلے دعا کی ہوتی؟ نوکری کی وہ پیشکش جو بہت اچھی لگی، اِس لئے آپ نے فوراً ہاں کہہ دی۔ وہ رشتہ جو تین ملاقاتوں میں پکا لگا۔ چرچ میں وہ منصوبہ جس پر سب راہنما متفق تھے، تو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ یشوع 9 آپ کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھتا ہے: کیا آپ کی روحانی زندگی میں ایسی جگہیں ہیں جہاں آپ نے "کچھ کھانا" چکھ لیا، یعنی سطحی ثبوت پر یقین کر لیا، اور رب سے دریافت نہ کیا؟ یہ باب اُن پر تنقید نہیں کرتا جو دھوکہ کھاتے ہیں، بلکہ اُن پر جو مشورہ لینا بھول جاتے ہیں۔ اور دوسری طرف: کیا آپ اپنی قَسموں اور وعدوں کے ساتھ ایسے ہی وفادار ہیں، تب بھی جب وہ آپ کے حق میں نہیں نکلیں؟
تفصیل
آیت 14 کا وہ ٹکڑا نہ چھوڑیں: "اسرائیلیوں نے مسافروں کا کچھ کھانا لیا۔" پرانے مشرقی ثقافت میں کسی کے ساتھ روٹی توڑنا محض کھانا نہیں تھا، یہ رشتہ باندھنے کا عمل تھا۔ اسرائیل نے قَسم سے پہلے ہی، بغیر سوچے سمجھے، عملی طور پر معاہدہ شروع کر دیا تھا۔ خشک، ٹکڑے ٹکڑے روٹی جو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی تھی، وہی روٹی اُن کی زبان پر رکھی گئی۔ فریب نے اُن کے حلق میں اُتر کر اُنہیں پابند کر دیا۔ راوی اِسی مقام پر افسوس کا لفظ رکھتا ہے، جیسے وہ آپ کو کندھے سے پکڑ کر کہہ رہا ہو: یہیں، اِسی لمحے، ایک سوال کافی تھا۔
سیاق و سباق
یہ واقعہ جِلجال میں پیش آتا ہے، اسرائیل کی پہلی خیمہ گاہ دریائے یردن پار کرنے کے بعد۔ یریحو گر چکا ہے، عَی راکھ بن چکا ہے، اور کنعان کے تمام بادشاہ خوف سے متحد ہو کر لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں (آیات 1-2)۔ جِبعون کوئی چھوٹا گاؤں نہیں تھا، بلکہ ایک بڑا اور اہم شہر تھا جس کے پاس فوجی طاقت بھی تھی۔ لیکن اُس کے راہنماؤں نے دیکھ لیا کہ ہتھیار کام نہیں آئیں گے، اِس لئے اُنہوں نے ہتھیار کے بجائے حکمت چنی۔ اُس وقت کے معاہدے مقدس ہوتے تھے، دیوتاؤں کی گواہی میں کھائی گئی قَسم توڑنا ناقابلِ تصور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی راہنما بعد میں کہتے ہیں کہ اگر ہم قَسم توڑیں گے تو "اللہ کا غضب ہم پر نازل ہو" گا۔
مرکزی کردار
یشوع اِس باب میں فاتح جرنیل کی طرح نہیں، بلکہ ایک ایسے راہنما کی طرح نظر آتا ہے جو غلطی کرتا ہے مگر اپنی غلطی کے وزن کو اٹھاتا ہے۔ وہ سوال پوچھتا ہے (آیت 8)، مگر جواب پر یقین کر لیتا ہے۔ وہ رب سے پوچھنا بھول جاتا ہے، شاید اِس لئے کہ عَی کی فتح
Joshua 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یشوع 9 کا کیا مطلب ہے؟
یشوع 9 کس بارے میں ہے؟
یشوع 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یشوع 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یشوع 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Joshua 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو اُن "گھسے پھٹے بوروں اور مے کی پھٹی ہوئی مشکوں" کے پیچھے چھپے خوف کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ تیرے حضور کوئی بھیس کام نہیں آتا، پھر بھی تُو جان بخشتا ہے۔ شکر کہ ہر فیصلے سے پہلے تجھ سے پوچھنے کی دعوت آج بھی ہمارے لیے کھلی ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ جب جِبعون کے باشندوں نے سنا کہ تُو نے یریحو اور عَی کے ساتھ کیا کچھ کیا، تو اُنہوں نے تیری قدرت کو پہچانا اور اپنی جان بچانے کا راستہ ڈھونڈا۔ شکر کہ تیرے کاموں کی خبر دُور دُور تک پہنچتی ہے اور لوگوں کے دل تیری طرف مائل کرتی ہے۔ تیرے سامنے جھکنے والے کو تُو کبھی رد نہیں کرتا۔
خداوند، آپ کا شکر ہے کہ آپ قَسم اور عہد کو سنجیدہ لیتے ہیں۔ جِبعونیوں نے دھوکا دیا تھا، پھر بھی اسرائیل نے اُنہیں زندہ چھوڑا تاکہ کھائی ہوئی قَسم نہ ٹوٹے۔ شکر کہ آپ نے مجھ سے بھی جو وعدہ کیا وہ میری خطاؤں کے باوجود نہیں توڑا، اور مجھے وفاداری سکھاتے ہیں۔
یشوع نے جبعونیوں کے ساتھ صلح کا عہد باندھا، مگر ایک بات رہ گئی: "خُداوند سے مشورہ نہ لیا۔" ان کے پھٹے کپڑے اور باسی روٹی دیکھ کر یشوع نے فیصلہ کر لیا، پر خدا سے پوچھنا بھول گیا۔
کبھی سوچا؟ ہم بھی اکثر ظاہری حالات دیکھ کر فیصلے کر لیتے ہیں، دعا میں رکنا بھول جاتے ہیں۔ کیا آج کوئی فیصلہ ہے جسے تم نے خدا کے سامنے نہیں رکھا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
